ہوتے ہوتے ہو ہی گیا (پانچویں قسط)

Masoom Khan
0
ہوتے ہوتے ہو ہی گیا

پانچویں قسط

زینی کے بارے میں میرا پروگرام یہ تھا کہ ثمینہ سنیاری اور اس کی دو تین دوستوں نے کہ جن پر زینی بہت اعتبار کرتی تھی نے بڑی رازداری سے زینی کو یہ بات بتلانی تھی ۔۔۔ کہ زینی کے ساتھ چودائی کے بارے ساجد سب کو بتا تا پھر رہا ہےاور اس کے ساتھ ہی میں نے ان کو کھڈے والے واقعہ کا کچھ حصہ بھی بتایا تھا ۔۔ تا کہ جب وہ بات کریں تو زینی اسے سچ سمجھے کیونکہ کھڈے والی بات زینی اور ساجد کے علاوہ اور کوئی نہیں جانتا تھا ( اور شبی کی طرف تو اس کا دھیان ہی نہیں جا سکتا تھا کہ وہ اپنی بہن کی بات کسی کو بتا سکتا ہے)۔۔۔۔ ۔۔۔ اور پھر یہ سکینڈل سنانے کے بعد انہوں نے زیی کو یہ بات بھی باور کرانی تھی کہ ۔۔۔ جس طرح ساجد تمہارے ساتھ سیکس کی اس واردات کو نشر کرتا پھر رہا ہے ۔۔۔۔ چلتے چلتے اگر یہ بات تمھارے باپ نے سن لی تو ۔۔۔ پھر تم بے موت ماری جاؤ گی اور سب سے آخر میں ثمینہ سیناری نے زینی کے ساتھ بڑی ہی راز داری کے ساتھ یہ بات بتانی تھی کہ اس کے ساتھ کیئے گئے سیکس کے بارے میں ساجد کا بچہ ۔۔۔۔ سب کو بتا رہا ہے۔۔۔ اس کے ساتھ ہی ثمینہ نے چاچے فضل کو بھی اس بات کے لیئے تیار کر لیا تھا کہ جب زینی کسی خریداری کے سلسلہ میں اس کے پاس آئے تو اس نے چپکے سے یہ بات زینی سے کر دینی تھی۔۔۔ اس طرح جب بہت سے بندے ایک ہی قسم کی بات زینی سے کریں گے ۔۔تو لازمی بات ہے کہ اس نے اس پراپیگنڈہ سے یہ سوچ کر متاثر ہو جانا تھا کہ ۔۔۔۔ہر بندہ تو جھوٹ نہیں بول سکتا نا۔۔۔۔ ۔۔اور اس دوران ۔۔۔شبی نے زینی کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید بہتر کر لینا تھا۔۔۔۔۔اس سلسلہ کی آخری چوٹ میں نے مارنی تھی اور وہ بھی اس وقت کہ جب ثمینہ سیناری نے مجھے اس بات کی رپورٹ دینی تھی کہ زینی اور ساجد کی اس بات پر لڑائی ہو گئی ہے۔۔۔تب میں نے زینی کا ہمدرد بن کر اسے ساجد کی بجائے شبی کے ساتھ سیکس کی راہ دکھانی تھی ۔۔ کیونکہ ثمینہ سنیاری کے بقول ۔۔ زینی سیکس کی دیوانی تھی ۔۔۔اور سیکس کے بغیر وہ نہیں رہ سکتی تھی۔۔۔۔۔


پھر ایک ہفتے کے اندر اندر وہ سب کچھ ہو گیا جس کے بارے میں ۔۔۔ میں نے اور ثمینہ سنیاری نے پلان کیا تھا ۔۔۔ اس کے ساتھ ساتھ جلد نتائج کے لیئے میں نے اپنے پلان میں ایک اور تبدیلی کر لی تھی اور وہ یہ کہ ایک دن میں اور زینی بیٹھے ہوئے تھے کہ باتوں باتوں میں اچانک میں نے زینی سے کہا ۔۔۔ کیا بات ہے زینی تیری ساجد کے ساتھ کوئی لڑائی ہوئی ہے ؟ تومیری بات سن کر زینی چونک گئی اور کہنے لگی ۔۔۔ ایسی کوئی بات نہیں باجی ۔۔تب میں نے اس سے کہا کہ اگر ایسی بات نہیں تو کل وہ ۔۔۔۔۔ ماسی تہمینہ کے گھرسے کیوں نکل رہا تھا (ماسی تہمینہ بھی ہمارے علاقے کی ایک بدنام عورت تھی ۔۔جس کی بیٹی رضو اس سے بھی چار ہاتھ آگے بدنام تھی) میری بات سن کر بظاہر تو زینی نے کچھ نہیں کہا لیکن مجھے معلوم تھا کہ اندر ہی اندر وہ حسد کی آگ میں جل گئی ہو گی اس کے ساتھ ساتھ ویسے بھی اسے ساجد کے بارے میں کوئی اچھی خبریں سننے کو نہیں مل رہی تھیں۔۔۔ چنانچہ مجھ سے تھوڑی دیر باتیں کرنے کے بعد زینی ۔۔۔ ثمینہ کے گھر چلی گئی ۔۔۔اور اسے میں نے پہل ہی اس بات کے لیئے تیار کیا ہوا تھا۔۔۔ خیر قصہ مختصر دو ہفتوں کے اندر اند ر زینی اور ساجد کی سخت لڑائی ہو گئی۔۔۔۔۔ اور یہ بات مجھے سنیاری نے بتائی تھی۔۔۔۔


اس دن صبع کا وقت تھا اماں کسی کام کے سلسلہ میں گئی ہوئیں تھیں ۔۔ ۔۔۔ میں اور زینی گھر میں اکیلے تھے۔۔ اس وقت میں پڑھ رہی تھی جبکہ زینی کے ہاتھ میں بھی کتاب تھی لیکن وہ پڑھنے کی بجائے کہیں خلاؤں میں گھور رہی تھی۔۔۔ یہ دیکھ کر میں اپنی جگہ سے اُٹھی اور اس کے پاس جا کر بیٹھ گئی۔۔۔۔ اور بڑی ہی محبت سے زینی کی طرف دیکھ کر بولی۔۔۔ کیا بات ہے زینی تم کچھ پریشان لگ رہی ہو؟ میری بات سن کر پہلے تو اس نے مجھے ٹالنے کی بڑی کوشش کی پھر ۔۔۔ میرے اصرار پر کہنے لگی ۔۔۔وہ باجی ساجد۔۔۔۔ اس کے منہ سے ساجد کا نام سن کر میں نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔اگر برا نہ مانو تو ایک بات کہوں زینی ۔۔۔ تو وہ کہنے لگی جی باجی ۔۔تو میں اس سے کہنے لگی ساجد کے ساتھ دوستی کر کے تم نے کچھ اچھا نہیں کیا تھا۔۔۔۔ میری بات سن کر وہ کہنے لگی وہ کیوں باجی ؟ تو میں نے اس سے کہا وہ اس لیئے کہ ساجد ایک کچا اور پیٹ کا بہت ہلکا ہے جو ایسی باتوں کو کارنامہ بنا کر لوگوں سے شئیر کرتا پھرتا ہےجو کہ کوئی بھی لڑکی ۔۔۔اور خاص کر ہم لوگ تو بلکل بھی افورڈ نہیں کر سکتیں ۔۔ ۔۔۔۔ پھر اس کی طرف دیکھ کر بولی۔۔۔ زینی تم تو جانتی ہو کہ اس سلسلہ میں ہمارا گھرانہ کس قدر سخت واقعہ ہوا ہے اور خاص کر خواتین کے معاملے میں تو یہ لوگ ایک منٹ بھی نہیں لگاتے اور ۔۔۔۔ اس کے ساتھ ہی میں نے اپنے گلے کو کاٹنے کا اشارہ کیا ۔۔۔جسے دیکھ کر اسے ایک جھر جھری سی آ گئی۔۔۔ اور وہ کہنے لگی میں کیا کرتی باجی۔۔ میں مجبور تھی۔۔۔ اس پر میں نے اس کو اپنے سینے سے لگا لیا اور کہنے لگی ۔۔۔۔ مجھے معلوم ہے کہ میری طرح میری بہن بھی بہت سیکسی واقعہ ہوئی ہے ۔۔۔ اس لیئے میں نے تو اپنی شہوت مٹانے کے لیئے اپنے گھر میں ہی پناہ لی تھی کہ اس طرح گھر کی بات گھر میں ہی رہنی تھی۔۔ اور خاص طور پر یہ بات مدِ نظر رکھی کہ دینا کا کون سا بھائی ایسا ہو گا جو کہ اپنی ہی بہن کے ساتھ ایسا ویسا کام کر کے اسے بدنام کرے گا پھر اس کے بعد میں نے تقریباً ایک گھنٹے تک زینی کے ساتھ بات چیت کی ۔۔۔۔ جس کا لبِ لباب "ہوم سیکس" تھا۔۔۔ میری بات سن کر پہلے تو وہ کچھ ۔۔۔۔ ہچکچائی ۔۔۔۔ پھر میرے ساتھ فری ہو گئی ۔۔۔ اور سیکس کے بارے میں کھل کر میرے ساتھ ڈسکس کرنے لگی۔۔۔۔۔


اسی رات میں نے شبی کو بتا دیا تھا کہ لوہا گرم ہے اب بس چوٹ لگانے کی دیر ہے ویسے تو وہ خود بھی بہت ماسٹر قسم کا بندہ تھا لیکن پھر بھی میں نے اسے اچھی طرح سمجھا دیا تھاکہ اسے کیا کرنا ہے ۔۔۔۔اور پھر اسے بتایا کہ کل صبع اس کے پاس گولڈن چانس ہو گا۔۔۔۔۔کیونکہ میں نے اور اماں نے قاری صاحب کے بیٹی کے حقیقے پر جانا تھا ۔۔۔ اس پر بھائی نے میری طرف دیکھا اور شرارت سے کہنے لگا واقعی ہی باجی آپ قاری صاحب کی بیٹی کے حقیقے پر جا رہی ہو؟؟۔۔ تو میں نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے آنکھ مار کر کہا۔۔۔۔ نہیں یار میں حقیقے پر نہیں بلکہ ۔۔۔۔ بہن بھائی کا حقیقی سیکس پروگرام دیکھوں گی ۔۔۔اس کے ساتھ ہی میں نے شبی کو بتا دیا تھا کہ اس نے زینی کے ساتھ کھڑکی کے بلکل پاس سیکس کرنا ہے تا کہ میں ان کے ایک ایک سین کو دیکھ کر انجوائے کر سکوں ۔۔۔۔ یہ سب کچھ سیٹ کرنے کے بعد ہم دونوں ایک ساتھ جُڑ کر سو گئے۔۔۔۔

بچی کی پیدائیش کے بعد اماں اور میں نے قاری صاحب کے گھر جانا چھوڑ دیا تھا ۔۔لیکن آج چونکہ ان کی بیٹی کا حقیقہ تھا اس لیئے ابا اماں اور میں تیار ہو کر ان کے گھر کی طرف چل پڑے تھے ۔۔۔۔۔ جبکہ میری ہدایت پر شبی صبع سے ہی گھر سے غائب تھا وجہ اس کی یہ تھی کہ کہیں ابا اس کو بھی اپنے ساتھ نہ لے جائیں ۔۔جبکہ اس وقت گھر میں زینی اکیلی تھی ۔۔راستے میں ۔۔۔ میں نے ابا اماں سے الگ ہونے کی بڑی کوشش کی لیکن کوئی چانس نہ بن سکا۔۔۔۔۔ آخر قاری صاحب کے گھر پہنچ کر کافی دیر بعد میں نے اماں کو بتایا کہ میرے سر میں شدید درد ہو رہا ہے چنانچہ اس بہانے سے مجھے گھر جانے کی چھٹی مل گئی۔۔



قاری صاحب کے گھر سے میں بھاگم بھاگ اپنے گھر پہنچی تو دیکھا کہ دروازہ اندر سے بند تھا ۔۔۔ میں نے دروازے کو ہلکا سا دبایا تو وہ کھل گیا ۔۔۔۔ پھر میں دبے پاؤں گھر کے اندر داخل ہو گئی اور بنا آواز کیئے درازے کو کنڈی لگا دی۔۔اور پھر دبے پاؤں چلتے ہوئے کھڑی کے پاس پہنچ گئی۔۔۔۔۔ اور اندر جھانک کر دیکھا تو اس وقت زینی بھائی کے ساتھ چمٹی ہوئی تھی اور اس سے کہہ رہی تھی کہ سوری بھائی ۔۔۔تو بھائی نے حیران ہو کر اس سے پوچھا کس بات کی سوری کر رہی ہو؟ اس پر زینی کہنے لگی ۔۔۔وہ بھائی اس دن آ پ کے ساتھ خواہ مخواہ بد تمیزی جو کی تھی۔۔۔ اس پر بھائی اس کی طرف جھکا اور اس کے ہونٹوں سے ہونٹ ملا کر بولا ۔۔۔۔ ایک بدتمیزی تم نے کی تھی ۔۔۔۔اور اب ایک گستاخی میں کر رہا ہوں۔۔۔۔ اور اس کے ساتھ ہی اس نے زینی کے ہونٹوں کو اپنے منہ میں لے لیا ۔۔۔۔ اپنے منہ کو بھائی کے منہ کے ساتھ جوڑتے وقت زینی تھوڑا سا کسمائی اور پھر ۔۔۔ اپنے منہ کو بھائی کے منہ کے ساتھ جوڑ دیا ۔۔۔اور بھائی کی کسنگ کا ساتھ دینے لگی۔۔۔اس وقت بھائی کا منہ کھڑی کی طرف جبکہ زینی کا مخالف سمت میں تھا۔۔اور کمرے میں بہن بھائی کی کسنگ کی مخصوص پوچ ۔۔پوچ کی آوازیں سنائی دے رہیں تھی۔۔۔۔زینی کے ساتھ کسنگ کرنے کی دیر تھی کہ زینی کے اندر کی شہوت پوری سے جاگ گئی اور اب اس کا ہاتھ کسنگ کرتے ہوئے بھائی کی شلوار کی طرف بڑھ رہا تھا ۔۔۔۔۔یہ دیکھ کر بھائی تھوڑا اوپر کو اُٹھا اور اس نے اپنی رانوں میں دبے ہوئے لن کو نمایاں کر دیا ۔جس سے اس کا اکڑا ہوا لن صاف نظر آنے لگا۔۔۔۔۔۔ جسے دیکھ کر زینی نے شلوار کے اوپر سے ہی اپنے ہاتھ میں پکڑ لیا۔۔۔۔ اس کے بعد زینی نے بھائی کے منہ سے اپنے منہ کو ہٹایا اور بولی۔۔۔۔ بھائی اپنی زبان کو باہر نکالو ۔۔۔ اور میں نے دیکھا کہ بھائی نے اپنی زبان کو منہ سے باہر نکال دیا تھا۔۔۔ جیسے ہی بھائی کی زبان اس کے منہ سے باہر نکلی ۔۔۔۔ زینی آگے بڑھی اور بھائی کی زبان کو اپنے منہ میں لے لیا اور پورے جوش کے ساتھ بھائی کی زبان کو چوسنے کے ساتھ ساتھ ۔۔۔ نیچے سے اس کے لن کو دبانے لگی۔۔۔۔۔


کچھ دیر تک زبان چوسنے کے بعد زینی اپنی جگہ سے اُٹھی اور اپنی قمیض کو اُٹھا کر بھائی سے بولی۔۔۔۔۔ بھائی میرے دودھ چوسو۔۔۔ اور اس کے ساتھ ہی اس نے اپنے دونوں ہاتھوں میں اپنی بھاری چھاتی کو پکڑا اور بھائی کے منہ کے ساتھ لگا دیا۔ یہ دیکھ کر بھائی تھوڑا سا اوپر اُٹھا اور ایسے زاویے سے بیٹھ گیا کہ جس سے مجھے وہ زینی کی چھاتی کو چوستے ہوئے صاف نظر آئے ۔۔۔۔ اور میں نے دیکھا کہ زینی کی بھاری چھاتی پر موٹا سا نپل تھا ۔۔۔۔ جس پر اس وقت بھائی دائرے کی شکل میں اپنی زبان پھیر رہا تھا۔۔۔ یہ دیکھ کر زینی بے چین سی گئی اور کہنے لگی۔۔۔۔ بھائی۔۔۔۔بھائی نپل نہ چاٹ ۔۔ بلکہ میری چھاتیوں کو چوسو ۔۔۔۔۔اور اسے چوس چوس کر اس میں سے دودھ نکال ۔۔۔۔ یہ سن کر بھائی نےاپنے دونوں ہونٹ جوڑے اور زینی کی چھاتی کو اپنے منہ میں لے لیا اور اسے چوسنے لگا۔۔۔ اس کے ساتھ ہی ۔۔زینی کی منہ سے لزت آمیز آوازوں کا نکلنا شروع ہو گیا ۔۔۔ جنہیں سن سن کر میری چوت بھی گرم ہو گئی ۔ اور میں نے نیچے ہاتھ مار کر دیکھا تو میری چوت نے بھیگنا شروع کر دیا تھا۔۔۔۔۔ پھر میں نے دیکھا کہ بھائی نے باری باری زینی کی دونوں چھاتیوں کو خوب چوسا۔۔۔۔ پھر اس کے بعد زینی کہنے لگی ۔۔۔۔اب بس کر دو بھائی۔۔۔۔



اور اس کے ساتھ ہی بھائی نے اس کی چھاتی کو اپنے منہ سے آزاد کیا اور پھر اپنی شلوار کو اتارنے لگا۔۔۔۔۔۔ پھر میرے دیکھتے ہی دیکھتے اس نے اپنی قمیض بھی اتار دی اور اب بھائی پوری طرح ننگا ہو گیا تھا ۔۔۔اور میں نے دیکھا کہ بھائی کی رانوں کے درمیان میرا دیکھا بھالا ۔۔۔اور اچھی طرح سے استعال کیا ہوا ۔۔۔۔ اس کا لن پوری طرح سے اکڑا کھڑا تھا جسے اکڑا دیکھ کر میرے منہ میں پانی آ گیا۔۔۔۔۔ لیکن ۔کیا کرتی کہ ۔۔۔۔۔۔۔میں مجبور تھی۔۔۔۔ ادھر دوسری طرف زینی نے بھی جلدی سے اپنے کپڑے اتارے اور پھر جیسے ہی اس کی نظر بھائی کے پنڈولم کی طرف پڑی تو وہ سحر ذدہ انداز میں اُٹھ کر بھائی کی ٹانگوں کے بیچ جا کر بیٹھ گئی۔۔۔۔اور کہنے لگی۔۔۔۔۔۔۔۔ بھائی تیرا تو لن تو بہت بڑا ہے ۔۔اس پر بھائی نے شرارت سے اس کی طرف دیکھا اور کہنے لگا۔۔۔۔۔ ساجد سے بھی بڑا ہے نا۔۔۔ اور میں نے دیکھا کہ ساجد کا نام سن کر زینی کے چہرے پر ایک ناگوار سا تاثر ابھر آیا تھا اور وہ بھائی کا لن اپنے ہاتھ میں پکڑ کے اسے ہلاتے ہوئے کہنے لگی۔۔۔۔ اس دا لن تے تیرے لن سے پاسکو وی نئیں ۔۔۔۔۔(اس کا لن تمہارے لن سے بہت چھوٹا ہے) تب بھائی نے شرارت سے کہا۔۔۔ اس دن کھڈے میں جیسے تم اس کا لن چوس رہی تھی میرا بھی چوسو نا۔۔۔۔ یہ سن کر زینی نے بھائی کو لن سے پکڑا اور خود چارپائی پر بیٹھ گئی۔۔۔۔اور بھائی کی طرف دیکھ کر کہنے لگی۔۔۔ چوسوں؟ تو بھائی نے ہاں میں سر ہلا دیا۔۔ یہ دیکھ کر زینی نے اپنی بڑی سی زبان کو منہ سے باہر نکالا اور بھائی کے ٹوپے پر پھیرنے لگی۔۔۔۔ اس کی زبان کا ٹوپے پر پھیرنے کی دیر تھی کہ اچانک بھائی کے ٹوپے سے مزی کا ایک موٹا سا قطرہ نکلا ۔۔۔۔۔ جسے دیکھتے ہی زینی نے اپنی زبان پر لپیٹ لیا۔۔۔اور پھر اپنے منہ کے اندر لے گئی پھر اس نے بھائی کی طرف دیکھا اور کہنے لگی۔۔ صوادلا سی ( مزہ کا تھا ) اور پھر اس کے بعد اس نے اپنا منہ کھولا اور بھائی کے لن کو اندر لے لیا ۔۔۔۔ جیسے ہی زینی کے منہ میں بھائی کا لن غائب ہوا ۔۔ تو بھائی کے منہ سے ایک سسکاری سی نکلی۔۔۔اوہ ہ ہ ہ ہ ہ ہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔جسے سن کر زینی نے اپنے منہ سے لن کو نکالا اور کہنے لگی ۔۔۔ کی ہویا بھائی ( کیا ہوا بھائ ) تو بھائی نے اسی لزت آمیز لہجے میں جواب دیا۔۔۔۔ مزہ آ رہا ہے تم جلدی جلدی لن چوس۔۔۔۔۔ اور یہ سنتے ہی زینی بھائی کے لن پر پل پڑی اور مزے لے لے کر اسے چوسنے لگی۔۔۔ چونکہ بھائی کے لن کو چوسنا میرا بھی پسندیدہ مشغلہ تھا اس لیئے زینی کو لن چوستا دیکھ کر میرے منہ سے بھی سسکی سی نکل گئی جسے میں نے اپنے منہ پر ہاتھ رکھ کر بڑی مشکل سے روک لیا اور اس کے ساتھ ہی ایک ہاتھ اپنی شلوار میں لے گئی۔۔۔اور شہوت سے سوجے ہوئے اپنے دانے کو مسلنے لگی۔۔۔۔


کچھ دیر تک لن چوسنے کے بعد اچانک ہی زینی نے اپنے منہ سے بھائی کے اکڑے ہوئے لن کو باہر نکالا اور اس کی طرف دیکھ کر کہنے لگی۔۔۔۔ بھائی ۔۔۔۔ میری پھدی چٹیں گا؟ ( بھائی میری پھدی کو چاٹو گے؟) تو اس پر بھائی جلدی سے بولا ۔۔ ہاں تیری پھدی چٹاں گا ( ہاں میں تمہاری چوت کو چاٹوں گا) تو یہ سن کر زینی اپنی جگہ سے اُٹھی اور بھائی کو اُٹھا کر خود اس کی جگہ پر بیھک گئی ۔۔ یہ دیکھ کر بھائی نیچے فرش پر بیٹھا اور اس کی دونوں ٹانگوں کے بیچ میں اپنا سر لے گیا۔۔۔ زینی کے لن چوسنے کا منظر تو مجھے صاف نظر آ رہا تھا اس لیئے اس منظر کو میں نے آپ سے ہو بہو شئیر کر دیا۔۔۔ لیکن بھائی کی چوت چاٹنے کا منظر مجھے دکھائی نہیں دے رہا تھا ۔۔۔اس لیئے مجھے بھائی کی چوت چاٹنے کا منظر تو نظر نہ آ رہا تھا تا ہم اس دوران ان کی آپس میں کی ہوئی باتیں صاف سنائی دے رہیں تھی۔۔۔ مثلاً ۔۔۔چوت چاٹنے کے کچھ دیر بعد زینی بھائی سے مخاطب ہو کر کہنے لگی۔۔۔۔ بھائی میری پھدی دا صواد کیسا اے؟( بھائی میری چوت کا ٹیسٹ کیسا ہے) تو نیچے سے چوت چاٹتے ہوئے بھائی کی آواز سنائی دی۔۔۔۔ بڑا اچھا ٹیسٹ ہے ۔۔۔ تو زینی کہنے لگی ۔۔۔فئیر دب کی چٹ نا (پھر دبا کے چاٹو) اور اس کے بعد واقعی ہی بھائی بڑی تیزی کے ساتھ اس کی چوت کو چاٹنے لگ پڑے۔۔ اور زینی کے منہ سے وہی مزے دار قسم کی سسکیاں نکلنا شروع ہونے لگ گئیں جنہیں سن سن کر میری پھدی نے فریاد کرنا شروع کرد ی کہ اسے بھی چاٹا جائے ۔۔۔ لیکن چونکہ وہ موقع ایسا نہیں تھا اس لیئے میں نے اس سے رات تک کہ مہلت لے لی۔ اس دوران زینی کی پھدی نے ایک دو دفعہ پانی بھی چھوڑا تھا۔۔۔۔۔

پھدی چٹوانے کے کچھ دیر بعد زینی بھائی سے مخاطب ہوئی اور کہنے لگی ۔۔۔ بس کر بھائی اب اُٹھ اور میری پھدی مار۔۔۔ یہ بات سن کر بھائی۔۔۔۔ اوپر اُٹھا ۔۔۔ تو میں دیکھا کہ بھائی کا لن ویسے ہی الف کھڑا تھا۔۔۔ جسے دیکھ کر زینی نے اس پر ایک کس کی اور کہنے لگی۔۔۔ اس کی بڑی اکڑاہٹ ہے بھائی ۔۔۔۔ اور اس کے ساتھ ہی بھائی نے اس سے پوچھا کہ وہ کس سٹائل میں چدوانا پسند کرے گی بھائی کے منہ سے یہ بات سن کرزینی بڑے ہی مست لہجے میں کہنے لگی۔۔۔ بھائی اس سٹائل میں چودو ۔۔ کہ جس سٹائل میں تمہارا یہ لن جڑ تک میری چوت میں چلا جائے۔۔۔۔ اس پر بھائی نے اس کو لیٹنے کو کہا۔۔۔اور اس کے ساتھ ہی وہ بھی چارپائی پر آ گیا۔۔۔اور اس نے زینی کی چوت کے نیچے دو تکیئے رکھے جس سے زینی کی موٹی چوت ابھر کر اور بھی سامنے آگئی۔۔۔اب بھائی زینی کی ٹانگوں کے بیچ میں آ گیا ۔۔۔اور اس نے زینی کی ابھری ہوئی چوت پر تھوڑا سا تھوک لگایا ہی تھا کہ زینی کہنے لگی ۔۔۔ اس کی کوئی ضرورت نہیں ۔۔۔ کہ میری پھدی پہلے ہی پانی پانی ہو رہی ہے ۔۔۔ زینی کی بات سن کر بھائی نےاس کی دونوں ٹانگوں کو اپنے کندھے پر رکھا ۔۔۔۔ جس کی وجہ سے زینی کی پھدی اور بھی نمایاں ہو کر سامنے آ گئی۔۔۔۔۔اور اس کے ساتھ ہی بھائی نے زینی کی طرف دیکھا۔۔۔اور بولا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں پاون لگا آ ( میں ڈالنے لگا ہوں) تو نیچے سے زینی نے بڑی ہی سیکسی آواز میں جواب دیا۔۔۔۔ پورا پاویں ( پورا ڈالنا ) اور اس کے ساتھ ہی بھائی نے ایک جھٹکا مارا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور لن پھسلتا ہوا زینی کی چوت میں اتر گیا۔۔۔۔ جیسے ہی بھائی کا لن زینی کی چوت میں اترا ۔۔۔۔ اس نے ایک لزت آمیز سی چیخ ماری۔۔۔۔۔ ہائے نی میرئے مائے ۔۔۔۔۔ لن ٹُر گیا اے ( ہائے میری ماں۔۔۔ لن میرے اندر چلا گیا ہے) اس کے ساتھ ہی بھائی نے گھسے مارنے شروع کر دیا۔۔۔ ۔۔۔ میرے خیال میں زینی کی چوت میں پہلے سے بہت زیادہ پانی آیا ہوا تھا ۔۔۔ کیونکہ بھائی کے ہر گھسے پر کمرے میں پچک پچک کی شہوت آمیز آوازیں سنائی دے رہیں تھیں ۔۔۔جنہیں سن سن کر میری پھدی بھی پانی سے بھر گئی تھی۔۔ادھر لزت کے مارے زینی بھائی سے کہہ رہی تھی ۔۔۔ بھائی توڑ تک پایا ای نا ( بھائی جڑ تک ڈالا ہے ناں ) تو بھائی بھی گھسہ مارتے ہوئے کہا۔۔۔۔ تینوں پتہ نہیں چلیا ( تمہیں محسوس نہیں ہو رہا) اور زینی کہتی ۔۔۔۔ ہاں پتہ چل رہا ہے اور چود مجھے اور چود۔۔۔۔۔۔۔ کافی دیر تک گھسے مارنے کے بعد ۔۔۔۔اچانک ہی بھائی بولا۔۔۔۔۔۔۔زینی اپنی پھدی سنبھال۔۔۔۔۔۔ میں گیا۔۔۔۔اور اس کے ساتھ ہی اس کے گھسے مارنے کی رفتار میں بہت اضافہ ہو گیا۔۔۔۔ اور میں نے دیکھا کہ گھسے مارتے ہوئے بھائی اور زینی دونوں ہی پسینے میں نہائے ہوئے تھے۔۔۔اس کے ساتھ ہی اگلے چند گھسو ں کے بعد۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بھائی نے بلند آواز میں ۔۔اوہ۔۔۔اوہ ۔۔اوہ کی۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور اس۔۔۔ اوہ۔۔۔ اوہ ۔۔۔کے دوران ہی بھائی زینی کی چوت کے اندر ہی کہیں پانی نے اپنا پانی چھوڑ دیا تھا۔۔۔۔۔

اس سے اگلے دن کی بات ہے کہ اس دن ثمینہ سیناری نے مجھے اپنے گھر آنے کو کہا تھا کہ اس دن اس کی امی گھر پر نہیں تھی ۔۔۔۔ اس لیئے میں اس کے گھر چلی گئی مجھے دیکھتے ہی سنیاری میرے ساتھ لپٹ گئی اور میں نے محسوس کیا کہ اس وقت اس نے اپنے نیچے برا نہیں پہنی ہوئی تھی ۔۔۔۔ اس لیئے اس کے ساتھ جھپی لگاتے ہوئے اس کی چھاتیوں کے لمس سے میں تو مست ہی ہو گئی ۔۔۔اور اس کے ساتھ گلے ملتے ہوئے میں نے ڈائیرکٹ ہی اس کے منہ میں اپنی زبان ڈال دی۔۔۔۔ اور اس کے ساتھ ہی ہم دنو ں ایک دوسرے کی زبانوں کو چوستے چوستے اندر کمرے میں آ گئیں ۔۔ اور اس کے بعد کافی دیر تک ہم ایک دوسرے کے سیکسی جسموں سے اپنے اپنے حصے کی لذت کو کشید کرتی رہیں ۔۔۔۔ اور پھر اتنا زیادہ سیکس کرنے کے بعد جب ہم سیر ہو گئیں۔۔۔( واضع رہے کہ خاص طور پر میرا تو سیکس سے کبھی بھی دل نہیں بھرتا ) تو اس سے اجازت لے کر میں اپنے گھر کی طرف چل پڑی۔۔۔۔ابھی میں اپنے گھر سے کچھ ہی دور پہنچی تھی کہ۔۔۔ میں نے اپنے گھر کے آس پاس لوگوں کا کافی رش دیکھا۔۔۔۔۔اپنے گھر کے آس پاس اتنے زیادہ لوگوں کو دیکھ کر میں کچھ پریشان سی ہو گئی ۔۔۔ اور اس کے ساتھ ہی میرے دل میں طرح طرح کے وسواس آنے لگے۔۔۔ اور لوگوں کا رش دیکھ کر تیز تیز قدموں سے چلتی ہوئی میں اپنے گھر کے قریب پہنچ گئی ۔۔۔ اور پھر۔۔۔۔جیسے ہی میں اپنے گھر میں داخل ہوئی تو ایک خوف ناک خبر میری منتظر تھی۔۔۔۔۔ اور وہ خوف ناک خبر یہ تھی کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔





جیسے ہی میں اپنے گھر میں داخل ہوئی تو ایک خوف ناک خبر میری منتظر تھی۔۔۔۔۔ اور وہ خوف ناک اور اندوہ ناک خبر ایسی تھی کہ جسے سن کر مجھے ایسے لگا کہ جیسے میرے جسم سے کسی نے جان ہی نکال دی ہو ۔۔ اور کافی دیر تک میں بے یقینی کے عالم میں خبرسنانے والے کی طرف دیکھتی اس نے مجھے بتایا تھا کہ وہ گھر میں بجلی کا سو ئچ ٹھیک کر رہے تھے کہ کوئی تار ننگی رہنے کی یا کوئی بے احتیاطی کی وجہ سے اچانک ان کو بجلی کا کرنٹ لگ گیا اور بجلی کا یہ کرنٹ اتنا شدید تھا کہ جس کی وجہ سے موقع پر ہی میرے والد صاحب کی ڈیتھ واقعہ ہو گئی۔۔ ۔۔۔ جیسے ہی میرے کانوں میں یہ خبر پہنچی ۔۔ تو اس خبر کو سن کر مجھ پر ایک سکتہ سا طاری ہو گیا ۔۔۔۔۔اور اس کے بعد کافی دیر تک میں خالی خالی نظروں سے اس کی طرف دیکھتی رہی پھر جیسے ہی میرے کچھ حواس بحال ہوئے تو میں نے درد میں ڈوبی ہوئی ایک زبردست چیخ ماری اور اس کے بعد شدتِ غم سے میں بے ہوش ہو گئی تھی جب میری آنکھ کھلی تو میں نے دیکھا کہ کافی ساری خواتین میرے اوپر جھکی ہوئی تھیں۔۔۔



میں سچ کہ رہی ہوں دوستو کہ یہ میری زندگی کا ایک ایسا واقعہ ہے کہ جس نے مجھے ہلا کر رکھ دیا تھا ۔۔۔۔اور اس واقعہ نے نہ صرف میری بلکہ میرے سارے گھر کی زندگی کو یک سر تبدیل کر کے رکھ دیا تھا۔۔۔۔۔۔ اور پہلی دفعہ صحیح معنوں میں مجھے اس بات کا ادراک ہوا تھا کہ غم کسے کہتے ہیں اور کس طرح شامیں ویران ہوتی ہیں ۔۔۔ ابو کی وفات کے بڑے عرصے بعد تک اداسی بال کھولے ہمارے گھر میں ٹھہری رہی تھی چونکہ گھر میں کمانے والے صرف وہی فرد تھے اس لیئے ابو کے جانے کے بعد سب سے پہلے ہمیں معشیت کی فکر پڑ گئی۔۔جسے امی نے سلائی کڑھائی کر کے ۔۔۔اور امی کے ساتھ میں نے بھی بچوں کو ٹیوشن پڑھا کر جیسے تیسے پورا کرنے کی کوشش کی ۔۔۔ چونکہ یہ ہم پہ بڑا کڑا وقت تھا اس لیئے ایک ایک کر کے سب رشتے دار اور عزیز وں نے ہمارا ساتھ چھوڑنا شروع کر دیا ۔۔۔ یہاں تک کہ چاچا اور اس کی فیملی نے بھی ہمیں لفٹ کرانا چھوڑ دی تھی ۔۔۔ جس کی وجہ سے صحیع معنوں میں ہم لوگ تنہا ہو گئے تھے۔۔۔۔ اسی دوران میرا میٹرک کا رزلٹ بھی آ گیا تھا جس میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں بہت اچھے نمبروں سے پاس ہو گئی تھی لیکن چونکہ گھریلو حالات کی وجہ سے میں عاشی کی طرح کالج پڑھنا افورڈ نہیں کر سکتی تھی اس لیئے میں نے پرائیویٹ طور پر پڑھنا شروع کر دیا۔۔ ۔۔۔۔۔جہاں تک سیکس وغیرہ کا تعلق ہے تو یقین کرو ۔۔دوستو ۔۔کہ اس سلسلہ میں میری حالت ایسی ہو گئی تھی کہ جس کے بارے میں شیخ سعدی نے اپنی کتاب گلستان سعدی یا بوستان سعدی میں بزبانِ فارسی ایک شعر لکھا ہے کہ جس کے مطابق ایک دفعہ دمشق میں اس قدر قحط پڑ گیا تھا کہ یار لوگ عشق کرنا بھول گئے تھے۔۔۔ بلکل اسی طرح چونکہ اس دوران ہمیں بھی ۔۔۔کھانے اور زندگی گزارنے کے دوسرے لوازمات کے اس قدر لالے پڑے ہوئے تھے کہ اس حادثے کے بعد میں اور میرے بہن بھائی ہم سب سیکس وغیرہ کرنا ۔۔۔تو دور کی بات اس کے بارے میں سوچنا بھی۔۔۔ بھول چکے تھے ۔۔۔ وہ اس لیئے کہ بقول غالب ۔۔۔۔۔۔گیا ہو جب اپنا ہی جیوڑا نکل ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تو کہاں کی رباعی ۔۔اور کہاں کی غزل۔۔۔۔۔۔


سوری دوستو آپ بھی سوچتے ہوں گے کہ میں اپنے سیکس سے متعلق واقعات سناتے سناتے یہ کیا بیچ میں لے آئی؟؟؟ ۔۔۔ لیکن ۔۔ چونکہ ابو کی وفات میری زندگی سے جڑُا ایک ایسا خوف ناک اور اندوہ ناک حادثہ تھا کہ جس نے میری ساری زندگی کو اتھل پتھل کر کے رکھ دیا تھا ۔۔۔۔ اس لیئے میں نے مناسب سمجھا کہ یہ بات بھی آپ لوگوں کے ساتھ شئیر کر لوں ۔۔۔ چلیں ان تلخ واقعات کو یہیں چھوڑتے ہیں اور آگے بڑھتے ہیں۔۔۔


اسی دوران پرائیویٹ طور پر پڑھتے ہوئے میں نے بہت اچھے نمبروں سے بی اے کر لیا تھا اور اب آگے بی ایڈ کرنے کا ارادہ تھا ۔۔۔۔ ادھر میرے بی اے کرنے کی دیر تھی کہ ہر ماں کی طرح میری امی کو بھی میری شادی کی فکر ستانے لگی ۔۔ لیکن چونکہ میں ایک غریب گھرانے کی لڑکی تھی اور گھرانہ بھی ایسا کہ جہاں سے لوگوں کو جہیز ملنے کو کوئی خاص امید نہ تھی ۔۔۔۔۔ اس لیئے ہمارے ہاں اچھے رشتے کا آنا تو خواب و خیال تھا ۔۔۔۔ تا ہم گاہے رنڈوے ۔۔۔یا دوسری شادی کرنے کے خواہش مند حضرات ہمارے گھر کا چکر ضرور لگایا کرتے تھے جن کو ظاہر ہے کہ میری امی منع کر دیا کرتی تھی۔۔۔دوستو!۔۔میں نے کہیں پڑھا تھا کہ بیوہ عورت ایک کٹی پتنگ کی طرح ہوتی ہےکہ جسے ہر کوئی لوُٹنے کی کوشش کرتا ہے لیکن پر یہاں میں اپنے تجربے کو مدِ نظر رکھتے ہوئے بیوہ کے ساتھ ساتھ غریب لڑکی کا بھی اضافہ کرنا چاہوں گی کیونکہ بیوہ کی طرح غریب لڑکی کا بھی کوئی والی وارث۔۔۔۔ کوئی پرسانِ حال نہیں ہوتا ۔۔۔۔۔۔ اور بیوہ عورت کی طرح اسے بھی ہر کوئی مفت کا مال سمجھ کر ڈکارنا چاہتا ہے۔۔۔ کچھ اسی قسم کی صورتِ حال کا مجھے بھی سامنا تھا۔۔۔۔۔



ہماری ایک بڑی خالہ تھیں جو کہ ہمارے قصبے سے کچھ ہی دور رہتی تھیں ا ن کے دو بیٹے اور دو بیٹیاں تھیں سب سے بڑے بیٹے کا نام عدنان تھا ۔ جو کہ بعد میں میرا خاوند بنا ۔۔پھر اس کے بعد دوسرا لڑکا اور پھر فوزیہ باجی اور سب سے آخر میں عاصمہ جسے پیار سے گڈی کہتے تھے ۔ خالہ بھی امی کی طرح ایک بیوہ خاتون تھیں ۔۔۔۔ اور بیوہ عورت کے بارے میں آپ جانتے ہی ہیں کہ عام طور پر ان کی اولاد خاص کر لڑکے بہت کم سدھرے ہوئے ہوتے ہیں یہی حال عدنان صاحب کا بھی تھا ۔۔۔ عدنان ایک بلکل جاہل گنوار اور اجڈ ٹائپ کا بندہ تھا ۔۔۔اور بڑا ہونے کے ناطے وہ خالہ کے کنٹرول سے بلکل باہر تھا ۔اسی لیئے وہ چوتھی جماعت سے آگے تعلیم نہ حاصل کر سکا تھا ۔۔۔۔ ۔۔۔ اس کے ساتھ ساتھ اس کا چھوٹا موٹا زاتی کاروبار بھی تھا ۔ عدنان شکل و صورت کا بھی بہت ماٹھا تھا رنگ اس کا کالا ا ور نین نقش بھی اچھے نہ تھے اوپر سے آوارہ اور لوفر مشہور ہونے کی وجہ سے اتنی عمر ہونے کے باوجود بھی اسے فیملی میں کوئی بھی رشتہ دینے کے لیئے تیار نہ تھا اس کے ساتھ ساتھ ۔۔۔


ہاں تو میں کہہ رہی تھی کہ انہی دنوں میں نے نوٹ کیا کہ ان دنوں بڑی خالہ ہمارے گھر کے کچھ زیادہ ہی چکر لگانا شروع ہو گئی تھی ۔۔۔وہ جب آتی تو اپنے ساتھ کوئی پھل فروٹ وغیرہ ضرور لایا کرتی تھی حالانکہ اس سے قبل بھی خالہ ہمارے گھر آیا کرتی تھی لیکن کبھی بھی اپنے ساتھ پھل وغیرہ نہ لایا کرتی تھی ۔۔۔ اب وہ اور اس کی بڑی بیٹی فوزیہ جو کہ بہاولپور کسی کالج میں پڑھاتی تھی اور وہاں پر اکیلی ہی کسی وومن ہاسٹل میں رہا کرتی تھی نے بار بار ہمارے گھر کے چکر لگانے شروع کر دیئے تھے اس کے ساتھ ساتھ دونوں ماں بیٹیاں میرے ساتھ بڑی میٹھی میٹھی باتیں بھی کرتی تھیں۔۔۔میرا شاید اس طرف دھیان نہ جاتا ۔۔۔۔ لیکن ایک دن زینی نے مجھ سے کہا کہ کیا باجی آپ کو معلوم ہے کہ آج کل بڑی خالہ ہمارے گھر کے اتنے چکر کیوں لگا رہی ہیں ؟ تو میں نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا کہ وہ امی کی دل جوئی کے لیئے آتی ہوں گی میری بات سن کر زینی ہنس پڑی اور کہنے لگی ۔۔۔ تم بھی بڑی بھولی ہو باجی۔۔۔۔ پھر بولی ۔۔۔ باجی سوچو کہ اگر بڑی خالہ کے دل میں امی کے لیئے اتنا ہی درد ہوتا تو وہ اس وقت امی کے پاس کیوں نہ آتیں تھیں کہ جب امی کو خاص طور پر ان کے سہارے کی اشد ضرورت تھی ۔۔۔ اس کی بات سن کر میں نے ہاں میں سر ہلایا اور پھر اس کی دیکھتے ہوئے کہنے لگی۔۔۔ کہتی تو تم ٹھیک ہی ہو۔۔۔۔۔ پھر میں نے اس سے پوچھا کہ اچھا یہ بتا کہ جب ایسی کوئی بات نہیں ہے تو پھر خالہ ہمارے گھر کے بار بار کیوں چکر لگا رہی ہیں ۔۔۔ میری بات سن کر زینی نے میری طرف دیکھا اور آنکھ مارتے ہوئے بولی ۔۔۔ وہ اس لیئے باجی جی کہ جس گھر میں بیری لگی ہو وہاں پر پتھر تو پڑتے ہی رہتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس کی بات سن کر میں نے اُلجھی ہوئی نظروں سے اس کی طرف دیکھا اور کہنے لگی۔۔۔ یار زینی پہلیاں نہ بجھوا اور جلدی سے بتا کہ آخر چکر کیا ہے؟


میری بات سن کر زینی کہنے لگی باجی جی چکر سیدھا سیدھا ہے۔۔۔۔۔ بڑی خالہ عدنان کے لیئے آپ کا رشتہ مانگ رہی ہیں۔۔۔ زینی کی بات سن کر مجھے ایک کرنٹ سا لگا اور میں بڑی ہی حیرانی سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہنے لگی ۔۔عدنان کا رشتہ اور وہ بھی میرے لیئے؟؟؟؟؟؟؟؟۔۔۔ تو زینی کہنے لگی جی باجی آپ کے لیئے۔۔۔۔۔ یہ سن کر میرے تو تن بدن میں آگ لگ گئی کیونکہ عدنان کی حرکتوں سے میں ہی نہیں بلکہ پوری فیملی ہی واقف تھی ۔۔۔ چنانہ اسی دن شام کو میں امی کو الگ لے گئی اور ان سے پوچھا کہ امی یہ بتاؤ کہ بڑی خالہ آج کل ہمارے گھر کے اتنے چکر کیوں لگا رہی ہیں؟ میرا جارحانہ لہجہ دیکھ کر امی کہنے لگی ۔۔۔ گیس تو میرا بھی وہی ہے جو کہ تم سوچ رہی ہو ۔۔۔ لیکن ابھی تک باجی نے میرے ساتھ اس بارے میں کوئی بات نہیں کی ہے۔۔۔ اس پر میں نے امی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کان کھول کر سن لیں امی ۔۔۔ میرا ابھی شادی کا کوئی پروگرام نہ ہے۔۔اسلیئے اگر بڑی خالہ میرا رشتہ مانگیں بھی۔۔۔ تو آپ نے صاف انکار کر دینا ہے۔۔۔ میری بات سن کر امی نے بڑی گہری نظروں سے میری طرف دیکھا اور کہنے لگیں۔۔۔۔۔ جب موقع آیا تو دیکھا جائے گا۔۔۔ اور اس کے ساتھ ہی وہ اپنی جگہ سے اُٹھ کر وہاں سےباہر چلی گئیں۔۔۔



اس واقعہ کے ایک ہفتے بعد کا زکر ہے کہ ایک دن بڑی خالہ ۔۔۔ ان کے ساتھ فوزیہ باجی اور ان کی سب سے چھوٹی بہن گڈی ( جو کہ مجھ سے تین چار سال بڑی تھی) اور ان کے ساتھ چھوٹے ماموں بھی ہمارے گھر آ گئے ۔۔۔ چھوٹے ماموں کے بارے میں۔۔ میں آپ کو بتا دوں کہ یہ بڑی خالہ کے ساتھ ایک گلی چھوڑ کر رہتے تھے بہت ہی اچھے اور ہمدرد آدمی تھے ان کی عمر چالیس پینتالیس سال ہو گی اور وہ شادی شدہ تھے ان کی بیوی بہت گوری چٹی اور قد کاٹھ کی بہت اچھی تھی جبکہ ان کے مقابلے میں ماموں کا رنگ ڈرک براؤن تھا ۔۔۔۔ لیکن بد قسمتی سے شادی کو اتنا عرصہ گزرنے کے باوجود بھی ابھی تک ان کے ہاں کوئی اولاد نہ ہوئی تھی جس کی وجہ سے چھوٹے ماموں کبھی کبھی اداس بھی ہو جاتے تھے لیکن مجموعی طور پر وہ ایک اچھے آدمی تھے اور ان کا خاصہ بڑا کاروبار تھا ۔۔۔۔۔چونکہ بڑی خالہ کی بیوگی کے بعد چھوٹے ماموں نے ان کی فیملی بہت خیال رکھا تھا جس کی وجہ سے بڑی خالہ نہ صرف یہ کہ ان کی ہر بات مانتی تھیں ۔۔۔ بلکہ گھر کے ہر اہم فیصلہ میں ان کی رائے کو فوقیت دیتی تھیں ۔۔۔ جس کی وجہ سے خالہ کے گھر میں چھوٹے ماموں کو بہت زیادہ اثر و رسُوخ حاصل تھا اور خالہ بھی اپنے ہر اہم فیصلے میں ان کو اپنے ساتھ رکھتی تھی ۔۔ ۔۔۔ہاں تو میں کہہ رہی تھی کہ ۔۔۔۔ان مہمانوں کو دیکھ کر میرا ماتھا تو پہلے ہی ٹھنک گیا تھا ۔۔۔ لیکن جب زینی نے مجھ سے یہ بات کنفرم کی کہ بقول گڈی باجی کے یہ لوگ میرے رشتے کے لیئے آئے ہیں تو ایک دفعہ پھر میں امی کے پاس چلی گئی اور دوبارہ سے ۔۔ انہیں اس رشتے کے بارے میں اپنی رائے سے آگاہ کیا میری بات سن کر اماں نے ایک نظر مجھے دیکھا اور پھر میرے بار بار کے اصرار پر مجھے پچکارتے ہوئے گول مول سا جواب دیتے ہوئے کہنے لگی۔۔۔ ویلا تے آن دے پھر وینے آں ( وقت آنے دو پھر دیکھا جائے گا ) تو میں نے اماں سے کہا ۔۔۔ اماں جس وقت کا آپ ذکر کر رہی ہو وہ وقت آ گیا ہے


لیکن اماں نے مجھے ادھر ادھر کی باتوں میں ٹال دیا۔۔۔۔ ادھر میری بے چینی کم ہونے میں نہیں آ رہی تھی اور میں عدنا ن سے ہر گز شادی نہ کرنا چاہتی تھی۔۔۔۔میرے بار بار کے کہنے پر بھی اماں ٹس سے مس نہ ہو رہیں تھی اور میں نے یہ بات نوٹ کر لی تھی کہ اس سلسلہ اماں میری بات کو ُسنا ان سنُا کر رہی ہیں ۔۔۔ پھر ۔۔۔اگلے دن کی بات ہے کہ میرے بد ترین خدشات درست ہونا شروع ہو گئے اور وہ یوں کہ اگلے دن صبع بڑی خالہ اور چھوٹے ماموں نے امی سے عدنان کے لیئے میرا ہاتھ مانگ لیا ۔۔۔۔جسے سن کر امی نے ان سے شام تک کی مہلت مانگی ۔۔ اور پھر اسی دن دوپہر کے وقت اماں مجھے اپنے ساتھ ایک دوست کے گھر لے گئیں اور وہاں تنہائی میں مجھ سے کہنے لگی ۔۔صبو ۔۔۔جیسا کہ تم کو معلوم ہی ہے کہ ۔۔۔ آپا نے مجھ سے آج عدنان کے لیئے تمہارا ہاتھ مانگ لیا ہے۔۔ اب تم بتاؤ کہ اس سلسلہ میں تم کیا کہتی ہو؟ ۔۔۔ امی کی بات سن کر ایک دم سے میں پھٹ پڑی اور کہنے لگی ۔۔۔ امی۔۔۔اس رشتے کے بارے میں ۔۔۔۔ میں آپ کو پہلے ہی بتا چکی ہوں۔۔۔اور پھر اس کے بعد میں نے امی کے سامنے ایک لمبی چوڑی تقریر کر دی۔۔ جسے وہ بڑے اطمینان کے ساتھ سنتی رہیں ۔۔۔





مجھے ابھی تک یاد ہے کہ جب میری تقریر ختم ہوئی ۔۔۔۔تو اس سن کر اماں ایک دم سے سیریس ہو کر کہنے لگی ۔۔۔ میرے خیال میں تو صبو تمہارے لیئے اس سے اچھا رشتہ اور نہیں آئے گا ۔۔۔ اماں کی بات سن کر اس سے پہلے کہ میں کوئی جواب دیتی ۔۔۔۔انہوں نے ہاتھ کے اشارے سے مجھے مزید کچھ کہنے سے منع کیا اور پھر بڑی شفقت سے کہنے لگی ۔۔۔ صبو پتر ۔۔۔ انکار کرنے سے پہلے تم میری حثیت کا ضرور اندازہ لگا لینا ۔۔۔۔۔۔ پھر مزید کہتے ہوئے بولیں دیکھو بیٹی میں ایک بیوہ عورت ہو ں اور اس بات سے تم بہت اچھی طرح واقف ہو کہ زمانے کے لحاظ سے ہماری حثیت کیا ہے اور ہم کن مشکلوں سے گزر رہے ہیں ۔۔۔ اور تم یہ بھی جانتی ہوکہ تمہیں جہیز میں دینے کے لیئے میرے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔۔۔ پھر کہنے لگی ۔۔۔ میری بچی ۔۔ تم اپنی آنکھوں میں جس قسم کے رشتوں کا خواب سجائے بیٹھی ہو ۔۔۔ایسا رشتہ ہمارے ہاں کبھی بھی نہیں آئے گا ۔۔۔پھر تھوڑا ۔۔رُک کر بولیں۔۔۔اور وہ اس لیئے میری بچی ۔۔کہ جیسا رشتہ ہوتا ہے اس کے ساتھ جڑی ہوئی ویسی ہی ڈیمانڈز بھی ہوتی ہیں۔۔۔ اس کے بعد بات کرتے ہوئے اماں کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے اور وہ بھرائے ہوئے لہجے میں بولیں۔۔۔


۔صبو !۔۔ آج اگر تمہارے ابا زندہ ہوتے تو پھر مجھے کوئی پرواہ نہ تھی لیکن ۔۔۔۔۔ لیکن اب جبکہ وہ اس دینا میں نہیں ہیں ۔۔۔تو تم مجھ پر بوجھ بنتی جا رہی ہو ۔۔۔۔ اماں کی بوجھ والی بات تیر کی طرح سیدھے میرے دل میں جا کر ترازو ہو گئی۔۔۔ اور میں نے بڑی ہی دل گرفتگی کے ساتھ ان سے پوچھا کہ اماں میں آپ پر کب سے بوجھ ہو گئی ہوں ؟ تو وہ کہنے لگی ۔۔۔ دیکھ پتر جوان بچیاں ماں باپ پر بوجھ ہی ہوتی ہیں ۔۔۔اور اس بات کو تم اچھی طرح سے جانتی ہو۔۔۔۔ چنانچہ اماں کی بوجھ والی بات سن کر میں نے دل ہی دل میں نے ایک فیصلہ کیا اور ان سے بولی۔۔۔ ٹھیک ہے اماں اگر آپ اسی بات میں راضی ہو تو مجھے یہ رشتہ منظور ہے۔۔۔ میرے منہ سے ہاں سن کر اماں نے مجھے اپنے گلے سے لگا لیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور کافی دیر تک ہم دونوں ماں بیٹی آنسوؤں کے ساتھ روتی رہیں ۔۔۔



عدنان سے میرے رشتے کے لیئے ہاں کرتے ہوئے اماں نے ان سے صاف کہہ دیا تھا کہ چونکہ ان پوزیشن ایسی ہے کہ وہ زیادہ براتی افورڈ نہیں کر سکتی اس لیئے لڑکی کو لینے آپ صرف گھر والے آئیں ۔۔۔ اور بیٹی کو اپنے ساتھ لے جائیں ۔ہاں ولیمے پر انہوں نے اپنی جو خوشیاں کرنی ہیں وہ ضرور کریں۔۔ سو دوستو اس طرح نہایت سادگی کے ساتھ میرا نکاح پڑھا گیا اور بڑی خالہ مجھے بیاہ کے اپنے گھر لے آئی۔۔۔ بڑی خالہ ہماری نسبت کافی خوشحال تھی جس کی وجہ عدنان کا چھوٹا موٹا بزنس اور فوزیہ باجی کا گورنمنٹ کالج بہاولپور میں لیکچرار کا ہونا تھا۔۔۔ امی نے مجھے اور تو جہیز میں کچھ نہیں دیا البتہ کسی طرح انہوں نے ایک سُرخ رنگ کا کام والا جوڑا دیا تھا جسے پہن کر میں اپنے گھر سے رُخصت ہوئی تھی ۔۔۔ اسی رات مجھے عدنان کے کمرے میں پہنچا دیا گیا جہاں پر مسہری سجی ہوئی تھی ۔۔میں دلہن بنی مسہری پر بیٹھی ہوئی تھی۔۔اور میرے آس پاس عدنا ن کی بہنیں اور ان کی سکھیاں بیٹھیں آپس میں چُہلیں کر رہیں تھیں ۔۔۔ اور اس کے ساتھ ساتھ کبھی کبھی وہ میری طرف مخاطب ہو کر بھی ذو معنی باتیں کر رہیں تھی ۔۔۔ جبکہ میں ان کی باتوں کو سُنی ان سُنی کرتے ہوئے ۔۔ آنے والے وقت کے بارے میں سوچ رہی تھی۔۔۔۔ اور آنے والے وقت کے بارے میں ہی سوچ سوچ کر میرا دل دھک دھک کر رہا تھا۔۔۔پھر رات کے کسی پہر عدنان کمرے میں داخل ہوئے۔۔۔ تو میری پاس بیٹھی ہوئیں ساری لڑکیاں وہاں سے اُٹھ کر چلی گئںی ۔۔ جب حجلہء عروسی لڑکیوں سے خالی ہو گیا ۔۔۔ تو عدنان نے کمرے کو لاک کیا اور میرے پاس آ کر بیٹھ گئے۔۔ اس وقت میں ایک لمبا سا گھونگھٹ نکالے مسہری پر بیٹھی ہوئی تھی عدنان نے میرا گھونگٹ اُٹھایا اور میرا چہرہ دیکھ کر کہنے لگا۔۔۔ اس سُرخ جوڑے میں تم بہت خوب صورت لگ رہی ہو ۔۔۔۔۔پھر اس نے میرا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنے ہاتھ میں لے لیا ۔۔۔اور اس کے ساتھ ہی اس نےاس ایک ہاتھ اپنی جیب میں ڈالا اور اندر سے ایک انگھوٹھی نکالتے ہوئے بولا۔۔۔


اجازت ہو تو میں تمہارے ہاتھ میں یہ انگھوٹھی پہنا دوں؟ ۔۔اور پھر میری اجازت کے بغیر ہی انہوں نے ۔۔۔میری انگلی کو پکڑ کر منہ دکھائی میں وہ انگھوٹھی پہنا دی ۔۔۔اور پھر اس ہاتھ کو میری آنکھوں کے سامنے کرتے ہوئے کہنے لگے۔۔ دیکھو تو یہ انگھوٹھی تم کو کیسی لگ رہی ؟ لیکن میں شرم کے مارے چُپ ہی رہی۔۔۔ تو اس پر وہ کہنے لگے اچھا بتاؤ ۔۔کہ میری انگھوٹھی پسند آئی ؟ اس پر بھی جب میں خاموش رہی تو وہ کہنے لگے ارے بابا چپ رہنے سے کام نہیں چلے گا ۔۔۔۔ کچھ منہ سے بھی بولو ناں۔۔۔۔۔ لیکن۔۔ میں کیا کہتی ۔۔۔ اسلیئے میں نے خاموش رہنا ہی بہتر جانا۔۔ ۔۔۔تو یہ دیکھ کر وہ آگے بڑھا اور میرا منہ اپنی طرف کر کے کہنے لگا۔۔۔ دیکھو تو تم نے اپنے منہ میں کوئی گھونگیارں تو نہیں ڈال رکھیں؟ اور اسی بہانے وہ میرے منہ کو اپنے منہ کے قریب لے گیا ۔۔۔اور بنا کچھ کہے ۔۔۔۔اس نے میرے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھے اور ۔۔۔۔ انہیں چومتا رہا ۔۔ پھر میری طرف دیکھ کر بولا۔۔۔۔ تمہارے لب تو بہت نرم ہیں صبو۔۔۔۔ اور اس کے ساتھ ہی وہ دوبارہ سے میرے لبوں کی طرف جھکا اور پھر ۔۔۔۔ میرے لبو ں کو اپنے لبوں میں لے لیا اور بڑے آرام کے ساتھ میرے لبوں کو چوسنے لگا۔۔۔۔ پسند نا پسند کی بات اپنی جگہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن ایک لمبے عرصے بعد میرے ہونٹوں پر کسی کے ہونٹوں کا لگنا ۔۔ میرے لبوں کو چومنا ۔۔۔اور پھر انہیں چوسنا ۔۔۔۔۔۔ مجھے بہت اچھا محسوس ہو رہا تھا۔۔۔۔لیکن میں اپنے منہ سے کچھ نہ بولی تھی ۔۔۔۔اور جو وہ کر رہے تھے انہیں کرنے دے رہی تھی۔۔۔ اس کے بعد انہوں نے اپنی زبان کو میرے منہ میں ڈالا ۔۔۔۔۔اور ۔۔۔۔اُف۔ف۔ف۔ف۔ف۔ اتنے عرصے بعد میری زبان کو کسی نے اپنے منہ میں لے کر چوسا تھا ۔۔۔۔ظاہری بات ہے مزہ تو آنا ہی تھا۔۔۔۔ اس لیئے مجھے نا چاہتے ہوئے بھی عدنان کے ساتھ کسنگ کرنے کا مزہ آنے لگا۔۔۔


کافی دیر تک کگسی کرنے کے بعد اس نے میری قمیض اوپر اُٹھا دی ۔۔۔۔ پھر نیچے سرخ رنگ کی برا کو دیکھ کر کہنے لگا ۔۔۔واہ جی واہ۔۔۔۔ بڑی میچنگ کی ہوئی ہے لیکن اس وقت یہ تمہارے جسم پر بلکل بھی نہیں جچ رہی ۔۔۔ اور اس کے ساتھ ہی اس نے ہاتھ بڑھا کر برا کی ہک بھی کھول کر میری چھاتیوں کو ننگا کر دیا۔۔۔۔ جیسے ہی اس کی نظر میری چھاتیوں کی طرف گئی تو وہ ایک دم خوش ہو کر کہنے لگا۔۔۔۔ واہ یار تیری چھاتیاں تو ایک دم مست ہیں۔۔۔ پھر میری طرف دیکھ کر کہنے لگا۔۔۔ میں ان کے ساتھ تھوڑی مستی کر سکتا ہوں ؟ اور اس کے ساتھ ہی اس نے میری ایک چھاتی کو اپنے دونوں ہاتھوں میں پکڑا اور گرمیوں میں جیسے لوگ بالٹی میں رکھے آموں کو پکڑ کر پہلے نرم کرتے ہیں پھر ان کو چوستے ہیں ویسے عدنان نے باری باری میر ی چھوٹی مگر سخت چھاتیوں کو اپنے دونوں ہاتھ میں پکڑا۔۔ اور ان کو دباتے رہے۔۔ان کے ہلکے ہلکے دبانے سے مجھے بڑا مزہ مل رہا تھا اور میرا جی چاہ رہا تھا کہ ساری رات وہ ایسے ہی میری چھاتیوں کو دباتے رہیں ۔۔۔۔ لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا اور کچھ دیر تک ہی میری چھاتیوں کو دباتے رہے۔۔ پھر کہنے لگے ۔۔۔ اب میں ان کو چوسنے لگا ہوں۔۔۔اور اس کے ساتھ ہی انہوں نے اپنے دونوں ہاتھوں میں میری ایک چھاتی کو پکڑا اور پہلے تو میرے اکڑے ہوئے نپل پر گول گول زبان گھمائی۔۔۔۔ پھر۔۔۔ میری اس چھاتی کو اپنے منہ کھول کر اپنے ہونٹوں میں لے لیا ۔۔۔۔اور پھر اس کے بعد باری میری دونوں چھاتیوں کو چوسنے لگا۔۔۔۔۔۔۔۔ میری چھاتیوں کا عدنان کے منہ میں جانے کی دیر تھی کہ نیچے سے مجھے اپنی چوت سے سگنل ملنے شروع ہو گئی۔۔اور جیسے جیسے وہ میری چھاتیوں کو چوستے جاتے ویسے ویسے ان سگنلز کی تعداد میں اضافہ ہوتا جاتا تھا ۔۔ ویسے تو میں ۔۔۔۔اور میری چوت صبع سے ہی چودائی کے لیئے تیار تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن اس وقت جبکہ عدنان کے منہ میں میری چھاتی دبی ہوئی تھی اور وہ میرے نپلز کو چوس رہا تھا ۔۔۔۔۔ تو میر ی چوت نے اپنی آمادگی ظاہر کرتے ہوئے آنے والے وقت کے لیئے اسے چکنا کرنا شروع کردیا۔۔۔۔۔۔۔



ادھر عدنان میری چھاتیوں کو ایسے چوسے جا رہا تھا کہ جیسے وہ صرف انہیں ہی چوسنے کے لیئے دنیا میں آیا ہو۔۔۔۔ اور جو ں جوں عدنان میری چھاتیوں کو چوستا جا رہا تھا ۔۔۔۔ توُن تُوں اس کا لن اپنے اندر لینے کے لیئے میری چوت کی آمدگی بڑھتی جا رہی تھی۔۔۔ اور کچھ دیر بعد اس کی حالت یوں ہو گئی تھی کہ اب میری چوت جو کہ پہلے صرف چکنی ہوئی تھی ۔۔۔اب اس میں اچھا خاصہ پانی بھر چکا تھا۔۔۔ میرے خیال میں عدنان کو چھاتیاں چوسنا از حد پسند تھا تبھی تو کافی دیر سے وہ میری چھاتیوں کو بس چوسے جا رہا تھا۔۔۔۔ پھر کافی دیر کے بعد اس نے میری چھاتیوں سے اپنے منہ کو ہٹایا اور پھر ۔۔۔۔ میری طرف دیکھتے ہوئے بولا۔۔۔۔۔ کچھ مزہ آیا ۔۔۔ تو میں نے شرم کے مارے کوئی جواب نہ دیا ۔۔۔ یہ دیکھ کر وہ اپنی قمیض کو اتارتے ہوئے بولا ۔۔۔۔ مجھ سے کیسی شرم کر رہی ہو صبو جی۔۔۔ میں تو تمہارا خاوند ہو ں۔۔۔اور ابھی تھوڑی دیر بعد میں تمہاری پھدی مارنے والا ہوں۔۔۔۔ اس کی بات سن ایک لمحے کے لیئے مجھے تھوڑا برا تو لگا ۔۔۔ لیکن پھر یہ سوچ کر میں چپ رہی کہ بات تو وہ ٹھیک ہی کر رہا ہے ۔۔ قمیض اتارنے کے بعد وہ میرے پاس آیا اور کہنے لگا۔۔۔ چل اب تو بھی اپنی قمیض کو اتار ۔( جو کہ اس وقت تک صرف چھاتیوں تک ننگی تھی)۔۔ لیکن میں چپ رہی یہ دیکھ کر وہ آگے بڑھا اور اس نے میری قمیض کو اتار دیا ۔برا تو وہ پہلے ہی اتار چکا تھا۔۔۔۔۔ جیسے ہی میری قمیض اتری اس نے میری ننگی چھاتیوں کو اپنے ہاتھ میں پکڑا اور دوبارہ سے انہیں دبانا شروع کردیا۔۔۔ پھر کچھ دیر دبانے کے بعد ۔۔ اس نے میری چھاتیوں کو اپنے ہاتھوں سے چھوڑ دیا اور مجھ سے کہنے لگا۔۔۔۔ کیا خیال ہے صبو اب ۔۔۔ تمہیں چودا جائے؟ یہ سن کر ایک دفعہ پھر سے میرا میٹر شارٹ ہونے لگا ۔۔۔ لیکن میں۔۔۔ بوجہ چپ رہی ۔۔۔اور اپنی چھاتیوں پر ہاتھ رکھے خاموش بیٹھی رہی ۔۔ یہ دیکھ کر اس نے جلدی سے اپنی شلوار اتاری اور ۔۔۔ مجھ سے بولا ۔۔۔ چلو اب میں تمہاری شلوار کو اتارتا ہوں ۔۔اور ایک ہی منٹ میں اس نے میری شلوار اتار دی۔۔۔ عام طور پر میں اپنی چوت پر بال رکھنا پسند کرتی ہوں ۔۔۔ لیکن آج خاص طور پر اپنی سہاگ رات کے لیئے میں نے اپنی چوت کی بہت اچھی طرح صفائی کی تھی۔۔۔اور اس وقت بالوں کے بغیر اسے میری چوت بہت اچھی لگ رہی تھی تبھی تو وہ آگے بڑھا اور میری چوت پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہنے لگا۔۔۔۔۔ تمہارے لبوں کی طرح تمہاری چوت کا ماس ( جلد) بھی بہت نرم ہے اور اس پر ہاتھ پھیرنے لگا ۔۔۔ پھر ہاتھ پھیرتے ہوئے اس نے میرا ہاتھ پکڑا ۔۔۔۔اور کہنے لگا۔۔۔ مجھے تو تمہاری چوت بہت پسند آ ئ ی ہے ۔۔۔اب تو بھی میرا شیر پکڑ کر بتا کہ ۔۔۔ یہ کیسا ہے؟ یہ کہتے ہوئے اس نے میرا ہاتھ پکڑ کر اپنے لن پر رکھ دیا۔۔۔ اس کے لن کو اپنے ہاتھ میں پکڑتے ہوئے میں نے چوری چوری اس کے لن کی طرف دیکھا تو۔۔۔۔ وہ ایک ایوریج سا لن تھا


۔۔۔ میرے خیال میں ۔۔۔۔اس کی لمبائی پانچ۔۔۔۔ساڑھے پانچ اینچ ۔۔۔۔ اور موٹائی میں تھوڑا زیادہ ہو گا۔۔۔۔ جب میں نے اس کے لن کو اپنے ہاتھ میں پکڑا تھا تو اس وقت شہوت کے مارے عدنان کا لن اکڑا ہوا تھا اور اپنے فُل جوبن پر تھا۔۔۔۔ لن پکڑانے کے تھوڑی ہی دیر بعد اس نے میری چوت پر ہاتھ پھیرنا بند کیا اور ۔۔۔ مجھ سے کہنے لگا۔۔۔۔ صبو ۔۔اب میں تمہارے ساتھ وہ کام کرنے لگا ہوں کہ جس کی وجہ سے ہمارا ولیمہ حلال ہو جائے گا۔۔۔ اور مجھے نیچے لیٹنے کو کہا۔۔۔ اس کا اشارہ پا کر میں چپ چاپ مسہری پر لیٹ گئی۔۔۔اب اس نے مسہری کے دراز میں ہاتھ مارا اور ایک شیشی ہاتھ میں پکڑ کر کہنے لگا۔۔۔صبو جی ۔۔۔ یہ تیل کی شیشی ہے ۔۔۔ویسے تو میں نے تمہاری چوت چیک کر کے دیکھ لیا ہے ۔۔۔ وہ بے حد چکنی ۔۔۔۔۔۔اور میرا لن لینے کے لیئے بے پناہ آمدہ ہے لیکن ۔۔۔۔ پھر وہ شیخی مارتے ہوئے کہنے لگا کہ چونکہ میرا لن بہت بڑا اور موٹا ہے اور تم کو اسے اندر لیتے ہوئے تکلیف نہ ہو اس لیئے میں اپنے لن پر ۔۔۔ سرسوں کا تیل لگانے لگا ہوں۔۔۔اس کے منہ سے اپنے لن کی تعریف سن کر ہم ہنس دیئے ۔۔ ہم چُپ رہے۔۔۔۔ کیونکہ ہمیں اس کے لن ۔۔۔اور اپنا ۔۔۔پردہ منظور تھا ۔۔۔ اس کے بعد اس نے ڈھیر سا تیل میری چوت پر اور کافی زیادہ اپنے لن پر لگایا ۔۔۔۔اور میری ٹانگوں کو اپنے کندھے پر رکھ کر کہنے لگا۔۔ درد ہوا تو مجھے بتانا ۔۔۔ میں باہر نکال لوں گا۔۔۔اور اس کے ساتھ ہی اس نے میری چوت پر اپنا لن رکھا ۔۔۔اور آہستہ آہستہ اندر کرنے لگا۔۔۔۔۔


جیسے جیسے اس کا لن میری چکنی اور تنگ چوت میں جاتا جا رہا تھا ۔۔۔ویسے ویسے میری پھدی کو ایک عجیب سا سکون ملتا جا رہا تھا اور اس کے ساتھ ساتھ چونکہ بڑے عرصے کے بعدمیں نے لن لیا تھا اس لیئے شہوت کے مارے میری چوت سے ڈھیروں ڈھیر مزی برآمد ہو رہی تھی۔۔۔۔ جب اس کا سارا لن میرے میری چوت کے اندر چلا گیا تو روکنے کے باوجود بھی مزے کے مارے میرے منہ سے " اوپ" کی سی آواز نکلی ۔۔۔ جسے سن کر وہ سمجھا کہ میں درد کے مارے ایسا کر رہی ہوں ۔۔۔ اس لیئے وہ گھسہ مارتے ہوئے رکا اور کہنے لگا۔۔۔ درد ہو رہی ہے تو لن باہر نکالوں۔۔۔ لیکن میں نے کوئی جواب نہ دیا تو وہ پھر سے گھسے مارنا شروع ہو گیا۔۔۔ اور پھر ہر دوسرے گھسے کے بعد پوچھتا کہ درد تو نہیں ہو رہا؟ ۔۔۔۔اس طرف اس رات عدنان نے مجھے تین دفعہ چودا ۔۔۔دو دفعہ لٹا کر اور ایک دفعہ ۔۔۔۔گھوڑی بنا کر۔۔۔۔ اور اس چودائی سے مجھے بہت زیادہ مزہ ملا۔۔۔۔ اور بڑے عرصے کے بعد میری پھدی نےتھوڑا سکون کا سانس لیا تھا۔۔۔۔۔


طرح میری شادی کو تین چار ماہ گزر گئے اور ان تین چار ماہ کے دوران میری پیاسی چوت نے اپنے اندر رُکا ہوا سارا پانی گرا دیا ۔ ۔۔لیکن پھر بھی ایک تشنگی ۔۔۔۔ ایک پیاس ۔۔مزید لن کے لیئے میری چوت کی تراس۔۔ ہمیشہ ہی برقرار رہتی تھی۔۔۔۔ جہاں تک عدنان کو پسند کرنے کا تعلق ہے تو اس کے بارے میں ابھی تک میری رائے ویسے کی ویسی تھی لیکن جہاں تک اس کے ساتھ میرے سیکس کا تعلق تھا تو جیسے کہ آپ لوگ جانتے ہی ہیں کہ میری پھدی کسی بھی لن کے لیئے ہر وقت۔۔اپنا منہ کھولے تیار رہتی ہے۔۔

یہ شادی کے پانچویں یا چھٹے ماہ کی بات ہے اس وقت تک ہمارا سیکس کچھ معمول پر آ گیا تھا بلکہ اب تو کبھی کبھار اس میں ناغہ بھی ہو جاتا تھا جو کہ ظاہر ہے مجھے بہت کھلتا تھا ۔کہ میں چوت میں لن کا ناغہ برداشت نہیں کر سکتی تھی ۔۔ اسی پیریڈ کی بات ہے کہ ۔۔۔ میری چھٹی حس نے مجھے اپنے چھوٹے ماموں کے بارے میں سگنل دینے شروع کر دیئے ۔۔۔۔اور اس دوران میں نے محسوس کیا کہ وہ مجھے بھانجھی کے علاوہ بھی کسی اور نظروں سے دیکھتے ہیں پہلے تو میں نے اس بات پر غور نہیں کیا لیکن پھر ۔۔۔جب انہوں نے تواتر کے ساتھ ۔۔۔۔۔ کچھ حرکات کرنا شروع کردیں ۔۔۔ تو میرے اندر بھی کچھ کچھ ہونے لگا۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔ یہاں ۔۔ میں ایک مزے کی بات آپ سے شئیر کرنا چاہوں گی کہ جس سے آپ کو ماموں کی نیت کا اندازہ ہو جائے گا۔۔۔ اور وہ یہ کہ ماموں ہر روز کام پر جانے سے پہلے ہمارے گھر آتے تھے اور یہ عموماً وقت وہ ہوتا تھا کہ جب میرے میاں ( عدنان) اپنے کام پر چلے گئے ہوتے تھے اور اکثر خالہ جان گھر پر نہ ہوتی تھیں اور عام طور پر وہ بازار سے دوپہر کے کھانے کا سامان لینے گئی ہوتیں تھیں ۔۔۔اس وقت میں اور گڈی باجی ۔۔۔گھر پر اکیلی ہوتی تھیں ۔۔۔۔۔ تو میں کہہ رہی تھی کہ جب ماموں ہمارے گھر آتے تو رواج کے مطابق میں ان کے سامنے اپنا سر کر دیا کرتی تھی جس پر وہ ہاتھ پھیر کے مجھے دعا دیتے تھے ۔۔۔ لیکن پچھلے کچھ دنوں سے میں نوٹ کر رہی تھی کہ سر پر پیار سے ہاتھ پھیرتے ہوئے اکثر اوقات وہ مجھے اپنے ساتھ لگا لیا کرتے ہیں ۔۔۔ کچھ عرصہ تک تو میں اسے ان کے پیار کرنے کی ادا ہی سمجھ رہی تھی


۔۔۔۔ لیکن پھر میں نے دیکھا کہ میری طرف سے کوئی احتجاج۔۔۔۔۔۔۔ یا ری ایکشن نہ پا کر وہ مزید شیر ہو گئے تھے۔۔۔۔اور اب انہوں نے مجھے اپنے گلے کے ساتھ لگا کر خاص کر میرے سینے کو اپنے ساتھ ہکا سا دبانا بھی شروع کر د یا تھا ۔۔۔۔۔ اس کے ساتھ ساتھ ماموں نے ایک اور حرکت بھی شروع کر دی تھی ۔۔۔اوہ ۔۔سوری پہلے میں آپ کو ماموں کی روٹین بتا دوں ۔۔۔جیسے ہی ماموں ہمارے گھر میں داخل ہوتے ۔۔۔تو وہ بلند آواز سے کہتے او گڈیئے جلدی سے چائے بناؤ ۔۔ اور بہ قول ان کے ان کو صرف گڈی باجی کے ہاتھوں سے بنی ہوئی چائے کا ہی مزہ آتا تھ ا ۔۔ ان کی بات سن کر گڈی باجی تو فورا ً ہی ان کے لیئے چائے بنانے کچن میں گھس جاتی تھی جبکہ پیچھے میں اور وہ اکیلے رہ جاتے تھے اور حسبِ معمول میں پیار لینے کے لیئے ان کے آگے اپنا سر کرتی تو وہ مجھے اپنے گلے سے لگا کر میرے سخ ت مموں کو تھوڑا دبایا کرتے تھے۔۔۔ اس کے بعد وہ برآمدے میں بیٹھ جاتے اور جیب سے سگریٹ نکال کر کہتے کہ جاؤ کچن سے ماچس لے کر آؤ۔۔ اور جب میں کچن سے ماچس لے کر آتی تو وہ مجھے اپنے پاس بٹھا لیتے تھے ۔۔۔۔۔اور پھر مارون گولڈ سگریٹ کی ڈبی سے وہ ایک سگریٹ نکالتے تھے اور پھر میرے ہاتھ سے ماچس پکڑ کر میری طرف دیکھتے ہوئے اس سگریٹ کو اپنی زبان نکال کر اس پر پھیرا کرتے تھے ۔۔۔اور جب میں ان سے پوچھتی تھی کہ ماموں آپ سگریٹ کو چاٹتے کیوں ہو؟ تو وہ میری طرف دیکھ کر بڑے ہی معنی خیز انداز میں کہتے وہ اس لیئے صبو پتر ۔۔۔ کہ مجھے چاٹنا بہت اچھا لگتا ہے۔۔۔اور اس کے ساتھ ہی بڑی گہری نظروں سے میری طرف دیکھا کرتے تھے۔۔۔ پہلے پہلے تو میں ۔۔ان کے چاٹنے کا مطلب نہیں سمجھی ۔۔۔۔۔ پھر جب غور کیا ۔۔۔۔تو مجھے سب سمجھ آ گئی۔۔۔اور آہستہ آہستہ میں بھی ان کی باتوں ۔۔۔۔۔اور حرکتوں کو انجوائے کرنے لگی۔۔۔


پھر ایک دن کی بات ہے کہ تب تک میں ماموں کی ہر ادا کو اچھی طرح سے سمجھ چکی تھی ۔۔۔۔ چنانچہ اس دن عدنان کے جانے کے فوراً بعد میں نہائی اور ۔۔پھر ۔۔۔ جان بوجھ کر نیچے برا نہیں پہنی۔۔۔۔ اور ایک پتلی سی قیمض پہن کر باہر آ گئی۔۔۔ کہ جس میں سے میری سخت چھاتیاں صاف چھپتی بھی نہیں ۔۔۔اور سامنے آتی بھی نہیں۔۔۔ والے حساب میں تھیں ۔۔۔قمیض کے اوپر میں نے موٹی سے کالی چادر لے لی تا کہ گڈی باجی یا اگر خالہ وہاں موجود ہوں تو ان کو پتہ نہ چلے کہ میں نے اپنی چادر کے نیچے ۔۔۔۔ پتلی سی قمیض ۔۔۔اور قمیض کے نیچے کچھ بھی نہیں پہنا ہوا ۔۔۔۔چنانچہ وہی ہوا۔۔۔ جیسے ہی ماموں گھر میں داخل ہوئے ان کی آواز سن کر گڈی باجی ان کے لیئے چائے بنانے کے لیئے کچن میں چلی گئی ۔۔۔ جبکہ اس وقت خالہ جان دوپہر کے کھانے کے لیئے سبزی لینے باہر جا رہیں تھیں۔۔۔ میں نے ان کے جانے کا انتظار کیا اور جیسے ہی خالہ نے اپنا قدم گھر سے باہر رکھا میں اپنے کمرے سے باہر نکلی اور سیدھی ماموں کے پاس جا کھڑی ہوئی۔۔۔ اور پھر ان سے پیار لینے کے لیئے جیسے ہی سر جھکایا ۔۔۔تو عین اسی وقت کسی طرح میری چادر نیچے گر گئی ۔۔اور ماموں نے پیار دیتے ہوئے جیسے ہی مجھے اپنے گلے سے لگایا ۔۔۔ تو تقریباً میری ننگی چھاتیاں ان کے سینے کے ساتھ ٹچ ہوئیں ۔۔۔ اور جیسے ہی میری آدھ ننگی چھاتیوں نے ماموں کے فراخ سینے کو چھوا۔۔۔۔ماموں ان کا لمس پا کر ایک دم سے بدک گئے۔۔۔اور تھوڑا پیچھے ہٹ کر میری طرف دیکھنے لگے۔۔۔ جیسے ہی ماموں پیچھے ہٹے ۔۔۔ میں بڑے اطمینان سے نیچے جھکی ۔۔۔اور اپنی چادر اُٹھا کر اپنے سینے پر ڈھک دی۔۔۔ جیسے ہی میں چادر لینے کے لیئے نیچے فرش پر جھکی۔۔۔۔ تو میری کھلی قمیض کے گلے سے میری آدھ ننگی چھاتیاں کو دیکھ کر ماموں کا اوپر کا سانس اوپر ۔۔۔اور نیچے کا نیچے رہ گیا۔۔۔ یہ سارا ایکٹ صرف چند سیکنڈ کا تھا۔۔۔۔۔ لیکن مجھے معلوم تھا کہ ان چند سیکنڈوں نے چھوٹے ماموں کے دل پر خنجر چلا دیا ہو گا۔۔۔۔



پھر جیسے ہی میں نے چادر سے اپنے سینے کو ڈھکا تو دیکھا کہ اس وقت تک چھوٹے ماموں ہونقوں کی طرح منہ کھولے میری طرف دیکھ رہے تھے ۔۔۔ یہ دیکھ کر میں سمجھ گئی کہ میرا تیر نشانے پر لگ گیا ہے۔۔۔ چنانچہ میں ماموں سے بولی ماموں۔۔۔ آپ بیٹھو میں آپ کے لیئے ماچس لے کر آتی ہوں ۔۔۔۔ماموں نے میری بات سنی اور سر ہلا کر سامنے بچھی چارپائی پر بیٹھ گئے۔۔۔ اسی چارپائی پر جو روزانہ ہی ان کے لیئے بچھائی جاتی تھی۔۔۔۔ اس کے بعد میں کچن سے ماچس لے کر آئی تو دیکھا کہ ماموں چارپائی پر بیٹھے کسی گہری سوچ میں گم تھے۔۔۔ انہیں یوں گم دیکھ کر میں نے ان سے کہا کہ ماموں سگریٹ تو نکالو ۔۔ مییر بات سن کر ماموں نے جلدی سے اپنی جیب سے مارون گولڈ کی ڈبی نکالی ۔۔اور اس میں سے سگریٹ نکال کر اپنے منہ میں داب لیا۔۔۔ اس پر میں نے ماموں سے کہا کہ ۔۔ کیا بات ہے ماموں آج آپ نے سگریٹ کو گیلا نہیں گیا۔۔۔۔ تو میری بات سن کر انہوں ایک نظر میری طرف دیکھا اور کہنے لگے۔۔۔ آج موڈ نہیں بن رہا ۔۔تب میں آگے بڑھی اور ان کے منہ سے سگریٹ نکال لیا۔۔۔اور ماموں کو مخاطب کرتے ہوئے کہنے لگی ۔۔۔۔ لاؤ ماموں آج اسے میں گیلا کر دیتی ہوں۔۔۔۔یہ کہہ کر میں نے ان کی طرف دیکھتے ہوئے سگریٹ کےفلٹر والے حصے کو اپنی انگلیوں میں پکڑا اور۔۔۔ ماموں کی آنکھوں میں آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولی ۔۔۔ ماموں آپ سگریٹ کو زبان سے گیلا کرتے ہیں ۔۔۔


جبکہ مجھے تو اسے اپنے منہ سے گیلا کرنے کا مزہ آتا ہے۔۔ اس کے ساتھ ہی میں نے اپنے زہن میں ماموں کے لن کا تصور کیا۔۔۔اورپھر بڑی مستی سے اپنے ہونٹوں کو کھول کر ماموں کا سگریٹ اپنے منہ میں لے لیا ۔۔۔اور پھر پہلے تو اسے لن کی طرح اپنے منہ کے اندر باہر کیا ۔۔۔۔۔ پھر ان کے سگریٹ کو اپنے منہ سےباہر نکالا ۔۔اور جیسے لن کو چاروں طرف سے چاٹتے ہیں ۔۔۔۔ ویسے ہی ان کے سگریٹ کو چاروں طرف سے چاٹ کر گیلا ۔۔۔ کر دیا ۔۔اور پھر ماموں کی طرف بڑھاتے ہوئے بڑے ہی زُومعنی الفاظ میں بولی۔۔۔ ۔۔۔ ماموں جی آپ کا سگریٹ کافی پتلا ۔۔۔اور چھوٹا ہے۔۔۔۔ یہ اگر تھوڑا ۔۔اور موٹا ۔۔۔اور بڑا ہوتا تو اسے گیلا ۔۔ کرنے کا صواد آ جاتا۔۔۔ یہ کہہ کر میں نے ماموں کے ہاتھ میں سگریٹ پکڑا دیا۔۔۔ اور اس سے پہلے کہ ماموں میری حرکت یا بات کا کوئی جواب دیتے ۔۔۔اتنے میں گڈی باجی چائے لیکر کر ہمارے پاس آ گئ اور ۔۔۔ ماموں کے سامنے تپائی پر چائے رکھ دی۔۔۔۔ اس دن پہلی دفعہ ماموں نے بڑی خاموشی سے چائے پی۔۔۔ اور پھر گڈی باجی اور میرا شکریہ ادا کرتے ہوئے اپنے کام پر چلے گئے۔۔۔


اسی طرح ایک اور دن کا واقعہ ہے کہ اس دن ہفتہ وار چھٹی کی وجہ سے عدنان بھی گھر پر ہی تھے۔۔۔ کہ ماموں اپنی بیگم کو لے کر ہمارے گھر آ گئے۔۔اتفاق ایسا تھا کہ اس دن ۔۔ میں کچن میں کام کر رہی تھی ۔۔۔اور میرے ساتھ عدنان بھی کھڑے تھےکہ اچانک ماموں کچن میں داخل ہو گئے اور میرے پاس آ کر مجھ سے پوچھنے لگے کہ آج کیا پکا رہی ہو؟ ۔۔۔ تو میں نے ان سے کہا کہ ماموں آلو گوشت چڑھایا ہے۔۔اسی اثنا میں عدنان باہر جانے کے لیئے نکلے تو ان کے پیچھے پیچھے میں اور ماموں بھی کچن سے نکلنے لگے حسنِ اتفاق سے عدنان آگے جبکہ میں ان کے پیچھے اور میرے پیچھے ماموں تھے جیسے ہی عدنان کچن کا دروازہ کراس کرنے لگے تو آگے سے خالہ اندر آتے ہوئے دکھائی دیں ۔۔۔ جسے دیکھ کر عدنان نے بریک لگائی۔۔۔۔۔ اور عدنان کی بریک دیکھ کر میں نے موقعہ غنیمت جانا اور میں بھی رک گئی۔۔۔ لیکن رکنے سے پہلے میں نے اپنی گانڈ کو تھوڑا پیچھے کی طرف کھسکا لیا ۔۔۔اور جان بوجھ کر اپنی گانڈ کو ماموں کے اگلے حصہ کی طرف جوڑ دیا۔۔۔ماموں نے بھی دیر نہیں لگائی اور اپنے لن کو میری بیک کے ساتھ جوڑ دیا۔۔۔۔۔ اورپھر۔۔۔ واضع طور پر میں نے ماموں کا ادھ مویا سا لن اپنی گانڈ کے کریک میں فیل کیا۔۔۔ ماموں کے لن کو اپنی گانڈ کے کریک میں محسوس کرتے ہی میں نے برش کی طرح اپنی گانڈ کو ان کے لن پر رگڑا۔۔۔اور تھوڑا اور پیچھے ہوگئی۔۔۔۔ جس سے ماموں کا لن میری گانڈ کے ساتھ بلکل جُڑ سا گیا۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ سارا کھیل بھی چند ہی سیکنڈ کا تھا۔۔۔ لیکن۔۔۔۔ مجھے ماموں کو ٹیز /تنگ کر کے بڑا مزہ آیا۔۔۔۔ اور پھر اس کے بعد میں نے اپنا معمول بنا لیا کہ ہر روز میں بنا برا والی آدھ ننگی چھاتیاں ماموں کے ساتھ گلے لگتے ہوئے رگڑتی تھی۔۔۔ او ر پھر اسی طرح ان سے سگریٹ لیکر کر چوپے کے انداز میں اسے گیلا کرتی تھی۔۔۔۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ میں نے ماموں کو تنگ کرنے میں کوئی کسر نہیں اُٹھا رکھی تھی۔۔۔۔ لیکن پتہ نہیں کیا بات تھی کہ میرے اتنے بولڈ سٹیپس لینے کے باوجود ابھی تک ماموں میرے ساتھ کہانی نہیں ڈال رہے تھے۔۔۔۔۔۔جبکہ دوسری طرف میں اس انتظار میں تھی کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔


میں نے اپنی شہوت کے ہاتھوں مجبور ہو کر اشاروں اشاروں میں ماموں کو اپنی چوت دینے پر آمدگی تو ظاہر کر دی تھی ۔۔۔جبکہ اس دوران ایک اور بات کو میں نے بڑے شدت کے ساتھ محسوس کیا تھا ۔۔۔ اور وہ ۔۔۔ عاصمہ یعنی کہ میری نند جس کو کہ سب پیار سی گُڈی کہتے تھے اور چھوٹے ماموں کے بیچ میں بے تکلفی۔۔۔۔ ویسے تو ماموں کا رشتہ کچھ ایسا ہوتا ہے کہ خواں مخواہ ہی اس کے ساتھ بھانجھے بھانجیوں کی بے تکلفی ہو جا تی ہے لیکن ۔۔۔ چونکہ میں خود بھی ایک شہوت ذادی ہوں ۔۔۔ اس لیئے میری تجربہ کار نظروں نے جلد ہی اس بات کو محسوس کر لیا کہ گُڈی باجی اور ماموں کے بیچ میں ۔۔۔ ماموں بھانجی کے علاوہ۔۔۔۔اور بھی کچھ چل رہا ہے۔۔چونکہ ماموں کا گھر ہمارے گھر سے کچھ ہی فاصلے پر تھا ۔۔۔۔اور جیسا کہ آپ کو معلوم ہی ہے کہ ماموں کی پکی روٹین تھی کہ وہ صبع صبع ہمارے گھر آتے اور دروازے سے ہی شور مچانا شروع کر دیتے تھے کہ او گڈیئے جلدی سے میرے لیئے چائے بنا ۔۔۔۔


اور اس کے ساتھ ہی اکثر کہا کرتے تھے کہ صبع کے وقت جب تک میں گڈی کے ہاتھ کی چائے نہ پی لوں مجھے کام پہ جانے کا مزہ ہی نہیں ملتا ۔۔۔۔ اسی طرح وہ شام کو بھی کام سے فارغ ہو کر ہمارے گھر ضرور آتے اور گڈی کے ہاتھوں کی چائے پی کر جاتے تھے۔۔۔۔لیکن میری چھٹی حس یہ بتا تی تھی کہ میرے ساتھ ساتھ ماموں ۔۔۔ گڈی سے صرف چائے ہی نہیں پیتے ۔۔بلکہ۔۔۔ میرے برعکس گڈی باجی ان کے قابو میں تھی ۔۔۔ پھر ماموں کو لفٹ کرانے کے ساتھ ساتھ میں نے چوری چوری گڈی اور ماموں کی رکھوالی کرنی بھی شروع کر دی تھی۔۔۔۔۔پھر ایک دن کی بات ہے کہ میں ابھی نہا کر واش روم سے نکلی ہی تھی کہ دروزے کی طرف سے مجھے ماموں کی آواز سنائی دی ۔ گڈیئے نی۔۔گڈیئے۔۔ماموں کی آواز سن کر میں جلدی سے اپنی کھڑکی میں کھڑی ہو گئی۔۔۔۔اور باہر کا نظارہ دیکھنے لگی۔۔۔۔۔ میرے دیکھتے ہی دیکھتے ماموں کچن کی طرف گئے ۔۔ اور اندر جھانک کر دیکھا تو وہاں گڈی باجی کو نہ پا کر کچن سے باہر آ گئے۔۔۔۔۔ جیسے ہی ماموں کچن سے باہر آئے۔۔۔ عین اسی لمحے گڈی باجی کچن میں داخل ہو رہی تھی ۔۔اور ۔۔۔اسی دوران ۔۔ان دونوں کا ٹاکرا ہو گیا۔۔۔۔ اور پھر میرے دیکھتے ہی دیکھتے ماموں نے اپنے بازو کی کہنی کی مدد سے گڈی باجی کی چھاتیوں کو دبایا ۔۔۔۔ اور اس کے ساتھ ہی ان دونوں نے ایک نظر باہر کی طرف دیکھا ۔۔۔۔ اور پھر وہاں کسی کو نہ پا کر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ماموں نے گڈی باجی کی طرف دیکھا ۔۔۔ اور پھر اس کو ہاتھ سے پکڑ کر۔۔۔انہیں اپنی طرف کھینچ لیا ۔۔۔۔ جس سے گڈی باجی اور ماموں آپس میں گلے مل گئے۔۔۔ کچھ دیر جپھی لگانے کے بعد ماموں نے اپنے ہونٹوں کو گڈی باجی کے ہونٹوں پر رکھا ۔۔اور گڈو باجی کی ایک ہلکی سی چومی لےلی ۔۔۔ یہ دیکھ کر گڈی باجی نے بھی اپنی زبان باہر نکالی اور ماموں کی زبان سے اپنی زبان کو ٹچ کر کے اپنی زبان واپس کھینچ لی ۔۔اور اسکے بعد ایک بار پھر سے دونوں نے ایک نظر پیچھے کی دیکھا ۔۔۔۔۔ اور پھر گلے ملتے ملتے ۔۔۔گڈی باجی نے ماموں کے لن کو پکڑ کر اپنی پھدی پر لگایا ۔اور اس کے ساتھ ہی وہ دونوں ایک دوسرے سے الگ ہو گئے۔۔۔۔ ان دونوں نے یہ کام اتنی پھرتی اور تیزی سے کیا کہ اگر میں خاص طور پر ان کی رکھوالی نہ کر رہی ہوتی تو میں ماموں بھانجی کے بیچ میں کیئے گئے اس سین کو کبھی بھی نہ سمجھ پاتی۔۔۔ ۔۔۔۔۔ یہ لو سین دیکھنے کے بعد پہلے تو مجھے صرف شک تھا اب پکا یقین ہو گیا کہ گڈی اور ماموں کے بیچ میں شہوت کا رشتہ موجود ہے ۔۔۔۔



ادھر سے کنفرم ہونے کے بعد اب میں یہ سوچ رہی تھی کہ جب گڈی باجی پہلے سے ہی ان کے قبضے تھی تو پھر ماموں مجھ پر کیوں اپنا جال پھینک رہے تھے۔۔۔۔؟ یہ شاید ان کی ہوس تھی یا کوئی چال؟ ابھی تک مجھے سمجھ نہ آ سکا تھا۔۔۔۔۔جیسے ہی ماموں گڈی باجی سے الگ ہو کر چارپائی پر بیٹھے تو اتنے میں۔۔۔ میں اپنے کمرے سے باہر چلی گئی۔۔۔۔ اور ماموں کے ساتھ پیار کے بہانے گلے ملی۔۔۔۔۔ پھر جیسے ہی میں نے ان سے سگریٹ طلب کی تو وہ اُٹھ کھڑے ہوئے ۔۔۔اور کہنے لگے ۔۔ صبو کیوں نہ آج تمہیں میں ایک بڑا اور موٹا سگریٹ گیلا کرنے کو دوں ؟؟؟۔۔۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے اپنے تہ بند کی طرف ہاتھ بڑھایا تو میں نے ان کو روکتے ہوئے کہا۔۔۔ کیا کر رہے ہو ماموں۔۔۔ گڈی باجی آ جائے گی۔۔۔تو وہ دھوتی سے اپنا لن نکالتے ہوئے کہنے لگے۔۔۔ اس کی تم فکر نہ کرو۔۔۔۔ تو میں نے ان سے کہا ۔۔۔ کیسے فکر نہ کروں آپ کو معلوم تو ہے نہ کہ وہ میری نند ہے۔۔۔ اور اگر اس نے آپ کو میرے ساتھ اس حالت میں دیکھ لیا۔۔۔ مجھے تو طلاق پکی ہی سمجھو۔۔۔۔ میری بات سن کر ماموں بڑے جوش سے کہنے لگے۔۔۔۔ میں نے کہا نا ۔۔۔ کہ گڈی ایسا کبھی بھی نہیں کرے گی۔۔۔ تب میں ماموں کی طرف جھکی اوران کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہنے لگی۔۔۔آپ ایسا کیسے کہہ سکتے ہیں؟؟ ۔۔۔۔میری بات سن کر ماموں گڑبڑا سے گئے ا ور آئیں بائیں ۔۔شائیں کرنے لگے۔۔۔۔تب میں نے بغیر کسی لگی لپٹی کے ماموں سے کہا۔۔۔۔ دیکھو ماموں ۔۔۔ اگر آپ نے مجھے حاصل کرنا ہے تو پہلے میرے سامنے گڈی کے ساتھ کچھ کرنا پڑے گا۔۔۔ ورنہ۔۔۔۔۔ میری طرف سے جواب ہے۔۔۔میری بات سن کرماموں سوچ میں پڑ گئے اور کہنے لگے ۔۔ٹھیک ہے مجھے تمہاری شرط منظور ہے لیکن اس کے لیئے مجھے تھوڑی سی مہلت دو۔۔۔ تو میں نے ان سے کہا ۔۔۔ میری طرف سے آپ کو مہلت ہی مہلت ہے اور اس کے ساتھ ہی ہم دونوں خاموش ہو کر اپنے اپنے خیالوں میں کھو گئے ۔۔۔


یہ اس کے ایک ہفتہ بعد کی بات ہے کہ صبع کے وقت میں اور ماموں بیٹھے گپ شپ کر رہے تھے کہ اسی دوران ماموں نے میری طرف دیکھا اور کہنے لگے۔۔۔ دیکھتی رہنا صبو ۔۔میں آج تمہاری شرط کو پورا کر رہا ہوں۔۔۔ تو میں نے جان بوجھ کر انجان بنتے ہوئے ان سے کہا کہ کیسی شرط ماموں ؟ تو وہ کہنے لگے۔۔۔گڈی کے ساتھ کرنے والی ۔۔ پھر میری طرف دیکھا ۔۔اور بولے صبو ۔۔۔۔ تیرے سامنے گڈی کو صرف اوپن کروں گا ۔۔۔لیکن کرنا تم کو ہے بولا منظور ہے؟ تو ۔۔۔ میں نے ان کی طرف دیکھتے ہوئے کہا ۔۔۔۔ منظور ہے۔۔۔۔۔تب ماموں نے اپنی ہوس بھری نظریں۔۔۔ میرے سراپے پر نظریں جمائے کہنے لگے۔۔۔۔۔ میرے لیے تیار رہنا ۔۔اور میں نے ہاں میں سر ہلا دیا۔



جبکہ دوسری طرف حسبِ معمول گڈی باجی ماموں کے لیئے چائے بنا کر لائی۔۔۔ ماموں نے چائے پی ۔۔۔اور گڈی باجی کی طرف دیکھ کر کہنے لگے پتہ نہیں کیوں ۔۔ٹانگوں میں بڑا درد ہو رہا ہے ۔۔۔گڈیئے زرا میری ٹانگوں کو تو دبا دو۔۔۔۔ ماموں کی بات سن کر گڈی باجی نے ایک نظر میری طرف دیکھا اور کہنے لگی۔۔۔۔۔ اچھا ماموں میں دبا دیتی ہوں اور پھر وہ ماموں کے سامنے زمین پر بیٹھ گئی ۔۔۔ جبکہ اس وقت ماموں چارپائی پر اپنی ٹانگیں لمکا ئے بیٹھے تھے۔۔۔۔ پھر میرے دیکھتے ہی دیکھتے گڈی باجی نے ماموں کی دائیں ٹانگ کو پکڑا ۔۔۔اور اس کو دباتے ہوئے بولی۔۔۔ کج سکون ملیا؟ (کچھ سکون ملا) تو ماموں اپنی ٹانگوں کو تھوڑا اور نیچے کرتے ہوئے بولے۔۔ہان کجُ کُج مل تے ریئے اے( ہاں کچھ کچھ مل تو رہا ہے)۔۔۔ پھر انہوں نے اپنے تہمند کے پلو کو ایک طرف کیا اور اپنی ٹانگ کو ننگا کرتے ہوئے گڈی باجی سے بولے تھوڑا ہور اُتے ول آ۔۔۔( تھوڑا اور اوپر کی طرف آؤ) ماموں کی بات سن کر گڈی باجی کے ہاتھ۔۔۔۔۔۔۔۔ ان کی ران پر پہنچ گئے اور ان کو دباتے ہوئے بولی بس۔۔۔ تو ماموں اس سے کہنے لگے۔۔۔ نہیں تھوڑا ۔۔۔ہور اُتے آ۔۔( نہیں تھوڑا اور اوپر آؤ) اور گڈی باجی کی طرح میں نے بھی دیکھا کہ ماموں کی دھوتی سے ان کا لن سر اُٹھا رہا تھا۔۔۔۔جبکہ گڈی باجی ان کی ران کےاوپر اوپر ہاتھ چلا رہی تھی ۔۔۔ یہ دیکھ کر ماموں کہنے لگے۔۔۔ تھوڑا ہور اُتے آ۔۔۔(تھوڑا اور اوپر آؤ) تو گڈی باجی کہنے لگی ۔۔۔ نہیں ماموں ہور اتے نہیں آنا ۔۔۔تو ماموں کہنے لگے وہ کیوں؟


تو گڈی باجی میری طرف دیکھتے ہوئے مسکرائی اور کہنے لگے۔۔۔ نا بابا ۔۔۔ آگے کالا ناگ پھن پھیلائے کھڑا ہے۔۔۔ تو ماموں اس سے کہنے لگے ۔۔۔ اخاں ہو جا تینوں کالا ناگ کج نہیں کہندا۔۔۔۔( تو آگے چل کالا ناگ تمہیں کچھ نہیں کہتا) ماموں کی یہ بات سن کر میرے ساتھ ساتھ گڈی باجی کا بھی رنگ سرخ ہو گیا۔۔۔۔ اور وہ اپنے ہونٹوں پر زبان پھیرتے ہوئے کہنے لگی۔۔۔۔ماما ۔۔ جیویں کالے ناگ دا ڈسیا پانی نئیں منگا ۔۔۔اویں تیرے ناگ د ا ڈسیا ۔۔۔ بار بار انیوں منگا دا اے ( ماموں جیسے کالے ناگ کا ڈسا ہوا پانی نہیں مانگتا ویسے ہی تمہارے ناگ کا ڈسا ہوا ۔۔۔ بار بار اسی کو مانگتا ہے) گڈی باجی کی بات سن کر ماموں نے اپنی دھوتی کو مزید کھسکایا اور گڈی کی طرح میں نے بھی ماموں کے ناگ کو دیکھا اور دیکھتی ہی رہ گئی۔۔۔۔ ماموں کا لن کافی بڑا اور بہت موٹا اور کالا سیاہ تھا۔۔۔ ٹوپا اس کا کافی موٹا اور آگے سے نوک دار تھا۔۔۔۔ ماموں کے موٹے تازے لن کو دیکھ کر میری چوت نے اپنی آمدگی ظاہر کرتے ہوئے ایک قطرہ پانی کا چھوڑ دیا۔۔جو میری چوت سے ہوتا ہوا نیچے گرا ۔۔اور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میری شلوار میں آ کر جزب ہو گیا۔۔۔۔

دوسری طرف ماموں گڈی باجی سے کہہ رہے تھے۔۔۔۔ چل ہن اس ناگ کو اپنے ہتھ وچ پھڑ ( میرے ناگ کو اپنے ہاتھ میں پکڑو ) یہ دیکھ کر گڈی باجی نے میری طرف دیکھا اور ماموں سے کہنے لگی ۔۔۔ اینوں وی کہ نا ( اسے بھی کہو۔۔۔) تو ماموں میری طرف دیکھ کر کہنے لگے چل صبو تو بھی نیچے آ۔۔۔ ان کی بات سن کر میں بھی نیچے آ گئی ۔۔۔اتنی دیر میں گڈی باجی نے ماموں کے لن کو اپنے ہاتھ میں پکڑ لیا تھا۔۔۔اور جیسے ہی میں ا س کے ساتھ زمین پر بیٹھی۔۔۔ اس نے وہ لن میری طرف کرتے ہوئے کہا۔۔۔ چکھ کے ویکھ کیسا اے۔۔۔ تو میں نے اس سے کہا پہلے آپ چیک کرو۔۔۔ تو یہ سن کر ماموں کہنے لگے۔۔۔۔ اس نے تو ہزار دفعہ چیک کیا ہوا ہے اب تیری باری ہے۔۔۔ لیکن میں نے اصرار کر کے کہا کہ نہیں پہلے گڈی باجی چیک کرے میری بات سن کر گڈی باجی نے اپنا سر نیچے جھکایا اور ماموں کے لن کو منہ میں لیکر اسے چوسنے لگی۔۔۔ پھر کافی دیر تک چوستی رہی پھر کہنے لگی انتا بہت ہے یا اور چیک کروں ۔۔۔ گڈی باجی کی بات سن کر ماموں کہنے لگے۔۔۔ یہ اندر جاکر چیک کر لے گی۔۔۔اور پھر مجھے ہاتھ سے پکڑ کر اُٹھاتے ہوئے گڈی باجی سے کہنے لگے ۔۔۔ گڈیئے ۔۔۔ زرا باہر کا دھیان رکھنا ۔۔۔ میں صبو کے ساتھ اندر جا رہا ہوں ۔۔۔ہمیں اندر جاتا دیکھ کر گڈی باجی ہنس کر کہنے لگی ۔۔۔۔سارا ای اینوں نا دے دیں ۔۔۔کج میرے لئے وی رکھیں ( سارا۔۔لن اس کو ہی نہ دے دینا کچھ میرے لیئے بھی رکھنا)






گڈی کی بات سن کر ماموں نے اپنے اکڑے ہوئے لن پر ہاتھ مارا اور کہنے لگے۔۔۔۔ فکر نہ کر ۔۔۔ اس میں ابھی بڑا دم ہے اور ہم اندر کمرے میں داخل ہو گئے۔۔۔ کمرے میں جاتے ہی ماموں نے کنڈی لگائی اور اپنے کپڑے اتارنے لگے۔۔۔ ان کی دیکھا دیکھی میں نے بھی اپنے کپڑے اتار دیئے ۔۔۔اور ہم دونوں گڈی باجی کے پلنگ پر بیٹھ گئے۔۔ پھر ماموں نے مجھے نیچے لیٹنے کو کہا ۔۔۔اور جیسے ہی میں پلنگ پر لیٹی ماموں نے میری دونوں ٹانگیں اُٹھائیں اور میری پھدی کو نمایاں کرتے ہوئے اس پر اپنی زبان رکھ دی۔۔۔۔۔ اور پھر اپنی زبان کو میرے دانے پر ٹچ کرتے ہوئے بولے۔۔۔ تمہیں کہا تھا نا کہ مجھے چاٹنے کا بہت شوق ہے۔۔۔ اور پھر اس کے ساتھ ہی ماموں نے میری پھدی پر اپنی زبان رکھی اور اسے چاٹنا شروع ہو گئے ۔۔۔اس کے ساتھ ساتھ کبھی کبھی وہ میرے دانے کو بھی اپنے منہ میں لیکر چوسنے لگ جاتے۔۔ ماموں کے اس طرح پھدی چاٹنے سے میں تو باؤلی سی ہو گئی ۔۔اور میرے منہ سے عجیب عجیب آوازیں نکلنا شروع ہو گئیں۔۔ جیسے۔۔۔اوہ۔۔۔آہ۔۔۔اُف۔۔۔۔۔ ہائے ماما۔۔۔ہوں۔ں ں ں ۔۔۔ اور ۔۔۔اس کے ساتھ ساتھ میری پھدی نے لیس دار پانی چھوڑنا بھی شروع کر دیا۔۔۔۔ جسے ماموں بے دریغ پیتے گئے ۔اور میں ماموں کی زبان کے نیچے تڑپتی رہی ۔۔۔۔۔۔۔اور پھر جیسا کہ ماموں نے کہا تھا واقعی انہوں نے بڑے شوق ۔۔۔اور بہت ہی مستی سے میری چوت کو چاٹا ۔۔اور ایسا چاٹا کہ میری پھدی نے کم از کم دو دفعہ پانی چھو ڑ ا تھا ۔۔۔۔۔

پھر ماموں اوپر اُٹھے اور اپنے لن کو لہراتے ہوئے کہنے لگے۔۔۔۔۔ صبو تجھے موٹے اور لمبے سگریٹ کی تمنا تھی نا ۔۔۔تو اس سے موٹا اور لمبا سگریٹ تم کو اور کہیں نہیں ملے گا۔۔۔ یہ کہتے ہی انہوں نے مجھے پلنگ سے اُٹھنے کا کہا۔۔اور جب میں اُٹھ کر بیٹھی تو انہوں نے اپنا موٹا سا لن میرے منہ میں ڈال دیا۔۔۔۔جس وقت میں نے ماموں کے لن کو اپنے منہ میں لیا تو اس وقت ان کے ٹوپے کے سوراخ سے ہلکا ہلکا پانی ٹپک رہا تھا۔۔۔ جسے میں چاٹ اور چوس کر جتنا صاف کرتی وہ اتنا ہی ۔۔۔۔۔۔۔ باہر کی طرف رستا جاتا۔۔۔ آخر ان کے مزیدار ۔۔نمکین پانی کے موٹے موٹے قطروں کو میں نے پینا شروع کر دیا۔۔۔۔۔۔ میرے لن چوسنے سے دوسری طرف ماموں بھی میر ی طرح ۔۔۔ باؤلے سے ہو کر سسکیاں بھرتے جا رہے تھے۔۔۔ ان کے منہ سے کبھی یہ نکلتا ۔۔۔۔آہ ۔۔۔لن پورا ڈال۔۔۔ ساری مزی نگھل جا۔۔۔۔ چوس میرے لن کو چو س س س۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سس۔۔۔

پھر کچھ دیر کے بعد ماموں نے میرے منہ سے لن کو نکالا اور مجھے گھوڑی بننے کو کہا۔۔۔اور جیسے ہی میں گھوڑی بنی۔۔۔۔انہوں نے پیچھے سے اپنے موٹے تازے لن کو میرے اندر ڈال دیا۔۔۔ اور گھسے پہ گھسہ مارنے لگا۔۔۔۔وہ گھسہ بھی مارتے اور منہ سے بھی کہتے جاتے کہ تیری پھدی بڑی ٹائیٹ ہے صبو۔۔۔اور ان کی بات سن کر میں کہتی آپ کا لن بھی بہت جاندار ہے ماموں ۔۔۔اور پھر ۔۔۔۔۔ایسے ہی مست انداز میں چودتے چودتے ۔۔۔۔اچانک ہی ماموں چلانے لگے۔۔۔ص۔صبو۔۔۔۔۔۔۔۔ اور اس کے ساتھ ہی ماموں کے گھسے مارنے کی رفتار تیز سے تیز تر ہوتی چلی گئی۔۔۔اور اتنے شدید گھسوں کی تاب نہ لا کر میری چوت نے بھی ہار مان لی اور ۔۔۔۔ ماموں کی طرح اب میں بھی چلاتے ہوئے کہہ رہی تھی کہ۔۔۔۔۔۔۔۔ماما ۔۔۔اور تیز۔ز۔ز۔ز۔ز۔ز۔ز۔ز۔ز۔۔۔اور تیززززززززز۔۔اور اسی تیزی تیزی میں ۔۔آخر ماموں اور میں نے اکھٹے ہی ایک خوشی بھری چیخ ماری ۔۔۔۔اور پھر مجھے ایسا لگا کہ جیسے میری پھدی میں منی کا سیلاب آ گیا ہو۔۔۔ میری تنگ پھدی میں پھنسا ماموں کا لن ۔۔۔۔۔۔اپنی منی کو فوارے چھوڑتا جا رہا تھا ۔۔۔ ۔۔۔ چھوڑتا جا رہا تھا ۔۔۔ چھو۔۔۔۔ڑ۔۔تا۔۔۔جا رہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔





ماموں سے فراغت کے بعد میں نے اپنے آپ کو درست کیا اور کپڑے پہن کر ۔۔۔ کمرے سے باہر نکلنے سے پہلے میں نے ایک نظر ماموں پر ڈالی تو وہ ویسے کے ویسے ہی ننگے لیٹے ہوئے تھے ان کا نیم جان لن ہم دونوں کی مشترکہ منی سے لتھڑا ہوا کھڑا تھا ۔۔اور وہ اسے صاف کرنے کی بجائے بڑی بے فکری سے لیٹے ہوئے سگریٹ پی رہے تھے یہ دیکھ کر میں نے ان سے کہا ۔۔۔ ماموں ۔۔ میرے بعد گڈی باجی آنے والی ہے ۔۔۔آپ اس ( لن ) کو صاف نہیں کرو گے؟ میری بات سن کر ماموں بڑی بے نیازی کے ساتھ مسکرائے اور کہنے لگے۔۔۔۔۔۔۔ تم جاؤ ۔۔گڈی آ کے یہ سب خود ہی کر دے گی ۔۔اس پر میں نے شرارت سے کہا کہ اگر گڈی باجی نے بھی آپ کے اس (لن) پر لگے اتنے زیادہ ملبے کو صاف نہ کیا تو؟ ۔۔۔میری بات سنتے ہی ماموں نے اپنے نیم مردہ لن کو ہاتھ میں پکڑ کر ہلاتے ہوئے کہا ۔۔۔ کہ اگر وہ اسے صاف نہیں کرے گی تو پھر میں۔۔۔ اس کو ایسے ہی اس کی چُت (چوت) میں ڈال دوں گا ۔۔ ۔۔۔ اس کے بعد اچانک ہی ماموں سیریس ہو کر مجھ سے کہنے لگے ویسے صبو ۔۔۔ تم بہت سیکسی لڑکی ہو۔اور تمہارے اندر بہت گرمی بھری ہوئی ہے اور یہ گرمی دیکھ کر میں کہہ سکتا ہوں ۔۔۔ عدنان تم کو پورا نہیں کر سکے گا۔۔ ماموں کی بات سن کر میں ان کے قریب جا کر بیٹھ گئی اور ان کے نیم جان لن کی طرف دیکھتے ہوئے بولی ۔۔۔۔ کوئی بات نہیں ماموں ۔۔۔۔اگر عدنان مجھے پورا نہ کر سکا تو آپ کر دینا ۔۔۔میری بات سن کر ماموں نے اپنا بڑا سا سر ہلایا اور سگریٹ کا کش لیتے ہوئے بولے۔۔۔ اس خدمت کے لیئے تو میں ہر وقت حاضر ہوں۔۔۔۔۔ماموں کی بات سن کر میں بھی ان کی طرف دیکھتے ہوئے مسکرائی اورپھر ان کو ٹاٹا کرتے ہوئے کمرے سے باہر آ گئی۔۔۔

جیسے ہی میں کمرے سے باہر نکلی تو دیکھا تو گڈی باجی برآمدے میں بڑی بے چینی کے ساتھ ٹہل رہی تھیں ۔۔۔ مجھے دیکھتے ہی وہ بے تابی سے میری طرف بڑھیں ۔۔۔اور پھر بڑے ہی سیکسی موڈ میں اپنے ہاتھ سے ایک نازیبا سا اشارہ کرتے ہوئے بولیں ۔۔۔ ۔۔لَے ائیں ایں ۔ مامے دا ۔۔ ( ماموں کا لن لے آئی ہو) ۔۔ تو میں نے ہاں میں سر ہلا کر ان سے کہا ۔۔۔ جاؤ ہن تہاڈی واری اے( آپ اندر جاؤ کہ اب آپ کی باری ہے) ۔۔۔ میری بات سن کر وہ تھوڑا مسکرائی اور کہنے لگی۔۔۔۔ صواد آیا سی؟ ( مزہ آیا تھا ) ۔۔۔۔ تو میں نے گڈی باجی کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔۔ ہاں باجی مزہ تو بہت آیا تھا۔۔۔۔ میری بات سن کر گڈی باجی نے سر ہلایا ۔۔۔۔۔اور جیسے ہی ماموں کے پاس کمرے میں جانے لگیں تو میں نے شرارت سے ان کو بازو سے پکڑ لیا اور اندر جانے سے روکتے ہوئے بولی۔۔۔کھلو جا ۔۔۔۔ مامے نوں سا تے لین دے (۔۔ٹھہر جاؤ۔۔ ماموں کو تھوڑا ریسٹ تو کرنے دو) میری بات سن کر گڈی باجی مسکرائی اور کہنے لگی۔۔۔۔ میں تے مامے نوں سا لین دینی آں ۔۔۔ پر۔۔۔۔ (پھر اپنی پھدی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولی) اینوں بڑی کا ہلی پیئی اے۔۔۔ مینوں ایہ نئیں ساہ لین دیندی ( میں تو ماموں کو ریسٹ کرنے دیتی ہوں ۔۔۔ لیکن میری پھدی کو لن لینے کی بڑی جلدی پڑی ہے ) اس کے ساتھ ہی گڈی باجی نے بڑی بے تکلفی کے ساتھ میرے ہاتھ کو پکڑا ۔۔۔۔اور اپنی شلوار کے اوپر سے ہی چوت پر لگا دیا۔۔۔ ۔۔۔۔جب میرے ہاتھ نے گڈی باجی کی چوت کو چھوا۔۔ تو سچ مُچ ان کی چوت والی جگہ سے شلوار گیلی ہوکر چپکی ہوئی تھی۔۔ پھر انہوں نے اپنی پھدی پر رکھے ہوئے میرے ہاتھ کو تھوڑا سا رگڑا ۔۔۔اور کہنے لگی ۔۔۔ کیوں میں ٹھیک کہہ رہی تھی نا ؟؟۔۔۔ تو میں نے اپنے ہاتھ پہ گڈی باجی کی چوت کی گرمی کو محسوس کرتے ہوئے کہا۔۔۔اندر جاؤ باجی۔۔۔میری بات سن کر گڈی باجی نے مجھے باہر کا دھیان رکھنے کی ہدایت کی اور خود کمرے میں چلی گئی ۔۔۔۔ جہاں پر ماموں میری اور اپنی منی سے لتھڑا ہوا لن لیئے اس کے منتظر تھے۔۔۔۔

اس کے بعد ہماری روٹین بن گئی تھی کہ جس دن بھی خالہ گھر پر موجود نہ ہوتیں تو میں اور گڈی باجی باری باری ماموں کے ساتھ خوب انجوائے کرتیں تھیں اس دوران ماموں نے بہت کوشش کی کہ وہ ہم دونوں کو اکھٹے چودسکیں ۔۔۔ لیکن میں اور گڈی باجی اس کام کے لیئے راضی نہ ہوئیں ۔۔۔۔ اور پہلے کی طرح باری باری ماموں کے ساتھ سیکس کرتیں رہیں ۔۔۔


ماموں کے ساتھ آئے روز کی فکنگ سے میں اور گڈی باجی آپس میں کافی فری ہو گئیں تھیں ۔۔اس لیئے اگر کبھی ایسا ہوجاتا کہ ماموں کاروبار کے سلسلہ میں کہیں باہر گئے ہوتے تو خاص کر گڈی باجی ان کو بہت مس کرتی تھی ۔۔اور اکثر اداس ہو جایا کرتی تھیں۔۔۔ ایسے میں ان کو اداس دیکھ کر ۔۔۔ میں ان کو چھیڑتی تو وہ کہتی کہ تمہارا کیا ہے یار ۔۔۔ تم کو تو لینے کے لیئے روز ہی لن مل جاتا ہے مسلہ ہم غریبوں کا ہے کہ ہم کیسے گزارا کریں ؟؟؟؟۔۔۔۔ اسی طر ح ماموں کے ساتھ سیکس کے لیئے کمرے میں آتے جاتے ہوئے اکثر اوقات ہم دونوں ہاتھ لگا کر ایک دوسرے کی پھدیوں کو بھی چیک کر لیا کرتی تھیں کہ کس کی کتنی گرم ہے۔۔ یا کمرے سے پھر واپسی پر کبھی کبھار گڈی باجی سے ہلکی پھلکی کسنگ ہو جاتی تھی لیکن نہ تو گڈی باجی نے اور نہ ہی میں نے کبھی ان کے ساتھ فُل سیکس کرنے کی کوشش کی تھی ۔۔۔ حالانکہ ہم دونوں سیکس کے معاملے ایک دوسرے کے ساتھ کافی فری ہو چکی تھیں۔۔۔

اسی طرح میری شادی کو کافی عرصہ گزر گیا ۔۔اس دوران میں اماں سے ملنے اپنے گھر آتی جاتی رہتی تھی اور اماں بھی اکثر ہی میرے پاس آیا کرتی تھیں چلتے چلتے میں ایک بات آپ سے کرنا چاہتی ہوں اور وہ یہ کہ عدنان کے بارے میں آج بھی میری رائے وہی ہے جو کہ پہلے ہوا کرتی تھی ۔۔ لیکن کیا کروں کہ خود کو حالات کے مطابق ایڈجسٹ رکنا پڑتا ہے ۔۔اور یہاں آ کر میں نے حالات کے ساتھ سمجھوتہ کر لیا تھا۔۔ ۔۔۔ ایک دن کی بات ہے کہ دوپہر کا وقت تھا میں اور گڈی باجی خالہ کے پاس بیٹھیں گپیں لگا رہیں تھیں کہ اچانک ہی شبی میرا بھائی گھر میں داخل ہوا۔۔۔ شبی کو یوں اچانک اپنے سامنے دیکھ کر میں تو کھل سی گئی اور ظاہر ہے کہ اپنے بھائی کو میں نے بڑی ہی گرم جوشی سے خوش آمدید کہا ۔۔۔۔ کھانا وغیرہ کھانے کے بعد شبی نے بتلایا کہ اس کے سیکنڈ ائیر کے امتحان نزدیک آ رہے ہیں اس لیئے وہ امتحان کی تیاری کے سلسلہ میں مجھ سے پڑھنے کے لیئے آیا ہے۔۔۔ شبی کی بات سن کر بڑی خالہ کہنے لگی ۔۔۔۔ تم بہت اچھے موقعہ پر آئے ہو بیٹا۔۔اور وہ اس لیئے کہ آج کل میں فوزیہ بیٹی بھی گھر آنے والی ہے چنانچہ جو سبجیکٹ تم کو صبو نہ سمجھا سکی وہ فوزیہ سے سمجھ لینا۔۔۔ فوزیہ کا نام سن کر شبی ایک دم سے چونک گیا اور ۔۔۔پھر اس نے بڑے ہی پر اسرار طریقے سے میری طرف دیکھا ۔۔ میرا خیال ہے کہ فوزیہ باجی کے نام پر شبی کا یوں چونک کر میری طرف دیکھنا خالہ اور گڈی باجی نے بھی نوٹ کیا تھا ۔ لیکن بولی کچھ نہ تھیں ۔۔ ۔۔۔۔۔ جبکہ دوسری طرف شبی کی یہ حرکت مجھے بہت کھٹکی تھی اس لیئے ۔۔۔ کھانا وغیرہ کھانے کے بعد میں شبی کو لیکر پڑھانے کے لیئے اپنے کمرے میں لے آئی اور کمرے میں داخل ہوتے ہی میں نے شبی کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔۔ یار کچھ تو شرم کرنی تھی ۔۔۔ میری بات سن کر شبی نے بڑی حیرانی سے میری طرف دیکھا ۔۔۔ اور کہنے لگا شرم کس بات کی باجی؟؟؟۔۔۔ تو میں نے اس کی طرف آنکھیں نکالتے ہوئے کہا ۔۔۔ . وہ اس بات کی میرے چندا کہ فوزیہ باجی کا نام سن کر یہ جو تم نے چونک کر میری طرف کیوں دیکھا تھا ؟ اس کے بعد میں نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے اس سے کہا ۔۔۔ کیا تم کو معلوم ہے کہ تمہارے اس طرح چونک کر دیکھنے سے خالہ اور گڈی باجی نے بھی نوٹ کیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔میری اس بات پر شبی کہنے لگا ۔۔ باجی آپ تو جانتی ہی ہو کہ فوزیہ باجی کی گانڈ کا میں بچپن سے ہی عاشق ہوں ۔۔۔اور آپ کو یہ بھی یاد ہو گا کہ ایک دفعہ انہوں نے اس سلسلہ میں آپ سے میری شکایت بھی لگائی تھی ۔۔۔۔۔اس لیئے خالہ جان کے منہ سے فوزیہ کا نام سن کر مجھے ان کی موٹی سی گانڈ یاد آ گئی اور اس بات پر میں خوش ہو کر آپ کی طرف دیکھنے لگا ۔۔۔۔ اس کے بعد شبی نے میری طرف دیکھا اور کہنے لگا ۔۔۔اور جسے آپ چونکنا کہہ رہی ہونا باجی ۔۔ وہ دراصل میں اپنی خوشی کو آپ کے ساتھ سے شئیر کر رہا تھا ۔۔۔ کہ چلو اتنے عرصے کے بعد ایک بار پھر اسی بہانے فوزیہ باجی کی موٹی گانڈ کا دیدار ہو جائے گا۔ اور اگر ہو سکا تو۔۔۔۔۔۔۔شبی کی بات سن کر میں بڑی حیران ہوئی اور اس سے کہنے لگی ۔۔۔ یہ شکایت والی بات کو تم ابھی تک بھولے نہیں ؟ تو وہ کہنے لگا ۔۔۔ نہیں باجی ۔۔۔ پھر اس نے میری آنکھوں میں آنکھیں ڈالیں اور کہنے لگا۔۔۔ باجی تم خود ہی بتاؤ کہ فوزیہ باجی کی موٹی گانڈ ۔۔۔اور ان کی لگائی ہوئی شکایت کوئی بھولنے والی چیز ہے؟ اس سے پہلے کہ میں شبی کی بات کا کوئی جواب دیتی ۔۔۔کہ اچانک ہی کسی کام سے بڑی خالہ کمرے میں داخل ہو ئیں اور اس طرح فوزیہ والی بات آئی گئی ہو گئی۔۔۔۔

میرے پاس آ کر شبی نے واقعہ ہی بڑی سنجیدگی کے ساتھ پڑھنا شروع کر دیا تھا۔۔۔۔۔ جہاں شبی کے آنے سے مجھے خوشی ہوئی تھی وہاں پر مجھے اور گڈی باجی کو ایک نقصان یہ ہوا تھا ۔۔۔کہ اس کے ہوتے ہوئے ۔۔۔۔ ہم لوگ ماموں کے ساتھ موج مستی نہیں کر سکتیں تھیں ۔۔۔لیکن جیسا کہ میں نے پہلے بھی آپ کو بتلا یا ہے کہ شادی شدہ ہونے کے ناطے ۔۔۔۔ میں تو پھر بھی عدنان کے ساتھ سیکس کر کے اپنا کوٹہ پورا کر لیا کرتی تھی لیکن ۔۔۔۔۔۔ بے چاری گڈی باجی ایسے ہی رہ جاتی تھی۔۔ اور مزاق مزاق میں اس بات کا وہ اکثر ہی مجھ شکوہ بھی کرتی رہتی تھی ۔۔ان کی بات سن کر میں ہنس پڑتی تھی ۔۔۔لیکن پھر ایک دن میں نے ان کو موقع دے دیا۔۔۔۔ہوا کچھ یوں کہ جیسے ہی ماموں گھر میں داخل ہوئے اور دروازے سے ہی چائے کے لیئے ہانک لگائی تو اس وقت میں گڈی باجی کے ساتھ کچن میں کھڑی شبی کے لیئے ناشتہ بنا رہی تھی ۔۔۔ ماموں کی آواز سن کر گڈی باجی نے ایک ٹھنڈی آہ بھری اور مجھ سے کہنے لگی ۔۔۔ صبو یار میرا نہیں تو ۔۔۔۔۔ (اپنی پھدی کی طرف اشارہ کر کے ) اس بے چاری کا ہی کچھ خیال کرو۔۔۔۔۔۔ اس وقت تک میں شبی کا ناشتہ بنا چکی تھی اس لیئے میں نے گڈی باجی کی طرف دیکھ کر آنکھ مارتے ہوئے کہا ۔۔۔ لو بچہ آپ بھی کیا یاد کرو گی۔آج کی ڈیٹ میں آپ کا کام ہو جائے گا ۔۔۔ اور آپ ماموں کے ساتھ اپنے واسنا کی آگ بجھا سکو گی ۔۔۔۔ میری بات سن کر گڈی باجی آنکھوں میں چمک سی آ گئی اور وہ کہنے لگی۔۔۔۔ وہ تو ٹھیک ہے ۔۔۔جوگی بابا ۔۔پر یہ بتاؤ کہ یہ سب ہو گا کیسے؟۔۔۔ گڈی باجی کی بات سن کر میں نے ان سے کہا ۔۔۔۔ وہ یوں بچہ کہ ابھی میں شبی کا ناشتہ لے کر جا رہی ہوں ۔۔۔۔۔۔ اور ناشتے کے فوراً بعد میں نے اس کا ٹیسٹ لینا ہے ۔۔۔ اور اس ٹیسٹ کے دوران آپ ماموں کے ساتھ ۔۔۔۔ جس طرح چاہیں گُل چھڑے اُڑا سکتی ہیں ۔۔۔پھر ۔۔ اس کے بعد میں نے گڈی باجی کی طرف انگلی کرتے ہوئے کہا،۔۔۔ یاد رکھنا بچہ ۔۔۔ واسنا کی آگ بجھانے کے لیئے تمہارے پاس صرف ایک گھنٹہ ہو گا۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔ اس کے بعد ۔۔ جوگی بابے کی گارنٹی ختم ہو جائے گی ۔۔۔ میری بات سن کر گڈی باجی بڑی خوشی سے بولی۔۔۔۔۔ تم ایک گھنٹے کا کہہ رہی ہو۔۔۔ جبکہ میں کوشش کروں گی کہ پچاس منٹ میں ہی سب کام تمام ہو جائے ۔۔پھر گڈی باجی نے بڑے پیار سے میرے گالوں کو تھپ تھپاتے ہوئے کہا کہ ۔۔۔۔جیتی رہو میری بچی۔میں دیکھ رہی ہوں کہ آگے۔۔۔ تم بہت ترقی کرو گی۔۔۔

اس کے بعد ایک دم سے گڈی باجی سیریس ہو کر میری طرف دیکھتے ہوئے کہنے لگی ۔۔۔۔۔۔ صبو ۔۔۔اس دوران تم نے نہ صرف یہ کہ اپنے بھائی کو انگیج رکھنا ہے بلکہ باہر کا دھیان بھی تمہاری زمہ داری پر ہے۔۔۔ اس پر میں نے کہا ۔۔ اس بات کی آپ فکر ہی نہ کرو باجی۔۔میں اس کام کو سنبھال لوں گی۔۔ چنانچہ میری یقین دھانی کرانے پر گڈی باجی بہت خوش ہوئی ۔۔۔اور میرا شکریہ ادا کرنے کے بعد انہوں نے میرے ہونٹوں پر ایک ہلکی سی چومی لی ۔۔۔۔اور کہنے لگی۔۔۔۔۔ اب تم جاؤ۔۔۔۔۔ چنانچہ میں نے ٹرے میں شبی کے ناشتے کے برتن رکھے ۔۔۔۔اور اپنے کمرے کی طرف آ گئی۔۔۔۔۔


اس دوران میں شبی کو بڑی محنت کے ساتھ پڑھا رہی تھی اور حیرت انگیز طور پر شبی بھی بغیر حیل و حجت کے( شاید امتحان نزدیک ہونے کی وجہ سے) ۔۔۔بڑی سنجیدگی کے ساتھ اپنی سٹڈی کی طرف توجہ دے رہا تھا ۔۔مزید حیرت کی بات یہ ہے کہ اس دوران ہم دونوں نے سیکس کرنا تو دور کی بات ہے اس ٹاپک پر ابھی تک گفتگو بھی نہیں کی تھی لیکن کب تک؟؟؟۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔ پھر ایک دن کی بات ہے کہ میں کچن میں دوپہر کے کھانے کے لیئے آٹا گُوند رہی تھی کہ ہاتھ میں کتاب لیئے ۔۔ شبی کچن میں داخل ہو گیا ۔۔۔اور مجھے آٹا گوندھتے دیکھ کر وہ ایک دم سے ٹھٹھک کر رُک گیا اور واپس جانے کے لیئے جیسے ہی مُڑا تو میں نے آواز دے کر اسے واپس بلا لیا اور پوچھنے لگی کہ کیسے آنا ہوا ؟۔۔۔ میری بات سن کر وہ بولا ۔۔ ۔۔ وہ باجی ایک انگلش کا پیرا میری سمجھ میں نہیں آ رہا تھا ۔۔۔۔ اس لیئے میں اس پیرے کا مطلب آپ سے پوچھنے آیا ہوں ۔۔۔۔۔پھر میری طرف دیکھتے ہوئے کہنے لگا ۔۔۔ کوئی بات نہیں باجی ۔۔آپ آٹا گوندھ لیں میں دوبارہ آ جاؤں گا تو اس پر میں نے کہا کہ دوبارہ آنے کہ ضرورت نہیں ۔۔ میں ایسا کرتی ہوں کہ آٹا گوندھنا بند کر دیتی ہوں ۔۔اتنے میں تم متعلقہ پیرا گراف پڑھ کے سنا دو ۔۔۔۔ میں تم کو اس کا مطلب سمجھا دوں گی ۔۔۔.۔۔۔ اور اس کے ساتھ ہی میں نے آٹا گوندھنا بند کیا اور اپنی قمیض کے کف سے ماتھے پر آئے ہوئے پسینے کو پونجتے ہوئے اس کی طرف دیکھا اور ہمہ تن گوش ہو گئی۔۔۔ لیکن میرا خیال ہے کہ اس پیرا گراف میں شاید بڑی سخت انگریزی لکھی ہوئی تھی اسی لیئے شبی اسے اٹک اٹک کے پڑھ رہا تھا ۔۔۔۔ پھر انگریزی پڑھتے پڑھتے اس نے بڑی بے بسی سے میری طرف دیکھا اور کہنے لگا۔۔۔۔ باجی یہ پیرا گراف مجھ سے نہیں پڑھا جا رہا ۔۔۔۔ اسے یوں اٹک اٹک کر پڑھتے دیکھ کر مجھے بھی اندازہ ہو گیا تھا اس لیئے میں نے اس سے کہا کہ تم ایسا کرو کہ کتاب کو میرے پاس لے کر آؤ ۔۔۔ میں اسے پڑھ کے تم کو اس کا مطلب سمجھا دیتی ہوں ۔۔۔ میری بات سن کر شبی نے بڑی شرمندگی سے میری طرف دیکھا اور کتاب لیکر میرے پاس آ گیا ۔اور میرے پیچھے کھڑے ہو کر کتاب کو میرے سامنے کر دیا ۔۔لیکن اس نے جس اینگل سے میرے سامنے کتاب رکھی ہوئی تھی ۔۔۔۔ اس اینگل سے میں اس کتاب کو نہیں پڑھ پا رہی تھی۔۔۔ ۔ اس لیئے میں نے اس سے کہا کہ یار کتاب کو تھوڑا نیچے کرو۔۔۔کہ مجھے ٹھیک سے نظر نہیں آ رہا۔۔۔ اس پر شبی میری طرف تھوڑا اور جھک گیا ۔۔ ۔۔۔اور کتاب کو میرے سامنے کر دیا۔۔بھائی کے جھکنے سے اس کی فرنٹ سائیڈ میری گردن کو ٹچ کرنے لگی۔۔۔لیکن میں نے اس پر دھیان نہیں دیا۔۔ اور کتاب کی طرف دیکھتے ہوئے ۔۔۔ میں نے سارا پیرا گراف پڑھا او ر پہلے اسے خود سمجھا پھر اس کو سمجھانے لگی ۔۔۔اسی دوران میں نے محسوس کیا کہ بھائی کی شلوار کے اندر سے اس کے اوزار میں جان پڑ رہی ہے ۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔ لیکن میں نے کوئی نوٹس نہیں لیا ۔۔۔۔ لیکن ۔۔ ۔۔۔۔ جب اس کے لن کی نوک میری گردن پر چھبی تو میں نے گردن موڑ کر شبی کی طرف دیکھا اور اس سے کہنے لگی ۔۔۔ یہ کیا شبی ؟ تو اس دفعہ شبی نے جان بوجھ کر اپنے لن کو میری گردن کے ساتھ ٹچ کرتے ہوئے کہا۔۔ سوری باجی اسے میں نے نہیں کھڑا کیا ۔۔۔ بلکہ آپ کی گردن کے ساتھ ٹچ ہو کر یہ خود ہی کھڑا ہو گیا ہے ۔۔۔شبی کی بات سن کر میں نے اس کی شلوار کی طرف دیکھا تو بھائی کا لن کھڑا ہونے سے اس کی شلوار مسلسل اوپر کو اُٹھتی جا رہی تھی۔۔۔شبی کے لن کو کھڑا ہوتے دیکھ کر میرے سارے جسم میں ایک سنسناہٹ سی پھیل گئی۔۔اور اچانک ہی بھائی کا لن لینے کی پیاس میرے من میں جاگ گئی۔۔۔ لیکن میں نے یہ بات بھائی پر ظاہر نہ ہونے دی ۔۔۔اور اس کی شوکار کواوپر کی طرف اُٹھتے ہوئے دیکھنے لگی۔۔۔پھر میں نے اس کے اُٹھے ہوئے لن کی طرف دیکھتے ہوئے اپنے منہ کو آگے بڑھا یا ۔۔۔۔۔اور اس کے لن کو شلوار کے اوپر سے ہی اپنے دانتوں میں پکڑ لیا۔۔۔۔ اور اس پر ہلکا سا کاٹ کر بولی۔۔۔۔۔ بھائی تیرے امتحان نزدیک آ گئے ہیں اس لیئے تم اپنا سارا دھیان پڑھائی پر رکھو۔۔۔۔


میر ی بات سن کر شبی کے چہرے پر ایک رنگ سا آ گیا ۔۔۔ اور وہ بڑی ہی لجاجت سے میری طرف دیکھتے ہوئے کہنے لگا۔۔۔۔۔آپ کی بات درست ہے باجی ۔۔۔ لیکن میں کیا کروں کہ ابھی اور اسی وقت میرا آپ کو چودنے پر دل آ گیا ہے ۔۔۔۔ بھائی کی بات سن کر ۔۔میں اس سے کیا کہتی کہ اسی وقت میرا بھی چدوانے پر دل آ گیا تھا ۔۔۔ لیکن کچھ نہ بولی ۔۔لیکن اندر سے ۔۔میری پھدی نے ۔مزید گرم ہونا شروع کر دیا ۔۔۔ اور پھر میں نے اس کے اُٹھے ہوئے لن کی طرف دیکھتے ہوئے کہا ۔۔۔ دل تو میرا یہی کر رہا ہے لیکن ۔۔۔۔ ۔۔۔۔ تو بھائی کہنے لگا ۔۔ لیکن کیا باجی ۔۔۔جب میں اور تم راضی ہیں تو ۔۔۔ یہ بیچ میں لیکن کہا ں سے آ گیا؟؟؟۔۔۔۔۔۔ بھائی کی بات سن کر قبل اس کہ میں اس سے کچھ کہتی ۔۔اس نے اپنے لن کو ہاتھ میں پکڑا اور مجھے دکھاتے ہوئے کہنے لگا۔۔باجی پلیزززز۔۔ اس پر میں نے اس کے لن پر نظریں گاڑتے ہوئے جواب دیا ۔۔۔ لیکن چندا ۔۔ اس وقت تو یہ کام ممکن نہیں ۔۔۔ میری بات سن کر اس کے ماتھے پر بل پڑ گئے اور وہ اپنے لن کو ہلاتے ہوئے تیز لہجے میں کہنے لگا۔۔۔۔۔۔ اس وقت کیوں نہیں ۔۔۔۔؟؟؟۔۔ ۔۔۔اس کے بولنے کے انداز سے میں تھوڑی نروس سی ہو گئی ۔۔۔۔اور کہنے لگی۔۔۔ وہ اس لیئے کہ۔۔۔ اس وقت بہت رسک ہے۔۔ ۔۔۔۔میری بات سنتے ہی وہ آگے بڑھا ۔۔اور پھر اپنے لن کو میرے گالوں سے ٹکراتے ہوئے کہنے لگا۔۔۔رسک ہے تو کیا ہوا۔۔بس تھوڑی ہی دیر کی تو بات ہے۔۔۔ اس کے بعد وہ مجھے ماضی یاد دلاتے ہوئے کہنے لگا۔۔۔ باجی کیا تم وہ زمانے بھول گئیں جب ہم روزانہ رات کو کیا کرتے تھے۔۔ادھر جب سے آپ کی شادی ہوئی ہے آپ نے ایک دفعہ بھی میرے ساتھ سیکس نہیں کیا ۔پھر بھائی میرے سامنے کھڑا ہو کر بولا۔۔۔۔ آئی مس یو باجی۔۔۔ تو میں نے بھی اس کے لن کو شلوار کے اوپر سے ہی چومتے ہوئے کہا۔۔ مس یو ٹو بھائی۔۔۔ لیکن۔۔۔ میری اس بات سے اس نے قہر بھری نظروں سے میری طرف دیکھا اور بولا۔۔۔۔خاک مس کرتی ہو باجی۔۔۔


بھائی کی بات سن کر میں تڑپ سی گئی اور اسے کہنے لگی۔۔۔ ایسی بات نہ کرو بھائی تم مجھے دینا جہان سے پیارے ہو۔۔ میری بات سن کر بھائی نے میری طرف دیکھا اور کہنے لگا ۔۔۔کچھ بھی ہو باجی میں نے ابھی ا ور اسی وقت تمہاری لینی ہے۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔ اور اس کے ساتھ ہی میری طرف منہ کر کے اس نے اپنی شلوار کا آزار بند کھولا اور میرے سامنے آ کر اپنے لن کو لہرانے لگا۔۔۔۔۔اُف ف ف ف ۔۔اس کا لن دیکھ کر میں تو حیران ہی رہ گئی۔۔۔ یہ وہ لن ہر گز نہیں تھا کہ جس کے ساتھ میں نے شادی سے پہلے اپنا ٹائم گزارا تھا ۔۔۔ بلکہ جو اس وقت بھائی کے ہاتھ میں پکڑا ہوا تھا یہ تو ایک پورے مرد کا جوان اور طاقت ور لن تھا خاص کر اس کا ہیڈ پہلے سے بہت زیادہ موٹا ہو گیا تھا اور اس کے ساتھ لن کی لمبائی بھی تھوڑا اضافہ نظر ا ٓ رہا تھا جسے دیکھ کر میرے منہ اور چوت دونوں میں پانی بھر آیا تھا ۔۔۔۔۔۔ ۔۔ ۔۔۔ جبکہ وہ اسے میرے سامنے لہرا تھا۔۔۔۔۔۔؟


شبی کا طاقت ور لن دیکھنے کی دیر تھی ۔۔کہ میرے انگ انگ میں شہوت کی مستی پھلنے لگی ۔۔۔۔ اور مجھے بھی یاد آ گیا کہ شبی درست کہہ رہا ہے کہ شادی کے بعد سے اب تک میں نے اور شبی نے ایک بار بھی سیکس نہیں کیا تھا۔۔ ۔۔ ۔۔۔ لیکن اس وقت مسلہ یہ تھا کہ کچن کے عین باہر ۔۔ خالہ اور گڈی باجی ایک ہمسائی کے ساتھ بیٹھی ہوئیں باتیں کر رہیں تھیں اور وہ ہمسائی بھی ایسی تھی کہ جس سے اس کے اپنے گھر والے بھی پناہ مانگتے تھے اور اس ہمسائی کی وجہ سے میں تھوڑا ہچکچا رہی تھی۔۔۔۔ ورنہ تو میں آپ جانتے ہی ہیں کہ بچپن سے ہی میں اپنے بھائی کی دیوانی ہوں ۔۔۔ اور اپنے بھائی کے لیئے میں کچھ بھی کر سکتی تھی ۔۔ ۔۔ لیکن اس وقت مسلہ باہر کا تھا ۔۔۔ کیونکہ کچن کے ساتھ ہی تو برآمدہ تھا اور ۔۔۔ اور باہر برآمدے میں وہ جاسوس ہمسائی بیٹھی تھی۔۔۔ جوکہ ادھر ادھر کی باتیں کرنے میں بہت مشومر تھی۔۔۔اور جس کی اسی خصوصیت کی وجہ سے سارا محلہ اسے بی بی سی کہتا تھا ۔۔۔۔۔ ادھر بھائی کا جاندار لن دیکھ کر میری پھدی بھی اسے اندر لینے کے لیئے کھل بند ہو رہی تھی۔۔۔۔ لیکن میری عقل کہتی تھی کہ وہ جگہ اس کام کے لیئے مناسب نہیں ہے۔۔۔ اس لیئے۔۔۔میں نے بھائی کی طرف دیکھتے ہوئے کہا ۔۔ پہلے اسے (لن کو) تو (شلوار کے) اندر کر لو۔۔ پھر میں کچھ سوچتی ہوں ۔۔۔شکر ہے بھائی نے میری بات مان لی۔۔۔ اور جلدی سے لن کو شلوار کے اند ر کر کے اپنا ازار بند باندھ لیا۔۔۔ اور میری طرف دیکھنے لگا۔۔۔



یہ دیکھ کر میں نے آٹے والی پرات کو تھوڑا سائیڈ پر رکھا ۔۔اور اپنی جگہ سے اُٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔ اور بھائی کے لن پر نظریں گاڑتے ہوئے سوچنے لگی۔۔۔ مجھے سوچتے دیکھ کر بھائی میرے پاس آ کر کھڑا ہو گیا اور میرا ہاتھ پکڑ کر اپنا لن کی طرف بڑھانے لگا تو میں نے ایک دم اس سے اپنا ہاتھ چھڑا لیا اور کہنے لگی۔۔۔۔ پاگل دیکھ نہیں رہے کہ میرے ہاتھ آٹے سے بھرے ہوئے ہیں ۔۔ اس پر بھائی نے میرے ہاتھوں کی طرف دیکھا اور کہنے لگا ۔۔سوری باجی میں نے خیال نہیں کیا ۔۔۔ اور پھر کہنے لگا۔۔۔ چلو ہاتھ دھو لو۔۔ اور اس کی بات سن کر میں سنک کی طرف بڑھ گئی سنک میں ہاتھ دھوتے دھوتے اچانک میری نظر سنک کے ساتھ بنی کھڑی پر پڑی اور ۔۔۔ پھر ایک لمحے میں ۔۔۔ساری پلاننگ میرے زہن میں آ گئی۔۔۔اور اس کے ساتھ ہی میں دھیمی آواز میں ۔۔ بھائی سے کہا چل بھائی میری پھدی مارنے کے لیئے تیار ہو جا --



تو وہ بے تابی سے کہنے لگا۔۔۔ سچ باجی ۔۔۔ تو میں نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔ ہاں بھائی تم ابھی اور اسی وقت میرے ساتھ سیکس کرو گے۔۔۔ اس کے ساتھ بات کرتے ہوئے میں نے کچن کی کھڑکی سے ایک نظر باہر دیکھا تو وہ تینوں اپنی باتوں میں مست تھیں ۔۔۔ان کو باتوں میں مگن دیکھ کر میں واپس مُڑی اور بھائی کی طرف دیکھنے لگی اس وقت میرا دل دھک دھک کر رہا تھا ۔۔۔ اور میرے ہاتھ پاؤں ہلکے ہلکے کانپ رہے تھے کیونکہ میں بہت بڑا رسک لینے لگی تھی۔۔۔ لیکن اسی رسک میں تو زندگی ہے یہ سوچ کر ۔۔۔۔ میں نے بھائی کے لن کو ہاتھ میں پکڑ کر اسے ہدایت دیتے ہوئے کہنے لگی۔۔۔ اندر ڈالتے ہوئے شور نہیں مچانا ۔۔اور نہ ہی زور سے دھکا مارنا ۔۔۔۔ اور جیسے ہی میں اشارہ کروں تم نے اپنے لن کو واپس شلوار میں ڈال لینا ہے ۔۔ میری بات سن کر بھائی نے جیسے ہی اپنی شلوار کا نالہ کھولنے کے لیئے ہاتھ بڑھایا تو میں نے اسے ایسا کرنےسے منع کر دیا۔۔۔تو وہ حیران ہو کر میری طرف دیکھنے لگا۔۔۔ اس پر میں نے اسے ویٹ کرنے کا کہا ۔۔۔۔ اور کوئنٹر پر پڑی کچن کی چھری اُٹھا لی ۔۔۔ اور پھر اس چھری کی مدد سے بھائی کی شلوار کو نیچے سے پھاڑ دیا ۔۔۔اور اس کے ساتھ ہی میں نے ایک نظر کھڑکی سے باہر ڈالی۔۔۔وہ تینوں ویسی ہی بیٹھی تھیں یہ دیکھ کر میں نے کوئنٹر پر اپنی دنوں کہنیاں رکھیں اور اپنی گانڈ کو پیچھے کی طرف نکال دیا۔۔۔۔ اور بھائی کو اشارے سے پاس آنے کو کہا۔۔۔



اتنی دیر میں بھائی نے شلوار کی موری سے اپنے لن کو باہر نکال دیا تھا۔۔۔اور جیسے ہی میں نے اس کو اشارہ کیا ۔۔۔ اس نے وہیں پہ کھڑے کھڑے اپنے لن کو تھوک لگا کر گیلا کیا ۔۔۔اور میرے پیچھے آ کر تیاری کی حالت میں کھڑا ہو گیا۔۔۔ بھائی کا لن اندر لینے سے قبل۔۔۔میں نے ایک بار پھر دھڑکتے دل کے ساتھ ۔۔۔۔۔ ایک نظر کھڑکی سے باہر کی طرف دیکھا۔۔۔ وہ تنیوں بدستور ۔۔۔ بیٹھی باتیں کر رہی تھیں۔۔۔ یہ دیکھ کر میں نے بڑی آہستگی کے ساتھ اپنی الاسٹک والی شلوار کو تھوڑا نیچے کر دیا۔۔۔۔ ۔۔۔اور اپنی ٹانگیں کھول کر پھدی کو نمایاں کرتے ہوئے ۔۔۔ بھائی کو ڈالنے کا اشارہ کای۔۔۔۔۔ میری شلوار کو اترا دیکھ کر بھائی تھوڑا سا جھکا اور میری چوت کو چکنا کرنے کے لیئے اس پر تھوڑا سا تھوک ملا لیکن ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میری چوت تو اس کے تھوک سے پہلے ہی سو گنا زیادہ گیلی ہو چکی تھی۔۔۔۔اس لیئے میں کوئنٹر پر رکھا ۔۔۔اپنا ایک ہاتھ پیچھے کو کیا اور اس کا ٹوپا پکڑ کر اپنی چوت کے لبوں پر رکھ دیا ۔۔اور پھر کھڑکی سے باہر دیکھتے ہوئے اسے میرے اندر ڈالنے کا اشارہ دیا۔۔۔۔۔۔۔۔اس وقت ۔۔خوف مستی اور۔۔۔ شہوت کے مارے میرا دل دھک دھک کر رہا تھا ۔۔۔



ادھر میرا اشارہ پاتے ہی بھائی نے جلدی سے اپنا ٹوپا میرے اندر کر دیا۔۔۔اور اس کے لن کا میرے اندر جانا تھا کہ میں بے خود ہی گئی اور اس وقت میرا جی کر رہا تھا کہ میں شہوت بھری چیخیں ماروں ۔۔۔ لیکن پھر ۔۔۔ جیسے ہی میری نظربرآمدے میں بیٹھی ہوئی خواتین پر پڑی ۔۔۔۔ میں نے جلدی سے اپنا ایک ہاتھ منہ پر رکھ لیا جبکہ دوسرا ہاتھ کوئنٹر پر ہی پڑا رہنے دیا۔۔۔۔۔۔۔ لیکن اس کے باوجود بھی میری منہ سے شہوت بھری سسکیاں نکل رہیں تھیں ۔۔۔۔ ادھر بھائی اپنے طاقتور لن سے میری چوت میں ہلکے ہلکے دھکے مار رہا تھا جبکہ میری چوت فل سپیڈ سے دھکوں کا مطالبہ کر رہی تھی۔۔۔۔۔ اس لیئے میں نے اپنے منہ سے ہاتھ ہٹایا اور بھائی کی طرف گردن موڑ کر دیکھتے ہوئے کہنے لگی۔۔۔ بھائی ۔۔۔ فاسٹ ۔۔۔ میری بات سنتے ہی بھائی نے بڑی احتیاط سے تیز تیز گھسے مارنے شروع کر دیئے۔۔۔ اور اپنے لن کو میری چوت کی گہرائیوں تک لے جانے لگا۔۔۔ اس دوران میں اس کے گھسوں کو بھی انجوائے کر رہی تھی اور ساتھ ساتھ ۔۔۔۔۔۔۔ باہر والیوں پر بھی نظریں جمائے ہوئے تھی۔۔۔ کچھ ہی دیر بعد بھائی تھوڑا آگے ہوا ۔۔ اور ہلکی آواز میں میرے کان میں کہنے لگا ۔۔۔ باجی میں چھوٹنے لگا ہوں۔۔۔ بھائی کی یہ بات سن کر میں تو مست ہی ہو گئی اور خود ہی اپنی ہپس کو بھائی کے لن پر مارنے لگی۔۔۔ اس کے کچھ ہی دیر بعد میری چوت بھائی کے لن کے ساتھ لپٹ گئی ۔۔اور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میرا بھائی میری چوت میں ہی چھوٹ گیاتھا۔۔۔۔۔۔۔۔



اگلے دن شام کو فوزیہ باجی بھی گھر میں آ گئیں ۔۔جسے دیکھ کر خالہ جان بہت خوش ہوئیں اور پھر شام کی چائے پیتے ہوئے خالہ جان نے باتوں باتوں میں فوزیہ باجی کہنے لگیں بیٹا آپ نے تو کافی دن پہلے آنے کا کہا تھا پھر اتنی لیٹ کیوں آئی ہو؟ خالہ جان کی بات سن کر فوزیہ باجی نے قدرے غصے سے ان کی طرف دیکھا اور بڑی تلخی سے بولیں ۔۔۔ امی جی ۔۔۔۔ ایک تو آپ ہر وقت مجھ پر شک ہی کرتی رہتی ہیں ۔۔۔اس پر خالہ جان کہنے لگیں ۔۔۔ اس میں شک کی کیا بات ہے بیٹا میں نے تو بس تم سے یہ پوچھا ہے کہ تم لیٹ کیوں آئی ہو۔۔۔۔۔ سب خیر تو تھی نا؟؟؟؟۔۔۔ خالہ جان کی اس بات پر بھی فوزیہ باجی نے کافی ناک چڑھایا اور پھر۔۔۔ اسی تلخ لہجے میں کہنے لگیں ۔۔۔ ۔۔۔ کہ ان کی ایک کولیگ کی شادی تھی اس لیئے وہ ان کے ہاں رُک گئی تھیں۔۔ اور پھر چائے چھوڑ کر بڑے غصے میں وہاں سے اُٹھ کر اپنے کمرے میں چلی گئی۔۔۔ باجی کے اٹھ کر جانے کے تھوڑی دیر بعد خالہ جان بھی ان کے پیچھے پیچھے کمرے میں چلی گئیں ۔۔۔۔اب باقی رہ گئیں میں اور گُڈی باجی۔۔۔ ۔۔۔چنانچہ خالہ کے اُٹھتے ہی میں نے گڈی باجی کی طرف۔۔۔۔۔ اور انہوں نے میری طرف دیکھتے ہوئے کہنے لگیں ۔۔۔کہ میں نے امی کو ہزار دفعہ سمجھایا ہے کہ اس کالی کلوٹی کے منہ نہ لگا کریں ۔۔۔ لیکن امی پھر بھی بات کرنے سے باز نہیں آتیں ۔۔ ۔۔۔۔ پھر میری طرف دیکھتے ہوئے بولی ۔۔۔۔۔میرا خیال ہے کہ باجی کی ایسی باتیں سن کر امی کو بھی مزہ آتا ہے۔۔۔ اس پر میں نے گڈی باجی سے کہا۔۔ کہ ایک بات تو بتاؤ باجی ۔۔۔۔ یہ فوزیہ باجی خالہ جان کے ساتھ اتنی بد تمیزی سے کیوں بولتی ہیں؟؟۔۔۔۔۔۔۔ تو ایک دم گُڈی باجی کے منہ سے نکل گیا ۔۔۔ کہ.......چور کی داڑھی میں تنکہ۔۔۔ پھر چونک کر میری طرف دیکھتے ہوئے کہنے لگیں ۔۔۔۔۔ کہ بات دراصل یہ ہے یار کہ باجی گھر کی کمانے والی فرد ہے۔۔ اور ہر ماہ امی کے ہاتھ پر اچھی خاصی رقم رکھتی ہے ۔۔۔ اس لیئے میری جان ۔۔۔۔۔ خدا جب حُسن دیتا ہے۔۔ تو پھر۔۔۔ نزاکت آ ہی جاتی ہے ۔۔۔۔ اس کے بعد اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے بولیں ۔۔۔۔اور اوپر سے اتنی عمر ہونے کے باوجود بھی باجی کا کہیں سے رشتہ نہیں آ رہا ۔۔۔۔۔۔پھر گڈی باجی مجھے آنکھ مارتے ہوئے کہنے لگیں ۔۔۔ تو پھر میری جان اتنی بدتمیزی کرنا ..... اس کا حق بنتا ہے نا۔۔۔۔۔۔۔


جیسا کہ میں اس سے پہلے بھی بتا چکی ہوں کہ فوزیہ باجی کوئی خوبصورت خاتون نہیں ..... بلکہ ایک کالی کلوٹی اور قدرے موٹی سی عورت تھی جس کے بڑے بڑے ہونٹ حبشنوں کی طرح لٹکے ہوئے تھے ۔ اور حبشنوں ہی کی طرح ۔۔۔۔۔۔۔ان کا ڈیل ڈول بھی تھا ۔۔۔۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ ان پلس پوائینٹ یہ تھا کہ پتہ نہیں کیسے ان میں سیکس اپیل بہت غضب کی تھی ۔۔ اور اس سیکس اپیل میں سب سے زیادہ حصہ ان کی موٹی گانڈ کا تھا ۔۔۔ اور یہ بات میں پہلے بھی کسی قسط میں بھی بتا چکی ہوں کہ لڑکپن سے ہی فوزیہ باجی کی بُنڈ بہت ہی سیکسی اور شاندار تھی جسے دیکھ کر شبی ......جو کہ ان دنوں تقریباً روزانہ ہی میری گانڈ کو مارا کرتا تھا ۔۔۔۔ فوزیہ باجی کی موٹی اور سیکسی گانڈ کو دیکھ کر اکثر مچل اُٹھتا تھا اور بار بار مجھ سے کہا کرتا تھا ۔۔۔۔ کہ باجی پلیز تم بھی اپنی گانڈ کو فوزیہ باجی جتنی موٹی کر لو نا ۔۔۔۔بھائی کی بات سن کر اکثر میں جل جایا کرتی تھی اور پھر اس کی طرف آنکھیں نکالتے ہوئے کہا کرتی تھی ۔۔۔ کہ کیوں میری اپنی گانڈ میں کیا برائی ہے؟؟؟؟ ۔۔۔ کیا یہ سیکسی نہیں ہے ....؟ تو میری اس بات پر وہ بے چارہ گڑبڑا سا جایا کرتا تھا ۔۔۔۔۔ اور جلدی جلدی کہتا ۔۔۔۔ باجی آپ کی گانڈ ....سیکسی بلکہ بہت زیادہ سیکسی ہے۔۔۔ تبھی تو میں اسے روز ہی مارتا ہوں ..... اور مجھے معلوم تھا کہ وہ یہ بات محض میرا دل رکھنے کے لیئے کہہ رہا ہے ورنہ تو وہ فوزیہ باجی کی گانڈ کا دیوانہ تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور مجھے یاد ہے کہ ایک دفعہ جب فوزیہ باجی خالہ کے ساتھ ہمارے گھر آئیں تھیں تو شبی نے ان پھنسانے کی بہت کوشش کی تھی ۔۔۔۔۔ لیکن بے سود ۔۔۔ فوزیہ باجی نے اس کو زرا بھی لفٹ نہیں دی تھی ۔۔۔ بلکہ الٹا انہوں نے مجھ سے بھائی کی بڑی سخت شکایت بھی لگا دی تھی ۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔ اور ان کی اس شکایت پر میں نے انہیں یقین دھانی کروائی تھی کہ آپ اماں ابا سے اس کے بارے میں کوئی بات نہ کریں میں خود ہی اسے سمجھا لوں گی اور میرے کہنے پر اس دفعہ انہوں نے شبی کو چھوڑ دیا تھا۔۔۔


اس سے اگلے دن صبع کی بات ہے کہ ....کمرے میں ۔۔۔میں اور بھائی اکیلے تھے ۔۔۔ حسبِ معمول میں بھائی کے لیئے ناشتہ لے کر آئی تھی اور اس کے سامنے ناشتے کی ٹرے رکھ کر خود اس کے لیئے ٹیسٹ بنا رہی تھی ۔۔۔ کہ ناشتہ کرتے ہوئے اچانک ہی شبی نے میری طرف دیکھا ۔۔۔۔اور کہنے لگا ۔۔میرا ایک کام کرو گی باجی ........؟؟؟ ۔۔تو اس پر میں نے ٹیسٹ بناتے ہوئے اس کی طرف دیکھا اور کہنے لگی ۔۔ ضرور کروں گی تم کام بتاؤ۔۔۔ تو وہ بڑی سنجیدگی سے کہنے لگا ۔۔ باجی جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ اس روز خالہ جان نے بھی مجھ سے کہا تھا کہ پڑھتے ہوئے اگر مجھے آپ سے کوئی بات سمجھ نہ لگے تو فوزیہ باجی سمجھا دیں گی۔۔۔ پھر مجھے آنکھ مارتے ہوئے بولا ۔۔۔ کیا کروں باجی...... کہ آپ سے پڑھتے ہوئے مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہی ۔۔اس لیئے فوزیہ باجی کو کہو نا کہ وہ مجھے پڑھا دیا کریں ۔۔۔ اپنے چھوٹے بھائی کے منہ سے یہ بات سن ۔۔۔اور اس کے بات کرنے کے سٹائل سے میں سمجھ گئی کہ ۔۔۔۔۔دراصل شبی کا پروگرام کیا ہے۔۔۔۔ اس لیئے میں اس کو ڈانٹتے ہوئے بولی۔۔۔ مجھے سب معلوم بیٹا ہے کہ تم نے مجھ سے یہ فرمائیش کیوں کی ہے۔۔۔۔ ۔ پھر بولی ۔۔۔۔ میری جان فوزیہ باجی کا خیال اپنے دل سے نکال دو اور چپ چاپ مجھ سے ہی پڑھتے جاؤ ۔۔۔اس پر شبی ایک دم سے سیریس ہو گیا اور کہنے لگا۔۔۔۔ باجی پلیزززززززززززززز۔۔۔۔۔ پڑھ میں آپ سے ہی لوں گا ۔۔۔ لیکن ۔۔پلیزززززز۔۔۔۔ ایک دفعہ بس ایک دفعہ آپ میرا یہ کام کر دو ۔۔۔ آگے میں سنبھال لوں گا۔۔۔ بھائی کی بات سن کر میں نے اسے غصے سے دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔ بے وقوف نہ بنو بھائی تم جانتے ہی کہ وہ کس قدر نک چڑھی خاتون ہے۔۔۔۔ اس لیئے کم از کم میں اس سے ہر گزتمہارے متعلق نہیں کہوں گی۔۔۔ پھر میں نے بھائی کو پچھلی بات یاد دلاتے ہوئے کہا کہ تم کو اچھی طرح سے معلوم ہے کہ یہ خاتون ایک بار پہلے بھی مجھ سے تیری شکا یت لگا چکی ہے۔۔۔ میری اس بات پر بھائی بڑے ہی اعتماد کے ساتھ بولا۔۔۔۔۔۔۔۔ یقین کرو باجی اس دفعہ میری شکایت نہیں آئے گی۔۔۔۔



بھائی کو اس قدر پُر اعتماد دیکھ کر میں حیران رہ گئی اور پھر اس کے ٹیسٹ والی کاپی کو ایک طرف رکھا اور اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولی ۔۔۔۔۔ شبی فوزیہ کے بارےمیں اس قدر اعتماد کی وجہ۔۔۔ کیا میں جان سکتی ہوں ؟ میری بات سن کر بھائی آئیں بائیں شائیں کر نے لگا۔۔۔ لیکن میں اس کے اس طرح بولنے سے سمجھ گئی تھی ۔۔۔ کہ معاملہ گڑبڑ ہے ۔۔۔۔۔ اس لیئے میں نے تھوڑا سخت لہجے میں اس سے کہا ۔۔سچ سچ بتاؤ کہ چکر کیا ہے؟میری بات سن کو کر اور میرے لہجے کی سختی جانچ کر بھائی سمجھ گیا کہ بات بتائے بغیر اس کی جان نہیں چھوٹے گی اس لیئے تھوڑی ہچکچاہٹ کے بعد وہ کہنے لگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ٹھیک ہے باجی میں آپ کو بتا دوں گا ۔۔۔ لیکن ۔۔۔۔آپ وعدہ کرو کہ آپ فوزیہ باجی کو پڑھانے کے لیئے ضرور کہیں گی۔۔۔۔ اس پر میں مزید سخت لہجے میں بولی ۔۔ سیدھی طرح بتاؤ ۔۔ میں ساری حقیقت جاننے کے بعد ہی کوئی فیصلہ کروں گی۔۔۔۔



میری بات سن کر بھائی نے تھوڑی مایوسی سے سر ہلایا اور کہنے لگا۔۔۔ باجی بات جاننے کے بعد ہو سکے تو مجھے ایک چانس ضرور دینا ۔۔۔اور پھر اس نے مجھے بتایا کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ ان دنوں کی بات تھی کہ جب پاکستان میں ابھی موبائل نیا ینا عام ہوا تھا ۔۔۔۔ اس وقت میں نے بھی اسے ایک موبائل خرید کر دیا تھا ۔۔۔ چنانچہ نے بھائی نے اپنے موبائل کے لیئے دو سمیں خریدیں ۔۔۔ ایک سم کا نمبر تو سب کو معلوم تھا جبکہ دوسری سم کے بارے میں اس نے کسی کو نہیں بتایا تھا۔۔۔وہ کہتا ہے کہ ایک دن وہ امی کے ساتھ مجھ سے ملنے آیا تو اس وقت اتفاق سے فوزیہ باجی بھی بہاولپور سے آئی ہوئی تھی ۔۔۔۔ اور فوزیہ کو ۔۔۔۔۔۔۔۔خاص کر اس کی بنڈ کر دیکھ کر بھائی .... نے اسے حاصل کرنے کے لیئے ایک منصوبہ بنایا۔۔۔۔ اس کام کے لیئے اسے فوزیہ کا نمبر درکار تھا ۔۔۔ جو کہ اسے بڑی آسانی سے مل گیا ۔۔۔اور ایک رات وہ چھت پر گیا ۔۔۔اور فوزیہ باجی کو میسج بھیجا ۔۔۔۔ کہ آپ بہت گریس فل ہو۔۔۔۔ کہتا ہے کہ پہلے کچھ دن تو فوزیہ نے اس کو لفٹ ہی نہیں کرائی ۔۔۔ لیکن بھائی کہتا ہے کہ اسے معلوم تھا کہ فوزیہ اتنی آسانی سے نہیں پھنسے گی ۔۔۔ اس لیئے وہ دن میں اسے دس پندرہ میسج بھیجنے لگا۔۔۔۔۔کہتا ہے کہ آخر ۔۔۔ایک دن پتھر کو بھی جونک لگ گئی۔۔۔۔اور بجائے مسیج بھیجنے کے فوزیہ نے اسے فون کر دیا۔۔۔۔ بھائی کہتا ہے کہ فوزیہ کا فون سن کر میں بڑا پریشان ہوا ۔۔۔۔ کہ اگر میں نے اس سے بات کر لی تو انس نے میری آواز پہچان لینی ہے ۔۔۔۔اورمیں مارا جاؤں گا۔۔۔۔ اس لیئے میں نے بجائے بات کرنے کے اسے مسیج بھیجا کہ اس وقت میں پاپا کے ساتھ ہوں ۔۔۔ بعد میں بات ہو گی۔۔۔۔۔


کہتا ہے کہ سوچ سوچ کر کہ فوزیہ کے ساتھ کیسے بات کروں ۔۔۔ آخر اس کے زہن میں ایک ترکیب آ گئی اور یہ ترکیب اس نے ایک فلم سے لی تھی ۔۔۔ جس میں اسی طرح ہیرو فون کے موتھ پیس پر کپڑا ڈال کر اور تھوڑا لہجہ بدل کر اپنی محبوبہ سے بات کرتا ہے ۔۔ کیونکہ میری طرح اس فلم کی ہیرؤین بھی اس ہیرو کو جانتی ہوتی ہے ۔۔ یہ طے کر کے میں آیئنے کے آگے کھڑا ہو گیا ۔۔۔اور زہن میں مختلف لوگوں کی آوازوں کو لا کر ان کے لہجے میں بات کرنے کی پریکٹس کرنے لگا۔۔۔۔۔ کہتا ہے کہ ایسے کرنے سے اسے اپنا ایک کلاس فیلو یاد آگیا کہ جس کی آواز تھوڑی باریک تھی ۔۔۔۔ اور اس کی آواز کا ہم اکثر مزاق اُڑایا کرتے تھے ۔۔۔ چنانچہ ۔۔۔۔اس نے بھی اسی دوست کی آواز میں بات کرنے کا فیصلہ کر لیا ۔۔۔۔اور تھوڑی سی مشق کے بعد آخر وہ۔۔۔۔۔۔ایسا کرنے میں کامیاب ہو گیا۔۔۔۔ جب اسے یقین ہو گیا کہ اب وہ باآسانی اس دوست کی آواز نکال لے گا تو پھر کچھ دیر بعد اس نے فوزیہ باجی کو مسیج بھیجا ۔۔۔ کہ کیا حکم ہے میری آقا۔۔۔۔ کہتا ہے کہ مسیج بھیجنے کی دیر تھی کہ مجھے ۔۔۔۔۔۔۔۔ فوزیہ باجی کا فون آ گیا۔۔۔۔ اور اس دفعہ میں نے بڑے اعتماد سے اپنا سیل فون آن کیا۔۔۔اور اسی دوست کی آوازمیں بولا۔۔۔ جی فرمایئے۔۔۔ تو دوسری طرف سے فوزیہ باجی کی غصے میں ۔۔۔پھنکارتی ہوئی آواز سنائی دی ۔۔۔ وہ کہہ رہی تھی۔۔۔ دیکھو مسٹر تم جو بھی ہو میں تم کو یہ بتانا چاہتی ہوں کہ میں ایسی لڑکی ہر گز نہیں ہوں ۔۔۔۔اس لیئے آئیندہ مجھے میسج بھجنے کی کوشش نہ کرنا۔۔۔۔ بھائی کہتا ہے کہ اس سے قبل کہ میں کوئی بات کرتا ۔۔۔۔۔ اس نے بڑے غصے سے فون بند کر دیا۔۔۔۔ لیکن اس کا لہجہ۔۔۔اس کے تیور۔۔۔سے صاف نظر آ رہا تھا کہ وہ مجھے موڈ دکھا رہی ہے ۔۔۔ اس لیئے میں نے فوراً ہی جوابی ۔۔ میسج پہ میسج دے مارا ۔۔۔ جس میں اس سے معزرت کے ساتھ ساتھ ۔۔۔ مختلف محبت بھرے اشعار بھی لکھے ۔۔۔

قصہ مختصر بھائی کہتا ہے کہ جلد ہی فوزیہ کا مسیج آگیا کہ آپ مجھ سے کیا چاہتے ہو؟ ۔۔توجواب میں بھائی نے لکھا کہ میں صرف آپ سے دوستی چاہتا ہوں۔۔۔اور اس طرح سلسلہ چل پڑا۔۔۔ اور ہوتے ہوتے فوزیہ باجی سے بھائی کی اچھی خاصی دوستی ہوگئی ۔۔سوری میں آپ کو یہ بتانا تو بھول ہی گئی کہ فوزیہ باجی کے پوچھنے پر بھائی نے انہیں بتایا تھا کہ وہ میڈیکل کا سٹوڈنٹ ہے اور ملتان میں رہتا ہے ۔۔۔ کہتا ہے میڈیکل کا نام سن کر وہ بڑی امپریس ہوئی ۔۔ اور یوں ان کی دوستی اور بھی گہری ہو گئی اور پھر آہستہ آہستہ بھائی فوزیہ باجی کو اپنے ڈھب پر لے آیا۔۔۔۔ اور پہل اسی نے کی اور ایک دن میسج پر بتایا کہ آج اس نے اپنی ایک کلاس فیلو کے ساتھ کسنگ کی ہے۔۔۔ پھر اس نے فوزیہ باجی سے بھی ایسے ہی بات پوچھی ۔۔۔ اور پھر تھوڑے ہی عرصے کے بعد فوزیہ باجی بھی بھائی کے ساتھ کھل گئی اور اسے اپنے معاشقوں اور کیئے گئے سیکس کے بارے میں میسج بھجنے لگی۔۔ اور پھر اس کے ساتھ فون سیکس کرنے لگی جو کہ بھائی نے پلان کے مطابق سب ریکارڈ کر لیئے تھے۔۔فون سیکس کے ساتھ ساتھ اس نے بھائی کو بھی ایک دو دفعہ آفر لگائی ۔۔۔ لیکن بھائی نے امتحانوں کو بہانہ بنا کر اس کومنع کر دیا۔۔۔ بھائی نے مجھے بتایا کہ فوزیہ بہت سیکسی اور چوداکڑ عورت ہے اور بہاولپور میں اس کے کافی آدمیوں کے ساتھ سیکس کیا ہوا ہے اور اس کے ساتھ سیکس کرنے کی اب اس کی باری ہے ۔۔۔
بھائی کی بات سن کر میں تو ہکا بکا رہ گئی۔۔۔ اور قبل اس کہ میں اس سے کچھ کہتی اس نے اپنے سیل فون سے فوزیہ کی ریکارڈنگ کی ہوئی بات سنائی دی۔۔۔ جس میں فوزیہ بھائی کے ساتھ فون سیکس کرتے ہوئے کہہ رہی تھی۔۔۔ جان ۔۔۔ مجھے کب چودو گے؟ میں تمہارے لن کے لیئے ترس گئی ہوں ۔۔۔ اسے میری پھدی میں ڈالو نہ ۔۔۔ بولو نہ کب ڈالو گے؟ تو دوسری طرف سے میں نے ایک باریک سی آواز سنی ( جو کہ بھائی کی تھی) ۔۔۔ اور وہ فُل مستی میں فوزیہ باجی سے کہہ رہا تھا ۔۔نہیں ڈارلنگ میں ایک دم سے اپنے لن کو تمہاری چوت میں نہیں ڈالوں گا۔۔۔ تو اس پر فوزیہ باجی کی مست آواز ابھری ۔۔۔۔ تو کہاں ڈالو گے؟ جہاں ڈالنا ہے جلدی سے ڈال بھی دو پلیززززززززززز۔۔۔۔۔ اتنی سی بات سنا کر بھائی نے فون والی بات آف کر دی اور میری طرف دیکھتے ہوئے کہنے لگا۔۔۔ ہاں باجی اب کیا کہتی ہو؟ تو میں نے اس سے کہا ۔۔۔ ٹھیک ہے بھائی ۔۔۔ لیکن دیکھنا کہیں تمہیں لینے کے دینے نہ پڑ جائیں ۔۔۔ تو میری بات سن کر بھائی مسکراتے ہوئے کہنے لگا۔۔۔ اس بات کی تم چنتا ہی نہ کرو مائی ڈئیر ڈارلنگ باجی۔۔۔۔۔



اسی دن دوپہر کو میں نے فوزیہ باجی اور خالہ کے ساتھ بات کی شبی کے کو پڑھانے کے بارے میں بات کی ۔۔۔تو تھوڑی سی رد و کد کے بعد فوزیہ باجی نے بھائی کو پڑھانے پر آمادگی ظاہر کر دی۔۔۔لیکن اس نے ساتھ یہ شرط رکھی کہ وہ شبی کو صرف میری موجودگی میں ہی پڑھائے گی۔۔۔ چنانچہ اب میرے کمرے میں ۔۔۔ میرے سامنے بیٹھ کر بھائی نے بڑی شرافت کے ساتھ فوزیہ باجی سے پڑھنا شروع کر دیا۔۔۔ اسی طرح دو تین گزر گئے۔۔۔اور بھائی کی رویے کی وجہ سے فوزیہ باجی کو اس پر تھوڑا اعتبار آنا شروع ہو گیا ۔۔۔ پھر ایک دن ایسا ہوا کہ خالہ کے سسرال میں کسی کی ڈیتھ ہو گئی ۔۔۔ جہاں پر میں اور فوزیہ باجی شبی کی پڑھائی کی وجہ سے نہ جا سکیں ۔۔۔ چنانچہ خالہ کے ساتھ چھوٹے ماموں ان کی بیوی اور گڈی باجی روانہ ہو گئیں۔۔ اسی شام بھائی مجھ سے کہنے لگا کہ باجی کل میرا فوزیہ کو چودنے کا پروگرام ہے اس لیئے مہربا نی کر کے آپ نے مجھے تھوڑا موقع دینا ہے۔۔۔ تو میں نے اس سےکہا ٹھیک ہے میں تم کو پورا موقع دوں گی ۔۔۔ لیکن اس کے ساتھ میں تم دونوں کا لائیو سیکس شو بھی دیکھنا چاہوں گی ۔۔۔۔ میری بات سن کر بھائی نے میری ہاں میں ہاں ملائی اور پھر ہم دونوں نے اگلی صبع کے لیئے ایک پلان ترتیب دے دیا۔۔۔ جس کے مطابق میں نے بھائی کا سیکس شو دیکھنے کے لیئے کھڑکی کے پاس کھڑا ہوا جانا تھا اور بھائی نے فوزیہ باجی کے ساتھ سیکس کرتے وقت اسے عین کھڑکی کے پاس لے آنا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔



اگلے دن کی بات ہے کہ اس وقت میں کچن کی کھڑکی کے سا منے کھڑی اس انتظار میں تھی کہ کب فوزیہ باجی میرے کمرے میں داخل ہو ۔۔۔ مجھے زیادہ دیر تک انتظار نہیں کرنا پڑا ۔۔۔۔ کچھ ہی دیر بعد فوزیہ باجی اپنے کمرے سے نکل کر جیسے ہی میرے کمرے کی طرف جاتی ہوئی دکھائی دی ۔۔۔ میں بھی چپکے سے باہر نکلی اور اپنے کمرے کی کھڑکی کے پاس جا کھڑی ہوئی ۔۔۔چونکہ یہ وقت شبی کی پڑھائی کا ہوتا ہے اس لیئے کمرے میں ساری لاٹئیس آن تھیں جس کی وجہ سے مجھے تو کمرے کا منظر صاف دکھائی دے رہا تھا لیکن ۔۔۔ روشنی کی وجہ سے اندر سے باہر کا منظر نہیں نظر آتا تھا ۔۔۔۔۔۔ جیسے ہی میں کھڑکی کے پاس پہنچی تو مجھے اندر سے فوزیہ باجی کی آواز سنائی دی وہ کہہ رہیں تھیں کہ صبو کہاں ہے تو بھائی کہنے لگا ۔۔۔ کہ وہ کچن میں گئی ہیں اور ابھی آنے والی ہوں گی اس کے ساتھ ہی بھائی نے فوزیہ باجی کی طرف دیکھ کر جھوٹ ب ولتے ہوئے کہا کہ باجی آج تو آپ بڑی گریس فل لگ رہی ہیں اور خاص کر یہ لان کا سوٹ تو آپ پر بہت جچ رہا ہے ۔۔ پھر وہ تھوڑا آگے بڑھا اور لان کے سوٹ کو دیکھنے کے بہانے باجی کے پیٹ پر ہاتھ پھیر کر بولا ۔۔ خاصہ مہنگا سٹف لگ رہا ہے تو فوزیہ باجی اسی نخوت سے کہنے لگی ۔۔۔ تم نے درست پہچانا ۔۔۔ میں نے کبھی سستا سوٹ نہیں پہنا ۔۔پھر شبی کو کہنے لگی چل اب اپنی بکس نکال ۔۔۔اور خود اس کے سامنے دوسری کرسی پر بیٹھ گئیں ۔۔۔ میں نے دیکھا کہ بھائی نے اپنے بیگ سے بک نکالی اور پھر باجی کے سامنے وہ بک لے جا کر اس کے مموں کے ساتھ جوڑ دی اور کہنے لگا باجی آج یہ جیپڑ پڑھانا ہے ۔۔ اپنی بڑی سی چھاتی پر بھائی کا ہاتھ محسوس کر کے فوزیہ تھوڑی سی بدکی لیکن بھائی کو کچھ نہیں کہا ۔۔۔ اور اشارے سے اسے پڑھنے کے لیئے کہا۔۔۔ لیکن بھائی کا موڈ پڑھنے کو بلکل نہیں تھا اس لیئے وہ ایک بار پھر اپنی جگہ سے اُٹھا اور وہی کتاب فوزیہ باجی کے پاس لے گیا اور۔۔۔ اس سے قبل کہ وہ ان کے اور نزدیک آتا فوزیہ باجی ایک دم سخت لہجے میں بولیں ۔۔۔ بدتمیزی نہیں شبی۔۔۔ لیکن شبی نے ان کی بات سنی ان سنی کرتے ہوئے ان کے قریب چلا گیا ۔۔ لیکن اس دفعہ فوزیہ باجی چونکہ پہلے سے ہی ہوشیار تھی اس لیئے اس نے بھائی کو ہاتھ کے اشارے سے پرے ہٹایا ۔۔۔۔اور پھر کہنے لگی۔۔۔۔۔۔ آرام سے بیٹھو ورنہ میں تمہاری شکایت لگا دوں گی۔۔۔ اور باجی کی بات سن کر شبی جا کر اپنی کرسی پر بیٹھ گیا اور تھوڑی دیر بعد اس نے اپنے سر پر ہاتھ پھیرا ۔۔۔ یہ اس بات کی نشانی تھی کہ اب میں کمرے میں آ جاؤں ۔۔ چنانچہ شبی کا اشارہ پا کر میں کمرے میں داخل ہوئی اور جاتے ہی بڑے خوش گوار انداز میں بولی۔۔ اوہ سوری باجی ۔۔۔ آج چونکہ گڈی باجی گھر پر نہیں ہیں ۔۔اس لیئے مجھے ہی دوپہر کے کھانے کا بندوبست کرنا پڑ رہا ہے۔۔۔ پھر میں نے فوزیہ باجی کی طرف دیکھا اور کہنے لگی باجی اس کا ٹیسٹ لے لینا ۔۔۔ میری بات سن کر نک چڑھی فوزیہ نے ہاں میں سر ہلایا اور میں وہاں پر تھوڑی دیر بیٹھ کر پھر ہانڈی کا بہانہ کر کے واپس چلی باہر نکل گئی اور سیدھی کھڑکی کے ساتھ لگ کر کھڑی ہو گئی --


کچھ دیر بعد میں نے دیکھا کہ دیکھا کہ پڑھتے پڑھتے اچانک شبی نے اپنے پاؤں لمبے کیئے اور سامنے بیٹھی فوزیہ باجی کی گود میں رکھ دیئے ۔۔ادھر شبی کے پاؤں اپنی گود میں دیکھ کر نک چڑھی فوزیہ آگ بگولہ ہو گئی اور غضب ناک انداز میں شبی سے کہنے لگی ۔۔۔ اپنے پاؤں کو یہاں سے ہٹاؤ ۔۔۔ درنہ۔۔۔۔ تو شبی فوزیہ باجی کی طرف دیکھتے ہوئے کہنے لگا۔۔۔ اگر نہ ہٹاؤں تو؟ اس پر باجی مزید غضب ناک انداز میں بولی۔۔۔ تو میں اُٹھ کر یہاں سے چلی جاؤں گی ۔۔۔اور اس بات کی شکایت نہ صرف اپنی امی سے بلکہ تمہارے بہن اور بہنوئی سے بھی جو کہ اتفاق سے میرا بھائی بھی ہے سے لگاؤں گی ۔۔۔ بہنوئی والی بات سن کر شبی نے اچانک خوف زدہ ہونے کی ایکٹنک کی اور کہنے لگا۔۔۔ نا باجی ایسا غضب نہ کرنا اور شریف بچوں کی طرح اپنے پاؤں کو وہاں سے ہٹا لیئے ۔۔۔ اور پڑھنے لگا۔۔۔۔۔ اسے پڑھتے دیکھ کر اچانک فوزیہ باجی نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا ۔۔۔ یہ آج تمہیں کیا ہو گیا ہے شبی؟ تو شبی نے جیب پاس پڑا ہوا موبائل اُٹھایا ارور فوزیہ باجی کی طرف دیکھتے ہوئے کہنے لگا۔۔۔ وہ دراصل باجی آج مجھے اپنی ایک معشوق بہت یاد آ رہی ہے۔۔۔ پھر خود ہی موبائل کھولا ۔۔۔ اور کہنے لگا۔۔۔ وہ حرام زادی بڑی سیکسی تھی ۔۔۔اور میرے خیال میں اس نے فوزیہ کی آواز والا فولڈر نکالا ۔۔۔۔۔۔۔اور ایک بار پھر اپنے پاؤں پسار کر فوزیہ کی گود میں رکھ دیئے۔۔۔


اپنی گودی میں شبی کے پاؤں کو دیکھتے ہی فوزیہ باجی آگ بگولہ ہو گئی اور اس نے بڑے غصے سے اس کے پاؤں کواُٹھا کر پرے پھینکا ۔۔۔۔ اور یہ کہتی ہوئی اُٹھ کر جانے لگی کہ ۔۔۔ حرامزدگی بھی کوئی حد ہوتی ہے ۔۔۔ جیسے ہی فوزیہ باجی نے دروازے کی طرف اپنا قدم بڑھایا تو بلکل فلمی سٹائل میں شبی نے اپنے موبائل کا والیم فُل کھولا ۔۔۔ اور بڑی بے نیازی سے فوزیہ کی طرف دیکھتے ہوئے کہنے لگا۔۔۔۔ جانے سے پہلے باجی جان یہ تو سنتی جاؤ۔۔۔ اور اس کے ساتھ ہی کمرے میں فوزیہ کی آواز گونجی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مجھے کب چودو گے میری جان۔۔۔۔ ؟دوسری طرف باہر کی طرف قدم بڑھاتی ہوئی فوزیہ باجی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اپنی آواز سن کر ایک دم ٹھٹھک کر رُک گئی۔۔۔۔ اور پھر وہ بڑی پھرتی سے واپس ہوئی اور کسی چیل کی طرح واپس میز پر پڑے موبائل پر جھپٹا مارا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن موبائل وہاں پڑا ہوتا تو ملتا نا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شبی کو شاید باجی سے پہلے ہی اس اقدام کی توقع تھی اس لیئے جیسے ہی باجی نے موبائل پکڑنے کے لیئے جھپٹا مارا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ شبی نے فورا ً ہی وہاں سے اپنے موبائل کو اُٹھا لیا ۔۔۔اور بھاگ کر واش روم کے دروازے کے پاس جا کر کھڑا ہو گیا ۔۔۔اور کہنے لگا۔۔۔۔ اس بھول میں ہر گز نہ رہنا باجی کہ تمہارا یہ فون سیکس صرف اس موبائل میں ہی محفوظ ہے۔۔ بلکہ اس کی ایک کاپی میں نے اپنے کمپیوٹر اور دوسری کاپی میل بکس میں بھی محفوظ کی ہے ۔۔۔ اس کے ساتھ ہی اس نے موبائل میں کیا ہوا پاز کا بٹن آن کر دیا۔۔۔ اور دوسری طرف ۔۔۔۔ فوزیہ باجی کی سیکس میں ڈوبی ہوئی آواز گونجی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ کہہ رہی تھی۔۔۔۔۔۔۔آؤ نا جان کہ میری پھدی سے گرمی کے مارے بھاپ اُٹھ رہی ہے۔۔۔۔اور میں نے فوزیہ باجی کی طرف دیکھا ۔۔۔ اپنی آواز سن کر اس کا گہرا سانولہ چہرہ تاریک تر ہو گیا تھا ۔۔۔ پھر میں نے دیکھا کہ کافی دیر تک وہ اپنے ہونٹ کاٹتی رہی پھر وہ بڑے ہی مجروح لہجے میں بولی ۔۔۔۔۔شبی۔۔۔۔ کیا تم ہی شہزاد ہو؟ تو شبی مسکراتے ہوئے دل ہاتھ رکھ کر بولا ۔۔۔ جی مس سیکسی میں ہی آپ کا شہزاد ہوں جو کہ ایم بی بی ایس کا سٹوڈنٹ اور آپ کے جسم کا سچا عاشق ہے۔

Logged


شبی کی بات سن کر فوزیہ باجی کے تاریک چہرے پر ایک لہر سی آ گئی ۔۔ اور اس سے قبل کہ وہ کچھ کہتی شبی اس سے کہنے لگا۔۔۔ میڈم پلیز۔۔اب اپنی چئیر پر بیٹھ جاؤ۔۔۔ فوزیہ باجی نے شبی کی بات سنی ان سنی کرتے ہوئے کہا کہ فرض کرو کہ میں تمہارے بات نہ مانوں تو تم کیا کرو گے؟ پھر خود ہی طنزیہ لہجے میں کہنے لگی ۔۔۔ میری آواز لوگوں کو یہ کہہ کر سناؤ گے کہ یہ ہے فوزیہ باجی میری خالہ کی بیٹی اور میری بہن کی نند ۔۔۔ جس کو میں نے دھوکے سے پھنسایا تھا۔۔۔۔ فوزیہ باجی کی بات سن کرشبی کہنے لگا ۔۔۔ کس زمانے کی بات کر رہی ہو باجی ۔۔۔ میں بھلا ایسا کیوں چاہوں گا ؟ پھر باجی کی آنکھو ں میں آنکھیں ڈال کر بولا۔۔۔۔ تم کہاں رہتی ہو پیاری باجی ۔۔۔ سنو اگر آپ نے میری بات نہ مانی تو میں صرف اور صرف اتنا کروں گا کہ ۔۔۔ آپ کے فون سیکس کی ساری فائلز ۔۔۔۔اپنے جعلی اکاؤنٹ سے یو ٹیوب اور اس جیسی باقی سائیٹس پر اپ لوڈ کر دوں گا ۔۔۔ اور پھر صرف چند بندوں کو یہ کہوں گا ۔۔ یار دیکھو کیا زمانہ آ گیا ہے فوزیہ باجی یو ٹیوب پہ خود ہی اپنے سیکس کے بارے میں بتا رہی ہے کہ اس کو کس کس نے چودا ۔۔۔ اور اس کے ساتھ ساتھ اپنے یار کے ساتھ فون سیکس بھی کر رہی ہے۔۔۔۔ شبی کی بات سن کر فوزیہ باجی کو حالات کی سنگینی کا احساس ہوا اور وہ شبی کی طرف دیکھ کر بولی۔۔۔۔ بہت حرامی ہو تم۔۔۔۔ باجی کی گالی سن کر بھائی زرا بھی بے مزہ نہ ہوا ۔۔ بلکہ ہنس کر بولا ۔۔۔۔ کیا خیال ہے میڈم ۔۔۔ اب کرسی پر بیٹھا جائے؟ بھائی کی بات سن کر فوزیہ باجی نے ایک لمحے کے لیئے سوچا ۔۔۔۔اور پھر شبی کی طرف قہر بھری نظروں سے دیکھتی ہوئی کرسی پر بیٹھ گئی۔۔۔۔۔



جیسے ہی باجی کرسی پر بیٹھی ۔۔۔۔ تو شبی نے دوبارہ سے اپنی ٹانگوں کو لمبا کیا اور سامنے پڑے میز پر رکھ دیا ۔۔۔ پھر باجی سے مخاطب ہو کر کہنے لگا۔۔۔۔ آپ نے میری ٹانگوں کو جہاں سے اُٹھا کر اس میز پر رکھا تھا ۔۔اب انہیں دوبارہ وہیں پر رکھ دو۔۔۔۔ اس کی بات سن کر فوزیہ باجی نے بڑے غصے سے اس کی طرف دیکھا ۔۔۔اور پھر شبی کی ٹانگیں اپنی گود میں رکھ لیں۔۔۔۔ اس کے بعد شبی بولا۔۔۔۔ باجی آپ سے ایک درخواست ہے کہ غصے والے پوز دینا چھوڑ دیں۔۔۔اور اب میری دائیں ٹانگ کو پکڑ کر۔۔۔۔ اپنی دونوں ٹانگوں کے درمیان والی جگہ پر رکھ دیں ۔۔۔۔اور فوزیہ باجی نے ایسے ہی کیا ۔۔۔ پھر بھائی فوزیہ باجی سے کہنے لگا۔۔۔۔ اب میرے پاؤں کے انگھوٹھے کو پکڑ کر اپنی ۔۔۔۔ پھدی پر رگڑو۔۔۔۔ بھائی کی یہ بات سن کر فوزیہ باجی کہنے لگی ۔۔ شبی دیکھو تم حد سے آگے بڑھ رہے ہو۔۔تو بھائی جواب دیتے ہوئے بولا۔۔۔نو نو ۔۔۔ میڈم ابھی تو شروعات ہوئی ہے۔۔۔ اور آپ ابھی سے حد کی بات کر رہی ہو۔۔۔ پھر بولا ۔۔۔ جو آپ سے کہا گیا ہے وہ کرو پلیززززززز۔۔۔۔ اور پھر میرے دیکھتے ہی دیکھتے فوزیہ باجی نے بھائی کا انگھوٹھا پکڑا ۔۔۔اور اپنی چوت پر پھیرنے لگی۔۔۔

کچھ دیر بعد بھائی بولا۔۔۔۔ ہوں ۔۔ باجی آپ اتنی دیر سے میرا انگھوٹھا اپنی پھدی پر رگڑ رہی ہو ۔۔۔۔۔لیکن ۔۔۔ آپ کی پھدی ابھی تک گیلی کیوں نہیں ہوئی؟۔۔شبی کی بات کا فوزیہ باجی نے کوئی جواب نہیں دیا۔۔۔۔ بس اس کی طرف دیکھتے ہوئے اپنی چوت پر اس کا انگھوٹھا رگڑتی رہی ۔۔ تھوڑی دیر بعد ۔۔۔ شبی کہنے لگا ۔۔مزہ نہیں آ رہا باجی۔۔۔۔ اب ایسا کریں کہ اپنی شلوار کا نالہ کھولیں ۔۔۔ شبی کی بات سن کر فوزیہ باجی بڑے ہی سخت لہجے میں کہنے لگیں ۔۔۔۔ کیا بک رہے ہوشبی۔۔۔ اس پر شبی ان سے بھی اونچی آواز میں بولا۔۔۔ جیسا کہا ہے کرو۔۔ شبی کی اونچی آواز سن کر باجی ایک دم گھبرا گئی۔۔۔اور کہنے لگی ۔۔تم آرام سے نہیں بول سکتےتھے۔۔صبو نے سن لیا تو؟اس پر شبی ایک شیطانی مسکراہٹ کے ساتھ بولا۔۔۔ آپ باجی کے سننے سے گھبرا رہی ہو ۔۔۔ سوچو ۔۔۔ جب آپ کی آواز آپ کی ساری سٹوڈنٹ۔۔۔اور آس پڑوس کے لوگ ۔۔۔اور فیملی والے سنیں گے تو کیا ہو گا؟؟؟؟؟؟؟۔۔۔ بھائی کی بات سن کر فوزیہ باجی کی رہی سہی اکڑ بھی ختم ہو گئی۔۔۔اور وہ بڑے ہی التجائیہ لہجے میں شبی سے کہنے لگی۔۔۔۔ ایسا نہیں کرنا پلیززززز ۔۔۔ورنہ میں تو مر جاؤں گی ۔۔۔اس پر شبی کہنے لگا۔۔۔آپ چاہتی ہو نا کہ میں ایسا نہ کروں ؟ تو جیسا میں کہہ رہا ہوں ویسا ویسا کرتی جائیں اب چلیں شاباش ۔۔۔ اپنی شلوار کا نالہ کھولیں ۔۔۔اس پر فوزیہ باجی کہنے لگیں میں نالہ نہیں پہنتی۔۔۔ تو شبی بولا یہ تو اور بھی اچھی بات ہے چلیں اب اپنی شلوار اتار یں۔۔۔ شبی کی بات سن کر فوزیہ باجی نے بغیر حیلہ و حجت کے اپنی شلوار گھٹنوں تک اتار دی۔۔۔ یہ دیکھ کر شبی کہنے لگا۔۔۔۔۔ پوری شلوار کیوں نہیں اتاری۔۔۔ تو وہ بولی۔۔۔ صبو نہ آ جائے اس لیئے۔۔۔ اور پھر اس نے شبی کا دائیں پاؤں پکڑ کے اپنی ننگی چوت پر رکھ دیا۔۔۔۔اور اسے ہولے ہولے رگڑنے لگی۔۔۔۔ تھوڑی دیر بعد شبی کی آواز گونجی ہو کہہ رہا تھا ۔۔۔ باجی تیری چوت گرم ہونا شروع ہو گئی ہے۔۔۔ اس لیئے اب میرے انگھوٹھے کو اپنی چوت کے اندر لے جا۔۔۔ شبی کی بات سن کر فوزیہ باجی تھوڑا سا آگے کو کھسکی ۔۔۔۔اور پھر اپنی ٹانگیں مزید کھو ل کر شبی کے انگھوٹھے کو اپنی چوت میں لے گئی۔۔۔ اب شبی بولا۔۔۔۔ باجی میرا انگھوٹھا کہاں ہے ۔۔۔تو فوزیہ باجی پھنسی پھنسی آواز میں بولی۔۔ جہاں تم نے کہا تھا۔۔۔ تو شبی کہنے لگا ۔۔۔ نہیں جگہ بتاؤ۔۔۔۔ تو فوزیہ باجی ہولے سے بولی۔۔۔ میری چوت میں ہے۔۔۔ تو شبی کہنے لگا۔۔۔ اپنی پھدی میں میرا انگھوٹھا لیکر مزہ آ رہا ہے۔۔ تو فوزیہ باجی نے ہاں میں سر ہلا دیا۔۔۔ پھر شبی کہنے لگا۔۔۔۔ اب میرے انگھوٹھے کو تھوڑا اور آگے لے جاؤ۔۔ اور اس کو اپنی پھدی میں لے کر آگے پیچھے کرو ۔۔۔ جیسے کہ تمہارے اندر لن گیا ہو۔۔۔۔


شبی کی بات سن کر فوزیہ باجی تھوڑا اوپر کو اُٹھی ۔۔۔ اور بھائی کے انگھوٹھےکو اپنی پھدی میں ایڈجسٹ کرتے ہوئے بولی۔۔۔۔اس طرح تو تمہارے پاؤں کا سارا پنجہ اندر چلا جائے گا ۔۔۔تو بھائی کہنے لگا۔۔۔۔ جانے دو۔۔۔ اور پھر میں نے دیکھا کہ فوزیہ باجی نےایک اپنا ایک پاؤں ز مین پر رکھا اور دوسرے کو کرسی پر رکھے رکھے ہاتھ سے بھائی کے پاؤں کا انگھوٹھا ۔۔۔اپنی پھدی کے درمیان میں رکھا۔۔۔ اور اس پر اوپر نیچے ہونے لگی۔۔۔۔ دور سے مجھے باجی کی پھدی تو نظر نہ آ رہی تھی ۔۔ لیکن وہ جس حساب سے بھائی کے انگھوٹھے پر اُٹھک بیٹھک کر رہی تھی اس سے مجھے اچھی طرح اندازہ ہو گیا کہ فوزیہ باجی واقعی ہی ایک چداکڑ عورت تھی۔۔۔۔



کچھ دیر اوپر نیچے ہونے کےبعد فوزیہ باجی بھائی سے کہنے لگی ۔۔۔اب میں کرسی پر بیٹھ جاؤں؟ تو بھائی کہنے لگا وہ کیوں؟ تو وہ بولی۔۔۔صبو نہ آ جائے۔۔۔ یہ سن کر بھائی بولا۔۔۔ ٹھیک ہے آپ نیچے اتر آؤ۔۔۔ اور فوزیہ باجی نے بھائی کا انگھوٹھا اپنی چوت سے نکالا اور اس کے پاؤں کو ایک طرف کر کے دوبارہ سے کرسی پر بیٹھ گئی۔جیسے ہی فوزیہ باجی نے بھائی کا انگھوٹھا اپنی چوت سے نکالا تو میں روشنی میں میں دیکھا کہ بھائی کا انگھوٹھا فوزیہ باجی کی چوت کے پانی سے چمک رہا تھا۔ بھائی نے بھی اپنے انگھوٹھے کی طرف دیکھا اور فوزیہ باجی سے بولا۔۔۔ چوت میں گرمی آ گئی ہے تو فوزیہ باجی نے ہاں میں سر ہلا دیا ۔۔۔ اس کے ساتھ ہی بھائی نے کھڑکی کی طرف دیکھتے ہوئے ایک بار پھر مخصوص انداز میں اپنے سر پر ہاتھ پھیرا ۔۔۔۔ جسے دیکھ کر میں نے کھڑکی چھوڑی اور باہر سے ایسے ہی گانا گاتی ہوئی دروزہ تک آگئی مقصد یہ تھا کہ وہ لوگ ہوشیار ہو جائیں۔۔۔پھر تھوڑا رک کر میں اندر کمرے میں داخل ہوئی تو دیکھا کہ شبی کتاب پر جھکا پڑھ رہا تھا اور باجی سامنے کرسی پر بیٹھی تھی۔۔۔ چنانچہ حسبِ معمول میں بڑے خوش گو ار موڈ میں فوزیہ باجی سے بولی۔۔۔۔ باجی بچہ کیسا جا رہا ہے؟ تو باجی نے بجائے جواب دینے کی بجائے سر ہلا دیا ۔۔۔ اور پھر میں باجی کے ساتھ ہی دوسری کرسی پر بیٹھ گئی۔۔۔۔ کچھ دیر بعد اچانک ہی شبی نے کتاب سے اپنا سر اُٹھایا اور میری طرف دیکھتے ہوئے کہنے لگا۔۔۔ باجی مجھے یاد نہیں رہا ۔۔ کل کمیٹی والی باجی آئیں تھیں۔۔۔ بھائی کا اتنا کہنا تھا کہ میں نے ایک دم چونکنے کی اداکاری کرتے ہوئے کہا۔۔۔ ارے ہاں ۔۔ مجھے یاد آ گیا ۔۔۔۔ پھر میں فوزیہ باجی کی طرف متوجہ ہوئی اور ان سے کہنے لگی۔۔۔ باجی۔۔۔۔اجازت ہو تو میں کچھ دیر میں آتی ہوں۔۔۔ تو باجی کے بولنے سے پہلے ہی شبی کہنے لگا۔۔۔ ۔۔۔ ٹھیک ہے باجی آپ جاؤ۔۔ تو میں نے شبی کو ڈانٹ کر کہا۔۔ میں تم سے نہیں ۔۔ بلکہ فوزیہ باجی سے پوچھ رہی ہوں۔۔۔اس پر فوزیہ باجی نے ایک پھیکی سی مسکراہٹ بولی۔۔۔ کوئی بات نہیں تم ہو آؤ۔۔۔ اور پھر میں نےشبی کو کہا شبی زرا دروازے کو کنڈی لگا لو۔۔۔ تو شبی کاہلی سے بولا۔۔۔آپ خود ہی باہر سے کنڈی لگا لینا ۔۔۔ کیونکہ میں اس وقت پڑھ رہا ہوں۔۔۔



یہ سن کر میں نے ڈرامہ کرتے ہوئے اس سے کہا کہ بڑے ہڈ حرام ہو تم۔۔۔اور پھر باہر نکل گئی پھر دروازے پر جا کر میں نے کنڈی کی آواز پیدا کی اور ۔۔۔ واپس چلتی ہوئی کھڑکی کے پاس آ گئی۔
اندر جھانک کر دیکھا تو فوزیہ باجی کرسی پر بیٹھی شبی کی طرف دیکھ رہی تھی۔۔ تب شبی ان سے کہنے لگا۔۔۔ایک بات تو بتاؤ باجی ۔۔۔ آپ ہر فون سیکس میں اپنے آپ کو یہ کیوں کہتی تھیں کہ میں (bitch) "بچ " ہوں ۔۔ مجھے اس کا مطلب بتاؤ گی پروفیسر صاحبہ؟ اس پر فوزیہ باجی نے بھائی کی طرف دیکھا اور کہنے لگی اب میں تمہیں اس کا مطلب کیا سمجھاؤں ۔۔۔ ویسے بچ کتیا کو کہتے ہیں ۔۔۔ اس کے ساتھ ہی بھائی نے پاس پڑا فون اُٹھایا اور سپیکر آن کر دیا ۔۔ا سی لمحے شہوت میں ڈوبی ہوئی فوزیہ باجی کی آواز گونجی۔۔۔۔ وہ کہہ رہی تھی۔۔۔میری جان میں تمہاری بچ ہوں۔۔۔فوراً ہی بھائی نے فون کو پاز کیا ۔۔۔اور فوزیہ باجی کی طرف دیکھتے ہوئے کہنے لگا۔۔ چلو پروفیسر۔۔ میری کتیا بن جاؤ ۔۔ ۔۔۔ بھائی کی بات سن کر فوزیہ باجی بلا چوں و چرا کیے کرسی سے اُٹھی اور زمین پر کتیا کی طرح چل کر بھائی کی طرف بڑھنے لگی ۔۔۔یہ دیکھتے ہی بھائی نے دوبارہ سے فون آن کیا ۔۔۔ اب فوزیہ باجی کہہ رہی تھی ۔۔۔ میں سارے کپڑے اتار کے تمہارے پاس آؤں گی۔۔۔فوراً ہی بھائی نے فون کو پاز پہ کر دیا اور کہنے لگا ۔۔۔فوزیہ باجی کپڑے اتار کے میرے پاس آؤ۔۔۔ یہ سنتے ہی فوزیہ باجی اوپر اُٹھی اور فوراً ہی اپنے سارے کپڑوں کو اتار دیا۔۔اور پھر ننگی ہو کر اسی سٹائل میں بھائی کی جانب بڑھنے لگی۔۔اور میں نے دیکھا کہ ننگی فوزیہ کی بڑ ی بڑی چھاتیاں اس کے سینے پر جھول رہی تھیں ۔۔۔۔ ۔۔اور وہ ہولے ہولے چل رہی تھی۔۔ جیسے ہی فوزیہ باجی بھائی کے قریب پہنچی۔۔۔ بھائی نے دوبارہ سے پاس پڑا ہوا فون اُٹھایا اور ۔۔۔ اسے اَن پاز کر دیا۔۔۔ کمرے میں ایک بار پھر فوزیہ کی آواز آواز گونجی ۔۔۔۔ وہ کہہ رہی تھی۔۔۔میں تمہارے پاس آ کر سب سے پہلے میں تم کو اپنی موٹی گانڈ کے درشن کرواؤں گی۔۔۔۔۔ ۔۔۔ جسے دیکھ کر تم حیران رہ جاؤ گے۔۔۔۔ فوزیہ باجی کو یہ آواز سنا کر بھائی نے پھر سے اسے پاز کیا اور اس سے پہلے کہ بھائی کچھ کہتا فوزیہ باجی ایک دم گھومی اور ۔۔بھائی کے سامنے اپنی گانڈ کر دی۔۔۔۔واؤ۔۔۔ فوزیہ باجی کی ‘H” شیپ والی مربع شکل کی گانڈ تھی جو اس کے جسم پر بہت دلکش لگ رہی تھی اور مجھے معلوم تھا کہ شبی تو باجی کی گانڈ کا پہلے سے ہی دیوانہ تھا اس لیئے۔۔۔ جیسے ہی باجی نے اپنی ایچ شیپ کی گانڈ کو بھائی کے سامنے کیا۔۔۔ اسے دیکھ کر بھائی تو پاگل ہو گیا ۔۔۔اور بے اختیار اس نے اس پر ہاتھ پھیرنا شروع کر دیا۔۔۔ پھر پتہ نہیں اس کے دل میں کیا آئی کہ اس نے باجی کی گانڈ پر تھپڑ مارنے شروع کر دیئے۔۔اور ساتھ ساتھ یہ بھی کہتا جاتا بہن چود ۔۔۔ ما در چود فوزیہ تیری گانڈ واقعی ہی بڑی فٹ ہے


۔۔۔ادھر دوسری طرف بھائی کے ہر تھپڑ پر باجی کے منہ سے آواز نکلتی ۔۔۔ہائے۔۔۔اوئی۔۔۔۔۔ اور وہ اپنی گانڈ کو مزید بھائی کی طرف کرتی جاتی تھی۔۔۔ کافی سارے تھپڑ مارنے کے بعد جب بھائی نے باجی کی گانڈ پر تھپڑ مارنے بند کردیئے تو اچانک ہی فوزیہ نے اپنا منہ پیچھے کی طرف کیا اور شہوت بھری آواز میں بولی۔۔۔۔میری بنڈ نوں کُٹ۔۔۔( میری گانڈ کو مارو) ۔۔۔ تو بھائی کہنے لگا ۔۔۔ ضرور کٹاں گا پر اجے نہیں ( ضرور ماروں گا پر ابھی نہیں ) اور پھر باجی سے بولا ۔۔۔ بہن چود اپنے دونوں پہاڑیوں کو الگ الگ کرکے اب مجھے اپنی موری کے درشن کراؤ۔۔۔۔۔۔ بھائی کی بات سن کر فوزیہ نے جلدی سے اپنے دونوں ہاتھ پیچھے کیئے اور اپنی انگلیوں کی مدد سے اپنی بڑی سی بنڈ کی دونوں پہاڑیوں کو الگ الگ کر کے بھائی کی سامنے ہلے لگی۔۔۔ بھائی کے ساتھ ساتھ میں بھی دیکھا کہ باجی کی دونوں پہاڑیوں کے بیچ میں ایک بڑا سا سوراخ تھا ۔۔ جسے دیکھ کر بھائی اپنا منہ اس کے قریب لے گیا اور اس پر تھوک کر بولا۔۔۔ا یتھے لن پانا اے( یہاں لن ڈالنا ہے)۔۔۔ اور اس کے ساتھ ہی اس نے اپنی ایک انگلی باجی کو موری میں ڈال دی ۔۔اور بولا۔۔۔ بہن چودے تیری بنڈ بڑی کُھُلی اے۔۔۔کہڑے کہڑے یار نوں دیندی رہیں ایں؟ ( بہن چود تیری گانڈ بہت کھلی ہے کس کس یار سے مروائی ہے؟ ) اور پھر اس کے ساتھ ہی بھائی نے اپنی انگلی کو فوزیہ باجی کی گانڈ میں ان آؤٹ کرنا شروع کر دیا۔۔۔ یہ دیکھ کر فوزیہ باجی نے اچانک اپنا منہ پیچھے کی طرف کیا اور کہنے لگی۔۔۔۔ انگلی نا کم نئیں چلنا ۔۔اپنا لُل نوں پا۔۔۔ ما ں چودا۔۔۔۔۔ ( انگلی سے کام نہیں چلے گا اپنے لن کو ڈالو ۔۔۔۔ مادر چود) باجی کے منہ سے گالی سنتے ہی بھائی نے اپنی انگلی اس کی گانڈ سے نکالی۔۔۔اور اسے کھڑے ہونے کاحکم دیا۔۔۔۔ اور اس کے ساتھ ہی اس نے پاس پڑے ہوئے فون کی طرف جیسے ہی ہاتھ بڑھایا ۔۔۔ باجی نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا ۔۔اور اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہنے لگی۔۔۔۔سنانے کی ضرورت نہیں مجھے سب یاد ہے۔۔۔اور پھر اس کے ساتھ ہی اس نے اپنی چھاتیوں کو ہاتھ میں پکڑا ۔۔۔اور بھائی کے منہ سے لگا کر بولی۔۔۔۔اپنی گانڈ د کھانے کے بعد ہمیشہ ہی میں تم سے اپنے نپلز کو چسواتی ہوں نا۔۔۔ بھائی نے ہاں میں سر ہلا اور ۔۔۔ ساتھ ہی فوزیہ کے نپلز چوسنے لگا۔۔۔ کچھ دیر بعد ۔۔۔ فوزیہ باجی نے بھائی کے منہ سے ایک نپل ہٹایا اور بولی۔۔۔۔ اس کے بعد میں تم اپنی پھدی دکھاتی ہوں نا ۔۔۔اور اس کے ساتھ ہی۔۔۔ فوزیہ باجی اپنی ایک ٹانگ بھائی کی کرسی پر رکھی اور اپنی ننگی پھدی کو بھائی کے سامنے کر دیا ۔۔۔



اور بھائی کی طرح میں نے بھی فوزیہ باجی کی پھدی کی طرف دیکھا تو وہ خاصی کالی تھی۔۔۔ لیکن بہت ابھری ہوئی تھی ۔۔اس پر بالوں کو نام و نشان بھی نہ تھا ۔۔ بھائی نے اپنا ہاتھ بڑھا کر اس کی چوت اند ر کی طرف سے چیک کیا تو دیکھا کہ ہونٹوں کی طرح باجی کی چوت کے لب بھی خاصے موٹے اور باہر کو لٹکے ہوئے تھ ے بلکہ ایک دانے کے پاس والے ایریا میں تو فوزیہ کی پھدی کی پھدی کے لب۔۔۔ چیتھڑوں کی شکل میں لٹکے ہوئے تھے۔۔۔ یہ دیکھ کر بھائی نے اس کے دانے کو اپنی انگلیوں میں لیا اور کہنے لگا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بہن چودے ۔۔۔ تیری پھدی دے تے پھڑکے لتھے ہوئے نے۔۔کنی والی مروائی آ؟ ( بہن چود تمھاری چوت کے چیتھڑے لٹک رہے ہیں کتنی دفعہ پھدی مروائی ہے) تو فوزیہ باجی مستی میں بولی بہت دفعہ مروائی ہے اور آج تم سے مروانے لگی ہوں اس کے ساتھ ہی اس نے بھائی کے سر کو پکڑ کر اپنی چوت کی طرف دبایا ۔۔۔ پھر کہنے لگی۔۔۔ بولو میری پھدی مارو گے نا۔۔۔اور پھر کہنے لگی ۔۔۔۔ لیکن اس سے پہلے میری چوت کے پانی کو چیک کرو کہ کس قدر ذائقے دار ہے۔۔۔۔۔۔ پھر کہنے لگی۔۔۔۔میری پھدی کو چاٹ کے تم کنواری کڑی کی چوت کو بھول جاؤ گے۔۔۔ فوزیہ کی بات سن کر بھائی نے اس کی چوت سے منہ ہٹایا اور اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہنے لگا۔۔۔۔۔تم بھی تو کنواری ہو نا بہن چود۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس پر فوزیہ بولی۔۔۔۔ ہاں زمانے کی نظر میں ۔۔۔۔ میں کنواری ہوں لیکن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور بات پوری کیئے بغیر اس نے ایک گرم سانس بھری اور کہنے لگی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہو چوس۔س۔سس۔س۔۔۔۔ فوزیہ کی چوت چوسنے کے کچھ دیر بعد۔۔۔۔۔ فوزیہ نے بھائی کے منہ کو اپنے سے ہٹایا اور بولی ۔۔۔۔۔۔ چل ہن اپنا لن وخا ( چلو اب اپنا لن دکھاؤ)



فوزیہ کی بات سن کر بھائی اپنی کرسی سے اُٹھا ۔۔ اور جلدی سے شلوار اتار کر فوزیہ باجی کے سامنے کھڑا ہو گیا۔۔ جیسے ہی باجی کی نظر بھائی کے جوان لن پر پڑی ۔۔۔تو اس کی آنکھوں میں ستائیش جھلک پڑی اور وہ لن کو اپنے ہاتھ میں لیکر کر اسے سہلاتے ہوئے کہنے لگی۔۔۔۔۔ واہ ۔۔ اہیہ تو بہت وڈا اے( واؤ ۔۔ یہ تو بہت بڑا ہے ) اور پھر بھائی کی طرف دیکھتے ہوئے بولی۔۔۔۔ چوپاں (چوسوں ) تو بھائی کہنے لگا ۔۔۔ ہا ں بہن چود ۔۔چوپ ۔۔۔ یہ سن کر فوزیہ باجی نے اپنی زبان نکالی اور بھائی کے تنے ہوئے لن پر پھیر کر بولی۔۔۔۔ تیرا لن بڑے مزے دا اے ( تمہارا لن بہت مزے کا ہے) اپنے دونوں ہونٹ جوڑے اور بھائی کے لن پر رکھ کر آہستہ آہستہ اسے اپنے منہ کے اندر لے گئی۔۔۔۔اور پھر دور سے میں نے دیکھا کہ فوزیہ باجی کا منہ بھائی کے لن پر ۔۔۔تیزی سے اوپر نیچے ہو رہا تھا ۔۔۔۔



فوزیہ کچھ دیر تک بھائی کا لن چوستی رہی پھر وہ کھڑی ہو گئی اور کہنے لگی۔۔۔۔ تمہارے لن کو منہ سے باہر نکالنے پر دل تو نہیں کر رہا تھا ۔۔۔لیکن۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اب بس۔۔۔اور اس کے ساتھ ہی فوزیہ باجی نے سامنے پڑے ہوئے میز پر اپنے دونوں ہاتھ رکھ دیئے ۔۔۔ یہ دیکھ کر بھائی شرارت سے بولا۔۔۔۔ کی کراں ؟؟؟؟ ( کیا کروں ؟) تو بھائی کی بات سن کر فوزیہ باجی اپنا منہ پیچھے کر کے بولی۔۔۔۔۔۔۔ جو تمہارا جی کرتا ہے کرو ۔۔۔ چاہو تو پنے لن کو پہلے چوت میں ڈال لو۔۔۔۔۔ اور چاہو تو لن کو پہلے ۔۔۔۔۔ گانڈ میں ڈال دو۔۔۔۔ یہ تمہاری مرضی ہے ۔۔۔ ۔۔۔۔لیکن یہ بات سن کر کہ تم کو میری گانڈ اور چوت دونوں مارنی ہوں گی۔۔۔۔


فوزیہ باجی کی بات سن کر بھائی اس کے پیچھے آ کر کھڑا ہو گیا اور پھر اس کی ڈائیریکش کو میری طرف کرتے ہوئے اس نے فوزیہ کی گانڈ پر کافی سارا تھوک لگایا ۔۔۔۔ اور پھر اپنے لن کو بھی تھوک سے تر کر دیا ۔۔اور پھر۔۔اس کے ساتھ ہی ۔۔۔اس نے لن باجی کی گانڈ کی موری پر رکھا اور د ھکا لگا دیا۔۔۔۔اس کے ساتھ ہی بھائی کا لن پھلستا ہوا ۔۔۔ جڑ تک فوزیہ باجی کی گانڈ میں چلا گیا۔۔۔۔ جیسے ہی بھائی کا لن فوزیہ کی گانڈ میں داخل ہوا ۔۔۔ اس نے اپنا منہ پیچھے کیا اور کہنے لگی۔۔۔۔مینوں پہلے ای پتہ سی۔۔۔۔کہ ۔۔۔ پہلاں توں میری بنڈ ہی ماریں گا ( مجھے معلوم تھا کہ پہلے تم گانڈ ہی مارو گے۔۔۔) اور اس کے ساتھ ہی مستی کے عالم میں فوزیہ باجی نے اپنی گانڈ کو خود بخود آگے پیچھے کرنا شروع کر دیا۔۔۔۔۔پھر کچھ دیر بعد اس نے شبی کی طرف مُڑ کر دیکھا اور کہنے لگی ۔۔۔ میری بُنڈ تے چنڈاں مار( میری گانڈ پر تھپڑ مارو) فوزیہ کی بات سن کر شبی نے اس کی بڑی سی گانڈ پر تھپڑو ن کی برسات شروع کر دی اور ہر تھپڑ پر فوزیہ کہ منہ سے نکلتا ۔۔اوئی۔۔۔ ہائے ۔۔۔ اور مارو۔۔ اس طرح کچھ دیر تک فوزیہ باجی بھائی سے اپنی۔۔ گانڈ مرواتی رہی پھر۔۔ اچانک ہی اس نے اپنی گانڈ سے بھائی کا لن نکالا اور ۔۔۔ کہنے لگی چل ہن میری پھدی مار ( اب میری چوت مارو) اور اس کے ساتھ ہی اس نے بھائی کو اشارہ کیا اور بھائی میری طرف منہ کر کے میز پر لیٹ گیا۔۔۔ اس وقت بھائی کا لن اپنے پورے جوبن پر اُوپر کی طرف ہوا میں اُٹھا ہوا تھا ۔۔۔اور بھائی کے لن کو کھڑا دیکھ کر میری چوت میں مرچیں سی لگنا شروع ہو گیئں ۔۔۔


اور میری چوت بھی بھائی کے لن کے لیئے فریاد کرنا شروع ہو گئی ۔۔ لیکن میں نے اسے لفٹ نہیں کرائی ۔۔۔اور اندر کا نظارہ دیکھنے لگی ۔۔ اور میں نے دیکھا کہ فوزیہ باجی ا پنی دونوں ٹانگوں کو مزید چوڑا کر کے بھائی کے لن کے اوپر کھڑی ہو چکی تھی ۔۔ اور پھر اس نے لن کا نشانہ لیتے ہوئے اپنی پھدی کو بھائی کے لن پر رکھ اور ۔۔۔ دھیرے دھیرے اس پر بیٹھنے لگی۔۔۔۔اور کچھ ہی دیر میں وہ بھائی کے لن کو جڑ تک اپنی پھدی لے چکی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔اور پھر اس کے ساتھ ہی اس نے بھائی کے لن پر اُٹھک بیٹھک شروع کردی ۔۔۔اور میں بھائی کے خوبصورت اور جوان لن کو فویہ باجی کی چیتھڑے بھرے پھدی میں ان آؤٹ ہوتے ہوئے دیکھتی رہی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور پھر کچھ ہی دیر بعد میں نے دیکھا کہ میرا بھائی بھی نیچے سے اُٹھ اُٹھ کر فوزیہ باجی کی چوت میں گھسے مار رہا تھا ۔۔۔۔ بھائی کے اس سٹائل کو دیکھتے ہی میں سمجھ گئی کہ ا ب وہ جانے والا ہے۔۔۔۔ میری طرح تجربہ کار فوزیہ نے بھی یہ بات محسوس کر لی تھی چنانچہ یہ بات محسوس کرتے ہی فوزیہ باجی بھائی کے لن سے اُٹھی اور زمین پر اکڑوں بیٹھ گئی۔۔۔۔ اور بھائی سے کہنے لگی۔۔۔۔۔۔۔جلدی سے فون سیکس کا آخری سین بھی مکمل کر لو۔۔۔ فوزیہ کی بات سن کر بھائی نے میز پر سے جمپ ماری ۔۔۔۔۔۔اور اپنے لن کو فوزیہ کے منہ کی طرف کرتے ہوئے مُٹھ مارنے لگا۔۔۔۔جبکہ دوسری طرف فوزیہ باجی اپنے منہ سے زبان نکالے بھائی کے چھوٹنے کی منتظر تھی۔۔۔ اور پھر چند ہی سیکنڈ کے بعد بھائی کے منہ سے سسکی سی نکلی اور ۔۔۔ پھر ۔۔۔۔اوہ ۔۔۔اوہ۔۔۔ کی آواز سے بھائی کے لن نے منی اگلنا شروع کر دی۔۔۔۔ بھائی نے اپنے لن کی ایسی ڈائیریکشن رکھی ہوئی تھی کہ۔۔۔۔ اس کے لن منی نکل کر سیدھی فوزیہ باجی کی زبان پر جمع ہوتی جا رہی تھی۔۔۔ اور جیسے ہی فوزیہ باجی کی زبان بھائی کی منی سے بھر گئی اس نے ایک بڑا سا گھونٹ بھرا ۔۔۔ اور ۔۔۔۔ بھائی کی ساری منی کو اپنے حلق سے اتار لیا۔۔اور اس کے ساتھ ہی بھائی کے لن کو اپنے ہاتھ میں پکڑا ۔۔اور اسے منہ میں لے جا کر باقی ماندہ منی کو بھی چوس چوس کر پینی لگی۔۔۔۔ اتنا دلکش منظر دیکھ کر میں نے بے اختیار اپنی چوت پر ہاتھ مارا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تو ۔۔۔ وہ بھی پانی سے بھری ہوئی تھی ۔۔۔۔ ایسا لگ رہا تھا کہ بھائی نے فوزیہ کو نہیں بلکہ مجھے چودا ہے۔

Post a Comment

0Comments
Post a Comment (0)