۔ماریہ جیسے ہی کچن میں داخل ہوئی تو اسے حیرت کا شدید جھٹکا لگا کیونکہ اس کے سامنے اس کی ماںنے جس طرح کا لباس پہنا ہوا وہ یقینا جسم کو چھپانے کے لئے نہیں بلکہ دعوت نظارہ دینے کے لئے تھا ۔۔۔ طاہرہ کا سفید رنگ کا لباس بہت ہی باریک تھا اور اس قدر ٹائٹ تھا اس کے جسم کے ساتھ چپکا ہوا تھا ۔۔۔ اور گلا اتنا کھلا تھا کہ اوپر سے وہ مموں کی لکیر کافی حد تک نظر آ رہیتھی ۔۔۔ ماریہ اچھی طرح جانتی تھی کہ اس کا چھوٹا بھائی اب بڑا ہو گیا تھا اور اب وہ کس نظر سے اپنے گھر کی عورتوں کو دیکھتا تھا ۔۔۔ اور طاہرہ تو پھر ماں تھی ماریہ کو پورا یقین تھا کہ اس کی ماں کو اچھی طرح یہ بات معلوم ہے کہ اس کے بیٹے کی نظر کیسی ہے آخر کار ماؤں کو اپنے بچوں کی حرکت کا علم ہوتا ہے ۔۔۔ مگر پھربھی اسے اپنی ماں کا اس طرح کا لباس پہننا بہت عجیب لگا ۔۔۔ ایک لمحے کے لیے اس نے سوچا کہ کہیں اس کی ماں نے جان بوجھ کے لباس نہ پہنا ہو اپنے بیٹے کو اپنا جسم دکھانے کے لئے جیسے کہ ابھی کچھ دیر پہلے وہ خود کر رہی تھی اس لیے وہ سمجھتی تھی ۔۔۔ مگر اگلے ہی لمحے اس نے اپنے دماغ سے اس خیال کو جھٹک دیا کہ نہیں ایکماں اپنے بیٹے کے ساتھ ایسا کیسے کر سکتی ہے ۔۔۔ مگر ایک بات تو ماریہ کو سو فیصد یقین کے ساتھ پتا تھی کہ آج کا دن آصف کے لئے بہت حسین گزرنے والا ہے ۔۔۔۔۔ماریہ کچن میں جاکر اپنی ماں کے ساتھ ناشتہ بنانے میں ان کی مدد کرنے لگی ۔۔۔ مگر اس کے ذہن میں مسلسل اپنے چھوٹے بھائی کی وہ نظر سے گھوم رہی تھی ۔۔۔ اسے ایک دم صبح سے اپنا آپ خوبصورت لگنے لگا تھا ۔۔۔ پہلی بار کسی لڑکے نے اس نظر سے اسے دیکھا تھا ۔۔۔ وہ اسکا بھائی تھا مگر اسے ویسے بھی انسیسٹ کا شوق تھا ۔۔۔ ناشتہ بنانے ک بعد جب باہر برتن رکھنے کی باری آئی تو ماریہ جان کر آصف کے سامنے جھکتی اور اسے اپنے گورے اور موٹے نرم ملائم ممے دکھاتی ۔۔۔ اسے بہت مزہ آ رہا تھا اس طرح اپنے بھائی کو چھیڑنا ۔۔۔ اور اپنے آپ کو یہی تسلی دے رہی تھی کہ معمولی شرارت ہی تو ہے کونسا کوئی غلط کام کر رہی ہے ۔۔۔ مگر دوسری طرف آصف کا برا حال تھا ۔۔۔ کیوں کہ کچھ دیر ماریہ کے بعد اب اس کی ماں بھی سامان رکھنے کے ساتھ ساتھ اس سامنے جھک رہی تھی اور اپنی ماں اور اپنی بہن کے خوبصورت ممے دیکھ کر آصف کا برا حال تھا ۔۔۔۔۔وہ تینوں کھانے کی ٹیبل پر ناشتہ کرنے کے لئے بیٹھ گئے ۔۔۔ ماریا کن اکھیوں سے اپنے بھائی کودیکھ رہی تھی جو کہ کبھی اپنی ماں کے مموں کی طرف دیکھتا تو کبھی اپنی بہن کی طرف ۔۔۔ ناشتہ کرنے کے بعد طاہرہ اٹھی اور برتن سمیٹنے لگی جبکہ آصف کی نظریں اپنی ماں کے کھلے گلے میں سے جھانکتے ہوے مموں پر تھی ۔۔۔ ماریہ نے سری صورت حال کو جانچنا شروع کر دیا ۔۔۔ اسکا چھوٹا بھائی اپنی ماں کو شہوت کی نظر سے دیکھ رہا تھا جبکہ اسکی ماں جھک کر اپنے بیٹھے کو نظارے کروا رہی تھی ۔۔۔ ماریہ کا شک یقین میں بدل گیا جب سامان اٹھاتے ہوے اسکی ماں نے اپنے بیٹے کی طرف دیکھا اور اسے اپنے مموں کیطرف شہوت کی نظر سے دیکھتے ہوے پایا مگر اپناجسم چھپانے یا اپنے بیٹے کو سمجھانے کے بجائے ماریہ کو اپنی ماں کے چہرے پر ایک اطمینان بھری مسکراہٹ نظر آئی ۔۔۔۔۔انسیسٹ کی دیوانی ماریہ کو یہ بات تھوڑی عجیب لگی مگر اسکے ساتھ ساتھ ماں بیٹے کی مشترکہ شہوت اسے گرم کرنے لگی ۔۔۔ ماریہ اور آصف بہن بھائی ہونے کے ساتھ ساتھ اچھے دوست بھی تھے ۔۔۔ ماریہ نے یہ سب دیکھ کر فیصلہ کر لیا کہ وہ ضرور اپنے بھائی سے اس بارے میں بات کرے گی ۔۔۔ جبکہ آصف کی صبح سے ہی حالت نازک تھی۔۔۔ اس سے مزید برداشت نہیں ہو رہا تھا ۔۔۔ وہ سیدھا اپنے کمرے کی طرف گیا اور باتھ روم میں جا کر اپنی ماں اور اپنی بہن کے نام کی مٹھ لگانے لگا ۔۔۔ ابھی صرف صبح بھی مشکل سے گزری تھی اور آصف مٹھ لگا چکا تھا ۔۔۔ اب آگے سارا دن گزرنا تھا ۔۔۔ دوسری طرف طاہرہ کو اپنا پلان کامیاب ہوتا نظر آ رہا تھا ۔۔۔ جس نظر سے اسکا بیٹا اسکو دیکھ رہا تھا اور جتنی تیزی سے وہ اٹھ کر کمرے میں گیا ۔۔۔ طاہرہ کو یقین تھا کہ وہ بہت جلد اپنے بیٹے سے چدوانے میں کامیاب ہو جائے گی ۔۔۔ اور ابھی سے ہی طاہرہ اپنے بیٹے کے بڑے اور موٹے لنکا سوچ سوچ کر گرم ہو رہی تھی ۔۔۔۔۔آصف اپنی ماں اور آپی کے نام کی مٹھ لگانے کے بعد کمرے میں ہی بیٹھا رہا ۔۔۔ باہر جو نظارے تھے آصف نہیں چاہتا تھا کے اسکا لن پھر سے مٹھ کے لئے بے تاب ہو ۔۔۔ اس لئے اس نے امی کے موبائل پے گیم لگا لی اور ٹائم پاس کرنے لگا ۔۔۔ ماریہ بے چین تھی کہ آخر کس طرح وہ اپنے بھائی سے بات کرے ۔۔۔ کچھ دیر بعد ماریہ اپنی ماںکے کمرے میں جانے لگی تو اسے سامنے بیڈ پر آصف موبائل پر گیم کھیلتے ہوے نظر آیا ۔۔۔ اسکے ذہن میں ایک دم ایک آئیڈیا آیا ۔۔۔ وہ سیدھا اپنے کمرے میں گئی اور اپنے موبائل سے اپنی ماں کے نمبر پر واٹس ایپ مسج کیا ۔۔۔۔۔ماریہ : ” آصف ۔۔۔ “۔آصف تھوڑا حیران ہوا کہ آخر اسکی آپی اسکو میسج پہ کیوں بات کر رہی ہے ۔۔۔ مگر اس نے رپلائے کیا ۔۔۔۔آصف : ” جی آپی ۔۔۔ “۔ماریہ : ” آصف مجھے تم سے ایک بات کرنی ہے ۔۔۔ “۔آصف : ” جی آپی بتائیں ۔۔۔ “۔ماریہ : ” دیکھو ہم دونوں دوست ہیں نا ۔۔۔ اس لئے میری بات کا برا نا منانا ۔۔۔ اور وعدہ کرو سچ سچ بتاؤگے ۔۔۔ “۔آصف کی گانڈ پھٹنے لگی ۔۔۔ اسے ڈر تھا کہ کہیںاسکی آپی اسکی گندی نظر سے ناراض نا ہو گئی ہوں۔۔۔ اور اگر امی کو بتا دیا تو ۔۔۔ ؟؟؟ مگر اس نے ڈرتے ڈرتے جواب لکھا ۔۔۔۔آصف : ” جی جی آپی ۔۔۔ پوچھیں جو پوچھنا ہے ۔۔۔ “۔آصف اگلے میسج کا انتظار کر رہا تھا ۔۔۔ اسکے دل کی دھڑکن بہت تیز ہو رہی تھی ۔۔۔ اور اسکا دڑ سہی ثابت ہوا ۔۔۔۔ماریہ : ” دیکھو میں کچھ دنوں سے دیکھ رہی ہوں کہ تم بری نظر سے مجھے اور امی کو دیکھتے ہو ۔۔۔ جب بھی ہم کوئی چیز اٹھانے یا رکھنے کے لئے جھکیں تم ہمارے قمیض کے اندر جھانکتے ہو۔۔۔ دیکھو میں سمجھ سکتی ہوں تم بڑے ہو رہے ہو ۔۔۔ بہت سے سوال اور خواہشیں ہوں گی دل میں ۔۔۔ مگر امی کو پتا چلا کہ انکا بیٹا انھیں گندی نظر سے دیکھتا ہے تو انھیں کتنا دکھ ہوگا تم نے سوچا ہے ۔۔۔ “۔آصف اتنا لمبا میسج پڑھ کر ڈرنے لگا مگر ایک دم اسکے ذہن میں ایک سوال آیا اور اسنے ڈرتے ڈرتے میسج لکھنا شروع کیا ۔۔۔..آصف : ” آپی مجھے معاف کر دیں ۔۔۔ میرا اپنے اپر قابو نہیں تھا ۔۔۔ اور اوپر سے آپ دونوں ہیں ہی اتنی خوبصورت کہ مجھ سے رہا نہیں گیا ۔۔۔ آپ نے کہا سچ بولنا تو میں نے بول دیا ۔۔۔ مگر مجھے بھی آپ سے سوال پوچھنا ہے ۔۔۔ “۔ماریہ ” پوچھو ۔۔۔ “۔آصف : ” آپ نے کہا امی کو پتا چلا تو انھیں برا لگے گا مگر آپ نے اپنے بارے میں نہیں بتایا ۔۔۔؟؟؟ “۔ماریہ میسج پڑھ کر مسکرائی اور سوچا بچہ کافی تیزہے ۔۔۔ اس نے سہی دکھتی رگ پے ہاتھ رکھا ہے ۔۔۔ماریہ نے بھی سچ بولنے کا فیصلہ کیا مگر وہ بات گھما پھرا کے نہیں کرنا چاہتی تھی ۔۔۔ اس نے اپنی ماں کی نظروں میں دیکھ لیا تھا کہ انھیں کیا چاہیے کیوں کہ وہ خود بھی ایک عورت ذات تھی اور سمجھ سکتی تھی اپنی ماں کی شہوت کو ۔۔۔ اور اس بات نے اسے مزید گرم کر دیا تھا ۔۔۔ اسے اور دیکھنا تھا ۔۔۔ یہ بات تو طے تھی کہ ان دونوں کے دماغ پے شہوت سوار تھی ۔۔۔ بس ماریہ کو جلتی پہ تیل ڈالنا تھا ۔۔۔ اور بیٹھ کر ہاتھ سیکنے تھے ۔۔۔۔ماریہ : ” دیکھو میں تو تمہاری دوست ہوں نا ۔۔۔ اس لئے ہمیں ایک دوسرے سے کچھ چھپانے کی ضرورتنہیں ہے ۔۔۔ تمہیں امی اچھی لگتی ہیں نا ۔۔۔ سچ سچ بتانا ۔۔۔ “۔آصف : ” ہاں اچھی ہیں امی تو اچھی لگیں گی نا ۔۔۔”۔آصف بات کو گھومانا چاہتا تھا ۔۔۔ مگر ماریہ بھی سب سمجھتی تھی ۔۔۔۔ماریہ : ” میرا مطلب دوسری نظر سے بھی اچھی لگتی ہیں نا ۔۔۔؟؟؟ “۔آصف : ” دوسری نظر سے مطلب ۔۔۔؟؟؟ “۔آصف اچھی طرح جانتا تھا اسکی بہن کیا پوچھ رہی ہے ۔۔۔ مگر اس میں ہمت نہیں تھی سچ بولنے کی اس لئے وہ معصوم بننے کی اداکاری کرنے لگا ۔۔۔جبکہ دوسری طرح ماریہ تنگ آ گئی اسکی ڈرامہ بازی سے اور کھل کر بولنے کا فیصلہ کیا ۔۔۔۔ماریہ : ” زیادہ معصوم نا بنو ۔۔۔ میں جانتی ہوں تم اتنے بھی بچھے نہیں ہو ۔۔۔ اگر سمجھ نہیں آ رہی توصاف لفظوں میں پوچھتی ہوں ۔۔۔ تمہیں امی سیکسی لگتی ہیں نا ۔۔۔ ؟؟؟ “۔آصف کو یقین نہیں آ رہا تھا اسکی بہن اس سے اتنا کھل کے بات کر سکتی ہے ۔۔۔ وہ ڈر رہا تھا مگر پھر اس نے سوچا اگر اسکی بہن کو کوئی شرم نہیں آ رہی تو وہ بھی کھل کر بات کرے گا۔۔۔۔آصف : ” آپی آپ اور امی دونوں دنیا کی سب سے خوبصورت اور سیکسی لڑکیاں ہو ۔۔۔ “۔ماریہ : ” زیادہ مکھن نا لگاؤ میں نے صرف امی کا پوچھا تھا ۔۔۔ اور ویسے لگتی واقعی امی لڑکی ہی ہیں ۔۔۔ “۔آصف : ” آپ بھی کم نہیں ہیں کسی سے ۔۔۔ “۔ماریہ : ” اچھا یہ بتاؤ اگر موقع ملے تو کیا کرو گے امی کے ساتھ ۔۔۔ ؟؟؟ “۔آصف : ” جو دل میں آے گا ۔۔۔ “۔ماریہ : ” اور اگر میں تمہاری مدد کروں تو ۔۔۔ ؟؟؟ “۔آصف کو یقین نہیں آ رہا تھا کہ اسکی بہن اسکو مدد کرنے کی آفر کر رہی تھی وہ بھی ماں بیٹے کو پاس لانے کے لئے ۔۔۔ مگر وہ انکار نہیں کر سکتا تھا کیوں کہ صوبہ سے وہ جس نظر سے دیکھ رہا تھا اب اس سے صبر کرنا مشکل لگ رہا تھا ۔۔۔۔آصف : ” آپی اگر میرا یہ کام کر دیں تو جو کہیں گی آپکے لئے کروں گا ۔۔۔ پلیز پلیز پلیز آپی ۔۔۔ “۔ماریہ کے چہرے پر ایک مسکراہٹ تھی ۔۔۔ جبکہ اپنی بہن کی مدد سے اپنی ماں کو چودنے کا سوچ کر آصف کا لن اکڑ چکا تھا ۔۔۔ ماریہ نے کوئی جواب دینے کے بجاے موبائل رکھا اور اپنی ماں کے کمرے کی طرف چل پڑی ۔۔۔ اس نے ایک نظر کچن کی طرف ڈالی جہاں اسکی ماں کپڑے دھونے میں مصروف تھی اور سیدھا امی کے کمرے میں گھس گئی جہاں اسکا چھوٹا بھائی اپنا لن اکڑائے جواب کا انتظار کر رہا تھا ۔۔۔۔۔آصف نے اپنی بہن کو کمرے میں آتا دیکھا تو پھرسے ڈر گیا ۔۔۔ میسج پہ بات کرنا اور بات تھی مگر حقیقت میں اسے پسینے آنے لگے ۔۔۔ ماریہ سیدھا آ کر اسکے ساتھ بیڈ پہ بیٹھ گئی اور بولی ۔۔۔۔۔ماریہ : ” اپنا وعدہ یاد رکھنا ۔۔۔ وقت آنے پر میں جو چاہوں تمہیں کرنا پڑے گا ۔۔۔ اچھا دکھاؤ پہلے سب کچھ تیار تو ہے نا ۔۔۔ “۔۔یہ کہہ کر ماریہ نے آصف کے اوپر سے ایک جھٹکے سے چادر ہٹائی اور نیچے سے اسکا لن اکڑ کر سامنےآ گیا ۔۔۔ آصف کو اندازہ ہی نہیں ہوا تھا کہ کب وہ میسج کرتے کرتے اپنے لن کو نکال کر ہلانے لگا تھا ۔۔۔ ماریہ کے سامنے جیسے ہی اپنے چھوٹے بھائی کا لن آیا اسکی حیرت سے بولتی بند ہو گئی ۔۔۔ اسے لگا جیسے وہ پورن فلم دیکھ رہی ہو ۔۔۔ آصف کا سخت اکڑا ہوا لن اسکے سامنے لہرا رہا تھا ۔۔۔ اسے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا ۔۔۔ بہت مشکل سے اس نے اپنی زبان ہلانا شروع کی اور بولی ۔۔۔۔۔ماریہ : ” مجھے نہیں پتا تھا تم نے یہ باہر نکالا ہوا ہو گا ۔۔۔ وہ ۔۔۔۔ ام ۔۔۔۔ میں ۔۔۔ میں کہہ رہی تھی کہ دیکھوں صرف کہ تم بال صاف کرتے ہوکہ نہیں ۔۔۔ تم ۔۔۔ آ آ ۔۔۔ تم نے صاف کے ہوے ۔۔۔ گڈ ۔۔۔اچھا اسکو اندر کرو اور میرے ساتھ آؤ کچن میں ۔۔۔ “۔۔آصف کو اندازہ ہوگیا تھا کہ اسکی بہن کو اسکا لنپسند آگیا تھا ۔۔۔ مگر اس نے کچھ بولنے کے بجاے چپ چاپ لن اندر کیا اور اسکے پیچھے پیچھے چل پڑا ۔۔۔ کچن میں انکی ماں برتن دھونے کے بعد کافی تھکی ہوئی لگ رہی تھی اور کچن کی صفائی کرنے میں مصروف تھی ۔۔۔ ماریہ نے آصف کو ایک طرف کرسی پر بیٹھنے کا اشارہ کیا اور خود اپنی ماں کے پاس جا کر بولی ۔۔۔۔۔ماریہ : ” امی آپ صبح سے کام کر رہی ہیں کافی تھک گئی ہوں گی ۔۔۔ چھوڑیں مجھے دیں صفائی میں کر دیتی ہوں آپ یہاں بیٹھیں ۔۔۔ “۔یہ کہہ کر ماریہ نے اپنی ماں کو کرسی پر بٹھایا اور آصف سے بولی ۔۔۔۔ماریہ : ” کام چور سارا دن بیٹھے رہتے ہو دیکھو توامی کام کرکے تھک گئی ہوں گی چلو ادھر آو امی کے کندھے دبا دو ۔۔۔ “۔طاہرہ : ” ارے بھائی خیریت تو ہے آج بڑی خدمت ہو رہی ہے ماں کی ۔۔۔ “۔ماریہ : ” ارے امی آپ ہمارے کام کرتی ہیں تو ہم نے سوچا کیوں نہ آپ کو بھی تھوڑا سا آرام دیں ۔۔۔ آپ کی خوشی اور آپ کے سکون سے بڑھ کر ہمارے لئے کچھ بھی نہیں ہے ۔۔۔ “۔۔آصف چلتا ہوا اپنی ماں کے پیچھے پہنچ چکا تھا ۔۔۔ اس نے جیسے ہی اپنی ماں کے کندھوں پر ہاتھ رکھا تو طاہرہ کے جسم نے ایک جھرجھری سی لی اور اس نے ایک دم سے آنکھیں بند کیں اور کرسیکے ساتھ ٹیک لگا لی ۔۔۔ جیسے ہی طاہرہ نے کرسی کے ساتھ ٹیک لگائی تو اس کے ممے مزید اوپر کو اٹھ گئے ۔۔۔ آصف نے اپنی ماں کے اوپر کھڑے ہوے جب اسکے گلے میں جھانکا تو اسکے لن نے ایک جھٹکا کھایا ۔۔۔ اسکی ماں کے ممے آدھے سے زیادہ ننگے اسکے سامنے تھے ۔۔۔ جبکہ دوسری طرفاسکی ماں کافی دنوں سے اپنے بیٹے کے لن کے لئےبے تاب تھی ۔۔۔ جیسے ہی آصف کے ہاتھوں نے طاہرہ کو چھوا تو طاہرہ کی آنکھوں کے سامنے اسکے بیٹے کا موٹا اور تگڑا لن لہرانے لگا ۔۔۔ طاہرہ اپنی آنکھیں بند کر کے خود پر قابو کرنے کی کوشش کر رہی تھی مگر اسکی بے چینی نمایاں تھی ۔۔۔ ماریہ اپنی ماں کے ابھرتے جذبات کو محسوس کر سکتی تھی ۔۔۔ طاہرہ اپنا نچلا ہونٹ بار بار کاٹ رہی تھی اور اپنے دونوں ہاتھوں کو اپس میں مسلتے ہوے خود پر قابو کرنے کی نا کام کوشش میں مصروف تھی ۔۔۔۔۔ماریہ ماں بیٹے کی ایک دوسرے کے لئے شہوت دیکھ کر گرم ہونے لگی ۔۔۔ اس نے بات مزید آگے بڑھانے کا سوچا اور آصف کو ہاتھ مزید نیچے کی طرف لے جانے کا اشارہ کیا ۔۔۔ آصف جو خود بڑی مشکل سے خود پر قابو کے ہوئے تھا اپنی بہن کی طرف سےاشارہ ملتے ہی اپنی ماں کے کندھے کا مساج کرتے ہوے ہاتھ نیچے کی طرف کرتا گیا یہاں تک کہ اسکے ہاتھ اپنی ماں کے مموں کے اوپری حصے کو چھونے لگے
:.آصف کی انگلیوں نے جیسے ہی اپنی امی کے مموں کےاوپری حصے کو چھوا تو اس کا لن اس کی ٹراوزر میں ایک دم اکڑ کر سخت ہونے لگا ۔۔۔ وہ ڈرتے ڈرتے ہی صرف اوپری حصے تک ہی ہاتھ لے جاتا اور چھو کر واپس کندھوں کی طرف آ جاتا ۔۔۔ طاہرہ جو کافی دنوں سے اپنے بیٹے کی شہوت میں گرفتار تھی اپنے بیٹے کے اس طرح چھونے سے ایک بار پھر شدید گرم ہونے لگی ۔۔۔ اس کی آنکھیں بند تھیں اور وہ اپنے ہاتھوں کو ایک دوسرے سے مسل کر اپنے اوپر قابوکرنے کی ناکام کوشش کر رہی تھی ۔۔۔ آصف کے ہاتھ جیسے ہی اپنی ماں کے کندھوں سے ہوتے ہوئے اس کے گلے کی طرف آتے اور اس کے ممے کے اوپری حصے کو چھوتے تو طاہرہ کے جسم کو ایک ہلکا ساجھٹکا لگتا ہے اور مزے کی شدید لہر اور شہوت اسکے جسم میں دوڑ جاتی ۔۔۔ طاہرہ کو اپنے بیٹے کا اس طرح چھونا اس قدر سرور مزہ دے رہا تھا کہ اسے محسوس ہوا کہ اس کی پھدی ہلکی ہلکی گیلی ہونےلگی ہے ۔۔۔ جبکہ کچن میں ماریا صفائی کرتے ہوئے بار بار مڑ کر اپنے بھائی اور اپنی ماں کی شہوت کو ابلتے ہوئے دیکھ سکتی تھی ۔۔۔۔۔ماریہ کو پورا یقین تھا کہ اس کی ماں کی کچن میںاس کی موجودگی کی وجہ سے اپنے اوپر قابو کرنے کیکوشش کر رہی ہے مگر وہ دیکھنا چاہتی تھی کہ اگر وہ اس وقت موجود نہ ہو تو اس کی ماں کیا کرے گی ۔۔۔ ماریا نے اپنے بھائی کو اشارے میں اپنا پلان سمجھایا اور اونچی آواز میں بولی ۔۔۔۔ماریہ : ” امی میں ذرا چھت سے کپڑے اتار کر آتی ہوں ہوا چل رہی ہے کہیں اڑ ہی نہ جائیں ۔۔۔ کچن کی صفائی میں بعد میں کر دوں گی ۔۔۔ “۔طاہرہ جو اپنے بیٹے کے چھونے سے اس وقت مکمل طور پر شہوت میں ڈوبی ہوئی تھی کچھ بھی نہبھول پائی بس اپنا سر اثبات میں ہلا کر اجازت دی ۔۔۔ ماریا کیچن سے نکلتے ہوئے ایک بار پھر آصف کو کوئی اشارہ کر کے چھت پر جانے کے بجائے گھر کی پچھلی سائیڈ سے گھوم کر کچن کی اس کھڑکی کے پاس آ گئی جو کہ چولہے کے پاس تھی اور ہمیشہ کھلی ہی رہتی تھی ۔۔۔ طاہرہ کا چہرہ کچن کے دروازے کی طرف تھا جبکہ چولہا اور کھڑکی اس کی دائیں طرف تھی ۔۔۔ ماریا جیسے ہی کھڑکی پر آئی تو آصف نے مڑ کر اسے دیکھا اور ماریا نے اسے ایک بار پھر اشارہ کیا ۔۔۔ آصف اپنی بہن کا اشارہ سمجھ گیا تھا اور وہ اشارہ تھا ایک قدم آگے بڑھنے کا ۔۔۔۔۔آصف اب کی بار کندھوں کو دباتے ہوئے جب گلے کی طرف آیا تو صرف اوپری حصے کو چھونے کے بجائے ہاتھ مزید نیچے لے گیا اور تقریبا اوپر سے آدھے ممے تک اپنی انگلیاں پھیر کر واپس کندھے کی طرف آ گیا ۔۔۔ جبکہ دوسری طرف طاہرہ جو اب سمجھ رہی تھی کہ وہ اپنے بیٹے کے ساتھ کچن میں اکیلی ہے اپنے اوپر زبردستی قابو کرنے کی کوشش ترک کر چکی تھی ۔۔۔ جیسے ہی اس نے اپنے بیٹے کے ہاتھوں کو اپنے مموں کے اوپر محسوس کیا اس کی شہوت نے ایک اس قدر شدید کروٹ لی کہ اس کا اپنے اوپر کنٹرول نہ رہا اور اس کے ہاتھ آہستہ آہستہ اس کے پیٹ سے ہوتے ہوئے اس کی ٹانگوں کے درمیان جانے لگے ۔۔۔ آصف اس کے پیچھے کھڑا تھا اس لیے طاہرہ کو لگا کے وہ ضرور اس کے ہاتھوں سے اوجھل ہے اس لیے اس نے اپنا ایک ہاتھ اپنی گود میں ہی رکھا جبکہ دوسرا ہاتھ اپنی ٹانگوں کے درمیان میں لے جا کر جیسے ہی اپنی پھدی پر رکھا تو اس کی شلوار شدید گیلی ہو چکی تھی اور اس کے جسم نے ایک جھرجھری سی لی جسے اس کے بیٹے نے بھی محسوس کر لیا ۔۔۔ آصف ایک لمحے کو آگے کی طرف جھک کر اپنے ماں کے مموںکا نظارہ کرنے لگا جب اسے احساس ہوا کہ اس کی ماں کا ایک ہاتھ اپنی ٹانگوں کے درمیان میں حرکت کر رہا ہے ۔۔۔۔۔آصف نے حیرت سے مڑ کر کھڑکی کی طرف اپنی بہن کی طرف دیکھا جو اسے ہی دیکھ کر مسکرا رہی تھی کیونکہ وہ بھی دیکھ چکی تھی کہ اس کی ماں کی شہوت اس قدر بڑھ چکی ہے کہ اس کا اپنے اوپر کنٹرول نہیں رہا اور وہ اپنے بیٹے سے اپنےکندھے دباتے ہوئے اپنی پھدی رگڑ رہی ہے ۔۔۔ ماریہ یہ سب کچھ دیکھ کر خود بھی اس قدر گرم ہو گئی کہ اس کا ہاتھ بھی اس کی پھدی پر جاکر حرکت کرنے لگا ۔۔۔ ماریا نے اپنے چھوٹے بھائی کو ایک بار پھر سے اشارہ کیا اور یہ اشارہ ایک بار پھر ایک قدم آگے بڑھنے کا تھا ۔۔۔ آصف جو کہ اس وقت مکمل طور پر اپنی ماں کی شہوت میں گرفتار تھا اب اس کے دل سے ہر طرح کا خوف نکل چکا تھا کہ وہ جانتا تھا کہ اس کی ماں بھی اس وقت شہوت میں ڈوبی ہے ۔۔۔ اس نے اپنی بہن کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے ایک قدم آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا ۔۔۔۔۔طاہرہ شہوت میں ڈوب کر مکمل طور پر اپنا کنٹرول کھو چکی تھی اور بہت تیزی سے اپنی ٹانگوں کے درمیان میں اپنے ہاتھ کو ہلا رہی تھی ۔۔۔ طاہرہ اس قدر گرم ہو چکی تھی کہ اس کا دل کر رہا تھا کہ ابھی اس کا بیٹا اس کے قمیض کے اندر ہاتھ گھسائے اور اس کے مموں کو پکڑ کر رگڑ کر رکھ دے ۔۔۔ آصف بھی اب رکنے والا نہیں تھا اس نے بھی فیصلہ کرلیا تھا کہ اور کچھ نہیں تو آج تو وہ اپنی ماں کے مموں کو چھو کر ہی رہے گا ۔۔۔ اب کی بار آصف کندھوں کو دباتے ہوئے جب نیچے کی طرف آیا تو اس نے نہ رکنے کا فیصلہ کیا اور اپنے ہاتھ نیچے لے جاتے ہوئے اپنی ماں کے مموں پر رگڑتے ہوئے اس کی قمیض کے اندر گھسا دئیے ۔۔۔۔۔آصف نے آہستہ آہستہ اپنے ماں کی قمیض کے اندر اپنےدونوں ہاتھ گھسائے اور بہت آرام سے اور پیار سے اپنی ماں کے مموں کو اپنے دونوں ہاتھوں میں لے کر ہلکا سا دبا دیا ۔۔۔ طاہرہ کے ممے کافی بڑے تھے جوکہ آصف کے ہاتھوں میں آنے سے قاصر تھے مگر پھر بھی جس طرح اس کے ہاتھوں میں اپنی ماں کے ممے آئے اس نے پیار سے دبانا اور اپنی ماں کے نپلز کو اپنی انگلیوں کے درمیان میں مسلنا شروع کردیا ۔۔۔ طاہرہ جو مکمل طور پر اپنی شہوت میں ڈوبی اپنے پھدی کو رگڑ رہی تھی اسے لگا جیسے اس کے دل کی خواہش پوری ہو گئی ہو اور بالآخر اس کا بیٹا اس کے مموں تک پہنچ ہی گیا ۔۔۔۔۔اپنے بیٹے کے ہاتھوں کو اپنے مموں پر محسوس کرتے ہی طاہرہ کی شہوت اس قدر بڑھ گئی کہ اس کا ہاتھ فل تیز رفتار کے ساتھ اس کی پھدی کو رگڑنے لگا اور اس کے جسم نے ہلکے ہلکے جھٹکے کھانا شروع کر دیے ۔۔۔ طاہرہ جو کل رات کو پلان بنا رہی تھی کہ کس طرح اپنے بیٹے کو پٹا کر اسسے چدوائے صبح کو اس کا بیٹا اس کے مموں کو رگڑ رہا تھا اور وہ اپنے بیٹے سے اپنے ممے مسلواتےہوئے پھدی کو رگڑ رہی تھی ۔۔۔ اسے لگا جیسے اسے کچھ کرنے کی ضرورت ہی نہیں پڑی اور اس کی قسمت اس کی خواہش کے مطابق چمک اٹھی ہے ۔۔۔۔۔طاہرہ اپنا آپ مکمل طور پر اپنے بیٹے کو سونپ چکیتھی ۔۔۔ اور اس کے پیچھے کھڑا آصف اپنی ماں کے مموں کو مکمل آزادی کے ساتھ مزے سے رگڑ رہا تھا ۔۔۔ جب کہ کھڑکی کے باہر کھڑی ماریا اپنے ماں اور اپنے بھائی کی شہوت بھری داستان اپنی آنکھوں کے سامنے رقم ہوتے دیکھ کر اپنی پھدی کو رگڑ کر خود بھی اپنی گرمی کم کرنے کی کوشش کر رہی تھی ۔۔۔ اپنی ماں کے ممے رگڑتے ہوئے آصف نیچے جھکا اور اپنے ہونٹ اپنی ماں کی گردن پر پیوست کر دئیے اور چومنے لگا ۔۔۔ جیسے ہی طاہرہ نے اپنی گردن پر اپنے بیٹے کے ہونٹ محسوس کیے تو وہ ایک دم جیسے پگھلنے ہی لگی ۔۔۔ کیونکہگردن پر چومنا ہمیشہ سے ہی اس کی کمزوری رہی تھی ۔۔۔ آصف اپنی ماں کے ممے دباتے ہوئے اس کی گردن کو فل محبت اور شہوت کے ساتھ چوم رہا تھا جب کہ طاہرہ فل مستی میں اپنی پھدی کر رگڑتے ہوئے فارغ ہونے لگی تھی ۔۔۔ جب کہ کھڑکی کے باہر کھڑی ماریا اپنی پھدی کو تیزیکے ساتھ رگڑتے ہوئے پہلے ہی فارغ ہو رہی تھی ۔۔۔ طاہرہ جیسے ہی فارغ ہونے کے قریب ہوئی اس کےجسم نے اس قدر شدید جھٹکے کھانے شروع کر دیے کہ آصف سمجھ گیا کہ اس کی ماں فارغ ہونے کے قریب ہے ۔۔۔ طاہرہ شہوت میں ڈوبی اپنا ایک ہاتھ اوپر لاکر آصف کے سر کو دبانے لگی ۔۔۔ آصف سمجھ گیا اور اس نے اپنی ماں کی گردن چومنے کی رفتار مزید تیز اور شدید کردی جبکہ بہت تیزی کے ساتھ وہ اپنیماں کے ممے بھی دبانے لگا ۔۔۔ طاہرہ مزے کی انتہا گہرائیوں میں ڈوبی ہوئی فارغ ہو رہی تھی اور اسے لگ رہا تھا جیسے وہ اپنی زندگی میں کبھی بھی اس قدر شدت کے ساتھ فارغ نہیں ہوئی ۔۔۔۔۔۔طاہرہ کی سانس پھول چکی تھی اور اس کے دل کی دھڑکن شدید تیز تھی ۔۔۔ طاہرہ نے بہت پیارسے اپنے ہاتھوں سے آصف کے ہاتھ پکڑ کر اپنے قمیض سے نکالے اور اٹھ کر اس کے سامنے کھڑی ہو گئی ۔۔۔ آصف کرسی کے پیچھے کھڑا تھا اسلیے اس کی ٹراوزر میں بنا ہوا تمبو اس کی ماں کو نظر نہ آیا ۔۔۔ مگر اس کے چہرے پر ایک سکون اور اطمینان تھا اور وہ اپنے بیٹے کو دیکھ کر مسکرا رہی تھی اور بولی ۔۔۔۔۔طاہرہ : ” تم تو بہت اچھے کندھے دباتے ہو بیٹا اگر مجھے پتا ہوتا تو میں پہلے بھی تم سے دبوا لیتی روز کام کرکے اتنا تھک جاتی ہوں ۔۔۔ اچھا اگر ماریا آئے تو اسے کہنا کہ کچن کی باقی کی صفائی بھی مکمل کر دے میں ذرا نہا کر آتی ہوں ۔۔۔”۔۔آصف حیران تھا کہ اس کی ماں اس طرح ردعمل دے رہی ہے جیسے ابھی ابھی کچھ ہوا ہی نہیں ۔۔۔ جبکہ حقیقت تو یہ تھی کہ ابھی کچھ دیر پہلے ایک لڑکا اپنی ماں کے ممے دبا تے ہوئے مزے لے رہا تھا جبکہ ایک ماں اپنے بیٹے کے ہاتھوں میں اپنے ممے دے کر اپنی پھدی کو رگڑ کر اپنی پھدی کا پانی نکال رہی تھی جبکہ یہ سب کچھ دیکھتے ہوئے باہر کھڑی ایک لڑکی اپنی ماں اور اپنے بھائی کی شہوت میں گرفتار ہو کر اپنی پھدی کا پانی نکال چکی تھی ۔۔۔ طاہرہ اسی طرح مسکراتے ہوئے کچن سے نکل گئی اور سیدھا اپنے کمرے میں جاکر نہانے کے لیے واش روم میں گھس گئی ۔۔۔۔۔ماریا اپنی ماں کو جاتا دیکھ کر سیدھا بھاگ کر کچن میں داخل ہوئی اور اپنے بھائی کو آ کر گلے سے لگا لیا ۔۔۔ اور اس کا گال چوم کر بولی ۔۔۔۔۔ماریہ : ” کیا بات ہے میرے پیارے بھائی کی آج تو تم نے مزا ہی کرا دیا ۔۔۔ پتہ ہے تم دونوں کو دیکھتے ہوئے میں خود بھی اس قدر گرم ہو گئی تھی کہ میں بھی فارغ ہو کر آئی ہوں ۔۔۔ اور میں نے تمہیں کہا تھا نہ میں تمہاری مدد کروں گی اور دیکھو کچھ ہی دیر میں میں نے تمہیں امی کے مموں تک پہنچا دیا ہے تم بھی کیا یاد کروگے اپنی بہن کے احسان ۔۔۔ “۔۔آصف : ” کس بات کا احسان یار تم نے تو مجھے مزید مشکل میں ڈال دیا ہے ۔۔۔ تم اور امی تو اپنے ہاتھوں کو رگڑ کر فارغ ہو چکے ہو میرا تو تمہیں احساس ہی نہیں ۔۔۔ دیکھو تو کیا حالت ہو رکھی ہے میری اب مجھے بتاؤ میں کہاں جاؤں ۔۔۔ “۔۔ماریا نے حیرت سے اپنی نظریں جھکا کر اپنے بھائی کے ٹروزر کی طرف دیکھا تو اسے حیرت ہوئی کیونکہ اس کے بھائی کا لن صبح کی نسبتمزید بڑا اور سخت اکڑا ہوا لگ رہا تھا ۔۔۔ ماریہ کو اپنے بھائی پر ترس آنے لگا مگر اس نے کچھ بولنے کے بجائے اپنے بھائی کو اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کیا اور کچن سے باہر نکل گئی ۔۔۔ باہرٹی وی لاؤنج میں جا کر اس نے آصف کو صوفے پر بیٹھنے کا اشارہ کیا اور خود اپنی ماں کے کمرے کا جائزہ لینے لگی ۔۔۔ جب اسے اس بات کا یقین ہو گیا کہ اس کی ماں نہانے میں مصروف ہے اور جلدی باہر نہیں نکلے گی تو وہ تسلی سے آ کر اپنے بھائی کے ساتھ ٹی وی لاؤنج میں صوفے پر بیٹھ گئی ۔۔۔ ماریہ کو ہمیشہ سے ہی کسی مرد کا لن اپنے ہاتھ میں لینے کی شدید خواہش تھی اور اس سے بھی بڑی خواہش یہ تھی کہ اگر وہ لن اس کے بھائی یا اس کے باپ کا ہوتا ۔۔۔ کیونکہ وہ ہمیشہ سے ہی انسیسٹ کی شوقین تھی اور آج اس کا یہ شوق کچھ حد تک پورا ہونے لگا تھا ۔۔۔۔۔ماریا نے صوفے پر بیٹھتے ہیں اپنے بھائی کا ٹروزر نیچے کھینچا اور اس کا لن ایک دم جھٹکا کھا کر باہر نکل کر لہرانے لگا ۔۔۔ آصف اپنی بہن کے سامنے بے حد شرمانے لگا ۔۔۔ ماریا نے اس کی اس شرم کو محسوس کر لیا ۔۔۔ وہ خود بھی محسوس کرنا چاہتی تھی کہ کیسا لگتا ہے جب ایک عورت کےممے کوئی مرد دباتا ہے تو ۔۔۔ اس لئے ماریا نے اپنی قمیض کا دامن آگے سے اوپر اٹھایا اور آصف کا ہاتھ پکڑ کے اپنی قمیض کے نیچے سے اندر گھسا دیا ۔۔۔ اس سمجھ گیا کہ اسے کیا کرنا ہے اور وہ اپنا ہاتھ اوپر لے جا کر سیدھا اپنی بہن کے ممے کو پکڑ کر دبانے لگا ۔۔۔ ماریہ کے ممے اس کی ماں کی نسبت کافی چھوٹے تھے مگر پھر بھی اتنے بڑے تھے کہ آصف کے ہاتھ میں آتے ہی آصف کے جسم میں مزے کی شدید لہر دوڑنے لگی اور وہ بہت محبت کے ساتھ اپنی بہن کے ممے کو دبانے لگا ۔۔۔۔۔ماریا کو بہت مزہ آنے لگا اور وہ مزے میں اپنے بھائی کے لن کو اپنے ہاتھ میں پکڑ کر اس کی مٹھ لگانے لگی ۔۔۔ ماریا گھر کے کام بہت کم ہی کرتی تھی اس وجہ سے اس کے ہاتھ بہت نرم اور ملائم تھے اور آصف کو اپنے لن کے اوپر اپنی بہن کے ہاتھ اس قدر مزہ دے رہے تھے کہ وہ کچھ ہی دیر میں فارغ ہونے لگا ۔۔۔ آصف کے لن سے نکلتی ہوئی منی کو دیکھ کر ماریا بہت حیران ہو رہی تھی ۔۔۔ جبکہ آصف اپنی بہن کے ممے کو دباتے ہوئے اپنی منی کا ایک ایک قطرہ اپنی بہن کے ہاتھوں میں ہی نکالے جا رہا تھا ۔۔۔۔۔جیسے ہی آصف فارغ ہوا تو ماریا نے ٹیبل سے ٹشو کر ساری منی اپنے ہاتھوں سے اور اپنے چھوٹے بھائی کے لن سے صاف کردی ۔۔۔ آصف شدید سرورکے عالم میں اپنی بہن کو دیکھتے ہوئے بولا ۔۔۔۔۔آصف : ” آپی آج تو مزہ ہی آگیا ۔۔۔ تھینک یو ۔۔۔ “۔۔ماریہ اپنے بھائی کی یہ بات سن کر مسکرانے لگی اور اسے اپنے چھوٹے بھائی کی معصومیت پر بہت پیار آنے لگا ۔۔۔ اس نے مسکرا کر اپنے بھائی کے گال کو چوما اور آنکھ مارتے ہوئے بولی۔۔۔۔۔ماریہ : ” ابھی تو صرف شروعات ہے میری جان آگے آگے دیکھ ہوتا ہے کیا ۔۔۔ “۔۔آصف ایک ہی دن میں اپنی ماں کے اور اپنی بڑی بہن کے مموں کو رگڑ چکا تھا ۔۔۔ اور اس کی بڑی بہن نے اس کے لن کی مٹھ بھی لگائی تھی ۔۔۔ اسے لگا کہ اگر ابھی یہ سب کچھ رک بھی جائے تب بھی وہ اسی مزے میں پوری زندگی گزار سکتا ہے مگر ماریا کی بات سن کر اس کی خوشی دوبالا ہوگئی کیونکہ اسے اب یقین ہو گیا تھا کہ اس کی بہن اب اس کی زندگی کو خوبصورت بنا کر ہی دم لے گی ۔۔۔ وہ اپنے ذہن میں یہ سوچنے لگا کے سب سے پہلے وہ کسے چودنے میں کامیاب ہوگا اپنی بڑی بہن کو یااپنی ماں کو ؟