ثانیہ کی آپ بیتی

Masoom Khan
0

 یہ تب کی بات ہے جب پاپا کا ٹرانسفر سکھر ہو گیا اور ممی بھی ان کے ساتھ ہی چلی گئی تھیں اور میرے گریجویشن کا سیکنڈ ایئر ہونے کی وجہ سے مجھے خالہ کے گھر چھوڑ دیا گیا تھا تاکہ میں گریجویشن کراچی یونیورسٹی سے ہی کمپلیٹ کر لوں۔ تب ہمارے کزن عمران نے مجھ سے کافی فلرٹ کیا اور مجھے اپنے پیار کے جال میں پھنسا لیا اور میں بھی اس کو پسند کرنے لگی تھی۔ تب عمران نے مجھے حاصل کرنے کی کافی کوششیں کیں اور کچھ مہینے تو یونہی نکل گئے لیکن آخر کار ایک دن اس نے موقع پاکر مجھے چود ہی ڈالا لیکن اس پہلی چدائی میں سارا قصور اس کا ہی نہیں بلکہ دراصل میں خود بھی بہک گئی تھی لہٰذا اسے روک نہیں پائی اور اس پہلی چدائی کے بعد اس نے مجھے کئی بار چودا لیکن گھر پر کسی نہ کسی کے موجود ہونے کی وجہ سے ہم لوگ ایک مہینے سے کچھ کر نہیں کر پا رہے تھے۔ آخر ایک روز اس نے مجھ سے کہا۔۔۔

ثانیہ! یہاں ہم لوگ کھل کے پیار نہیں کر سکتے ہیں کیونکہ ہمیں کسی نہ کسی کے آنے کا ڈر رہتا ہے۔ میں نے ایک جگہ کا انتظام کر کے رکھا ہے، جہاں کوئی نہیں آئے گا۔ تم کل دوپہر میں تیار ہو کے بس اسٹاپ پر ملنا، میں تم کو وہاں سے پک کر کے اس جگہ لے جاؤں گا۔

میں: لیکن کہاں عمران؟ باہر کوئی دیکھ لے گا تو اچّھا نہیں ہے، جو بھی ہے، جیسا بھی ہے، یہیں ٹھیک ہے۔

عمران: ارے ایک بار تم کھلی ہوا میں پیار کر کے تو دیکھو، بہت مزا آئے گا۔

مجھے ڈر تو لگ رہا تھا لیکن عمران کے بے حد اصرار پر اور اپنے دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر بادل نخواستہ اگلے روز میں تیار ہو کر عمران کے بتائے ہوئے ٹائم پر اس بس اسٹاپ پر پہنچ گئی۔ وہاں عمران پہلے سے موجود تھا۔ میں اس کی کار میں جا کر چپ چاپ بیٹھ گئی۔ وہ مجھے کار میں بٹھا کر کار شہر سے باہر لے جانے لگا۔ میں نے اس سے پوچھا کہ ہم جا کہاں رہے ہیں لیکن اس نے مجھے خاموش کروا دیا کہ دیکھتی جاؤ، ایسی محفوظ اور پر سکون جگہ ہے کہ ہم اطمینان سے انجوائے کریں گے۔

آخر اس نے کار ایک فارم ہاؤس کے اندر لے جا کر روک دی۔

میں: لیکن عمران یہ کیا جگہ ہے؟

عمران: تم پہلے یہاں نہیں آئی ہو۔ یہ میرے ایک دوست کا فارم ہاؤس ہے۔ چابی میرے فرینڈ کے پاس تھی۔

میں: مگر اس دوست سے تم نے کچھ کہا تو نہیں۔ اگر کہیں کوئی آ گیا تو۔

عمران: ارے یہاں کوئی آتا ہی نہیں ہے۔ اور ویسے بھی ابھی تو سب آفس میں ہوں گے۔ رات کو ہی واپس آئیں گے، میں نے بہانہ بنا کر دوست سے چابی لے لی ہے۔ یہاں پر ہم ہر طریقے سے پیار کریں گے۔ یہ کہہ کر عمران نے مجھے کسنگ کرنا شروع کر دیا اور وہیں کھلی فضا میں ہی آہستہ آہستہ میرے سارے کپڑے اتار کر مجھے ننگا کر دیا۔ اور پھر خود بھی ننگا ہوگیا۔ اس نے مجھے نیچے بٹھا دیا اور اپنے لنڈ کو میرے منہ میں دے دیا۔ میں اس کے لنڈ کو چوس چوس کے کھڑا کیا تو وہ مجھے گود میں اٹھا کے بیڈ روم میں لے گیا اور ابھی اس نے مجھے چودنا بھی شروع نہیں کیا تھا کہ اس فارم ہاؤس کا گیٹ کھلنے کی آواز آئی۔ میں ڈر گئی اور پوچھا۔

عمران، دروازہ بند تو کیا ہے نا؟

عمران: دروازہ بند ہے لیکن دوسری چابی میرے دوست کے پاس بھی ہے۔۔۔

اس سے پہلے کہ میں اس سے کچھ کہتی، بیڈ روم کا دروازہ کھلا اور عمران کے چار دوست کمرے میں داخل ہو گئے۔ ان میں سے رضوان اور سلیم کو تو میں نام سے جانتی تھی جب کہ دو لڑکے اور تھے جن کا نام میں نہیں جانتی تھی لیکن یہ معلوم تھا کہ وہ عمران کے دوست تھے۔ ان لوگوں کے اچانک آتے ہی میں کپڑے تک نہیں پہن پائی تھی شرم کے مارے نظریں نیچی کر کے فوراً بیڈ شیٹ کھینچ اپنے اوپر اوڑھ لی۔ وہ سب اندر آنے لگے تو میں نے عمران سے کہا۔

عمران! انہیں باہر جانے کو کہو پلیز۔۔۔ میں تب تک کپڑے پہن لیتی ہوں۔

عمران: ارے یار وہ صرف کمرے کے اندر آنے کے لئے نہیں آئے ہیں بلکہ اندر ڈالنے کے لئے آئے ہیں۔

یہ سب کر وہ چاروں ہنس پڑے اور میں خوف کے مارے تھر تھر کانپنے لگی۔ رضوان نے عمران سے کہا کہ تونے تو بہت ہی اچّھا پلان بنایا ہے یار اس کو چدوانے کا۔ پھر وہ سلیم سے کہنے لگا کہ میں جب بھی عمران کے گھر جاتا تھا اور اس کی کزن کو دیکھتا تھا، بس اس کو ادھر ہی چودنے کا دل کرتا لیکن ڈر تھا سالی کہیں شور نہ مچا دے۔ اس لئے میں نے عمران کے ساتھ مل کر اس کو چودنے کا پلان بنایا اور دو مہینے بعد کہیں جا کے یہ سالی ہاتھ آئی ہے۔ دیکھ تو اس کی چکنی گانڈ تو دیکھ۔ یہ کہتے ہوئے وہ بیڈ کے پاس آ گیا اور اچانک میری لپیٹی ہوئی بیڈ شیٹ میرے بدن پر سے کھینچ کر مجھے ننگی کرنے لگا۔ میں رونے لگی۔

عمران، یہ کیا ہو رہا ہے اور یہ کیا بول رہا ہے؟ یہ مذاق کر رہے ہیں نا!

عمران: نہیں یہ سچ کہہ رہا ہے اور مذاق نہیں کر رہا۔ تم بھی اب شرافت سے مان جاؤ اور انجوائے کرو بے بی۔

میں: تمھیں شرم نہیں آتی اس طرح اپنی بہن کو دوسرے لوگوں کے بیچ میں بے عزت کر رہے ہو۔

عمران: کیا بے عزتی یار! ارے یار تو لڑکی ہے۔۔۔ تیری چوت میں ایک لنڈ جائے یا دس کیا فرق پڑتا ہے۔۔۔ ویسے ہم سب دوست مل بانٹ کے کھاتے ہیں۔۔۔ یہ کہہ کر اس نے زبردستی میری چادر کھینچ لی اور مجھے سب کے بیچ میں ننگا کر دیا اور سلیم کی طرف اشارہ کر کے مجھ سے کہنے لگا کہ ثانیہ! تو تو میری کزن ہے۔۔۔ ہم لوگوں نے تو اس کے سامنے اس کی بہن کو اسی کمرے میں پورا پورا دن چودا ہے اور تو اور رضوان نے تو تیری چوت کے لئے پورے ایک ہفتے سلیمہ آنٹی کو چدوایا ہے مجھ سے۔

یہ سن کے مجھے ایک دم شاک سا لگا کہ کوئی بھائی اپنی بہن کو  دوستوں سے بھی چدوائے اور دوسری بات سن کر تو میں بیہوش سی ہو گئی کہ رضوان نے اپنی ماں سلیمہ آنٹی کو ہی چدوا ڈالا۔ ابھی میں سوچ ہی رہی تھی کہ آواز آئی۔۔۔

عمران: تجھے ہم لوگ ہر طرح سے مزا دیں گے اور تجھے بھی اگر کسی خاص پوزیشن میں چدوانا ہو تو بول ہم لوگ ویسے بھی کریں گے۔

یہ کہہ کے اس نے مجھے پلنگ پر دھکیل دیا اور اپنے دوستوں سے کہا کہ جسے جو کرنا ہے کرو۔۔۔

پھر کیا تھا۔۔۔ اس کے سب دوست مجھ پر ایسے ٹوٹ پڑے جیسے کوئی دس بارہ کتے کتیا کے پیچھے پڑتے ہیں۔۔۔ کوئی میرے بوبس پکڑ کے کھینچ رہا تھا تو کوئی میری گانڈ دبا رہا تھا اور کوئی اس میں انگلی ڈال رہا تھا اور ایک آگے بیٹھ کے میری چوت سونگھ رہا تھا۔

میں روہانسی ہوکر: خدا کے لیے مجھے چھوڑ دو۔

 لیکن وہ سب تو اکٹھے ہی میری جوانی کو لوٹنے کے لیے ہوئے تھے۔ میرے احتجاج کا کوئی اثر نہ ہوا

سلیم نے اپنا لنڈ میرے منہ کے سامنے کر کے چوسنے کو کہا۔ میں نے کہا کہ میں نے کبھی کسی کا لنڈ منہ میں نہیں لیا تو سب ہنسنے لگے اور بولے کہ منہ میں لے رنڈی سالی میں نے تھوڑا سا نہ نہ کیا تو سلیم کو اتنا غصہ آیا کہ اس نے ایک زوردار تھپڑ میرے گالوں پر ٹکا دیا ۔۔۔ میں اس کےتھپڑ کی تکلیف سے ایک طرف گری، جیسے ہی میں گری اس نے رضوان سے کہا، سالی کا منہ پکڑ کے رکھ، میں اس سالی کے منہ میں موتتا ہوں. یہ کہہ کر رضوان اور اس کے دو دوست جلدی سے آگے آئے۔ ایک نے میرے دونوں ہاتھ پکڑے اور دوسرے نے میری دونوں ٹانگیں اور رضوان نے میرے بال پکڑ کے میرا منہ کھولا، جیسے ہی میرا منہ کھلا سلیم میرے منہ پر موتنے لگا، اس کی دھار سیدھی میرے منہ کے اندر پڑنے لگی، میں جتنا ہلنے کی کوشش کرتی سب لوگ اتنا ہی ہنستے۔۔۔ میرے ہلنے کی وجہ سے پیشاب میری آنکھوں، کانوں اور ناک میں بھی گیا۔۔۔ میرا پورا گلا پیشاب کی وجہ سے جلنے لگا۔ ابھی اس کا موتنا ختم ہی ہوا تھا کہ عمران بھی اپنا لنڈ نکال کے میرے سامنے کھڑا ہو گیا۔

رضوان: ابے ایگریمنٹ کے حساب سے جب تک ہم لوگ تیری بہن کو نہ چود لیں تب تک تو کچھ نہیں کر سکتا۔

عمران: یار میں کچھ نہیں کر رہا، صرف اس پر موت رہا ہوں۔

اس وقت مجھے اپنی غلطی کا احساس ہورہا تھا کہ میں بری طرح پھنس چکی ہوں۔ عمران میرے اوپر خوب لنڈ ہلا ہلا کے موتتا رہا اس کے بعد ایک لڑکا بولنے لگا کہ یہ مادرچود سالی تو ایک دم گندی ہو گئی ہے اس کو نہلا کے پرفیوم لگا کے تیار کرو پھر مزا آئے گا۔ پھر رضوان نے مجھے گود میں اٹھایا اور زبردستی مجھ کو باتھ روم میں لے گیا اور مجھے موتنے کے لئے کہا۔ پہلی بار میں لڑکے لوگ کے سامنے موت رہی تھی اور سب لوگ غور رہے تھے۔ سب سے زیادہ مزا تو سلیم لے رہا تھا۔ میں موت کے جیسے کھڑی ہونے گئی رضوان کہیں سے ایک پائپ لے آیا۔ ایک لڑکے نے پائپ نل میں لگا کے مجھ پر پانی مارنے لگا۔ 3 سے 4 منٹ پانی مارنے کے بعد 

رضوان بولا: یہ رنڈی تو اندر سے گندی ہوگی اس لئے اس کو اندر سے بھی صاف کر دیتے ہیں۔

رضوان نے پائپ  پر ایک نوزل لگائی اور زبردستی میری گانڈ میں ڈال کے پانی چالو کر دیا میری گانڈ میں پانی جانے کی وجہ سے گدگدی بھی ہو ر ہی تھی اور درد بھی ہو رہا تھا۔

رضوان: اتنے مشکل سے ہاتھ ہاتھ لگی ہے اور تجھے جانے دے۔ آج تو تجھے ہم سب سے جی بھر کے چودنا ہے اسلئے تو تجھے اتنے اچّھی طرح سے صاف کر رہے ہیں۔

ثانیہ: تم لوگ جب کہو گے جیسا کہو گے میں کرونگی پر ابھی یہ پائپ نکل لو۔

تب سلیم نے پائپ نکل لیا پھر وہ سب اٹھا کر مجھے وارڈروب میں لے گئے اور میرے بدن کو تولیے سے صاف کرنے کے بعد میرے بوبس کے بیچ میں میرے چوت پر اور میری گانڈ پر لوشن لگایا   اس کے بعد عمران جیل کی بوتل لیا۔ سب نے اپنے اپنے لنڈ پر جیل لگائے۔ جیل لگانے کے بعد سب لوگ نے ایک ساتھ میرے اوپر چودنے کے لئے آگئے۔ رضوان بسٹر پر لیٹ گیا اور سلیم کو کہا کہ اس کو میرے لنڈ پر بٹھا بہت دیر سے سالی کو ننگی دیکھ کر ایک دم بےچین ہو گیا ہے۔ سب لڑکوں نے مجھے پکڑ کے اٹھایا اور مجھے اس کے لنڈ پر بٹھا دیا۔ دوران نے اپنے لنڈ کو میری گانڈ کی چنٹوں پر رکھ دیا اب اس کا لنڈ میری گانڈ میں جانے لگا میں نے اس دن تک کبھی گانڈ نہیں مروائی تھی۔

میں چیخنے لگی: میری گانڈ پھٹ جائے گی۔ نکالو اس کو میری چوت میں ڈال دو پر میری گانڈ مت مارو۔ اااااہ ااااااہ ااااہ ہوووو ہوووو اااااہ

  میرے چیخنے چلانے کا کسی پر کوئی اثر نہ ہوا اور تنا ہوئے لنڈ نے میری گانڈ کی چنٹوں کو چیر دیا۔ تکلیف سے میں نے ان کو ننگی ننگی گالیاں دینی شروع کر دیں

گالیاں سن کے سلیم کو بھی جوش آیا اس نے مجھے رضوان کے اوپر ہی لیٹا کے میری چوت میں اپنا لنڈ ڈال دیا اور چودنے لگا اب بیوقت دو دو لنڈ میری چوت اور گانڈ کو رگڑ رہے تھے یہ پہلی دفعہ تھا جس کی وجہ سے میں درد سے چلّا رہی تھی اااااہ ااااااہ ااااہ ہوووو ہوووو اااااہ یہ دیکھ کے ایک لڑکا نے کہا کہ سالی کو نپل دیتا ہوں۔ اس نے اپنا لنڈ میرے منہ میں ڈال مجھے منہ سے ہی چودنا شروع کردیا۔ میرے سب ہول لنڈ سے بھرے ہوئے تھے سب مل کر میرے بدن کو مسل رہے تھے، میرے بوبس کو کھنچ رہے تھے،   جس کو جس طرح سے سمجھ میں آیا سب نے ٢، ٢ یا ٣، ٣ بار مجھ کو شام ٦ بجے تک چودا۔  

آخرکار میں تڑپ کر بولی: اتنا تو چود چکے اب بس کرو   میں مر ااااہ مر جاوں گی۔ نہیییییی۔

رضوان: ارے تیری چوت کو  ہم اس کو بھوسڑہ بنائنگے تاکی تجھے ایک ساتھ ٢٥ لنڈ لینے میں بھی تکلف نہ ہو۔

عمران: ارے ساری ٹریننگ آج مت دو۔  ایک یہی تو ابھی تک ٹائٹ ہے رہنے دو۔ بھوسڑے کا مزا لینا ہے تو سلیم کی بہن تو ہے ہی۔

رضوان: تم کہتے ہو تو جانے دیتا ہوں۔ چلو ٨ بج گئے ہے۔ اس کو گھر پہنچانا ہے۔

پھر مجھے ان لڑکے لوگ نے عمران کے ساتھ اس کی ٹاٹا سومو میں لے کر آئے مجھے کچھ ہوش نہیں تھا کہ کیا ہو رہا میں یکدم سے اتنی چودائی سے تھک گئی تھی۔ گاڑی میں بھی مجھے انہوں  نہ چھوڑا  میرے سامنے والے نے اپنا لنڈ میرے منہ میں ڈال کے رکھا تھا اور پیچھے کے ایک لڑکے نے میری شلوار کو کھول کے میری گانڈ مارنے لگا پورے راستے میں بھی مجھے کسی نہ کسی کا لنڈ منہ میں یا گانڈ میں تھا۔ جب گھر آیا تو اس سے پہلے ہی ان لوگوں گاڑی روک کے مجھے کہا کہ ہم نے تیری چدائی کی ویڈیو بنالی ہے آج سے تو ہماری رکھیل ہے تجھے جب چاہیں گے اور جہاں چاہیں گے تجھے چدنے کے لئے آنا ہوگا۔ اور مجھے ان لوگوں نے وہیں اتر دیا۔ میں بڑی مشکل سے چل پارہی تھی، جب میں گھر پہنچی تو وہ لوگ گھر کے باہر گاڑی میں بیٹھے مجھے تھوڑا لنگڑا کے چلتے دیکھ کے مسکرانے لگے۔

اس دن کے بعد جب جی میں آتا ان میں سے کوئی بھی لڑکا آکے مجھے کبھی کہاں لے جاکے چودتا کبھی کہاں۔ سب سے زیادہ مجھے رضوان نے چودا کیونکہ اس کے گھر دوپہر میں صرف سلیمہ آنٹی اور رضوان ہوتے تھے تب عمران مجھے لے جاتا تھا اور عمران رضوان کی ماں چودتا تھا اور رضوان میری چوت اور گانڈ مارتا تھا۔ اس کو گانڈ مارنے کا زیادہ شوق تھا۔ اور جب رضوان گھر پر نہیں ہوتا تب عمران مجھے اور سلیمہ آنٹی کو ایک ہی بیڈ پر ایک ہی ساتھ چودتا تھا۔ سلیمہ آنٹی کا بدن تو وہ کتوں کی طرح نوچتا ہی تھا اور مجھے تو خود سلیمہ آنٹی ہی ننگا کرتی تھی اور کہتی تھی یہی تو دن ہے چدائی کے۔ تمہارے ابھی جتنا مزا کر سکتی ہے کر لے۔

ایک دن  عمران نے کہا کہ مجھے اس کی پروموشن کے لئے اس کے باس سے چدوانا ہوگا۔

جب میں اس کے باس کے پاس جا رہی تھی تو میں نے سوچا کہ میری چوت کو یہ سب لوگ مفت میں چود رہے ہیں کیوں نہ میں اپنی چوت کی کمائی لوں یہ سوچ کر میں نے عمران کے باس سے چدتے ہوئے کہا کہ اگر اس کو اس کی کسی پارٹی کو بھی خوش کرنا ہوگا تو میں کرونگی بس مجھ کو اس  کے اتنی پیمنٹ کرنی ہوگی۔ اس کا باس مجھ جیسی خوب صورت لڑکی دیکھ کر خوش ہوا اور اس کی کسی پارٹی کے لئے اس نے مجھے کنٹریکٹ دینے لگا اور پچھلے  ٩ منتھ میں نے اس نے اتنا پیسا کمایا کہ ایک چھوٹا سا فلیٹ لے لیا ہے اور اب میری عمران اور اس کے دوستوں سے جان چھٹ گئی تعلیم مکمل ہونے تک میں اسی فلیٹ میں رہی بعد میں سکھر چلی گئی۔ زندگی کے یہ مشکل ماہ وسال  ہمیشہ یاد رہیں گے۔

ختم شد

Post a Comment

0Comments
Post a Comment (0)