چوبا" (لن چبھونے والا) ہیلو دوستو! ایک نئی کہانی کے ساتھ حاضر ہوں ۔۔ سوری میں آپ کو بتانا بھول گیا کہ یہ کہانی اتنی بھی نئی نہیں ہے بلکہ یہ سٹوری آج سے کافی عرصہ پہلے رومن اردو میں شائع ہو چکی ہے جسے میں نے اپنی پرانی فائلوں سے جھاڑ پونچھ کر اس میں تھوڑی کمی تو نہیں ۔۔۔البتہ کافی زیادہ بیشی کر کے آپ کے لیئے شریطہ نیا پرنٹ بنایا ہے اگر آپ کو میری یہ کاوش پسند آ گئی تو یہ میری خوش بختی ہو گی اور اگر نہ آئی تو آپ کو بور کرنے پر ۔۔۔۔میری طرف سے پیشگی معذرت قبول فرمایئے۔ اب آتے ہیں سٹوری کی طرف ۔۔۔ دوستو کچھ دن پہلے کی بات ہے کہ میں اپنے ایک دوست کی بہن کی شادی میں گیا تھا چونکہ وہ میرا کافی قریبی دوست تھا اس لیئے اس نے مجھے بھی اپنے ساتھ باراتیوں کے لیئے استقبالیہ قطار میں کھڑا کر لیا تھا ابھی مجھے قطار میں کھڑے کچھ دیر ہی گزری تھی کہ بارات آ گئی دستور کے مطابق سب سے آگے دلہے میاں کی کار تھی چنانچہ سب سے پہلے وہی گاڑی سے اُترا اور باری باری ہمارے ساتھ گلے ملا اس کے بعد دلہے کے ساتھ آئی ہوئی باقی گاڑیوں میں سوار لوگوں کا بھی اسی طرح خیر مقدم کیا گیا۔ اسی اثنا میں شادی ہال کے پورچ میں عورتوں سے بھری ہوئی کوسٹر داخل ہو ئی۔ چنانچہ زنانہ کوسٹر کو دیکھتے ہی۔۔۔۔ میں کار والے باراتیوں کو چھوڑ ۔۔۔ کوسٹر کی طرف چل پڑا۔۔۔ ۔۔اور اس سے اترنے والی خواتین کو دیکھ کر اپنا دل پشوری کرنے لگا ۔۔۔ کوسٹر سے ابھی چند ہی لیڈیز اتری ہوں گی کہ اچانک اس کی سیڑھیوں سے اترتے ہوئے مجھے 'وہ" نظر آ گئی ۔۔۔ اسے دیکھ کر ایک دفعہ تو میں ٹھٹھک کر رہ گیا۔۔۔اور سوچنے لگا کہ کہیں یہ میری نظروں کا دھوکہ تو نہیں ہے۔۔۔ پھر زرا جو غور سے دیکھا ۔۔۔۔تو وہ ۔۔۔ " وہی" تھی۔۔۔ اتنے عرصہ گزرنے کے بعد بھی اس میں زرا بدلاؤ نہیں آیا تھا ظالم ابھی تک ویسی کی ویسی ہی تھی اس کی گریس ، اس کا بانکپن ۔۔۔ اس کی دل کشی اور سب سے بڑی بات یہ کہ اس کے انگ انگ میں بھری سیکس اپیل غرض سب کچھ ویسے کا ویسا ہی تھا۔۔۔۔ ۔ میں نے اسے دیکھا تو دیکھتا رہ گیا۔۔ کوسٹر کی سیڑھیوں سے اترتے ہوئے ایک لمحے کے لیئے ہماری آنکھیں چار ہوئیں۔۔ اسی ایک لمحے کے دوران۔۔۔ مجھے اس کی آنکھوں میں ان گنت ۔۔۔ باتیں ۔۔شکوے شکایات ۔اور بہت سارے ان کہے سوالات نظر آئے ۔۔ لیکن پھر اگلے ہی لمحے اس نے ایک ادائے بے نیازی کے ساتھ اپنے سر کو جھٹکا جو کہ اس کا خاصہ تھا ۔۔۔اور پھر بڑی تمکنت کے ساتھ چلتی ہوئی شادی ہال میں داخل ہو گئی ۔۔۔ وہ تو چلی گئی ۔۔ لیکن اسے جاتے دیکھ کر میرے من کے دریچوں میں آپ ہی آپ یادوں کے جھروکے کھلتے چلے گئے۔ اور میں اپنے دوست سے آنکھ بچا کر چپکے سے شادی ہال کے ایک کونے میں پڑی خالی کرسی پر جا کر بیٹھ گیا۔۔۔اس وقت میرے زہن میں اس کی من موہنی صورت ، اس کی باتوں کا انداز، اور سب سے بڑھ کر اس کے سیکس کرنے کا سٹائل اور سیکس کے دوران اس کی مست باتیں ۔۔غرض اس سے جڑی ایک ایک بات یاد آنے لگی۔ [/size] دوستو! یہ قصہ تب کا ہے کہ جب ہمارے ملک میں اچانک ہی پیاز کی بہت ہی شدید قلت پیدا ہو گئی تھی۔۔ اور اوپر سے بکرا عید کی آمد آمد تھی ۔ عام بازار میں اول تو پیاز ملتے ہی نہیں تھے لیکن اگر کہیں سے مل بھی جاتے تو وہ اتنے زیادہ مہنگے ہوتے تھے کہ ہم جیسے لوئر مڈل کلاس کے لوگ اسے خریدنے سے قاصر تھے اس لیئے گزشتہ کئی دنوں سے ہمارے گھر میں پیاز کے بغیر کُکنگ ہو رہی تھی ۔ یہ ایک اتوار کے شام کی بات ہے کہ ہماری ہمسائی جو کہ اکثر اتوار بازار سے ہی پورے ہفتے کا راشن خریدا کرتی تھی نے آ کر امی کو اطلاع دی کہ ابھی ابھی اتوار بازار میں پیاز وں سے بھرا ٹرک آیا ہے اور یہ پیاز بازار سے کافی سستے داموں مل رہے ہیں جس وقت ہماری وہ ہمسائی امی کو پیازوں کے بارے یہ قیمتی معلومات فراہم کر رہی تھی تو عین اس وقت اتفاق سے میں بے چارا قسمت کا مارا کچن میں ہی موجود تھا ۔ ہمسائی کی بات سنتے ہی امی نے میری طرف دیکھا اور پھر پرس سے پیسے نکال کے دیتے ہوئے بولیں کہ ابھی اور اسی وقت اتوار بازار جا کر پیاز لے آؤ۔ میں نے مختلف حیلے بہانوں سے بات کو ٹالنا چاہا ۔۔ لیکن سستے پیازوں کا سن کا امی حضور بھلا کہاں رہنے والی تھیں اس لیئے انہوں نے میری ایک نہ سنی اور اس سے پہلے کہ وہ اپنی بات کو بزورِ کفگیر مناتیں۔۔۔ چار و ناچار مجھے اتوار بازار جانا ہی پڑا۔ میں اپنی ہمسائی کی شان میں قصیدے پڑھتا ہوا جب اتوار بازار پہنچا تو وہاں پر ایک ٹرک کے پاس مجھے خواتین و حضرات کا زبردست رش دیکھنے میں نظر آیا ۔ تھوڑی سی پوچھ گچھ پر ہی پتہ چل گیا کہ اسی جگہ پیاز مل رہے ہیں چنانچہ میں بھی مطلوبہ جگہ پر پہنچ گیا ۔۔۔ اور وہاں جا کر بہ چشم ِ خود دیکھا تو مرد و زن کا ایک جمِ غفیر تھا جو کہ میری طرح پیاز خریدنے کے لیئے آیا ہوا تھا چنانچہ میں بھی لائن میں کھڑا ہوا گیا بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ لائن کی بجائے ایک عجیب قسم کی دھکم پیل جاری تھی جیسے کہ یہاں مفت میں پیاز مل رہے ہوں ۔ خیر میں بھی اسی دھکم پیل کا حصہ بن گیا اور دوسروں کی طرح بائی ائیر پیاز لینے کی کوشش کرنے لگا چنانچہ اس دھکم پیل میں ۔۔۔میں نے بھی زور لگا کر آگے کی طرف بڑھنا شروع کر دیا۔۔۔ میرے قریب ہی کچھ لیڈیز بھی کھڑی تھیں اسی اثناء میں اچانک ہی پیچھے سے مجھے ایک دھکا لگا جس کی وجہ سے میں پھسل کر ان لیڈیز کے مزید قریب بلکہ عنقریب ہو گیا۔۔ یسے ہی میں خواتین کے قریب ہوا۔۔۔ تو عین اسی وقت دکاندار کی آواز سنائی دی کہ خواتین و حضرات مہربانی کر کے لائین بنائیں ورنہ کسی کو بھی پیاز نہیں ملے گا ۔۔ساتھ ہی وہ روہانسا ہو کر بولا ۔۔ خدا کے لیئے لائین بنا لو ورنہ۔۔ میں اپنا ٹھیہ بند کر دوں گا ۔ دکاندار کی دھمکی سنتے ہی سب نے جلدی سے لائن بنا لی ۔۔۔اور پھر۔۔۔۔۔ لائین بنتے ہی اتفاق سے میرے عین آگے ایک خاتون آ گئی ۔۔۔ جیسا کہ ہوتا آیا ہے ۔۔۔۔ یہ لائین بھی بس کچھ ہی دیر تک برقرار رہی ۔۔۔ اور پھر پیچھے سے ایک دھکا لگتے ہی اس لائین کا بھی وہی حال ہو گیا اور میں اس وقت کو کو س رہا تھا کہ جس وقت ہمسائی کو دیکھنے کے باوجود بھی میں گھر پر موجود رہا۔۔۔ اور ساتھ ہی یہ بھی سوچ رہا تھا کہ کاش میں اس کو دیکھ کر کھسک گیا ہوتا ۔۔۔ تو آج یہ ذلت تو نہ دیکھنی پڑتی۔۔۔ادھر جیسے ہی لائین ٹوٹی ۔۔تو میں نے بھی آگے بڑھنے کے لیئے زور لگانا شروع کر دیا۔۔۔ اتفاق سے اس وقت بھی میرے آگے وہی خاتون کھڑی تھی اور یوں زور لگا کر آگے بڑھنے سے میں اس خاتون کے بلکل ساتھ لگ گیا۔۔۔ اتنا قریب کہ میری فرنٹ اس کی بیک کے ساتھ ہلکی سی ٹچ ہو گئی لیکن اس وقت تک میں نے اس بات کو بلکل بھی نوٹ نہ کیا تھا کیونکہ میری تو ساری توجہ پیازوں کی طر ف لگی ہوئی تھی۔۔۔۔۔[/color] اس طرح کھڑے ہونے کے کچھ ہی دیر بعد ۔۔۔۔ ایک لحظے کے لیئے مجھے کچھ ایسا محسوس ہوا کہ میرے آگے کھڑی ہوئی خاتون کے نرم و ملائم ہپس کچھ زیادہ ہی میرے ساتھ ٹچ ہو رہے ہیں ۔۔لیکن میں نے کوئی خاص توجہ نہ دی ۔۔۔۔ پھر تھوڑے وقفے کے بعد۔۔۔۔۔ پتہ نہیں کیسے اس خاتون کی نرم سی گانڈ میرے اگلے حصے کے ساتھ ہلکی ہلکی رگڑ کھانے لگی ۔۔ اور جب یہ واقعہ لگا تار وقوع پزیر ہونا شروع ہوا ۔۔۔۔۔ تو ۔۔۔ پہلے پہل تو میں نے اس کا کوئی نوٹس نہ لیا۔۔۔ اور سوچا کہ رش میں ایسا ہو ہی جاتا ہے ۔۔لیکن جب ۔۔۔۔ وہ رگڑ ۔۔۔ مسلسل ہونے لگی تو میرا ماتھا ٹھنکا ۔۔۔ اور میں کچھ سوچنے پر مجبور ہو گیا ۔۔ اس کے اگلے ہی لمحے میرے آگے کھڑی ہوئی اسی خاتون کی موٹی اور نرم گانڈ عین میرے نیم کھڑے لن کے ساتھ فکس ہو کر ۔۔۔ ساکن ہو گئی۔۔۔پھر چند سیکنڈ ساکن رہنے کے بعد ۔۔ جیسے ہی میرے لن پر ۔۔۔ اس خاتون کی نرم ہپس کی وہی رگڑ اور سافٹ سا ٹچ ۔۔۔ محسوس ہوا۔۔۔ میرے جسم میں ہائی وولٹیج کرنٹ دوڑنے لگ گیا۔۔۔اور اس وقت میرے دل میں خیال آیا کہ پیازوں کی ماں چودو ۔۔۔ پہلے اس نرم گانڈ کے مزے لے لوں اور۔۔۔ پھر اس کے بعد میری ساری توجہ اس خاتون کی کومل سی گانڈ کی طرف مبزول ہو گئی۔ چنانچہ اگلی بار جیسے ہی اس کی نرم اور کومل سی گانڈ میرے نیم کھڑے لن کے ساتھ ٹکرائی ۔۔۔ تو بندہ پہلے سے ہی ہوشیار باش تھا اس لیئے جب اس خاتون نے اپنی گانڈ کو میرے لن کے ساتھ رگڑ نے کے لیئے تھوڑا پیچھے کی طرف کیا تو میں نے جلدی سے اپنے نیم کھڑے لن کو اس کی موٹی سی گانڈ کی دراڑ میں پھنسایا ۔۔۔اور پھر بڑی معصومیت کے ساتھ لن کو ہلکا سا دبا کر ۔۔۔۔۔۔ اس خاتون کے ردِ عمل کا انتظار کرنے لگا۔۔۔۔واؤؤؤؤؤؤؤؤؤ۔۔۔ اس کا ردِ عمل بہت حوصلہ افزا تھا ۔۔۔ لن کے گانڈ میں رکھتے ہی ۔۔۔ اس نے بھی ۔۔۔اپنی گانڈ کو میرے لن کی طرف ہلکا سا پُش کیا اور اس کے ساتھ ہی اس نے کھڑے کھڑے اپنی گردن کو گھما کر ایک نظر میری طرف دیکھا اور پھر دھیما سا مسکرا دی ۔۔۔۔۔آہ ہ ہ ہ۔۔۔ ۔۔ کیا ظالم مسکان تھی۔۔ اس چاند چہرہ ستارہ آنکھوں اور شبنمی ہونٹوں والی خاتون کی ۔۔۔ ۔اور کس قدر خوب صورت اور پُر کشش لیڈی تھی یارو۔۔۔ میں تو اسی وقت سچے دل سے اس پر عاشق ہو گیا۔۔میں نے ا س کے گورے گورے گالوں کو ابھی ٹھیک سے دیکھا بھی نہیں تھا کہ اس نے دوبارہ سے اپنا منہ آگے کی طرف کر لیا ۔۔۔۔اور پھر پہلے کی طرح اپنی گانڈ کو میرے لن کے ساتھ فکس کر کے دھیرے دھیرے اسے ہلانے ۔۔۔جیسا کہ میں آپ کو پہلے ہی بتا چکا ہوں کہ ۔۔۔۔ وہاں پر ایک عجیب ادھم مچا ہوا تھا۔۔۔ اور اس دھکم پیل میں ہم دونوں اپنی اپنی مستی میں مست ۔۔۔۔موقعہ دیکھ کر میں۔۔ کبھی اس کی گانڈ میں اپنا لن پھنسا لیتا ۔۔۔اور کبھی اسے باہر نکال لیتا ۔۔۔ یونہی چلتے چلتے کچھ ہی دیر میں جب میرے آگے کھڑی وہ کافر حسینہ ۔۔۔۔ ٹرک کے پاس پڑی پیازوں کی ڈھیری کے قریب پہنچ گئی تو اچانک ہی اس نے ایک نظر مڑ کر میری طرف دیکھا ۔۔۔۔۔اور پھر نیچے جھک کر بظاہر پیازوں کو دیکھنے لگ گئی۔۔۔ مجھے اس کی طرف سے گرین سگنل تو مل ہی چکا تھا اس لیئے جیسے ہی وہ نیچے کو جھکی ۔۔۔ تو اسی لمحے میں نے کن اکھیوں سے ادھر ادھر دیکھ کر حالات کا جائزہ لیا۔۔۔ ۔۔۔۔ تو محسوس ہو ا کہ وہاں پر موجود لوگوں کی پوری توجہ پیازوں کی طرف لگی ہوئی تھی ۔۔۔۔ ہر کوئی اسی چکر میں لگا ہوا تھا کہ کسی طرح سے وہ سب سے پہلے پیاز لے لے۔۔۔ ہر طرف ایک عجیب سی ہڑ نگ بونگ مچی ہوئی تھی۔۔ چنانچہ ادھر ادھر دیکھنے کے بعد میں بڑی احتیاط کے ساتھ آگے بڑھا اور ایک ہاتھ سے اس خاتون کی قمیض کو ایک سائیڈ پر کیا۔۔۔ (اپنی قمیض کو میں پہلے ہی سائیڈ پر کر چکا تھا)۔۔۔۔ اور پھر کن اکھیوں سے آس پاس دیکھتے ہوئے اپنے لن کو پکڑ کر اس کی بڑی سی گانڈ کی دراڑ میں گھسا کر ۔۔ ہلکا سا دھکا بھی لگا دیا۔۔۔ ۔۔۔۔اُ ف ف ف فف ف ۔۔ کیا بتاؤں یارو۔۔۔اس کی بڑی سی گانڈ نہ صرف یہ کہ روئی کے گالے کی طرح بہت ہی نرم و ملائم بلکہ خاصی گرم بھی تھی اس لیئے میرا لن اس کی ریشمی شلوار سے پھسلتا ہوا سیدھا اس کی گانڈ کے سوراخ کے ساتھ ٹچ ہو گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔لنڈ صاحب کا اس کی گانڈ کے سوراخ کو چھُونے کی دیر تھی ۔۔کہ وہ کافر حسینہ تھوڑا سا کسمائی ۔۔۔ ۔ اور پھر میرے لنڈ کو اپنے سوراخ پر ایڈجسٹ کرنے لگی۔۔۔ اور پھر جب میرا ٹوپا ۔۔ بلکل اس کی گانڈ کے سوراخ کی سیدھ میں آ گیا ۔۔۔ تو اس کے ساتھ ہی اس نے اپنی گانڈ کو ڈھیلا چھوڑ دیا ۔جس کی وجہ سے میرے لن کی موٹی سی نوک کا تھوڑا سا حصہ پھسل کر اس کی ریشمی شلوار سمیت اس کی گانڈ کے سوراخ میں پھنس گیا ۔۔۔۔ اُف اس کی گانڈ کا رِنگ بہت ہی نرم اور ڈھیلا تھا ۔۔۔۔اور شاید تھوڑا کھلا بھی ہو گا ۔۔ لیکن میرے لن کے حساب سے ابھی بھی اس کا سوراخ بہت تنگ تھا اسی لیئے اس کی کوشش کے بوجود بھی میرا پورا ٹوپا اس کی گانڈ کے اندر نہیں جا پا رہا تھا۔۔۔ یہ دیکھ کر اس خاتون نے ہمت نہ ہاری اور اپنی گانڈ کو آخری حد تک ڈھیلا چھوڑ کر اسے پھر سے پیچھے کی طرف دھکیلنا شروع کر دیا۔۔۔ ۔۔ دوستو۔۔جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ میرا لن کافی موٹا اور بڑا ہے اس لیئے اس کی بار بار کی ٹرائی کے باوجود بھی ۔۔۔۔ میرے ٹوپے کی چونچ ہی اس کی گانڈ کے ڈھیلے سوراخ میں جا سکی ۔ میرے خیال میں میرے ٹوپے کی موٹائی کو محسوس کر کے ۔۔۔۔ ۔۔ ۔۔۔ کچھ سیکنڈز کے بعد اس نے میرے پورے ٹوپے کو اپنے اندر لینے کی کوشش ترک کر دی ۔۔۔اور پھر کچھ دیر تک ایسے ہی ساکت ہو کر جھکی جھکی ۔۔۔ میرے ٹوپے کی چونچ کو اپنے سوراخ میں لیئے لطف اندوز ہوتی رہی۔۔۔۔ اس وقت شام کا دھند لکا گہرا ہوتا جا رہا تھا ۔۔۔ اور آس پاس اندھیرا بھی کافی حد تک بڑھتا جا رہا تھا جب اس نے اپنی گانڈ کے کریک میں پھنسے میرے لن کو اپنے ہاتھ سے پکڑ کر باہر نکالا اور پھر ۔۔ مجھے اشارہ کرتے ہوئے مین رش والی جگہ سے تھوڑا ہٹ کر نسبتاً ایک زیادہ اندھیری جگہ کی طرف چلنا شروع ہو گئی ۔جہاں پر ایک تو اس جگہ کی نسبت رش کم تھا اور دوسرا بیوپاری نے وہاں پر تھوڑے خراب پیازوں کی ایک علحٰیدہ سے ڈھیری لگائی ہوئی تھی اسی لیئے اس طرف لوگوں کی توجہ بہت کم تھی۔۔۔ ۔۔ اس وقت چونکہ شام بہت گہری ہو چکی تھی ۔۔اور بیوپاری کے پاس مال بھی کم رہ گیا تھا ۔اس لیئے تمام لوگ پیاز لینے کے لیئے پاگل ہو چلے تھے جبکہ دوسری طرف میں اس خاتون کی سندر گانڈ کے لیئے مرا جا رہا تھا ۔۔۔ چنانچہ اسے آگے جاتا دیکھ کر میں کہاں پیچھے رہنے والا تھا ۔۔۔ اس لیئے میں بھی اس کے پیچھے پیچھے چلتا گیا۔۔۔۔اور پھر جہاں پر جا کر وہ رُکی۔۔۔ میں بھی رک گیا اور اس کو یہ باور کرانے کے لیئے کہ میں اس کے پیچھے کھڑا ہوا اپنے لن کو اس کی گانڈ کے ساتھ ٹچ کیا۔۔ ادھر جیسے ہی میرا لن اس کی گانڈ کے ساتھ ٹچ ہوا اس نے مُڑ کر ایک نظر میری طرف دیکھا اور پھر مطمئن ہو کر ۔۔۔۔ نسبتاً خراب والے پیاز وں کے ڈھیر پر جھک کر بظاہر صاف صاف پیاز سلیکٹ کرنے لگی۔۔۔ جیسے ہی وہ نیچے جھکی میں نے کن اکھیوں سے ایک نظر ہجوم پر ڈالی ۔۔۔۔ شام ڈھلنے کی وجہ سے لوگوں کی چیخ و پکار میں کافی شدت آ گئی تھی اور وہ پیاز لینے کی کافی زور و شور کے ساتھ کوشش کر رہے تھے اس طرف سے اطمینان کے پہلے تو بعد میں نے احتیاط کے ساتھ اپنی اور اس خاتون کی قمیض کو ایک سائیڈ پر کیا اور پھر اپنا لن پکڑ کر اس کی بڑی سی گانڈ کی دراڑ میں گھسا دیا۔۔۔ دوسری طرف وہ پہلے سے ہی تیار بیٹھی تھی چنانچہ جیسے ہی میرا لن اس کی گانڈ کی دراڑ میں گھسا ۔۔۔ اس نے اپنی گانڈ کو ڈھیلا چھوڑ کر تھوڑا سا ہلایا جلایا ۔۔اور پھر حسبِ سابق میرے ٹوپے کی چونچ کو اپنی گانڈ کے سوراخ پر رکھ کر کے تھوڑا پیچھے کی طر ف دھکا لگایا۔۔۔۔گانڈ ڈھیلی ہونے کی وجہ سے میرے ٹوپے کا اگلا سرا ۔۔۔۔ سرکتا ہوا اس کی بڑی سی گانڈ کی موری میں جا کر پھنس گیا۔۔۔ جیسے ہی میرے ٹوپے کا اگلا سرا اس کی گانڈ کے سوراخ میں ایڈجسٹ ہوا۔وہ اوپر کو اُٹھ گئی اور اس کے ساتھ ہی ۔۔۔ اس نے میرے باقی ماندہ تنے ہوئے لن کو اپنی گانڈ کے کریک میں لے کر اسے " کُھل بند " کرنا شروع کر دیا اُف کیا بتاؤں دوستو۔۔۔جیسے ہی وہ اپنی گانڈ کو مستی سے بند کرتی ( جسے پنجابی میں گھوٹ مارنا کہتے ہیں ) تو اس کی گانڈ کے نرم سوراخ میں پھنسا ہوا میرا ٹوپا پھسل کر اس کی موری سے باہر آ جاتا ۔۔۔۔ یہ دیکھ کر اگلے ہی لمحے وہ دوبارہ سے اپنی گانڈ کو ڈھیلا چھوڑتی اور ۔۔۔۔۔پھر اسی طرح ۔۔۔۔۔ ایک مستی اور سُرور کے عالم میں وہ دوبارہ سے میرے ٹوپے کی چونچ کو اپنی گانڈ کے سوارخ میں لے کر ٹھیک اسی طرح گھوٹ مارتی ۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔ ۔۔ اس کے اس طرح کرنے سے میں پوری طرح شہوت کے نشے میں میں ڈُوب گیا تھا ۔۔۔۔اور پھر اسی نشے کے زیرِ اثر میں نے اس کی گانڈ میں دھکے لگانا شروع کر دیئے۔۔۔ ۔یہاں پر ایک اور بات واضع کر تا چلوں اور وہ یہ کہ ۔۔۔۔ایسا بلکل بھی نہیں تھا کہ ہم دونوں آس پاس سے بے خبر ہو کر اندھا دھند ۔۔ یہ کھیل کھیل رہے تھے بلکہ ہم تو بڑی ہی احتیاط اور دھیان کے ساتھ مزے لے رہے تھے اوپر سے اندھیرا بھی ہم دنوں کی اس سیکس سے بھر پور گیم کو کافی حد تک کور کر رہا تھا۔۔۔ ہاں تو میں کہہ رہا تھا کہ جیسے ہی میں اس کو دھکا لگاتا ۔۔۔میری ٹوپے کی نوک اس کی گانڈ کے نرم اور ملائم رنگ کے تھوڑا اندر گھستی ۔۔۔ اور میرے دھکے کے جواب میں وہ بھی بلا توقف اپنی مست گانڈ کو میرے لن پر نہ صرف یہ کہ رگڑتی بلکہ ۔۔۔۔ کھل بند بھی کرتی تھی جس کی وجہ سے میرا سارا لن اس کی نرم گانڈ کی دونوں پہاڑوں میں دھنس جاتا تھا اور میرے لن کے ساتھ اس کی گانڈ کی دونوں پہاڑیں جھپی ڈال دیتیں تھی اور ہم دونوں شہوت کے نشے میں چُور ایک دوسرے کے جنسی اعضاء کے ساتھ بھر پور مزہ لے رہے تھے۔۔۔۔۔ ۔۔ کچھ دیر وقفے کے بعد اس نے ایک بار پھر حاضرین پر نظر ڈالی۔۔۔۔اور ادھر سے اطمینان کے بعد میرے لن کو اپنی نرم گانڈ میں لیئے لیئے وہ پھر سے نیچے کو جھکی ۔۔۔اور۔۔۔۔اور اب کی بار میں نے نوٹ کیا کہ پہلے کے مقابلے میں اس دفعہ وہ کچھ زیادہ ہی نیچے کوجھک گئی تھی ابھی میں اس بارے میں غور ہی رہا تھا کہ اچانک اس نے اپنے ہاتھ کو دونوں ٹانگوں کے بیچ میں سے گزارا۔۔۔۔اور اپنی گانڈ میں پھنسے میرے لن کو اپنے ہاتھ میں پکڑ لیا۔۔۔۔ ۔۔۔وہ کچھ دیر تک میرے لن کو دباتی رہی اور میں یہ سوچ رہا تھا کہ یا تو یہ خاتون بڑی ہی سیکسی ہے یا پھر بہت زیادہ پیاسی ۔۔۔ بعد میں میری دونوں باتیں درست نکلیں مطلب یہ کہ وہ بڑی ہی پیاسی اور سیکسی عورت تھی سیکس کی طلب اس میں کوُٹ کوُٹ کر بھری ہوئی تھی۔۔۔۔ میرے لن کو کچھ دیر تک دبانے کے بعد اس نے اپنی گانڈ کو تھوڑا اوپر اُٹھایا ۔۔۔اور ۔۔اور ۔۔۔پھر میرے لن کو پکڑ کر اپنی چوت کے دونوں لبوں کے بیچ میںرکھ کر رگڑنے لگی۔۔اُف ف فف ف ف فف ۔۔ اس خاتون کی ساری چوت پانی میں ڈوبی ہوئی تھی اور اس وقت اس کا یہ پانی چوت کے لبوں سے باہر چھلک رہا تھا ۔ وہ کچھ دیر تک میرے لن کو اپنی چوت کے دونوں لبوں کے بیچ میں رگڑتی رہی پھر اس نے میرے لن کو پکڑ کر اپنی کھلی پھدی کے دونوں ہونٹوں کے بیچ میں رکھا ۔۔۔ اور اس کے ساتھ اپنی ہپس کو پیچھے کی طرف پُش کیا۔۔۔۔۔جس کی وجہ سے میرے لن کا ٹوپا پھسلتا ہوا اس کی گیلی شلوار سمیت ۔۔۔۔ اس کی کھلی پھدی میں گھس گیا ۔۔اُف اندر سے اس کی پھدی تندور کی طرح گرم اور (لن کی طلب میں) جل رہی تھی۔۔ ۔ جب میرے لن کا تھوڑا سا حصہ اس کی کھلی ہوئی چوت میں گھس گیا ۔۔۔تو اب وہ خود ہی احتیاط کے ساتھ آگے پیچھے ہونے لگی۔۔۔اس کے آگے پیچھے ہونے سے میرا لن اور اس کے ساتھ شلوار کا وہ حصہ جو کہ اس کی چوت میں گھسا ہوا تھا اس کی چوت کے پانی سے بہت زیادہ گیلا ہو گیا تھا۔۔۔۔۔دسری طرف وہ اپنی چوت میں میرے آدھ پھنسے لن کو لے کر کھڑی ہو گئی اور پھر بڑی آہستگی کے ساتھ اپنی ہپس کو میرے لن پر برش کرنے لگی۔۔۔جس کی وجہ سے میں مزے کے ساتویں آسمان پر پہنچ گیا ۔اور بے خودی کے عالم میں اس کی گیلی چوت کے مزے لیتا رہا۔۔ جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ اس وقت تک میں کافی آنٹیوں کی بجا چکا تھا اپنی اپنی جگہ پر وہ خواتین بھی بے حد گرم اور سیکسی تھیں لیکن بلا شبہ اس خاتون کی بات ہی کچھ اور تھی ۔۔۔۔ اس کی چوت بڑی ہی گرم اور تندور کی دھک رہی تھی ۔۔۔۔اس کے باوجود کہ اس خاتون کی چوت کافی کھلی اور کچھ زیادہ ہی .
وہ خاتون ابھی مزید مستی کے موڈ میں نظر آ رہی تھی کیونکہ جیسے ہی اس نے اپنی چوت میں ۔۔۔میرے لن سے نکلے ہوئے گرم پانی کو محسوس کیا۔۔۔۔ ۔۔ تو اس نے تڑپ کر بڑی ہی غضب ناک اور شکایتی نظروں سے کچھ اس طرح سے میری طرف دیکھا ۔کہ جیسے اس کو میرا اس طرح اچانک چھوٹنا بڑا گراں گزرا ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔لیکن اس کے باوجود بھی اس نے میرے ساتھ اتنا تعا ون ضرور کیا کہ جب تک میرا لن سکڑ کر بلکل چھوہارا نہ بن گیا۔۔ ۔۔۔۔اور جب تک میرے لن سے منی کا آخری قطرہ بھی نہ نکل گیا۔۔۔۔ وہ ایک عجیب بےچینی اور شاید مستی کے عالم میں اپنی گانڈ کی دونوں پہاڑیوں کو میرے لن کے گرد کس کر بڑی سختی کے ساتھ کھُل بند کرتی رہی ۔۔۔ اور جب میں ٹوٹل فارغ ہو گیا۔ ۔۔۔۔ تو اس نے ایک بار پھر شعلہ بار نظروں سے میری طرف دیکھا اور اس کی تیز نظروں کی تاب نہ لا تے ہوئے میں نے شرم کے مارے اپنے سر کو جھکا لیا۔۔۔۔۔ اور اپنے آپ کو کوسنے لگا ادھر یہ صورت دیکھ کر میری منی بھی لن سے بار بار یہی کہتی رہی کہ۔۔۔۔ مجھے کیوں نکالا ۔۔ مجھے کیوں نکالا ۔۔ ۔ پھر کچھ دیر کے بعد میں نے سر اُٹھا کر اس طرف دیکھا کہ جہاں پر چند لمحے قبل وہ خاتون کھڑی تھی ۔۔۔۔ لیکن اب وہ موجود نہ تھی ۔۔۔ اسے اپنی جگہ پر نہ پا کر میں بے چین سا ہو گیا اور پاگلوں کی طرح ادھر ادھر دیکھنا شروع کر دیا ۔۔۔ میں اسے نظروں ہی نظروں میں تلاش کر رہا تھا کہ اچانک میرے کانوں میں دکاندار کی آواز گونجی کہ باؤ کتنے پیاز ڈالوں؟ لیکن میں نے اس کی آواز پر کوئی توجہ نہ دی اور ہجوم کو چیرتا ہوا ۔۔۔ دیوانہ وار باہر کی طرف بھاگا ۔۔۔۔ اور پھر بڑی شدت کے ساتھ اس سیکسی لیڈی کو تلاش کرنے لگا۔۔۔ لیکن وہ تو وہاں سے ایسے غائب تھی کہ جیسے گدھے کے سر سے سینگ ۔۔۔ کافی دیر تلاش کرنے کے بعد میں تھک ہار کر واپس پیاز والے کی طرف آ گیا اور پھر جیسے تیسے پیاز لے کر گھر چلا گیا۔۔۔ گھر جا کر بھی میرا سارا دھیان اس شاندار خاتون کی طرف لگا رہا۔ مجھے بار بار اس کی گانڈ کی نرمی اور اس کی گیلی چوت کی گرمی یاد آ تی رہی۔۔ اور اسی بات کو سوچ سوچ کر میرا لن دوبارہ سے کھڑا ہو گیا جو اب بیٹھنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا ۔۔۔اور پھر تنگ آ کر میں سیدھا واش روم میں گیا اور اس سیکسی لیڈی کی یاد میں ایک زبردست مُٹھ مار ی۔ مُٹھ مارنے کے بعد میں کافی حد تک پُر سکون ہو گیا تھا۔۔ واش روم سے نکل کر جیسے ہی میں باہر آیا۔۔۔ تو پتہ چلا کہ میرا ایک دوست گلی میں انتظار کر رہا ہے سو میں جیسے ہی گھر سے باہر نکلا ۔۔۔۔تو مجھے دیکھتے ہی وہ کہنے لگا۔۔۔۔ کہاں تھے یار ۔۔۔ یہ میرا دوسرا چکر ہے اس کی بات سن کر میں نے اسے اتوار بازار اور پھر اس خاتون کے ساتھ بیتا ہوا سارا واقعہ سنا دیا۔۔ میری سیکس سٹوری سننے کے بعد وہ اپنے نیچے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا ۔۔۔ یار اس آنٹی کا قصہ سن کر میرا بھی لن کھڑا ہو گیا ہے ۔۔۔۔اور پھر اس کے بعد وہ مجھ سے آنٹی کے بارے میں کرید کرید کر معلومات لینے لگا۔۔۔۔ [/color][/color] اس واقعہ سے دوسرے دن کی بات ہے کہ وہی دوست میرے پاس آیا اور مجھے اس سیکسی لیڈی والا واقعہ یاد کرواتے ہوئے بولا ۔۔ کہ وہ نامعلوم آنٹی تم سے دوبارہ بھی مل سکتی ہے دوست کی بات سن کر میں بہت حیران ہوا اور اس سے کہنے لگا لیکن کیسے یار؟۔ تو اس پر بجائے میرے سوال کا جواب دینے کے وہ کہنے لگا کہ میں نے تمہاری سیکس سٹوری ایک " چوبھے " کو سنائی تھی ۔۔ دوست کے منہ سے" چوبھے" کا نام سن کر میں پریشان ہو گیا اور اس سے بولا کہ یار یہ چوبھا کون ہے؟ میرے اس " معصوم " سوال پر دوست نے حیرت بھری نظروں سے میری طرف دیکھا اور پھر مجھے ایک موٹی سی گالی دیتے ہوئے بولا کہ بہن چود ا سچ بتا کہ تجھے چوبھے کے بارے میں کچھ معلوم نہیں؟ ادھر واقعی ہی مجھے اس ذات شریف کے بارے میں کچھ پتہ نہ تھا اس لیئے میں نے اس کو جواب دیتے ہوئے کہا ۔۔قسم لے لو یار میں نے آج پہلی بار یہ نام تمہارے منہ سے سنا ہے۔۔۔ میری اس بات پر اس نے بڑی عجیب سی نظروں سے میری طرف دیکھا اور پھر بڑے ہی طنزیہ لہجے میں کہنے لگا۔سر جی ایک بات تو بتاؤ اور وہ یہ کہ جب آپ سرکاری بس کے اگلے دروازے سے۔۔۔ یا یوں کہہ لو کہ لیڈیز کمپارٹمنٹ والے حصے میں چڑھتے ہو تو کیا کرتے ہو؟ اس کی بات سن کر میں نے دانت نکالتے ہوئے اس سے کہا کہ کسی ایسی خاتون کو ڈھونڈتے ہیں کہ جس کو "تکلیف" ہو ۔۔ تو وہ اسی طنزیہ لہجے میں بولا کہ اچھا یہ بتاؤ کہ تم کو یہ کیسے پتہ چلتا ہے کہ اس خاتون کو " تکلیف " ہے اس پر میں نے جھلا کر کہا کہ یار پہلے اس کو چیک کرتے ہیں ۔تو وہ کہنے لگا کہ وہ کیسے؟ تو اس پر میں نے کہا کہ پہلے تو بہانے سے اس کو ٹچ کرتے ہیں یا پھر اتفاقاً اس کی گانڈ کی ساتھ اپنے اگلے حصے کو مَس کرتے ہیں۔۔ میری بات سن کر وہ کہنے لگا کہ فرض کرو وہ آگے سے کچھ نہیں بولتی تو پھر تم کیا کرتے ہو ؟ تو میں نے اس کی طرف آنکھ مار کر کہا۔۔کہ لن کھڑا کر کے اس کی گانڈ کے چھید میں دے دیتے ہیں اور کیا کرنا ہے ۔۔۔ ۔۔ میری بات سن کر اس نے ایک گہری سانس لی اور پھر کہنے لگا ۔۔ مطلب پہلے تم اس کی گانڈ پر اپنا لن چبھو تے ہو ؟۔۔اس کی بات سن کر میں نے دانت نکالتے ہوئے ہاں میں سر ہلا دیا۔۔۔ تب وہ کہنے لگا ۔۔ بس میں ایسی حرکات کرنے والوں کا تو مجھے پتہ نہیں۔۔۔ البتہ اتوار بازار جانے والے اس قسم کے لڑکوں کو ہم لوگ "چوبھا" کہتے ہیں مطلب لن چبھونے والا۔۔۔ دوست کی بات سن کر مجھے ساری بات سمجھ آ گئی تھی جبکہ دوسری طرف وہ کہہ رہا تھا ہمارے علاقے کا ایک مشہور چوبھا ہے جس کو تم بھی اچھی طرح سے جانتے ہو ۔۔ پھر میرے استفسار پر کہنے لگا وہ اپنا عارف یار ۔۔۔ جو کہ ڈاک خانے والی گلی میں رہتا ہے۔۔ دوست کے منہ سے عارف کا نام سن کر میں تو حیران رہ گیا کیونکہ میری نظر میں وہ ایک نہایت شریف اور بہت اچھا لڑکا تھا ۔۔۔ اسی بات کا تزکرہ جب میں نے اپنے دوست کے ساتھ کیا تو میری بات سن کر وہ ہنس پڑا ۔۔۔اور کہنے لگا ۔ سیم تیرا کیس ہے یار۔۔ پھر وہ مجھے گالی دیتے ہوئے بولا ۔۔۔ گانڈو تو بھی تو شکل سے کتنا معصوم اور شریف نظر آتا ہے لیکن تم نے اس علاقے کی اچھی خاصی آنٹیوں کو چود رکھا ہے ۔۔۔ اس پر میں نے دانت نکالتے اس سے ہوئے کہا کہ میرا کیس الگ ہے یار۔۔۔ تو آگے سے وہ کہنے لگا۔۔ سب یہی کہتے ہیں یار ۔۔ پھر اچانک ہی وہ سنجیدہ ہو کر بولا اسے چھوڑ کام کی بات یہ ہے کہ آج منگل کا دن ہے اور شاید تم کو معلوم ہو کہ آج کے دن اسی جگہ منگل بازار بھی لگتا ہے اور کیا عجب کہ آج پھر تمہاری ملاقات اس گرم آنٹی کے ساتھ ہو جائے۔۔۔۔ اس لیئے اگر موڈ ہے تو عارف کے پاس چلتے ہیں ۔۔۔ گرم آنٹی کا ذکر سن کر میرے منہ میں پانی بھر آیا ۔۔۔اور میں بڑی بے تابی کے ساتھ بولا۔۔ چلو یار اس کے گھر چلتے ہیں۔۔راستے میں ۔۔ میں نے اس سے کہا کہ سُن یار.. عارف کے ساتھ میری بس والی بات کا تزکرہ مت کرنا ۔۔۔ میری بات سن کر اس نے زہر خند نظروں سے میری طرف دیکھا اور کہنے لگا۔۔۔۔۔کیوں اس سے تیری پارسائی پر حرف آتا ہے ؟ تو میں نے اسے آنکھ مارتے ہوئے کہا ۔۔۔ کہ سمجھا کر نا یار ۔۔۔۔ تو اس پر وہ ایک دم سیریس ہو کر بولا ۔۔۔۔ فکر نہ کر یار۔۔۔ ۔۔ مجھے سب معلوم ہے کہ کون سی بات کہاں پر کرنی ہے اور کون سی نہیں اور پھر سیریس ہو کر چلنے لگا۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔ عارف کا گھر ہمارے محلے سے کافی دور تھا ہم اس کی طرف جا رہے تھے کہ تانگہ سٹینڈ کے پاس وہ ہمیں مل گیا۔۔اور پھر مجھے دیکھتے ہی کہنے لگا سنا ہے استاد کہ تم نے بڑا اونچا ہاتھ مارا ہے ۔۔۔ پھر اس کے اصرار پر ایک دفعہ پھر میں نے اس کو اپنی حکایتِ لذیز سنائی ۔۔ سن کر کہنے لگا اچھا یہ بتا کہ ۔۔ کیا اس گرم آنٹی نے نیچے سے اپنی شلوار پھاڑی ہوئی تھی ؟ اس کی بات سن کر میں حیرت میں ڈوب گیا اور اس سے بولا ۔۔۔ نہیں یار ۔۔۔۔ میری بات سن کر وہ کہنے لگا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے اتوار بازار میں یہ کوئی نیا مال آیا ہے اس سے پہلے کہ میں اس سے کوئی سوال کرتا اچانک وہ کہنے لگا کہ چلو کہیں بیٹھ کر بات کرتے ہیں ۔پھر وہ ہمیں ایک ہوٹل میں لے آیا اور چائے کا آرڈر دینے کے بعد ۔۔ اس نے مجھے اتوار اور منگل بازار میں ہونے والی اس قسم کی خفیہ جنسی سرگرمیوں کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ ایسی خواتین جو کہ لن کا ٹھرک رکھتی ہوں وہ ہمیشہ شام ڈھلے اتوار بازار میں آتی ہیں اس کی ایک وجہ تو یہ ہوتی ہے کہ اس وقت دکانداروں کا زیادہ مال بک چکا ہوتا ہے اور ان کو گھر جانے کی جلدی ہوتی اس لیئے شام کے وقت وہ اپنی چیزوں کے ریٹ گرا دیتے ہیں اور اس کی دوسری وجہ یہ ہے کہ ہلکے ہلکے اندھیرے میں وہ اپنا مزہ بھی لے لیتی ہیں ۔۔اس کے بعد وہ کہنے لگا کہ ایسی خواتین اتوار بازار میں آ کر ہمیشہ رش والی جگہ میں سب سے آگے کھڑے ہونے کی کوشش کرتی ہیں ۔۔ سودا لیتی کم ۔۔۔ اور ریٹ کم کرانے کے لیئے تکرار زیادہ کرتی ہیں ۔ پھر میری طرف دیکھ کر کہنے لگا کہ ایک بات اور ۔۔۔ وہ یہ کہ ضروری نہیں کہ اتوار بازار میں آگے کھڑے ہونے والی ہر عورت گانڈو ہوتی ہو ۔[/font] اس کے بعد وہ میر ی طرف دیکھ کر کہنے لگا ۔ ہاں تو میں کہہ رہا تھا کہ ایسی خواتین کے ساتھ ہم کرتے یہ ہیں کہ ان کے پیچھے جا کر کھڑے ہو جاتے ہیں اور اس سے آگے کی سٹوری تم کو پتہ ہے اس کی بات سن کر میں نے اس سے کہا اچھا یہ بتا کہ یہ نیچے سے شلوار پھاڑنے کا کیا سین ہے؟ تو میری بات سن کر وہ ترنت ہی کہنے لگا کہ وہ اس لیئے میری جان کہ بعض اوقات۔۔۔ خاص کر سردیوں میں رات جلدی پڑ جاتی ہے تو وہ کسی سنسان جگہ پر یا اگر رش زیادہ ہو۔۔۔ جیسا کہ اس دن تمہارے ساتھ ہوا تو وہ چانس دیکھ کر موقعہ کے حساب سے بہ آسانی لن کو اپنے اندر بھی لے لیتی ہیں پھر میری طرف دیکھتے ہوئے آنکھ دبا کر بولا کہ جیسا کہ تم کو معلوم ہے کہ ہماری طرح بعض خواتین بھی بڑی ہی شریف ہوتی ہیں گھر سے باہر نکل نہیں سکتیں یا ان پر سخت پابندی وغیرہ ہوتی ہے اس لیئے وہ اتوار بازار یا اس جیسی دوسری جگہوں پر آ کر اپنا ٹھرک پورا کر لیتی ہیں اور جیسا کہ ابھی میں نے تم کو بتلایا کہ اگر موقعہ ملے تو رات کے اندھیرے میں لن کا ذائقہ بھی چکھ لیتی ہیں ۔۔عارف کی یہ بات سن کر میں چونک گیا اور اس سے بولا ۔۔۔ یہ کیسے ممکن ہے یار؟ تو اس پر وہ کہنے لگا وہ ایسے میری جان کہ ہمارے اتوار بازار میں گندے نالے کے پاس میونسپل کارپوریشن والوں کا ایک صدیوں پرانا ٹرک خراب حالت میں کھڑا ہے اور اتفاق سے جس جگہ پر یہ ٹرک کھڑا ہے اس سے آگے گندا نالہ شروع ہو جاتا ہے۔ اس لیئے اس طرف کوئی نہیں جاتا۔۔۔۔۔۔اور مزے کی بات یہ ہے کہ اس گندے نالے اور ٹرک کے بیچ بہت تھوڑی سی خالی جگہ ہے اور اس خالی جگہ پر لن پھدی کا ملاپ ہوتا ہے اس پر میرا دوست کہنے لگا کہ یار وہاں پر خطرہ نہیں ہوتا ؟ میرے دوست کی بات سن کر عارف نے ایک فرمائیشی سا قہقہہ لگایا اور اس سے کہنے لگا پین یکا ۔۔۔ یہ جو اتنے لوگوں کی موجودگی میں ہم لوگ ایک انجان خاتون کی بنڈ میں لن پھنسا کر کھڑے ہوتے ہیں کیا اس میں کوئی خطرہ نہیں ہوتا ؟ پھر ایک دم سیریس ہو کر کہنے لگا۔۔۔۔۔۔ خطرہ تو یقیناً ایسے کاموں میں بہت زیادہ ہوتا ہے ۔۔ لیکن میری جان چونکہ اس کام میں ایک عجیب سی لذت اور ایک انوکھی تھرل اور ایڈوینچر ہوتا ہے اس لیئے اس قسم کے کاموں کے لیئے ہم لوگ ہر قسم کا خطرہ مول لے لیتے ہیں۔۔۔ پھر اس کے بعد کہنے لگا کہ جیسا کہ میں نے تم لوگوں کو پہلے بھی بتایا تھا کہ اس قسم کی لیڈیز اور ہم لوگوں نے پہلے سے ہی اپنی اپنی شلواریں پھاڑی ہوتیں ہیں پھر مسکراتے ہوئے کہنے لگا۔۔۔ کہ نیچے سے شلوار پھاڑنے کا ایک تو فائدہ یہ ہوتا ہے کہ شلوار اتارنے میں وقت ضائع نہیں ہوتا ۔۔اور دوسرا فائدہ یہ ہے کہ بوقتِ خطرہ آزار بند کھولنے یا اسے بند کرنے کا کوئی جھنجھٹ نہیں ہوتا ۔۔ اور بندہ بڑی آسانی کے ساتھ لن کو واپس شلوار میں ڈال کے ادھر ادھر ہو سکتا ہے ۔۔۔پھر ہماری طرف دیکھ کر ہنستے ہوئے بولا اور و میں یہ سوچ کر کہ کہیں وہ دوپہر کو نہ آ جائے ۔ میں دوستوں کے دیئے ہوئے ٹائم سے دو تین گھنٹے پہلے پہنچ گیا۔۔۔ اور مختلف رش والی جگہوں کا چکر لگایا لیکن کام نہیں بنا اس لیئے تقریباً ایک گھنٹہ خواری کاٹنے کے بعد میں واپس گھر آ گیا ۔۔۔اور پھر شام کو مقررہ وقت سے تھوڑا لیٹ وہاں پہنچ کر دیکھا تو میرے انتظار میں صرف عارف کھڑا تھا میرے پوچھنے سے پہلے ہی اس نے بتلایا کہ اس کے باقی دوست شکار کی تلاش میں نکلے ہوئے ہیں جبکہ وہ میرا انتظار کر رہا تھا اس کے بعد میں نے بھی اپنے دوست کے بارے میں بتا دیا ۔۔۔ سن کر بولا کہ استاد جی چلہ کاٹنا بڑا اوکھا کام ہے ۔ پھر میرا ہاتھ پکڑ کر کھینچتے ہوئے بولا کہ ۔۔۔ آ ؤ اب ہم بھی چلتے ہیں ۔اس وقت شام کے سائے کچھ اور گہرے ہو رہے تھے کہ چلتے چلتے ۔۔۔ اچانک ہی عارف نے میرا ہاتھ دبایا اور کہنے لگا ادھر دیکھ استاد ۔۔ اپنا تو کام بن گیا ہے عارف کی بات سن کر میں نے ہونقوں کی طرح ادھر ادھر دیکھا لیکن مجھے تو آس پاس کوئی بھی آنٹی نظر نہیں آئی اس پر میں نے اس سے کہا لیکن یار مجھے تو کوئی آنٹی نظر نہیں آ رہی تو اس نے ایک طرف اشارہ کر دیا۔۔۔ کہ جہاں پر گھی کے ڈبوں سے بھرا ہوا ایک مزدا کھڑا تھا اور سستا گھی لینے کے لیئے مرد و زن کا کافی ہجوم نظر آ رہا تھا کہنے لگا تم میرے ساتھ آؤ ۔۔ اور آس پاس کے لوگوں پر نظر رکھ کر، مجھے کور کرتے ہوئے اس مست کڑی کا تماشہ دیکھو ۔۔ اتنے میں میری نظر بھی اس لڑکی پر پڑ چکی تھی ۔۔۔۔ وہ ایک درمیانہ قد کی نو جوان سی لڑکی تھی میرے خیال میں اس وقت اس کی عمر 23 / 24 کے قریب ہو گی۔ اس نے اپنے جسم پر ایک آگے سے کھلا ہوا عبایا نما [/size] برقعہ پہنا ہوا تھا اس کے ساتھ اس نے اپنے چہرے کو نقاب سے بھی ڈھانپ رکھا تھا اسے دیکھ کر میں بڑا حیران ہوا اور اس سے قبل کہ میں عارف سے کوئی سوال کرتا وہ میرا ہاتھ چھڑا کر اس برقعے والی لڑکی کے پاس پہنچ چکا ت ھا۔۔۔ میں بھی چلتا ہوا ان سے تھوڑے فاصلے پر جا کر کھڑا ہو گیا۔۔ [/size][/size] اور پھر بڑے غور لیکن کن اکھیوں سے عارف کی واردات کو دیکھنے لگا۔۔۔ اور پھر میں نے دیکھا کہ کچھ ہی دیر بعد عارف کھسکتا ہوا اس لڑکی کے بلکل قریب کھڑا ہو گیا ۔۔اور پھر پتہ نہیں اس نے کیا حرکت کی کہ اچانک لڑکی نے گردن گھما کر عارف کی طرف دیکھا ۔۔۔اور پھر عارف پر نظر پڑتے ہی اس کی آنکھوں میں ایک عجیب سی شہوت بھری حیوانی چمک آ گئی۔۔۔۔ اور اس کے ساتھ ہی وہ لڑکی عارف کے ساتھ جُڑ کر کھڑی ہو گئی اب میری نطریں ان دونوں کے نچلے دھڑ پر مرکوز ہو گئیں تھیں ۔۔۔ کچھ ہی دیر گزری تھی کہ اس لڑکی کا ہاتھ رینگتا ہوا عارف کے فرنٹ پر آن لگا۔۔۔ ۔۔اور پھر اس نے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے اپنے دائیں ہاتھ کی اُلٹی ہتھیلی کے ساتھ عارف کی قمیض کے اوپر سے اس کے عین لن والے حصے پر بڑے ہی محتاط طریقے سے مساج کرنا شروع کر دیا[/size].. اس کے مساج کرنے کے کچھ ہی دیر بعد عارف کی قمیض آگے سے اُٹھنا شروع ہو گئی تھی۔۔۔ جب اس کی قمیض آگے سے اُٹھ کر ایک تمبو سا بن گئی ۔۔۔ ۔۔۔تو پھر اس کے ساتھ ہی اس نوجوان لڑکی نے بڑی ہی مہارت کے ساتھ ا پنے ہاتھ کو عارف کی قمیض کے نیچے سے اندر کیا اور پھر اس کے لن کو اپنے ہاتھ میں پکڑ لیا ۔۔۔وہ اس کام میں کافی ایکسپرٹ لگ رہی تھی ۔۔۔ ادھر سے فارغ ہو کر میں نے عارف کے ہاتھ کی طرف نگاہ کی لیکن وہ پہلے سے ہی اس نوجوان لڑکی کی عبایا نما برقعے میں غائب ہو چکا تھا ۔۔۔ وہ دونوں چونکہ پہلے سے ایک دوسرے کو جانتے تھے اس لیئے کچھ دیر بعد عارف نے اِدھر اَدھر دیکھتے ہوئے حالات کا جائزہ لیا ۔۔۔۔۔ اور پھر لڑکی کی طرف جھک کر اس کے کان میں کچھ کہا ۔۔۔ عارف کی سرگوشی سنتے ہی اس لڑکی نے اپنے ہاتھ کو عارف کے لن سے ہٹایا۔۔۔۔اور پھر عارف کی طرح وہ بھی بڑی ہی محتاط نظروں سے چاروں اورھ دیکھتے ہوئے اپنے اُلٹے ہاتھ چلنے لگی ۔۔۔اس نوجوان لڑکی کے جانے کے چند سیکنڈ بعد ۔۔۔۔ اس سے کچھ فاصلہ رکھتے ہوئے عارف بھی اسی سمت چل پڑا کہ جس طرف وہ لڑکی جا رہی تھی۔۔۔ لیکن چلنے سے پہلے اس نے مجھے اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کر دیا تھا اس لیئے میں بھی عارف سے تھوڑا فاصلہ رکھ کر اس کے پیچھے پیچھے چل دیا۔۔۔۔ تھوڑا آگے جا کر وہ لڑکی ایک طرف کھڑی ہو گئی ۔۔اور عارف کا انتظار کرنے لگی۔۔۔ لیکن جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ عارف سے تھوڑا فاصلہ رکھ کر میں بھی اسی جانب چل رہا تھا ۔۔۔اس لیئے وہ لڑکی مجھے دیکھ کر تھوڑا مشکوک ہو گئی۔۔ چنانچہ جیسے ہی عارف اس کے قریب پہنچا ۔۔ اس نے عارف سے بات کرتے ہوئے میری طرف اشارہ کیا تو اس پر عارف نے مُڑ کر ایک نظر میری طرف دیکھا اور پھر اس لڑکی سے کچھ کہا ۔۔۔ عارف کی بات سن کر اس لڑکی نے بڑی گہری نظروں سے میرا جائزہ لیا۔۔۔ ۔۔۔۔۔ وہ کچھ دیر تک میری طرف دیکھتی رہی پھر اس نے عارف کی طرف دیکھتے ہوئے اسے کچھ کہا ۔ اور پھر اگلے ہی لمحے ہم لوگ اسی تر تیب سے چلتے ہوئے ایک طرف کھڑے مینونسپل کارپوریشن کے خراب ٹرک کی طرف چلنے لگے۔۔۔۔۔ کچھ آگے جا کر جیسے ہی وہ لڑکی ٹرک کے نزدیک پہنچی ۔۔۔۔تو میں اور عارف اپنی اپنی جگہوں پر رُک گئے۔۔ ادھر وہ لڑکی بڑے ہی محتاط انداز میں چلتی ہوئی ٹرک اور گندے نالے کے درمیان بنی ہوئی تنگ سی گلی کے پاس پہنچی۔۔۔۔اور پھر وہاں پر رُک کر آس پاس کا جائزہ لینے لگی۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔ جائزہ لینے کے بعد ۔۔۔ وہ ۔۔۔ کچھ مطمئن سی نظر آئی۔۔۔۔اور پھر اس کے ساتھ ہی وہ ادھر ادھر دیکھتے ہوئے ٹرک کے ساتھ بنی اس تنگ سی گلی میں غائب ہو گئی۔۔۔ [/size][/size] اس لڑکی کے اندر جانے کے بعد ۔۔عارف اپنی جگہ پر کھڑے کھڑے کچھ دیر تک کن اکھیوں سے ادھر ادھر دیکھتا رہا ۔۔پھر جب اسے اس بات کا یقین ہو گیا کہ ٹرک کی طرف کوئی بھی متوجہ نہیں ۔۔۔۔تو اس نے ایک نظر میری طرف دیکھا اور پھر آنکھوں ہی آنکھوں میں مجھے ہوشیار رہنے کی تاکید کرتے ہوئے وہ بھی اس لڑکی کی طرح بڑے ہی محتاط انداز میں ٹہلتا ہوا ٹرک کے بنی ۔۔۔ اس تنگ سی گلی کے اندر چلا گیا۔۔۔ ۔۔۔جیسے ہی عارف اس تنگ گلی میں داخل ہوا ۔۔ تو پتہ نہیں کیوں اس وقت اچانک ہی میرے اندر یہ شدید خواہش پیدا ہوئی کہ کیوں نا میں ان دونوں کا سیکس سین دیکھوں ۔۔۔اور میں ادھر ادھر دیکھتے ہوئے مسلسل اسی اینگل پر سوچتا رہا ۔۔۔پھر اچانک ہی مجھے ایک ایسی ترکیب سوجھی کہ جس میں ہینگ اور پٹھکڑی دونوں نہیں لگنی تھیں اور میرا کام مفت میں ہو جانا تھا۔۔۔۔۔۔اور وہ اس طرح کہ اگر میں ٹرک کے پاس پاؤں کے بل زمین پر بیٹھ جاتا تو میں اس بوسیدہ ٹرک کی باڈی کے نچلے حصے سے (ٹرک کے ٹائر اور باڈی کے درمیان بنے گیپ میں سے ) ان کے بیچ ہونے والے سیکس کو دیکھ سکتا تھا ۔۔ [/size][/size] ترکیب ذہن میں آتے ہی میں نے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے اپنے ایک ہاتھ کو شلوار کی طرف بڑھایا ۔۔۔اور بظاہر بیشاب کرنے کے لیئے آزار بند کھولنے لگا ( لیکن نے اسے کھولا نہیں بلکہ کھولنے کی ایکٹنگ کرنے لگا) ۔۔۔اور پھر ٹرک کے ٹائر کے پاس ایسی حالت میں بیٹھ گیا کہ جیسے میں پیشاب کر رہا ہوں ۔۔۔۔۔ نیچے بیٹھتے ہی ہلکے اندھیرے کی وجہ سے مجھے دوسری طرف کا نظارہ کچھ دھندلا سا دکھائی دینے لگا لیکن یہ نظارہ اتنا بھی دھندلا نہیں تھا کہ مجھے اپنے سامنے کا منظر دکھائی نہ دیتا ۔۔۔ بلکہ تھوڑی دیر کے بعد جب میری آنکھیں اندھیرے میں دیکھنے کی عادی ہوگئیں تو پھر مجھے ہر چیز واضع طور پر نظر آنا شروع ہو گئی۔۔۔۔۔ اور میں نے دیکھا کہ ٹرک کے اس پار دو سائے آپس میں لپٹے ہوئے تھے یہ منظر دیکھ کر میں سمجھ گیا کہ وہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ جڑے کسنگ کر رہے ہیں ۔۔ اس لیئے میں دم سادھے اسی سٹائل میں بیٹھا رہا ۔۔۔ ۔پھر کچھ دیر بعد وہ دونوں ایک دوسرے سے الگ ہوئے اور لڑکی اکڑوں بیٹھ گئی اس وقت اس کا نقاب اترا ہوا تھا ۔۔۔جو کہ ظاہر ہے اس نے کسنگ کرتے وقت اتارا ہو گا۔۔۔ ۔۔۔اب میں نے غور سے اس کی چہرے کی طرف دیکھا تو وہ گندمی رنگ کی ایک بڑی ہی دل کش لڑکی تھی ۔۔۔اس کی دل کش صورت دیکھنے کے بعد میں یہ سوچ سوچ کر ہلکان ہو رہا تھا کہ اتنی خوب صورت لڑکی کو آخر اتوار بازار میں چوت مروانے کی کیا ضرورت پیش آ گئی تھی ؟؟۔۔ جبکہ اس جیسی کیوٹ لڑکیوں کے ایک اشارے پر تو ہزاروں دیوانے مرنے مارنے پر تُل جاتے ہیں میں اس بات پر غور کر رہا تھا ۔۔۔۔جبکہ دوسری طرف میرے دیکھتے ہی دیکھتے اس لڑکی نے عارف کی پھٹی ہوئی شلوار میں سے اس کے لن کو باہر نکالا۔۔۔ اس وقت تک عارف کا لن نیم مرُجھایا ہوا تھا لیکن اس کے باوجود وہ نوجوان لڑکی عارف کے ڈھیلے ڈھالے لن کو اپنے ہاتھ میں پکڑے بڑی ہی ندیدی نظروں سے اس کی طرف دیکھ رہی تھی ۔۔۔ پھر میرے خیال میں عارف نے اسے کچھ کہا کیونکہ اس نے ایک نظر اوپر دیکھا ۔۔۔اور پھر عارف کے نیم کھڑے لن کو اپنے منہ میں لے لیا۔۔۔۔اور پھر اسے بڑے ہی سیکسی ۔۔۔۔ لیکن ندیدے پن سے چوسنے لگی۔۔۔۔۔ جیسا کہ آپ لوگ جانتے[/size] ہیں کہ مجھے بھی لن چوسوا نے کا از حد شوق ہے اس لیئے یہ ہوش ربا منظر دیکھ کر میرا لن بھی ایک دم سے کھڑا ہو گیا ۔۔۔۔ جبکہ دوسری طرف وہ کیوٹ سی لڑکی عارف کے لن کو اپنے منہ میں لیئے ندیدوں کی طرح چوسے جا رہی تھی اور جوش سے چوسنے کی وجہ سے اس کے منہ سے غُوں غُاں۔۔۔۔ غُوں غُاں کی جیسی آوازیں نکل نکل کر ماحول کو گرما اور مجھے تڑپا رہیں تھیں۔ اس کے انداز سے ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے وہ عارف کا لن چوس کر بڑا انجوائے کر رہی ہو ۔۔۔۔۔۔ ۔۔پھر کچھ دیر تک لن چوسنے کے بعد جب اس نے عارف کے لن کو اپنے منہ سے باہر نکالا تو میں نے دیکھا کہ عارف کا لن اس کے تھوک سے چمک رہا تھا لیکن اس کے ساتھ ساتھ میں یہ دیکھ کر بھی حیران رہ گیا کہ عارف کا لن ابھی تک اسی طرح ڈھیلا ڈھالا کھڑا تھا ۔۔ ہاں اس لڑکی کے منہ میں لے کر چوسنے کی وجہ سے اس میں بس تھوڑی ہی سختی آئی تھی ۔۔۔ لیکن مجموعی طور پر ہم ایسے لن کو ڈھیلا ہی کہیں گے۔۔ ۔۔اس کے برعکس دوسری جانب میرا یہ حال تھا کہ صرف لڑکی کے منہ میں لن جاتا دیکھ کر میرا اپنا ہتھیار کسی لوہے کے راڈ کی طرح اکڑا کھڑا تھا ۔۔ ہاں تو میں کہہ رہا تھا کہ اس لڑکی نے عارف کے لن کو اپنے منہ سے باہر نکالا اور پھر اس کے ٹوپے کو چوم کر اُٹھ کھڑی ہو گئی۔۔ ۔۔ وہ کچھ دیر عارف کے ساتھ (شاید) کسنگ کرتی رہی۔۔۔۔پھر اس کے بعد وہ میرے سامنے کی طرف جھکی اور اپنی گانڈ کو باہر نکال لیا۔۔۔۔۔۔ اس کے بعد اس نے اپنے ایک ہاتھ کو پیچھے کی طرف بڑھایا ۔۔۔۔۔ اور اپنی قمیض کو ایک سائیڈ کی طرف کر کے ۔۔ اپنی شلوار کی پھٹی ہوئی جگہ کو عین اپنی پھدی کے سامنے لے آئی۔۔۔ ۔۔۔واؤؤؤؤ۔۔۔۔ اور میں نے دیکھا کہ نیچے سے اس لڑکی کی شلوار کافی سے زیادہ پھٹی ہوئی تھی جس کی وجہ سے اس کی ابھری ہوئی پھدی کی لکیر اور اس کی گانڈ دونوں صاف دکھائی دے رہیں تھیں ۔۔۔ میرے آگے عارف آ گیا تھا۔۔ لڑکی کے پیچھے کھڑے ہوتے ہی عارف نے اپنے ڈھیلے لن کو اس نوجوان لڑکی کی پھدی پر رکھ کر ایک دھکا لگایا۔۔۔ جس کی وجہ سے عارف اور اس لڑکی دنوں کے منہ سے بیک وقت 'اوع " کی آواز نکلی ۔۔۔۔۔۔۔ اور پھر اس کے بعد عارف تیزی کے ساتھ آگے پیچھے ہونا شروع ہو گیا۔۔ اب چونکہ مجھے ان کا شو نظر نہ آ رہا تھا اور ویسے بھی پاؤں کے بل زمین پر بیٹھ بیٹھ کر میں کچھ تھک سا گیا تھا۔۔۔۔اس لیئے میں وہاں سے اُٹھ کھڑا ہوا ۔۔۔اور پھر ادھر ادھر دیکھا تو ہر طرف امن شانتی تھی ادھر جیسے ہی میں کھڑا ہوا مجھے اس نوجوان لڑکی کی ہلکی ہلکی لزت آمیز کر اہنے کی آوازیں سنائی دینے لگیں۔۔ پھر کچھ دیر بعد اچانک ہی اس لڑکی کے کراہنے کے ساتھ ساتھ عارف کے منہ سے بھی غراہٹ نما آوازیں نکلنا شروع ہو گئیں جنہیں سن کر میں سمجھ گیا کہ عارف اب چھوٹنے والا ہو گیا ہے ۔۔۔اس کے ساتھ ہی لڑکی کی کراہوں میں تھوڑی تیزی اور اس کی آواز پہلے سے تھوڑی زیادہ بلند ہو گئی تھی۔۔۔۔ ۔۔۔ اور پھر اس کے کچھ سیکنڈ کے بعد اچانک ہی عارف کی آواز گونجی ۔۔۔ اوع ۔۔۔اوع۔۔۔۔۔اس کے ساتھ ہی لڑکی نے بھی کچھ چوں چاں کی ۔۔۔اور پھر دوسری طرف سے آوازیں آنا بند ہو گئیں۔۔۔اور ان کی یہ آوازیں سن کر میں سمجھ گیا کہ وہ دونوں خلاص ہو گئے ہیں۔۔۔یہ ماجرا دیکھ کر میں ٹرک سے تھوڑا دور ہٹ کر ۔۔۔۔۔۔ لاتعلق سا کھڑا ہو گیا۔۔۔ کچھ ہی دیر بعد مجھے ٹرک کی جانب سے اونچی آواز میں بلی کی آواز سنائی دی۔ میاؤں میاؤں ۔ اس کا مطلب تھا کہ وہ لوگ فارغ ہو گئے ہیں ۔۔۔۔اور باہر آنا چاہتے ہیں۔۔۔۔ چنانچہ ٹرک کی طرف سے بلی کی آواز سن کر میں نے بڑی گہری نظروں سے آس پاس کا جائزہ لیا۔۔۔اور پھر عارف کو گرین سگنل دینے کی خاطر ہلکی آواز میں سیٹی بجا دی جس کا مطلب تھا کہ باہر آل اوکے ہے۔۔ میرے سیٹی بجانے کے کچھ ہی دیر بعد وہ خوبصورت سی لڑکی باہر نکلی ۔۔ اور میں نے دیکھا کہ اس نے دوبارہ سے اپنے منہ پر نقاب کر لیا تھا ۔۔۔۔چونکہ میں اس وقت ٹرک سے تھوڑا دور۔۔۔۔۔ لیکن اتفاق سے میں اس کے گزرنے والے راستے کے عین درمیان میں کھڑا تھا ۔۔۔۔ اور اندر کا سیکس سین دیکھنے کے بعد ابھی تک میرا لن ویسے کا ویسا اکڑا کھڑا تھا ۔۔ اسی لیئے چلتے وقت شاید اس لڑکی کی نظر میری تنبو بنی قمیض پر پڑ گئی تھی تبھی تو میرے پاس سے گزرتے ہوئے اچانک ٹھٹھک کر رُک گئی۔۔۔۔اور پھر ایک نظر پیچھے مُڑ کر دیکھا۔۔۔۔تو عارف ابھی تک باہر نہیں نکلا تھا ۔۔۔۔چنانچہ اپنے پیچھے کسی کو نہ پا کر ۔۔۔۔ اس نے ایک نظر ادھر ادھر دیکھا ۔۔۔۔۔ اور پھر ایک عجیب حرکت کی اور وہ یہ کہ اچانک اس نے میری تنبو بنی شلوار پر قمیض کے اوپر ۔۔۔ عین میرے لن والی جگہ پر اپنا ہاتھ رکھا ۔اور میرے موٹے اور لمبے لن کی سختی کو محسوس کرتے ہوئے اس نے میری طرف دیکھتے ہوئے اسے ہلکا سا دبا دیا ۔۔۔ اس کی یہ حرکت دیکھ کر جب میں حیرانی سے اس کی طرف دیکھا تو اس مجھے آنکھ مار دی ۔ اس سے قبل کہ میں اسے کوئی ردِ عمل دیتا وہ تیز تیز قدموں سے چلتی ہوئی یہ جا وہ جا۔۔۔۔ [/size][/size]اس کے کچھ دیر بعد عارف بھی ٹرک سے باہر نکل آیا ۔۔۔اور پھر میرے ساتھ چلنے لگا۔۔ اسی دوران میں نے اس سے شرارتاً پوچھا کہ سناؤ یار کیسی گزری؟ میری بات سن کر وہ کہنے لگا۔۔۔ ۔۔ مزہ آ گیا یار۔۔۔ پھر میری طرف دیکھتے ہوئے بڑے فخر کے ساتھ بولا۔۔۔ تمہیں معلوم ہے کہ یہ لڑکی میرے لن کی از حد دیوانی ہے پھر مجھے آنکھ مارتے ہوئے بڑی شوخی کے ساتھ کہنے لگا۔۔۔۔ آج بھی میں نے اپنے سخت لن سے اس کی گرم چوت میں ایسے دھکے مارے ہیں کہ سالی کی بس ہو گئی تھی اس کے بعد وہ میرے سامنے شیخی بگھارتے ہوئے بولا۔۔۔ آج تو یار اس نے میرے آگے ہاتھ بھی جوڑ دیئے اور کہنے لگی۔۔۔ کہ بس کرو میری جان ۔ یہ تمہارا لن ہے کہ واپڈا کا کھمبا ۔۔۔ اس نے تو آج میری چوت کو پھاڑ کے رکھ دیا ہے۔۔۔ دوستو۔۔۔کہتے ہیں کہ گپ غریب کا پردہ ہوتا ہے اور عارف نے بھی اپنا پردہ خوب رکھا تھا۔۔۔ ۔۔ویسے کوئی اور دن ہوتا تو میں اس کی بات کا یقین بھی کر لیتا ۔۔۔۔ لیکن [/size]چونکہ آج ہم بھی وہیں موجود تھے ہر ایک سین دیکھا کیئے۔۔ اس لیئے عارف کی بات سن کر۔۔۔ ۔۔۔ ہم ہنس دیئے۔۔۔ ہم چُپ رہے۔۔ منظور تھا ۔۔۔ پردہ اس کا ۔۔ چند لمحوں کے بعد میں نے عارف کی طرف دیکھتے ہوئے کہا کہ یار ایک بات تو بتاؤ؟ اور وہ یہ کہ چلو آنٹیوں کی بات تو سمجھ آتی ہے کہ وہ ایسا کر سکتیں ہیں لیکن یار یہ لڑکی تو بہت خوب صورت اور کسی اچھے گھرانے کی لگتی تھی اس کو یہاں آنے اور اس گندے نالے کے پاس کھڑے ہو کر پھدی مروانے کی کیا ضرورت تھی؟ ۔۔ جبکہ میرے خیال میں اس جیسی حسینہ کے لیئے تو بہت سے لوگ دیدہ و دل چشمِ بر راہ کیئے ہوں گے میری بات سن کر وہ کہنے لگا ۔۔تم ٹھیک کہہ رہے ہو لیکن تم کو پتہ ہے کہ گندے نالے کے قریب سرِِ عام پھدی مروانے کا ایک اپنا ہی مزہ ہوتا ہے پھر کہنے لگا۔۔۔۔۔اور ویسے بھی دوست چسکہ کوئی بھی ہو بہت برا ہوتا ہے پھر میری طرف دیکھتے ہوئے آنکھ دبا کر بولا۔۔۔۔ مت پوچھ یار اس بازار کے چسکے کا بھی ایک اپنا نشہ ہے ۔۔اور اس بازار کی لت بہت بری لت ہے۔۔اور ۔۔۔ پھر کہنے لگا اور خاص کر اس چسکے میں جو تھرل اور ایڈوینچر ہے وہ کہیں اور نہیں ۔۔۔ یہ لڑکی بھی شاید ایک ایسا ہی کیس ہے۔ پھر مجھ سے کہنے لگا۔۔۔یار آخر کب تک اس گرم آنٹی کو تلاش کرتا رہے گا جبکہ یہاں پر ایک سے ایک گرم لیڈی موجود ہے تو ٹرائی تو کر ۔۔ اور اگر ایک دفعہ کوئی اچھی سی آنٹی تیرے ہتھے چڑھ گئی تو ۔۔۔ یقین کر کہ تُو اس گرم آنٹی کو بھول جائے گا۔۔اس کی بات سن کر میں نے ہاں میں سر ہلا دیا ۔۔۔ویسے بھی وہ اگر مجھے یہ نصیحت نہ کرتا ۔۔۔ تو بھی آج کا سیکس سین دیکھ کر میں نے دل ہی دل میں یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ کہ اب میں اس گرم آنٹی کو ڈھونڈنے کے ساتھ ساتھ میں اتوار بازار آنے والی دوسری خواتین پر بھی ضرور ٹرائی کروں گا۔۔۔۔ ۔۔ ۔۔۔ [/size][/size] اس کے بعد اگلے منگل اور اتوار کو بھی کوئی خاص بات نہیں ہوئی۔۔۔ یہ دوسرے اتوار کی بات ہے میں حسبِ معمول اپنے وقت پر اتوار بازار پہنچ گیا ۔۔۔ لیکن اس وقت اتفاق سے وہاں پر میرے علاوہ کوئی بھی چوبھا موجود نہ تھا چنانچہ میں وہیں کھڑے ہو کر ان کا انتظار کر نے لگا۔۔۔۔لیکن جب کافی وقت گزر گیا اور ان میں سے کوئی بھی لڑکا نہ آیا تو میں نے ان سب پر[/size] تین حرف بھیجے اور خود ہی شکار کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا۔اور چلتے چلتے میں ایک آلو پیاز والے ٹھیئے پر پہنچ گیا جہاں پر آلو پیاز وغیرہ ایک ڈھیری کی شکل میں زمین پر پڑے تھے ۔۔۔ شام کے وقت چونکہ یہ چیزیں کافی سستی ہو جاتی ہیں ۔۔اس لیئے یہاں پر لوگوں کا بہت زیادہ رش تھا ۔۔ ۔ اور اسی رش کو دیکھ میں وہاں آیا تھا۔۔۔۔وہاں پہنچ کر میں کھستا ہوا اس طرف چلا گیا کہ جہاں پر بہت سی لیڈیز اکھٹی کھڑی تھی۔۔ اور ان کو غور سے دیکھنے لگا ۔۔ کچھ ہی دیر بعد میری تیز نظروں نے ایک ایسی خاتون کو مارک کر لیا جو کہ ایک کھلے برقعے میں ملبوس تھی اور اس رش میں بغیر شور شرابے کے چپ چاپ ایک طرف کھڑی تھی ۔۔۔ کچھ دیر اس بات پر غور کے بعد کہ اس برقعے والی کے ساتھ کوئی مرد وغیرہ تو نہیں ہے؟ اور پھر جب مجھے اس بات کا یقین ہو گیا کہ وہ اکیلی ہی آئی ہے تو میں نے اس خاتون پر قسمت آزمانے کا فیصلہ کر لیا۔ اور کھستا ہوا اس لیڈی کے نزدیک پہنچ گیا ۔۔۔ جیسے ہی میں اس کے نزدیک پہنچا تو خوش قسمتی سے اسی وقت ہجوم میں ایک ہلچل سی مچی اور اس ہلچل کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے میں عین اس خاتون کے پیچھے جا کر کھڑا ہو گیا۔۔۔ اور پھر کچھ دیر بعد کن اکھیوں سے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے میں نے بڑی نرمی کے ساتھ اس کی گانڈ پر اپنا اگلا حصہ ٹچ کر دیا۔۔۔ ۔۔۔خاتون کی گانڈ کافی نرم اور موٹی تھی اس لیئے مجھے مزہ آ گیا۔۔۔ لیکن دوسری طرف میرے اس ٹچ کا اس خاتون نے کوئی خاص نوٹس نہ لیا ۔۔یہ دیکھ کر میں نے تھوڑی دیر بعد بڑے غیرمحسوس طریقے سے اس کی گانڈ پر اپنے نیم مرجھائے ہوئے لن کو ٹچ کیا۔۔۔جیسے ہی میرے نیم کھڑے لن نے اس کی نرم گانڈ کو چھوا۔۔۔۔تو میرے نیم کھڑے لن کو اپنی گانڈ پر محسوس کرتے ہی اس خاتون نے پیچھے مُڑ کر ایک نظر میری طرف دیکھا لیکن ۔۔۔کہا کچھ نہیں ۔اور نہ ہی میں نے اس کی آنکھوں میں کسی قسم کے غصے کے آثار دیکھے۔۔۔۔یہ صورتِ حال دیکھ کر میں کچھ دلیر سا ہو گیا ۔۔۔ اتنی دیر میں میرا لن بھی تھوڑا ۔۔۔ جوبن میں آ چکا تھا چنانچہ اب کی بار میں نے اپنے نیم کھڑے لن کو اس کی گانڈ کے کریک میں تھوڑا سختی کے ساتھ دبا دیا۔۔۔ برقعہ ہونے کے باوجود بھی میرا لن اس کی گانڈ کی بڑی سی دراڑ میں تھوڑا سا اندر گھس گیا۔۔ میں لن کو اس کی گانڈ میں رکھ کر وہاں سے بلکل نہیں ہلا ۔۔۔۔ ۔۔۔ بلکہ ایسے ہی کھڑا اس خاتون کے ردِ عمل کا انتظار کرنے لگا ۔ لیکن اس کی طرف سے کوئی ہل جُل نہ تھی اور وہ میرے لن کو اپنی گانڈ میں لیئے بدستور ویسے ہی خاموش کھڑی تھی وہ عجیب خاتون تھی لن کو اپنی گانڈ میں واضع طور پر بھی محسوس کر کے ۔۔۔ کوئی رسپانس نہیں دے رہی تھی اس وقت تک میرا لن تن کر فُل جوبن میں آ چکا تھا ۔۔ اس لیئے میں نے اس کی خاموشی کو نیم رضا مندی سمجھا اور پھر اس کے ساتھ انجوائے کرنے کا فیصلہ کر لیا۔۔۔چنانچہ یہ سوچتے ہی میں تھوڑا پیچھے ہٹا اور اپنی قمیض کو ایک سائیڈ پر کیا ۔۔۔۔۔ پھر میں آگے بڑھا اور اپنے لن کو ہاتھ میں پکڑ کر اس کی گانڈ کی لکیر میں گھسا نے ہی لگا تھا کہ اچانک پیچھے سے ایک زبردست دھکا لگا جس کی وجہ سے۔۔۔ وہ خاتون میرے آگے سے ہٹ گئی اور دھکہ لگنے کی وجہ سے ۔۔ اس خاتون کی جگہ میرے سامنے ایک اور لیڈی آن کھڑی ہوئی ۔۔۔ یہ سب ایک سیکنڈ کے دسویں حصے میں ہو گیا۔۔۔ادھر چونکہ میں اپنے دماغ کو اس خاتون کی گانڈ میں لن گھسانے کا آرڈر دے چکا تھا۔۔۔۔ اور اس دماغ کی کمانڈ پر اس خاتون کی گانڈ میں لن گھسانے کے لیئے۔۔۔ میرا پورا جسم اپنی جگہ سے حرکت کر چکا تھا ۔۔۔ اس لیئے۔۔۔ اس دھکم پیل میں جیسے ہی پرانی کی جگہ ایک نئی خاتون میرے سامنے کھڑی ہوئی۔۔۔ تو میرا دماغ جسم کو بروقت نئی کمانڈ دینے میں ناکام رہا۔۔ ۔۔۔۔ لیکن پھر بھی اس پرانی کی جگہ نئی خاتون کو دیکھ کر میں نے اپنے آپ کو روکنے کی بڑی کوشش کی لیکن۔۔۔۔۔۔۔ہونے والی بات ہو گئی۔۔۔۔ ۔۔۔۔ اور میرا لن سنسناتا ہوا اس انجان خاتون کی گانڈ میں گھس گیا۔۔۔۔۔۔ میرے خیال میں گھسہ مارتے وقت میں کچھ زیادہ ہی جزباتی ہو گیا تھا اسی لیئے جیسے ہی میرا زور دا ر جھٹکا اس انجان خاتون کی گانڈ پر لگا۔۔۔۔۔ تو گھسے کی شدت کی وجہ سے وہ تھوڑا سا لڑکھڑا گئی ۔۔۔۔ ۔ پھر لڑکھڑا کر سنبھلتے ساتھ ہی اس انجان خاتون کو جیسے ہی میری اس چیپ حرکت کا اندازہ ہوا۔۔۔۔ تو اس نے ایک دم سے پیچھے مُڑ کر شعلہ بار نظروں سے میری طرف دیکھا۔۔ اسے غصے میں دیکھ کر میرا رنگ اُڑ گیا۔۔۔۔اور دونوں ٹٹے ہوائی ہو گئے۔اور میں یہ کہہ کر خود کو کوسنے لگا کہ ۔۔سالے یہ تُو نے کیا کر دیا۔۔۔ ۔۔۔ اتوار بازار میں آنے والی ہر آنٹی گانڈو نہیں ہوتی۔۔۔۔اس لیئے بہتری اسی میں ہے کہ اس سے قبل کہ یہ خاتون شور مچا کر سب کو اکھٹا کرے ۔۔۔۔۔ بھاگ ملکھا بھاگ۔۔لیکن میرے لیئے اس رش میں بھاگنا تقریباً ناممکن تھا ۔۔۔۔۔۔لیکن پھر بھی میں نے بھاگنے کے لیئے ابھی اپنا پہلا قدم اُٹھایا ہی تھا کہ۔۔۔۔۔ ۔۔۔عین اسی وقت وہ انجان خاتون میری طرف بڑھی۔۔۔۔۔۔۔۔اور ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔اور ۔۔۔۔اور۔۔۔۔
وہ انجان خاتون کہ جس کی گانڈ میں۔۔۔ میں نے غلطی سے اپنا لن گھسا دیا تھا وہ دودھیا رنگت کی ایک گوری سی خاتون تھی اس وقت اس نے سفید شلوار قمیض پہنی ہوئی تھی اور اس شلوار قمیض کے اوپر اس نے ایک کالے رنگ کی بڑی سی چادر اوڑھی ہوئی تھی جس کی وجہ سے اس کے جسم کا اوپری حصہ اس چادر میں چھپا ہوا تھا ۔۔ ۔۔ لڑکھڑانے کی وجہ سے چونکہ وہ تھوڑا آگے کو کھسک گئی تھی ۔۔۔اس لیئے لڑکھڑا کر سنبھلنے کے بعد اب وہ خاتون میری طرف بڑھ رہی تھی اور اس وقت میری حالت دیکھنے والی تھی میرے انگ انگ سے پسینے پھوٹ رہے تھے اور میرا سارا بدن ایک انجان خوف سے تھر تھر کانپ رہا تھا۔میرا خیال تھا کہ دوبارہ نزدیک آتے ہی وہ میرا حشر نشر کر دے گی ۔۔۔۔ لیکن ۔۔۔ یہ کیا۔۔۔۔ میرے قریب آتے ہی وہ بڑے اطمینان کے ساتھ ادھر ادھر دیکھتے ہوئے میرے سامنے کھڑی ہو گئی ۔۔اور پھر دھیرے دھیرے اپنی تشریف کو میری جانب بڑھانے لگی۔۔ یہ منظر دیکھ کر میں تو ہکا بکا رہ گیا ۔۔ کہاں یہ کہ ڈر کے مارے میری جان نکلی جا رہی تھی۔۔۔۔ اور کہاں یہ کہ وہ خاتون بجائے غصہ کرنے کے ۔۔۔۔ اپنی پیاری سی تشریف کو میرے سامنے لا کے آ بیل ۔۔۔۔۔ میری مار والا ۔۔ منظر پیش کر رہی تھی ۔۔ لیکن یہ بیل اتنا بھی پاگل نہیں تھا کہ پھر سے وہی غلطی دھراتا ۔۔اس لیئے میں اس کام پر ہی لعنت بھیجی اور رش میں ادھر ادھر دیکھتے ہوئے باہر نکلنے کا راستہ تلاش کرنے لگا۔۔۔ ابھی میں باہر نکلنے کے لیئے راستے کی تلاش میں تھا ۔۔۔ کہ اچانک مجھے ایسا محسوس ہوا کہ جیسے کوئی بہت ہی نرم سی چیز میری فرنٹ کو دبا رہی ہو ۔۔ اس پر میں نے چونک کر سامنے دیکھا تو وہی انجان خاتون اپنی ہپس کو بلکل میرے ساتھ جوڑ کر اسے ہلکا ہلکا پیچھے کی طرف پُش کر رہی تھی ۔۔۔ یہ دیکھ کر پہلے تو میں حیران اور پھر ۔۔۔۔۔پریشان ہونے ہی لگا تھا کہ اچانک میرے ذہن میں ایک جھماکا سا ہوا ۔۔۔۔اور ایک خیال بڑی برق رفتار سے میرے ذہن میں کوند ا ۔۔ اور وہ خیال یہ تھا کہ ۔۔۔ میری طرح کہیں یہ خاتون بھی شکاری تو نہیں ؟؟ اس کے بعد میں نے اس زاویہ پر سوچا اور تھوڑا غور کیا تو ۔۔۔۔ یہ دیکھ کر میں ایک بار پھر سے حیران رہ گیا کہ اس خاتون کو تو اچھی خاصی "تکلیف" تھی جبھی تو وہ اپنی بڑی سی ہپس کو میرے ساتھ جوڑے بار بار پیچھے کی طرف پُش کر رہی تھی ۔۔۔بات کچھ کچھ میری سمجھ میں آ رہی تھی ۔۔۔ لیکن پھر بھی میری اس کے ساتھ ایسی ویسی حرکت کرنے کی ہمت نہیں پڑ رہی تھی۔۔ میرے خیال میں وہ انجان خاتون بھی میرے اس ڈر کو بھانپ گئی تھی ۔۔۔۔ یا پھر دوسری وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ وہ مزید صبر نہیں کر سکتی تھی ۔۔ اسی لیئے کچھ دیر کے بعد اس نے اپنی باہر کو نکلی ہوئی مست گانڈ کو میرے لن پر رکھ کر مزید دبایا ۔۔۔۔۔اور پھر خود ہی اسے ہلکے ہلکے حرکت دینے لگی۔۔۔۔۔۔ خاتون کی اس ادا کو دیکھ کر "موکیمبو " خوش ہوا ۔۔ اور پھر ۔۔۔ اس کے ساتھ ہی میرے اندر بُکل مار کے بیٹھی ہوئی شہوت کی دیوی نے ایک بھر پور انگڑائی لی۔۔۔ اور پھر میرے لن پہ آسن مار کر بیٹھ گئی۔۔۔۔۔۔۔ جس کی وجہ سے ایک دفعہ پھر مجھ پر ہوشیاری کا غلبہ ہونے لگا۔۔ ۔۔۔ چنانچہ کچھ کرنے سے پہلے میں نے اس اجنبی خاتون کا بغور جائزہ لینا شروع کر دیا۔۔ میرے لن کے ساتھ اپنی گانڈ کو دبا کر ہلکے ہلکے ہلانے والی وہ اجنبی خاتون خاصی سلم اینڈ سمارٹ تھی ہاں اس کا پیٹ تھوڑا باہر کو نکلا ہوا تھا لیکن اس کے باوجود بھی وہ دیکھنے میں خاصی سمارٹ نظر آ رہی تھی۔ اس کا رنگ جیسا کہ میں پہلے بھی بتا چکا ہوں کہ دودھیا سفید تھا ۔۔ ۔لیکن ایک بات جو اسے دوسری خواتین سے (میرے نزدیک ) ممتاز کرتی تھی وہ یہ کہ عام خواتین کی نسبت اس کی گانڈ واضع طور پر باہر کو نکلی ہوئی تھی اور اس وقت میری بھوکی نظریں اسی خوبصورت گانڈ کا طواف کر رہیں تھی ۔۔ اور پھر اس خوب صورت گانڈ کا جائزہ لیتے لیتے ۔۔۔۔ میرا لن پھر سے کھڑا تو ہو گیا تھا لیکن ابھی تک اپنے اصل جوبن پر نہیں آیا تھا ۔۔۔ چنانچہ اس خاتون کے ساتھ سلسلہ کنفرم کرنے کی غرض سے سب سے پہلے میں نے اپنے آص پاس کے ماحول کا اچھی طرح سے جائزہ لیا اور پھر دائیں بائیں کھڑی جنتا کی طرف سے اطمینان کے بعد میں تھوڑا پیچھے ہٹا ۔۔۔۔اور اپنے بائیں ہاتھ کو آگے لے آیا ۔۔۔اور اس کے بعد میں نے بڑی احتیاط کے ساتھ اپنے ہاتھ کو اس کی باہر کو نکلی ہوئی نرم گانڈ کے ساتھ ہلکا سا مس کیا۔۔۔ اور اس خاتون کے ردِ عمل کا جائزہ لینے لگا۔۔۔۔۔ لیکن اس نے کوئی ردِ عمل نہیں دیا یا۔۔۔۔پھر شاید اتنی دھکم پیل میں اسے سمجھ نہیں آئی ۔۔۔ اس لیئے اب میں نے ایک اور داؤ آزمانے کا فیصلہ کیا ۔۔۔گو کہ اس میں کچھ خطرہ تو ہو سکتا تھا ۔۔۔ لیکن اس خاتون کی گرمی کو دیکھتے ہوئے مجھے اس بات کی ہر گز امید نہیں تھی کہ میرے ایسے کرنے سے وہ کوئی سخت ردِعمل دے گی۔۔۔اسی لیئے تو میں نے بظاہر رسک لینے کرنے کا فیصلہ کیا تھا ۔۔۔ اب کی بار میرا بائیاں ہاتھ رینگتا ہوا اس کی بڑی سی چادر کے اندر چلا گیا ۔۔۔۔ میرے ہاتھ کو اپنی چادر کے اندر محسوس کرتے ہی وہ خاتون واضع طور پر ٹھٹکی ۔۔۔ لیکن اپنی جگہ پر ساکت اور خاموش کھڑی رہی۔۔۔ ادھر جیسے ہی میرا ہاتھ رینگتا ہوا ۔۔اس کی باہر کو نکلی ہوئی مست سی گانڈ کے ساتھ ٹچ ہوا۔۔۔۔ تو کیا بتاؤں دوستو ۔۔ کہ ایک دفعہ پھر سے "موکیمبو " کس قدر خوش ہوا۔۔۔۔ اس کی باہر کو نکلی ہوئی بڑی سی گانڈ بہت ہی نرم اور موٹی تھی اور اس رشکِ قمر کی گانڈ پر ہاتھ پھیرتے ہی میرے پورے بدن کو ایک انوکھا سا مزہ آ گیا۔۔۔۔ ۔۔۔ لیکن میرے ہاتھ نے فقط وہیں ٹھہرنے پر اکتفا نہیں کیا ۔۔۔۔۔ بلکہ میں نے ٹٹولتے ہوئے اس کی قمیص کو ایک سائیڈ پر کیا ۔۔۔۔۔اور اب میرا ہاتھ براہِ راست اس کی گانڈ کی لکیر کے اوپر رکھا ہوا تھا۔۔۔۔۔ اور پھر اگلے ہی لمحے میرے دائیں ہاتھ کی درمیانی انگلی اس کی گانڈ کے چھید میں داخل ہو چکی تھی ۔۔۔ جیسے ہی میری درمیانی انگلی اس کی گانڈ کے چھید کے درمیان پہنچی ۔۔۔۔تو۔۔ اس خاتون نے اپنی گردن گھما کر میری طرف دیکھا ۔۔۔ ایسا کرنے سے ہماری آنکھیں جب چار ہوئیں ۔ تو وہ اجنبی خاتون شرم سے گلنار نہیں ہوئی بلکہ اس وقت پوزیشن یہ تھی کہ ۔۔ہم دونوں کی آنکھوں میں بلا کی ہوس اور شہوت کی دیوی ننگا ناچ رہی تھی ۔۔۔۔کچھ سیکنڈز تک ہم دونوں ایک دوسرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے دیکھتے رہے ۔۔۔ اور پھر اس نے میری طرف دیکھتے ہوئے ایک ادائے خاص سے اپنے نچلے ہونٹ کو دانتوں تلے دبا لیا۔۔۔۔۔۔اور اس کے ساتھ ہی اس شہوت ذادی نے دوسری حرکت یہ فرمائی کہ میری انگلی کو اپنی گانڈ میں لے کر گھوٹ مارے لگی ("کُھل بند" کرنے لگی)۔۔۔۔ واؤؤؤؤؤؤؤؤؤؤ۔۔۔۔ یہ میرے لیئے بڑا ہی کلئیر سگنل تھا۔۔۔۔جو اس اجنبی خاتون کی جانب سے مجھے دیا گیا تھا۔۔ اس کی طرف سے واضع پیغام ملتے ہی میرا لن ایک دم سے جوش میں آ گیا ۔۔۔اور ہم دونوں کے بیچ فاصلہ تھوڑا ہونے کی وجہ سے ۔۔۔میرے لمبے لن کی نوک اس خاتون کی گانڈ کو چھبنے لگی ۔۔۔ یہ ماجرا دیکھ کر وہ اجنبی حسینہ ایک سائیڈ پر ہو کر میرے پہلو میں آن کھڑی ہو ئی۔۔ ۔۔اس کے ایسا کرنے سے میرا بائیاں ہاتھ اور اس کی درمیانی انگلی جو کہ اس کی گانڈ کے چھید میں پھنسی ہوئی تھی ۔۔ باہر نکل آئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ادھر وہ خاتون جیسے ہی میرے پہلو میں آ کر کھڑی ہوئی تو اس نے اپنی چادر کو کچھ اس مہارت کے ساتھ پھیلایا کہ جس کی وجہ سے اس کی چادر کا ایک حصہ میری قمیض کے آگے آ گیا تھا ۔۔۔ اس کے ساتھ ہی سانپ کی طرح رینگتا ہوا اس کا نازک سا ہاتھ قمیض سے ہوتا ہوا میرے لن پر آ کر ٹھہر گیا۔۔۔ جیسے ہی اس اجنبی حسینہ کا ہاتھ اپنی منزلِ مقصود پر پہنچا ۔۔۔۔تو اس نے اپنی انگلیوں کی مدد سے میرے لن کو ٹٹولنا شروع کر دیا۔۔۔ اس کی مخروطی انگلیاں رینگتی ہوئیں کبھی تو میرے ٹوپے کا ناپ کرتیں ۔۔۔۔اور کبھی ۔۔۔ وہ میرے تنے ہوئے لن کی لمبائی اور موٹائی ۔۔ جمع سختی کی اچھی طرح سے جانچ پڑتال کرنے لگتی۔ دیر بعد جب اس نے اپنی انگلیوں کی مدد سے میرے لن کا ماپ تول پورا کر لیا تو اب اس نے میرے تنے ہوئے لن پر اپنی انگلیاں کو پھیرنا بند کر دیا۔۔ اور اس کے بعد اس نے میرے لن کو اپنی مُٹھی میں لیا۔۔۔۔۔اور پھر اسے دبانے لگی۔۔۔ وہ کافی دیر تک میرے اکڑے ہوئے لن کو اپنی مُٹھی میں لیئے دباتی رہی۔۔۔۔پھر وہ میری طرف جھکی اور بڑ ی آہستگی کے ساتھ کہنے لگی باہر آؤ؟ ۔۔۔۔۔اتنی بات کرتے ہی اس نے میرے لن کو اپنے ہاتھ کی گرفت سے آزاد کیا ۔۔۔۔۔اور اپنی چادر کو ٹھیک کرتی ہوئی اس بھیڑ سے باہر نکلنے لگی ۔۔ لیکن جاتے جاتے اس نے ایک دفعہ پھر مجھے اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کر دیا تھا سو اب وہ میرے آگے آگے اور میں اس کے پیچھے پیچھے چل رہا تھا ۔۔۔۔۔ بھیڑ سے نکل کر وہ اتوار بازار کے ایک چوراہے پر پہنچ گئی۔۔۔ اور پھر اتوار بازار کے اس راستے پر جا کھڑی ہو ئی ۔۔۔ کہ جہاں پر لوگوں کی آمد و رفت کا سلسلہ بہت کم تھا۔۔۔۔ ویسے بھی اندھیرا ہونے کی وجہ سے اس طرف لوگوں نظر کم ہی پڑ رہی تھی۔۔۔۔۔جب میں اس کے قریب پہنچا تو اس نے مجھے اپنے سامنے ایک فاصلے پر کھڑا کیا۔۔۔۔تا کہ دور سے دیکھنے والا یہی سمجھے کہ ہم سرِ راہ ملے ہیں۔۔ ادھر جیسے ہی میں اس کے سامنے کھڑا ہوا۔۔۔۔ تو یہ دیکھ کر میں حیران رہ گیا کہ اس دوران اُس حسین خاتون نے باقی لیڈیز کی طرح اپنے منہ کو چادر سے ڈھانپ لیا تھا۔۔۔۔مجھے دیکھتے ہی کہنے لگی تمہارے ساتھ کون ہے؟ تو میں نے نفی میں سر ہلا دیا۔۔ اس کے بعد وہ کہنے لگی تم اس بازار میں نئے نئے آئے لگتے ہو ؟ تو میں نے اس کی طرف دیکھ کر سفید جھوٹ بولتے ہوئے کہا کہ آپ کو کیسے معلوم ؟ تو اس پر وہ ہنستے ہوئے بولی وہ اس طرح میری جان کہ میں اس بازار میں آنے والے ہر لڑکے کو ذاتی طور پر جانتی ہوں ۔۔۔اس کے ساتھ ہی اس کے منہ سے غیر ارادی طور پر نکل گیا کہ سالے سارے کے سارے ڈھیلے لن کی پیدائش ہیں۔۔ اتنی بات کر کے وہ ایک دم سے چونک پڑی ۔۔۔اور پھر میری طرف دیکھتے ہوئے بڑے ہی ستائیشی لہجے میں بولی ۔۔۔ لیکن یار تمہارا ہتھیار تو ایک دم سالڈ اور لوہے جیسا ٹھوس ہے۔۔ پھر میری طرف آنکھ دبا کر بولی۔۔۔اور کافی بڑا بھی ہے۔۔اور میں نے اس کی باتوں سے اندازہ لگا لیا تھا کہ اجنبی خاتون اچھی خاصی کھلاڑی اور پکی گشتوڑ (گشتی) ٹائپ کی تھی ۔۔۔ دوسری طرف میرے لن کی تعریف کرنے کے بعد اس نے ادھر ادھر دیکھا اور پھر بڑے ہی پُر اسرار لہجے میں کہنے لگی۔۔۔ ۔۔۔ تمہارے پاس جگہ ہے؟ تو میں نے نفی میں سر ہلا دیا۔۔۔ اس پر وہ تھوڑا تیز لہجے میں کہنے لگی۔ ۔۔۔ جب تمہارے پاس جگہ نہیں تھی ۔۔۔۔تو پھر تم نے مجھے اتنا گرم کیوں کیا؟ اس اجنبی خاتون کی بات سن کر میں نے ہولے سے کہا کہ میں خود بھی تو بہت گرم ہو رہا ہوں ۔۔ میری بات سن کر اس نے میری آگے سے اُٹھی ہوئی قمیض کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ وہ تو مجھے بھی دکھائی دے رہا ہے۔۔۔۔۔۔ پھر خود ہی ہنستے ہوئے کہنے لگی ۔۔۔ میں بھی گرم ۔۔۔اور۔۔۔ تم بھی گرم۔۔۔۔۔ مطلب دونوں طرف آگ برابر لگی ہوئی ہے ؟ تو میں نے ہاں میں سر ہلا دیا۔۔۔ اس پر وہ میری طرف دیکھتے ہوئے بڑے ہی سنجیدہ لہجے میں بولی ۔۔۔ لیکن مسلہ یہ ہے دوست ۔۔۔ کہ اس آگ کو بجھایا کیسے جائے؟۔۔ ۔۔اس کے بعد وہ مسکراتے ہوئے بولی کہ اس آگ کو بجھانے کا ایک طریقہ ہے جو کہ اکثر یہ اتوار بازار والے لڑکے مجھ جیسی خواتین کے ساتھ استعمال کرتے ہیں گو کہ مجھے ٹرک والی جگہ کا اچھی طرح سے معلوم تھا لیکن جانے کیوں اس کے سامنے میں بلکل انجان بن گیا ۔۔ اور معصوم سا چہرہ بنا کر بولا ۔۔۔ کہ وہ کیا ہے جی؟۔ تو میرے استفسار پر وہ کہنے لگی وہ کچھ اس طرح ہے ۔۔۔پھر اس نے مجھے متوجہ کرتے ہوئے اسی خراب ٹرک کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اس بازار کے لڑکے خواتین کو اس ٹرک کے پیچھے لے جاتے ہیں اور پھر اپنے ڈھیلے ڈھالے ہتھیاروں کے ساتھ جلدی جلدی اپنا کام نکال لیتے ہیں ۔۔۔۔ اس پر میں نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا کہ ہم بھی وہیں چلیں؟ تو وہ ہنس کر بولی ۔۔کوئی اور ہوتا تو چلی بھی جاتی ۔۔۔۔لیکن کم از کم تمہارے ساتھ تو میں ہرگز وہاں نہیں جاؤں گی پھر میرے پوچھنے پر اس نے بتلا یا کہ وہ اس لیئے میری جان کہ وہاں پر ہر کام جلدی جلدی میں ہوتا ہے ۔۔ جبکہ تم جیسے ہتھیار والے لڑکے کے ساتھ وہاں جا کر جلدی جلدی سیکس کرنا میرے خیال میں سیکس کی توہین ہے ۔۔۔۔ ۔اتنی بات کر کے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے وہ تھوڑا آگے بڑھی اور میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولی۔۔۔۔ میرے ساتھ چلو گے؟ اس کی بات سن کر میں ششدر رہ گیا اور ہکلاتے ہوئے بولا ۔۔۔ کک کہاں؟ تو وہ مسکراتے ہوئے بولی۔۔۔ ۔۔۔ کہ فکر نہیں کرو۔۔۔ بڑی محفوظ جگہ ہے اور دوسری بات یہ ہے کہ وہاں پر ہم دونوں اطمینان سے سیکس کا بھر پور مزہ لے سکیں گے۔۔۔۔ اس کی بات سن کر میں خاموش ہی رہا اور اس کی وجہ یہ تھی کہ میں اس اجنبی خاتون کے ساتھ آج پہلی بار ملا تھا ۔اس لیئے ۔۔۔ دل ہی دل میں یہ سوچ رہا تھا کہ اس کے ساتھ جانے میں کوئی مسلہ تو نہیں ہو گا؟ ۔۔۔۔۔۔میں اس کے ساتھ جانا بھی چاہتا تھا لیکن بغیر سوچے سمجھے اس کے ساتھ جانے سے ڈر بھی لگ رہا تھا۔۔جبکہ دوسری طرف میرا لن اس کے ساتھ جانے پر بضد تھا ۔۔۔ میرے خیال میں اس نے بھی میرے چہرے پر جاری کشمکش کو پڑھ لیا تھا ۔۔اسی لیئے وہ مجھے تسلی دیتے ہوئے کہنے لگی۔۔۔گھبرانے کی کوئی بات نہیں ۔۔۔ بڑی ہی محفوظ جگہ ہے تو میں نے اس سے پوچھ ہی لیا کہ جس جگہ کا آپ ذکر کر رہی ہو وہ کدھر ہے ؟ تو اس پر وہ ایک دم سیریس ہو کر بولی۔۔۔ میرا گھر۔۔۔اس کی بات سن کر میں نے آنکھیں پھاڑ کر اس کی طرف دیکھا اور بڑی بے یقینی سے بولا ۔۔۔ آ۔۔ آ پ کے گھر؟ تو آگے سے وہ کہنے لگی ہاں میرے گھر۔۔۔ اور پھر اپنا سلسلہء کلام جاری رکھتے ہوئے بولی۔۔۔کہ میرے بچے اپنے کزنز کے ساتھ ۔۔۔ مری گئے ہوئے ہیں اوپر سے میاں نے بھی فون کیا ہے کہ وہ اپنی جاب کے سلسلہ میں بزی ہیں اس لیئے آج رات وہ گھر پر نہیں آ سکیں گے پھر میری طرف دیکھتے ہوئے سیکسی لیڈی کہنے لگی چونکہ آج صبع سے ہی مجھے شدید طلب ہو رہی تھی اس لیئے میاں کے نہ آنے کا سن کر میں بڑی مایوس ہوئی ۔۔۔ اور اپنی طلب کو پورا کرنے کے لیئے بڑے عرصے کے بعد ایک بار پھر سے اتوار بازار میں آ گئی ہوں ۔۔۔سیکسی لیڈی کی بات سن کر میں نے حیران ہوتے ہوئے اس سے پوچھا کس بات کی طلب ؟ تو اس پر وہ شہوت بھرے لہجے میں کہنے لگی۔۔۔ اسی کام کی طلب جو تم میرے آنے سے قبل اس خاتون کے ساتھ پوری کر نے کی کوشش کر رہے تھے ۔۔سیکسی لیڈی کے منہ سے یہ بات سن کر واقعتاً میں حیران رہ گیا ۔۔۔ اور اس سے قبل کہ میں اس سے کچھ کہتا وہ ہنس کر بولی ۔۔ اس میں حیران ہونے کی کوئی بات نہیں یار۔ اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں ۔۔۔ ۔۔۔ پھر بڑے ہی معنی خیز لہجے میں بولی ۔۔۔ دیکھو جس طرح ایک نشہ کرنے والا دور سے ہی دوسرے نشیئی کو پہچان لیتا ہے ٹھیک اسی طرح ایک ٹھرکی عورت کسی ٹھرکی مرد کو ایک نظر میں ہی پہچان لیتی ہے پھر اس کے ساتھ ہی وہ آنکھ دبا کر بولی۔۔۔۔ میں کافی دیر سے کھڑی تمہارا اور اس خاتون کا سین دیکھ رہی تھی۔۔۔تم نے اس کو کافی حد تک رام بھی کر لیا تھا ۔ اس کی بات سن کر میں نے ایک ٹھنڈی سانس بھری اور اس سے کہنے لگا۔۔ لیکن اس کے باوجود بھی اس خاتون نے مجھے کوئی خاص لفٹ نہیں کرائی۔۔۔ تو اس پر وہ ترنت ہی کہنے لگی۔۔۔ لفٹ کیوں نہیں کرائی۔۔ تمہار ے ہتھیار کو تشریف میں لیئے کتنی دیر تک تو وہ بے چاری کھڑی رہی تھی ۔۔۔اور کیسے لفٹ کراتی؟۔۔۔۔۔ ۔۔ اس کی بات سن کر میں نے کہا تو پھر اس نے کوئی رسپانس کیوں نہیں دیا۔۔؟ تو اس پر وہ کہنے لگی۔۔ بات یہ ہے دوست کہ ساری خواتین میری طرح بولڈ نہیں ہوتیں ۔۔۔ عام طور پر ہماری لیڈیز ڈر کے مارے ایسے ہی پیش آتی ہیں۔۔۔ اس کے بعد وہ میری طرف دیکھتے ہوئے کہنے لگی۔۔۔ اسی لیئے اس خاتون کے یہ حالات دیکھ کر میں نے اسے دھکا دے کر پیچھے کر لیا تھا۔۔۔ اس خاتون کی بات سن کر میں ایک دم سے چونک اُٹھا اور شدید حیرت سے بولا۔۔۔ تو ۔۔تو کیا آپ اتفاق سے نہیں بلکہ۔۔۔۔ جان بوجھ کر میرے سامنے آئیں تھیں؟ تو وہ سر ہلا کر بولی ۔۔ یس۔۔۔ تم ٹھیک کہہ رہے ہو۔۔ پھر موضوع تبدیل کرتے ہوئے کہنے لگی۔۔۔ پھر کیا خیال ہے میرے ساتھ چلو گے؟ تیار تو میں پہلے سے ہی تھا بلکہ مجھ سے بھی پہلے میرا لن تیار کھڑا تھا ۔۔ لیکن پھر بھی اس کے سامنے ادا کاری کرتے ہوئے بولا۔۔۔ آپ کی جگہ تو سیف ہے نا ؟ اس پر وہ مسکراتے ہوئے بولی۔۔۔ ایک دم محفوظ ہے یار۔۔ پھر اس کے بعد اس نے مجھے اپنے گھر کا راستہ سمجھایا۔۔ جو کہ اتوار بازار کے پیچھے اور آریہ محلے کے ساتھ واقعہ تھا جب وہ اپنا سارا پتہ سمجھا چکی تو مجھ سے کہنے لگی سمجھ گئے ہو نا؟ میں چونکہ اسی علاقے میں پلا بڑھا تھا اور یہاں کے چپے چپے سے واقف تھا اس لیئے میں نے اس خاتون کو اس کے گھر کے ساتھ ایک دو نشانیاں بتاتے ہوئے بولا۔۔ کہ اس حساب سے تو آپ کا گھر ٹرانسفارمر والی گلی کے قریب بنتا ہے اب آپ بتاؤ کہ میں ٹھیک کہہ رہا ہوں یا غلط؟ تو وہ میری طرف دیکھتے ہوئے کہنے لگی کہ تم ٹھیک کہہ رہے ہو میری جان۔۔ پھر اپنا پتہ سمجھاتے ہوئے بولی ٹرانسفارمر والی گلی کے شروع میں سفید رنگ ایک ہی بڑا سا گیٹ ہے اور وہی ہمارا گھر ہے ۔۔۔ پھر اس کے بعد وہ مجھے سارا پلان سمجھا کر بولی۔۔۔ اب سے ٹھیک ایک گھنٹے کے بعد تم کو میرے گھر پر ہونا چایئے۔۔اور پھر آنکھ دبا کر بولی۔۔۔ فکر نہیں کرو ۔۔ خطرے کی کوئی بات نہیں میں گھر پر اکیلی ہی ہوں گی۔۔۔۔ یہ کہتے ہی وہ اتوار بازار سے باہر کی طرف چل دی۔۔۔۔۔ اجنبی اور شہوت کی ماری خاتون کی رُخصتی کے بعد میں کافی دیر تک وہیں کھڑا سوچتا رہا۔۔۔کہ آیا اس سیکسی عورت کے گھر جانا مناسب بھی ہے کہ نہیں؟ کچھ دیر غور و غوض کے بعد میں نے لن کی بات سُنی ۔۔۔ اور اس اجنبی خاتون کے گھر جانے سے جُڑے تمام وسوسوں کو ایک طرف پھینک کر ۔۔۔ خود کو یہ کہتا ہوا اپنے ایک دوست کی طرف چل پڑا کہ اجنبی جگہ پر اجنبی عورت کو چودنے کا اپنا ہی مزہ اور تھرل ہوتی ہے اور میں یہ مزہ لیئے بغیر نہیں رہوں گا۔۔۔اس کے بعد میں اپنے دوست کے پاس پہنچا اور اس سے ونڈو کی ایک آدھ سی ڈی کے ساتھ ساتھ دو تین مزید سی ڈیاں لیں اور انہیں ایک شاپر میں ڈال کر اس اجنبی خاتون کے بتائے ہوئے پتے کی طرف چل پڑا ۔۔۔۔ باقی راستہ تو ٹھیک ہی گزرا ۔۔۔ لیکن جیسے ہی میں اس کی گلی کے قریب پہنچا تو۔۔ ایک دفعہ پھر نامعلوم اندیشوں نے مجھے اپنے حصار میں لے لیا۔۔۔ لیکن اس وقت تک مجھ پر اس اجنبی خاتون کی طلب اس قدر شدت سے سوار تھی کہ میں نے ان تمام اندیشوں کو بالائے طاق رکھا ۔۔۔اور ۔۔۔ پھر گلی کے شروع میں ہی واقعہ سفید گیٹ کے پاس پہنچ کر اس کی بیل دبا دی۔۔۔ پروگرام کے مطابق اس نے تیسری بیل پر دروازہ کھولنا تھا ۔۔اس لیئے کچھ وقفے کے بعد میں نے جونہی دوسری دفعہ گھنٹی بجائی تو اچانک ہی گیٹ کھلا اور وہی اجنبی خاتون باہر نکل کر مجھ سے کہنے لگی۔۔۔ ۔۔۔ جی بیٹا ۔ آپ نے کس سے ملنا ہے؟ تو میں نے اس کی بتائی ہوئی پٹی کے مطابق کہا۔۔۔ آنٹی ادریس ہے؟ تو آگے سے وہ کہنے لگی ۔۔نہیں بیٹا وہ تو اپنے کزنز کے ساتھ مری چلا گیا ہوا ہے۔ پھر میری طرف دیکھ کر بولی ۔۔ کوئی کام تھا؟ تو میں نے جواب دیتے ہوئے کہا ۔۔ آنٹی اس نے مجھے کمپیوٹر ونڈو کے بارے میں کہا تھا۔۔۔ میری بات سن کر اس نے گیٹ سے باہر جھانک کر ایک نظر گلی میں ڈالی ۔۔ اتفاق سے گلی سنسان تھی اور اس وقت وہاں کوئی نہ تھا ۔۔لیکن پھر بھی وہ میری طرف دیکھ کر اونچی آواز میں بولی۔۔ ۔۔۔ یاد آیا ۔۔ بیٹا تمہارے بارے میں ادریس مجھے بتا کر گیا تھا۔۔۔ اندر آ جاؤ۔۔۔ اور میں اپنے ہاتھ میں سی ڈیز کا شاپر لیئے بغیر ادھر ادھر دیکھے گھر میں داخل ہو گیا۔۔۔۔۔ جیسے ہی میں اس کے گھر میں داخل ہوا تو اس ایک دفعہ پھر دروازے کی اوٹ سے اپنے سر کو باہر نکال کر گلی میں جھانکا ۔۔۔ اور پھر دروازے کو لاک کر کے کہنے لگی کہ آؤ چلیں ۔۔ اور مجھے لے کر اپنے ڈرائینگ روم آ گئی ادھر جیسے ہی میں ڈرائینگ روم میں داخل ہوا تو سامنے ایک قدِ آدم تصویر کو دیکھ کر میرے ٹٹے ہوائی ہو گئے اور جہاں پر میں کھڑا تھا میرے قدم وہیں رُک گئے کیونکہ وہ ایک پولیس والے کی تصویر تھی جو کہ وردی میں ملبوس تھا۔۔ میری حالت کو دیکھ کر وہ ساری بات سمجھ گئی اور اس سے پہلے کہ میں اس سے پوچھتا کہ یہ حضرت کون ہیں ؟ وہ خود ہی کہنے لگی کہ یہ میرے میاں کی تصویر ہے اس پر میں نے بڑی خوف ذدہ نظروں سے اس کی طرف دیکھا ۔۔۔ تو مجھے خوف ذدہ دیکھ کر وہ کہنے لگی فکر نہ کرو یہ آج رات کسی چھاپے کے سلسلہ میں شہر سے باہر ہوں گے اور اگر آ بھی گئے تو بہت لیٹ نائیٹ آئیں گے۔۔۔ پھر میرا ہاتھ پکڑ کر کہنے لگی۔۔۔ مت گھبرا میری جان ۔۔ ۔۔میری طرف دیکھ ۔۔ تم یہاں کچھ اچھا وقت گزارنے کے لیئے آئے ہو ۔۔۔اتنی بات کرتے ہی وہ میرے ساتھ گلے لگ گئی اور میرے ہونٹوں کو چومتے ہوئے بڑی ہی سیکسی آواز بولی ۔۔۔ جانو!!!!!!!۔۔ مجھے تمہارے لن کی بڑی شدید طلب ہو رہی ہے پھر تصویر کو دیکھ کر میرے مردہ ہونے لن کو اپنے ہاتھ میں پکڑ کر بولی جانو!۔۔۔ آج مجھے ایسے چودو کہ میری پھدی پھٹ جائے۔۔۔ اس کے ساتھ ہی اس نے دوبارہ سے میرے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دیئے۔۔۔ اور میرے لن کو سہلاتے ہوئے میرے منہ میں اپنی زبان کو داخل کر دیا۔۔۔ اور پھر میری زبان کو اپنے منہ میں لے کر اسے چوسنے لگی ۔۔۔ سیکسی لیڈی کے ایسا کرنے سے میں واپس اپنی جون میں آنے لگا۔۔۔۔ وہ میری زبان کو چوستے ہوئے جیسے جیسے میرے لن کو دباتی جاتی ویسے ویسے اس میں دوبارہ سے جان پڑنا شروع ہو جاتی اور وہ پھولتا چلا جاتا۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔اور پھر کچھ دیر بعد ۔۔۔ میں بھی اس اجنبی خاتون کی کسنگ کا بھر پور طریقے سے جواب دینے لگا۔۔۔۔۔اسی اثنا میں نیچے سے میرا لن بھی تن گیا تھا ۔۔۔یہ دیکھ کر اس نے میرے لن کو سہلاتے ہوئے میرے منہ سے اپنے منہ کو ہٹایا ۔۔۔اور میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کے بولی ۔۔۔۔۔ میرا شیر اُٹھ گیا ہے۔۔۔پھر اسے دباتے ہوئے بولی ۔۔ میرے میاں کی تصویر نے تمہیں اپ سیٹ کر دیا تھا ۔۔؟ تو میں نے ہاں میں سر ہلا دیا۔۔۔تب وہ کہنے لگی میرے ساتھ آؤ۔۔۔ تو میں نے اس سے پوچھا کہ کہاں جانا ہے؟ تو وہ لگی۔۔۔۔ میرے خیال میں ادریس کا کمرہ بہتر رہے گا۔۔۔۔چنانچہ ہم لوگ ڈرائینگ روم سے نکل کر اس گھر کے آخری کمرے میں جا پہنچے۔۔۔ یہ ایک درمیانہ سا کمرہ تھا ۔۔ دروازے سے داخل ہوتے ہی سامنے کمپیوٹر ٹیبل پڑا تھا اس کمپیوٹر ٹیبل کے ساتھ ایک ٹُو سیٹر صوفہ پڑا ہوا ۔اور ۔۔اس صوفے کے اوپر ادریس صاحب کا سکول بیگ اور دیگر گند بلا پڑا ہوا تھا ۔۔ صوفے کے سامنے ٹیبل کے ساتھ ایک ڈبل بیڈ بھی تھا اور اس ڈبل بیڈ پر ادریس صاحب کے میلے کپڑے بکھرے ہوئے تھے مجموعی طور پر یہ ایک ویسا ہی مردانہ کمرہ تھا جیسا کہ ہمارے ہاں لڑکوں کا ہوا کرتا ہے مطلب ہر چیز بے ترتیب اور بے ڈھنگے پن سے پڑی ہوئی تھی یہ دیکھ کر اس خاتون نے مجھے رکنے کا اشارہ کیا اور پھر صوفے پر رکھے مختلف فلموں کی سی ڈیز اور اس کے سکول بیگ کو نیچے پھینک کر بولی ۔۔۔سوری یار میرا بیٹا بڑا لاپرواہ اور نکما ہے ہزار دفعہ سمجھانے کے باوجود بھی چیزیں اپنی جگہ پر نہیں رکھتا ۔۔۔ پھر مجھے صوفے پر بٹھانے کے بعد وہ ۔۔۔ میں ابھی آئی ۔۔۔ کہہ کر باہر نکل گئی۔۔۔ اور اس کے جانے کے بعد میں نے اس لڑکے کے کمرے کا جائزہ ۔ ۔۔تو جیسا کہ میں پہلے بھی آپ کو بتا چکا ہوں کہ میں نے اس کمرے کو ویسا ہی پایا کہ جیسا کہ اس عمر کے لڑکوں کا ہوا کرتا ہے ابھی میں کمرے کا جائزہ لے ہی رہا تھا کہ ہاتھ میں ٹرے پکڑے وہ خاتون دروازے سے نمودار ہوئی اور میں نے دیکھا تو اس ٹرے میں ایک جگ اور دو گلاس رکھے ہوئے تھے۔۔ جگ میں جوس پڑا ہوا تھا ۔۔کمرے میں داخل ہو کر اس نے دروازے کو بند کیا اور پھر میرے پاس بیٹھ کر وہ جگ سے گلاس میں جوس انڈیلتے ہوئے بولی۔۔۔ جلدی تو نہیں نا؟ تو میں نے نفی میں سر ہلا دیا ۔۔جوس پینے کے بعد اس نے جگ گلاس صوفے کے سامنے پڑے ٹیبل پر رکھا اور پھر میری طرف جھک کر بولی۔۔۔کیا خیال ہے؟ تو میں نے ا نجان بنتے ہوئے اس سے کہا کس بارے میں جی ؟ میری بات سن کر اس کی آنکھوں میں ایک شرارت سی آ گئی اور اس کے ساتھ ہی اس نے میرے ہاتھ کو پکڑ کر اپنی دونوں ٹانگوں کے بیچ رکھ دیا ۔۔۔۔اور پھر کہنے لگی۔۔۔۔اس بارے میں میری جان۔۔۔ جب اس نے میرے ہاتھ کو پکڑ کر اپنی پھدی کی لکیر پر رکھا تھا ۔۔ تو اس وقت میں نے محسوس کیا کہ اس کی پھدی بڑی ہی گرم اور اچھی خاصی گیلی ہو رہی تھی۔۔۔۔ پھر اس نے کچھ دیر تک میرے ہاتھ کو اپنی گرم پھدی پر رہنے دیا ۔۔۔اور پھر اسے ہٹا کر بڑے ہی ہوس ناک لہجے میں بولی ۔۔کچھ سمجھ میں آیا؟ اس پر میں نے اس سیکسی لیڈی کو گردن سے پکڑ کر اپنی طرف کھینچا تو کچے دھاگے سے سرکار بندھی آئی۔۔۔۔۔اور مجھ سے کہنے لگی کہ یہ تم میرے منہ کو کس طرف لے جا رہے ہو؟ تو میں اپنا منہ اس کے منہ کے قریب لا کر بولا ۔۔ فی الحال تو اسے میرے منہ کی طرف آنے دو ۔۔۔ میری بات سن کر اس نے ایک نظر میری شلوار میں تمبو بنے لن کی طرف دیکھا اور پھر کہنے لگی ۔۔۔ میں سمجھی کہ میرے منہ کو شاید تم اپنے ناگ کی طرف لے جانا چاہتے ہو۔۔ اس کے ساتھ ہی نے میرے لن کو اپنے ہاتھ پکڑا اور اسے سہلاتے ہوئے بولی۔۔۔ جانو بتا نہ کہ تیرے ناگ کا ڈنگ کیسا ہے ؟ تو میں نے اس کے منہ کو مزید قریب ہوتے ہوئے کہا۔۔۔ میرے ناگ کے ڈنگ میں ایک نشہ ہے۔۔۔۔ ایسا نشہ کہ اگر ایک بار کسی کو اس کی چاٹ لگ جائے تو پھر ۔۔تا عمر وہ اسی کے نشے کا طلب گار رہتا ہے میری بات سن کر اس نے میرے ہونٹوں کے اپنے ہونٹوں کے ساتھ جوڑا۔۔ ہلکی سی کِس کی ۔۔۔ اور پھر اپنے سر کو میری گود میں رکھ کر اپنی لمبی سی زبان کو باہر نکالا ۔۔۔۔ اور شلوار کے اوپر سے ہی میرے لن کو چاٹ کر بولی ۔۔۔ مجھے بھی اس کے نشے کا عادی بناؤ نا ۔۔۔۔ اور پھر۔۔اس کے ساتھ ہی اس نے ایک مستی کے عالم میں میرے لن کو اتنی دفعہ چاٹا کہ اس کی زبان کے گیلے پن سے میری شلوار بھی گیلی ہو گئی۔۔۔۔ اور یہ گیلی شلوار میرے لن کے ساتھ چپک گئی تھی ۔۔۔ ادھر گیلی شلوار کے اوپر سے میرے لن کو چاٹنے کے دوران اس کا ایک ہاتھ میرے آزار بند کی طرف بڑھا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے اس نے میری شلوار کا نالہ کھول دیا۔۔۔۔ جیسے ہی میرا نالا کھلا اس نے میری شلوار کو اتار کر فرش پر پھینک دیا ۔۔۔اب میرا ناگ اپنے پورے جوبن پر پھن پھیلائے اس کے سامنے جھوم رہا تھا۔۔ میرے ناگ کو اس طرح جھومتے دیکھ کر وہ بڑی امپریس ہوئی اور پھر بڑی ہی ستائیشی نظروں سے میری طرف دیکھتے ہوئے کہنے لگی دیکھنے میں تو ناگ بڑا ہی متاثر کُن ہے آگے دیکھو اس کا ڈنگ کیسا ہو گا ؟ ابھی اس نے یہ بات کی ہی تھی کہ مجھ سے رہا نہ گیا۔۔۔ چنانچہ میں نے اس کے سر کو پکڑ کر اپنے لن کی طرف دباتے ہوئے کہا میڈم جی ڈنگ کی بعد میں دیکھی جائے گی پہلے اسے منہ میں لے کر تھوڑا چوسو ۔۔۔ ۔ میری فرمائیش پر میڈم نے بس ایک ہی دفعہ میرے لن کو اپنے منہ میں لے کر اندر باہر کیا اور پھر اسے باہر نکال کر سہلاتے ہوئے بولی ایک بات کہوں؟ تو میں نے آگے سے جواب دیتے ہوئے کہا ۔۔۔ جی پلیززززز۔۔۔ تو اس پر وہ بولی کہ اگر تم نے لن چسوانے کا اچھی طرح سے مزہ لینا ہے تو پہلے مجھے مُوڈ میں آنے دو ۔ سیکسی لیڈی کے منہ سے یہ بات سن کر میں نے حیران ہوتے ہوئے اس سے پوچھا کیا مطلب آپ ابھی تک موڈ میں نہیں ہو؟ اس پر اس نے اپنے سر کو نفی میں ہلاتے ہوئے کہا ۔۔ کہ نہیں جان ابھی تو صرف میں بمشکل گرم ہوئی ہوں ۔۔ مُوڈ میں تھوڑی دیر بعد آؤں گی اس کے بعد وہ میری رانوں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہنے لگی مجھے تمہاری رانوں پر اُگے یہ موٹے اور گھنے بال بہت پسند آئے ہیں۔۔۔۔۔۔پھر میری طرف دیکھتے ہوئے کہنے لگی ۔۔۔ کہ اگر تم ناراض نہ ہو تو میں تمہاری ان سیکسی رانوں کو تھوڑا انجوائے کر لوں اور پھر میرا جواب سنے بغیر ہی وہ اوپر کو اُٹھ کھڑی ہوئی۔۔ یہ دیکھ کر میں نے اس سے پوچھا کہ آپ کیا کرنے لگی ہو؟ تو آگے سے وہ شہوت بھرے لہجے میں کہنے لگی۔۔۔ کہ تمہاری مست رانوں پر اپنی گرم پھدی رکھنے لگی ہوں۔۔۔ اور مجھے اشارہ کرتے ہوئے کہنے لگی کہ اس کام کے لیئے تم بیڈ پر آ جاؤ۔۔ میڈم کے کہنے پر میں صوفے سے اُٹھا اور پلنگ کی طرف چلنے لگا لیکن پھر بستر پر پڑے میلے کپڑوں کا ڈھیر دیکھ کر اس نے مجھے تھوڑا ٹھہرنے کا بولا اور پھر جلدی سے بیڈ پر بکھرے ہوئے گندے کپڑوں کو وہاں سے ہٹایا۔۔۔۔ اور پھر بستر کو اچھی طرح سے جھاڑنے کے بعد مجھ سے بولی جانو!!!۔۔ اپنی قمیض اتار کے پلنگ پر لیٹ جاؤ ۔ تو میری پہلے سے ہی اتری ہوئی تھی اس لیئے سیکسی لیڈی کے کہنے پر میں نے جلدی سے قمیض اتار ی اور بیڈ پر جا کر لیٹ گیا۔۔۔اور پھر اس کی طرف دیکھنے لگا۔۔۔جب میری اس پر نظر پڑی تو اس وقت تک وہ اجنبی خاتون اپنی برا اور قمیض دونوں اتار چکی تھی اور میرے سامنے ٹاپ لیس کھڑی تھی۔۔۔۔ اور میں آنکھیں پھاڑ پھاڑ کے اس کی بھاری بھر کم چھاتیوں کی طرف دیکھ رہا تھا جو کہ کافی موٹی لیکن لمبوتری شکل کی تھیں اور میں نے دیکھا کہ ان بھاری چھاتیوں پر براؤن رنگ کے موٹے موٹے نپلز اکڑے کھڑے تھے پھر میرے دیکھتے ہی دیکھتے اس سیکسی لیڈی نے اپنی شلوار کی طرف ہاتھ بڑھایا اور پھر اپنا آزار بند کھول کر شلوار بھی اتار دی ۔۔۔ اُف اس وقت اس کا ننگا بدن میری آنکھوں کے سامنے تھا ٹیوب لائیٹ کی روشنی میں اس کا دودھیا بدن چمک رہا تھا ۔۔۔ جیسے ہی میڈم فُل ننگی ہوئی اس نے میری طرف دیکھتے ہوئے اپنی ایک چھاتی کو منہ کے قریب کیا ۔۔۔۔اور اپنی زبان نکال کر نپل کو چاٹتے ہوئے شہوت بھرے لہجے میں کہنے لگی ۔۔۔۔ میں ننگی کیسی لگتی ہوں؟ ۔۔۔ بلاشبہ میڈم جنسی لحاظ سے بڑے ہی پُر کشش جسم کی مالک تھی اور اس کے ساتھ ساتھ اس کے پورے وجود میں شہوانیت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی ۔۔ میں کہ پہلے ہی اس کے ننگے جسم کو ہوس ناک نظروں سے دیکھ رہا تھا میڈم کی بات سن کر بولا ۔۔ آپ جیسی سیکسی عورت کو چودنا کسی بھی مرد کا خواب ہو سکتا ہے میری بات سنتے ہی میڈم جمپ مار کر پلنگ پر آئی اور پھر میرے سامنے کھڑے ہو کر کہنے لگی ۔۔۔ پھر آؤ ۔۔۔اور مجھے چود کے اپنا خواب پورا کر لو۔۔۔ ۔۔۔ جیسے ہی وہ سیکسی لیڈی پلنگ پر آ کر میرے سامنے کھڑی ہوئی تو اس وقت میری نظریں چھاتیوں سے ہوتی ہوئیں اس کی خوب صورت چوت پر آ کر گڑ ھ گئیں اور میں نے دیکھا کہ میڈم کی بڑی سی چوت کالے کالے بالوں سے ڈھکی ہوئی تھی اور اسی دوران میری تجربہ کار نگاہوں نے یہ بات بھی نوٹ کر لی تھی کہ چھاتیوں کی طرح میڈم کی چوت بھی لمبائی رُخ پر تھی اور دوسری بات یہ کہ چوت کے علاوہ میڈم کے پورے جسم پر ایک بھی بال نہ تھا ۔۔۔ بلکہ اس کا باقی بدن ایک دم دودھیا سفید اور بالوں سے پاک تھا اور اس کے گورے بدن پر صرف ایک مخصوص جگہ پر اُگے ہوئے یہ کالے کالے بال بہت بھلے لگ رہے تھے مجھے اپنی پھدی کی طرف غور سے دیکھتے ہوئے وہ بڑی شوخی کے ساتھ کہنے لگی کہ ادھر کیا دیکھ رہے ہو ؟ تو آگے سے میں نے جواب دیتے ہوئے اس سے کہا کہ۔۔ میڈم آپ کی چوت پر اُگے ہوئے یہ کالے کالے بال بہت اچھے لگ رہے ہیں ۔۔ پھر میں نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا کہ میڈم پلیزز تھوڑا سا گھوم جائیں ۔۔۔ میری فرمائیش سن کر وہ مسکراتے ہوئے کہنے لگی کہ میری بنڈ کو دیکھنا چاہتے ہو؟ اور اتنی بات کرتے ہی اس نے اپنے منہ کو دوسری طرف پھیر لیا اور پھر میرے سامنے جھک کر اپنی گانڈ کو نمایاں کرتے ہوئے بولی ۔۔۔۔ کیسی لگی میری بنڈ؟ اس کی بات سن کر میں آگے بڑھا اور میڈ م کے پیچھے جا کر گھٹنوں کے بل کھڑا ہو گیا اور پھر اس کی گانڈ کا اچھی طرح جائزہ لینے لگا ۔۔۔اس کی گانڈ جیسا کہ میں پہلے بھی بتا چکا ہوں کہ کافی موٹی اور خاص بات اس کی یہ تھی کہ وہ اچھی خاصی باہر کو نکلی ہوئی تھی عورت کی موٹی اور گوری گانڈ ویسے بھی میری کمزوری تھی اس لیئے میں نے بے اختیار اس پر ہاتھ پھیرنا شروع کر دیا.
سامنے کتیا بنی ہوئی میڈم ۔۔۔ ایک دم سے اُٹھ کھڑی ہوئی اور میرے ساتھ گلے لگتے ہوئے بڑی شوخی کے ساتھ کہنے لگی۔۔۔۔۔۔۔ میری بنڈ کا صواد (مزہ) کیسا تھا؟؟؟؟؟ ۔۔اس کی بات سن کر میں نے منہ بسورتے ہوئے کہا کہ ابھی مزہ آنے ہی لگا تھا کہ آپ نے لن کو باہر نکلوا لیا تو وہ کہنے لگی۔۔۔ ناراض نہ ہو جانو۔۔ ۔۔۔۔ میری بنڈ کہیں بھاگی نہیں جا رہی۔۔۔۔ ۔۔ اسے جب چاہو ۔۔۔ رج کے وجا لینا۔۔۔۔ لیکن ۔۔۔۔ سوری جان اس وقت میں اس پھدی کے ہاتھوں سخت مجبور ہوں۔۔۔۔ یہ کہتے ہی اس نے میرے لن کو اپنے ہاتھ میں پکڑ ا ۔۔۔۔اور اسے ہلاتے ہوئے بولی۔۔ فکر نہیں کرو جانو۔۔۔۔ اسے میری پھدی میں ڈال کے تم کو بنڈ سے زیادہ مزہ آئے گا یہ کہتے ہی اس نے پاس پڑے ایک سرہانے کو اُٹھایا اور کہنے لگی ۔۔ چوت کی چودائی کے لیئے مجھے اپنا دیسی سٹائل بہت اچھا لگتا ہے تو میں نے ویسے ہی اس سے پوچھ لیا کہ وہ کیوں میڈم ؟ ۔۔۔تو اس پر وہ کہنے لگی ۔۔۔وہ اس لیئے جانو۔۔ کہ اس سٹائل میں ایک تو لن پھدی کے اندر تک چلا جاتا ہے۔۔۔۔اور دوسرا اس طرح چوت مروانے مرد کا لن عورت کی بچہ دانی پر ٹھوکر بھی مارتا ہے جس کی وجہ سے چودائی کا مزہ دوبالا ہو جاتا ہے۔۔۔ اتنی بات کرتے ہی وہ تکیے کو اپنی ہپس کے نیچے رکھ کر پلنگ پر سیدھی لیٹ گئی ۔ چوتڑوں کے نیچے تکیہ ہونے کی وجہ سے میڈم کی بالوں و الی چوت مزید ابھر کر سامنے آ گئی تھی ۔۔۔۔یہ دیکھ کر میں آگے بڑھا اور میڈم کی دونوں ٹانگوں کو اُٹھانے سے پہلے نیچے جھک کر اس کی بالوں والی چوت کا ایک زبردست بوسہ لیا ۔۔۔اور اس کے ساتھ ہی میڈم کی سڈول ٹانگوں کو اُٹھا کر اپنے کندھے پر رکھ لیا۔۔۔۔اور پھر لن کو اس کی پھدی کے کھلے منہ پر رکھ کر ایک نظر میڈم کی طرف دیکھا تو وہ بڑے اشتیاق سے میری طرف دیکھ رہی تھی۔۔۔۔ جیسے ہی ہم دونوں کی نظریں ملیں تو و ہ مجھ سے کہنے لگی۔۔۔ کیوں کیا ہوا؟ تو آگے سے میں نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ کس بات کا میڈم ؟ میری بات سن کر وہ بولی ۔۔۔ تم اندر ڈال کیوں نہیں رہے ؟ تو میں نے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر شہوت بھرے لہجے میں اس سے پوچھا ۔۔۔۔ڈال دوں؟ تو وہ بھی مجھ سے دُگنی شہوت بھری آواز میں بولی ۔۔۔ دیر نہ کر۔۔۔ جلدی سے اندر ڈال ۔۔ اس کے بات سنتے ہی میں نے ایک دھکا لگایا اور میرا لن پھسلتا ہوا میڈم کی کھلی چوت میں غائب ہو گیا۔۔۔۔۔۔۔ جیسے ہی میرا لن میڈم کی کھلی چوت میں داخل ہوا۔۔۔تو مجھے معلوم ہوا کہ۔۔۔۔۔ واقعی میڈم کی چوت اس کی گانڈ سے ہزار درجہ زیادہ گرم اور پانی سے بھری ہوئی تھی ۔۔۔ ادھر میرے لن کو اپنی چوت میں محسوس کرتے ہی حسبِ توقع میڈم نے لزت آمیز سسکیاں بھرنا شروع کر دیں ۔۔۔اور انہی سسکیوں کے درمیان مجھ سے کہنے لگی۔۔۔۔ دیر نہ کر مجھے چود۔۔۔۔ میری پھدی مار۔۔۔۔۔۔۔۔میری چوت چود۔۔کس کے گھسے مار ۔۔ میڈم کی سیکسی باتیں سن کر مجھے بھی جوش آ گیا اور میں نے اپنی پوری طاقت کے ساتھ گھسے مارنے شروع کر دیئے اور میرے ہر جھٹکے کے جواب میں میڈم مزید لزت آمیز سسکیاں لیتی اور ایک ہی بات کو بار بار کہتی ۔۔۔اور وہ یہ کہ۔۔۔۔ مجھے چود ۔۔۔۔ میری پھدی مار۔۔۔۔ اس اجنبی خاتون کو اس طرح چودنے ۔۔۔۔۔ اور میرے طاقتور گھسوں کی وجہ سے میرے ٹوپے کی نوک بار بار میڈم کی بچہ دانی کے ساتھ ٹکرا رہی تھی۔۔۔اور پھر جیسے ہی میرا لن اس اجنبی خاتون کی بچہ دانی پر ٹھوکر مارتا۔۔۔۔ نیچے سے وہ تڑپ سی جاتی اور پھر پہلے سے بھی زیادہ سیکسی انداز میں۔۔ وہی لزت آمیز راگ آلاپتی کہ جسے سن کر میرا جوش مزید بڑھ جاتا ۔۔۔۔۔ اور وہ یہ کہ مجھے چود ۔۔۔ مجھے چود ۔۔۔میری پھدی مار۔۔۔۔ پھر ایسے ہی گھسے مارتے مارتے ۔۔۔ میرے نیچے پڑی وہ اجنبی خاتون اچانک ہی کہنے لگی ۔ ۔ بس ایک دو گھسے ۔۔ مزید۔۔۔۔اور ۔۔۔۔ اور ۔۔۔ میرا کام ہو جائے گا۔۔۔۔ا ور پھر اگلے ہی لمحے میری طرف سے طاقتور گھسہ مارنے پر ۔۔۔ میڈم نے بھی نیچے سے اپنی خوبصورت گانڈ ہلانی شروع کر دی۔۔۔۔۔اور میرے گھسوں کے جواب میں اس نے بھی نیچے سے اوپر کی طرف گھسے مارنے شروع کر دیئے اس اجنبی خاتون کا یہ حال دیکھ کر میں سمجھ گیا۔۔۔ کہ میڈم کسی بھی وقت چھوٹنے والی ہے اسی دوران۔۔۔ جیسے ہی میرے لن اس کے بالوں کو چیرتا ہوا سیدھا چوت میں گھسا۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔تو عین اسی وقت میرے نیچے پڑی ہوئی وہ اجنبی خاتون جل بن مچھلی کی طرح تڑپی۔۔اور میرے ساتھ لپٹ گئی۔۔۔۔۔ اور میں نے محسوس کر لیا کہ ریشمی بالوں سے ڈھکی میڈم کی چوت پانی چھوڑ رہی ہے۔۔۔ اور اس دوران اوپر تلے گھسے مارتے ہوئے میرا لن بھی مزید پھولنا شروع ہو گیا۔۔۔۔ اور پھر میں نے بڑی مشکل سے آخری آخری دو تین جھٹکے مارے۔۔۔اور پھر آخری گھسہ مارتے ہی میں لزت سے بے حال ہو گیا۔۔۔۔اور میرے لن سے منی نکل نکل کر اس انجان لیڈی کی چوت کو بھرتی گئی۔۔۔ بھرتی گئی۔۔۔۔۔ ۔۔پھر اس رات میں نے اس اجنبی خاتون کے ساتھ تین دفعہ سیکس کیا۔۔اس کے باوجود کہ اس سے قبل میں نے بعض خواتین کے ساتھ ساری ساری رات سیکس کیا تھا۔۔جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ چوت مارنے کے بعد عام طور پر ایک بڑا ہی میٹھا سکون سا ملتا ہے ۔۔۔لیکن پتہ نہیں کیوں اس رات اجنبی لیڈی کے ساتھ سیکس کرنے کے بعد میرا انگ انگ دُکھ رہا تھا …۔۔ اور میں بہت زیادہ تھکاوٹ محسوس کر رہا تھا ۔۔ ۔۔۔۔۔اور اس کے ساتھ ساتھ اچانک ہی اچانک ہی مجھے بڑی سخت بھوک بھی لگ گئی تھی۔۔ اگلے دن اس بات کا جب۔۔ میں نے عارف کے ساتھ کیا تو میری بات سن کر وہ ایک دم سے چونک پڑا اور بڑی تیزی کے ساتھ اس نے مجھے رات والی خاتون کا حلیہ بتا کر پوچھا کہ کیا یہی تھی؟ تو میں نے ہاں میں سر ہلا دیا۔۔ میری کنفرمیشن کے بعد وہ بہت زیادہ سنجیدہ ہو گیا۔۔۔ اور پھر میری طرف دیکھتے ہوئے کہنے لگا کہ اس میں کوئی شک نہیں دوست کہ وہ عورت بہت زیادہ سیکسی اور اے ون چداکڑ ہے لیکن یار تمہارے لیئے میرا ایک مشورہ ہے اور وہ یہ کہ جہاں تک ہو سکے اس خاتون سے بچنا ۔۔ پھر میرے پوچھنے پر وہ کہنے لگا کہ ۔۔۔۔ باوا بچ یہ عورت بڑی سخت بچہ گھوپ ہے اور اس کی پھدی کے اندر کوئی ایسا میگنٹ فٹ ہے کہ جو بندہ بھی اس کو ریگولر چودتا ہے ۔۔۔ کچھ عرصہ کے بعد یا تو وہ خصی ہو جاتا ہے اور اگر ایسا نہ بھی ہو تو کم از کم اس کا لن ضرور ڈھیلا ہو جاتا ہے اس پر میں بڑی حیرانی کے ساتھ بولا۔۔۔ لیکن یار اس کی کیا وجہ ہو سکتی ہے؟ تو آگے سے وہ کہنے لگا۔۔کہ اصل وجہ تو میرے خیال میں کسی کو بھی نہیں معلوم ۔۔لیکن اس کے بارے میں ہم سب "چوبوں" کا مشترکہ خیال ہے کہ اس کو کوئی اندرونی یا کوئی خفیہ بیماری لاحق ہو سکتی ہے پھر بات کو جاری رکھتے ہوئے بولا کہ اس کی دوسری وجہ اس کا حد سے زیادہ سیکسی ہونا بھی ہو سکتا ہے کیونکہ تم نے محسوس کیا ہو گا کہ اتنی چودائی کے باوجود بھی وہ ہل من مزید کے چکر میں رہتی ہے۔۔ پھر میری طرف دیکھتے ہوئے پرُ اسرار لہجے میں کہنے لگا کہ مختصر یہ کہ کوئی رولا تو ہے نا کہ جس کی وجہ سے یہ گشتی۔۔۔ چدوانے کے بعد ہر کسی کو نہ صرف پیسے دیتی ہے بلکہ آئیندہ بھی دوستی رکھنے کی صورت میں ماہانہ کی بنیاد پر پیسے دینے کا وعدہ کرتی ہے پھر مجھ سے کہنے لگا اور میں اس بات پر تم سے شرط لگا کر کہتا ہوں کہ اس نے تم کو بھی پیسے دیئے ہوں گے تو میں نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے اسے اس بارے میں بتا دیا ۔ سوری میں تھوڑا آگے نکل گیا ۔ ویسے میرے خیال میں اس سیکسی لیڈی کو بیماری شیماری کوئی نہیں تھی اور اس کی وجہ یہ تھی کہ ان تین شارٹوں کے دوران میں نے بہت تسلی کے ساتھ اس خاتون کی چوت کو چاٹا تھا اور اگر اس کی چوت میں کوئی اندرونی بیماری ہوتی تو ۔۔۔ کم از کم مجھے اس کی پھدی سے کسی قسم کی سمیل مطلب بوُ وغیرہ آنا چاہیے تھی لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا ۔۔ سو اس میڈم کو چودنے اور عارف کے ساتھ ڈسکس کرنے کے بعد جو بات مجھے سمجھ میں آئی تھی وہ یہ تھی ۔۔۔ کہ اس جیسی مہا سیکیی خاتون کو چودنا اکیلے بندے کا کام نہیں تھا۔۔۔ کیونکہ اس میں اس قدر زیادہ سیکس پاور تھی کہ اپنی اس پاور کے زور پر ۔۔۔۔ وہ خاص کر کم عمر کے لڑکوں کی ہڈیوں تک کو چوس لیتی تھی۔ سوری دوستو۔۔۔میں ایک بار پھر اپنے موضوع سے ادھر ادھر ہو گیا تھا۔۔۔۔ ہاں تو میں کہہ رہا تھا کہ۔۔ آخری شارٹ کے بعد وہ مجھے بستر پر چھوڑ کر خود کچن کی طرف روانہ گئی اس کے کمرے سے نکلتے ہی میں واش روم میں گھس گیا اور پھر اس کے آنے تک میں نہا دھو کر تیار بیٹھا تھا۔۔۔۔مجھے کپڑوں سمیت صوفے پر بیٹھے دیکھ کر اسے ایک ہلکا سا شاک ہوا اور وہ مجھ سے کہنے لگی۔۔۔ جانو!۔۔ کپڑے اتنی جلدی کیوں پہن لیئے ؟؟ ۔۔تو میں نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ کیوں خیریت ؟ تو وہ مسکراتے ہوئے کہنے لگی ۔۔۔ ابھی تو میں نے تمہاری تھائیز پر اپنی چوت کو بھی رگڑنا تھا ۔۔ لیکن میں نے اس کی بات کو جان بوجھ کر سنا ان سنا کر دیا۔۔ میری طرف سے کوئی رسپانس نہ پا کر وہ خاموش ہو گئی۔۔ اور پھر اس نے ٹرے کو میز پر رکھا اور مجھے چومتے ہوئے کہنے لگی چائے کے بعد ایک اور ٹرپ کے بارے میں کیا خیال ہے؟ لیکن اس وقت مجھ پر اس قدر تھکن سوار تھی کہ میں نے معدزت کر لی اور میز پر رکھی ٹرے کی طرف دیکھنے لگا کہ جہاں پر چائے کے ساتھ ساتھ ابلے ہوئے انڈے بھی پڑے ہوئے تھے وہ میرے ساتھ ٹو سییٹر پر بیٹھ کر میری طرف انڈہ بڑھاتے ہوئے بولی۔۔۔ آج کی چودائی کیسی لگی ؟ تو میں نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا کہ ایک دم فسٹ کلاس ۔۔۔اور خاص کر اس کے خوبصورت جسم کی بڑی تعریف کی تو اس پر وہ کہنے لگی کہ میرے پاس تمہارے لیئے ایک پیش کش ہے اور وہ یہ کہ اگر تم اتوار بازار چھوڑ ۔۔۔ صرف میرے ساتھ دوستی رکھو تو میرا یہ خوب صور ت اور سیکسی جسم ہر وقت تمہاری دسترس میں ہو گا ۔جب چاہو مجھے چود لینا ۔۔ پھر کچھ سوچتے ہوئے کہنے لگی کہ سیکس کے ساتھ ساتھ میں تمہیں اچھا خاصہ جیب خرچ بھی دیا کروں گی یہ کہتے ہی میرے پاس سے وہ اُٹھی اور پھر اپنے پرس میں سے ۔۔ جو کہ وہ ساتھ لائی تھی کچھ پیسے نکال کر زبردستی میری جیب میں ڈال دیئے ۔ جو کہ میں نے واجبی سے انکار کے بعد قبول کر لیئے۔۔۔ اور پھر چائے وغیرہ پی کر میں وہاں سے واپس گھر آ گیا۔ اس کے بعد اگلے کچھ دن میں کچھ ضروری کاموں کی وجہ سے اتوار / منگل بازار نہ جا سکا ۔ پھر دو تین اتواریں مس کرنے کے بعد ایک دن سہ پہر کے وقت ہی میں اتوار بازار چلا گیا یہ مہینے کے شروع دن تھے اور جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ مہینے کے شروع میں لوگوں کو سیلری ملی ہوتی ہے اور اکثر سفید پوش لوگ اتوار بازار سے ہی مہینے بھر کا اکھٹا راشن لیتے ہیں اس لیئے ان دنوں اتوار بازار میں بڑا رش ہوتا ہے چونکہ میں کافی دنوں کے بعد اتوار بازار پہنچا تھا اور کسی چوبے کے ساتھ وقت وغیرہ بھی طے نہ تھا اور ویسے بھی یہ چوبوں کے آنے کا وقت نہ تھا اس لیئے میں اکیلا ہی ۔۔۔ ایک طرف خواتین وحضرات کا رش دیکھ کر اس طرف چلا گیا۔۔۔ ابھی میں اپنے لیئے کوئی شکار ڈھونڈ ہی رہا تھا کہ اچانک مجھے ایک درمیانی عمر کی عورت کے پیچھے پیچھے چلتا ہوا اپنا اسلم چوبا نظر آ گیا ۔۔۔ ادھر جیسے ہی اسلم چوبے کی مجھ پر نظر پڑی۔۔۔ وہ اس خاتون کے پیچھے پیچھے جاتے ہوئے تھوڑی دیر کے لیئے میرے پاس رُک گیا ۔۔۔اور پھر اس نے مجھے بتایا کہ وہ اس عورت کے پیچھے کافی دیر سے خوار ہو رہا ہے مزید یہ کہ وہ عورت اسے کھل کر لفٹ بھی نہیں کرا رہی اور اس کی چھوٹی موٹی حرکتوں سے منع بھی نہیں کر رہی ۔۔مطلب صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں والا معاملہ تھا ۔۔ اس کی بات سن کر میں نے اس سے پوچھا کہ میرے بارے میں کیا حکم ہے میں یہیں کھڑا رہوں یا جاؤں ؟ تو آگے سے وہ کہنے لگا کہ چونکہ اس عورت کا کچھ پتہ نہیں اس لیئے میں اس کے تحفظ کے لیئے ادھر ہی کھڑا رہوں ۔۔ پھر میری طرف دیکھتے ہوئے آنکھ دبا کر بولا۔۔۔۔اور ویسے بھی اگر اس کا کام ہو گیا تو اس خراب ٹرک کے پاس مجھے ہی ڈیوٹی سر انجام دینا ہو گی اس کی بات کو سمجھ کر میں نے اسے ڈن کر دیا ۔۔ چنانچہ میری طرف سے مطمئن ہو نے کے بعد وہ اس عورت کی طرف چل پڑا اور پھر کچھ دیر بعد رینگتا ہوا ۔۔۔۔ اس کے عین اس کے پیچھے پاس جا کھڑا ہوا۔۔۔۔ اور پھر وہی پرانا حربہ استعمال کرتے ہوئے ایک دھکے کے بعد بلکل اس کی گانڈ کے ساتھ لگ کر کھڑا ہو گیا ۔ اور میں نے دیکھا کہ اپنی گانڈ کے ساتھ اسلم کو چپکے دیکھ کر اس عورت نے ایک نظر پیچھے کی طرف دیکھا اور پھر اپنے سامنے متوجہ ہو گئی ۔ میرے خیال میں عورت کا اس طرح مُڑ کر دیکھنا۔۔۔۔اسلم گرین سگنل سمجھا ۔۔۔اور پھر کچھ سیکنڈز کے بعد ۔۔۔۔ پھر ایک دھکہ لگنے کی دیر تھی کہ اسلم نے اپنے لن کو پکڑ کر اس عورت کی گانڈ میں گھسا دیا۔۔۔ ادھر جیسے ہی اسلم نے اپنے لن کو عورت کی گانڈ میں گھسایا ۔۔۔ وہ عورت ایک دم سے پلٹی ۔۔اور پھر بھوکی شیرنی کی طرح اسلم پر پل پڑی ۔۔۔ اس نے اسلم کو گریبان پکڑا ۔۔۔اور تھپڑ مارتے ہوئے کہنے لگی حرامزادے میں کتنی دیر سے تمہیں دیکھ رہی ہوں لیکن تم اپنی ذلیل حرکتوں سے باز نہیں آ رہے تو اس پر اسلم منمناتے ہوئے کہنے لگا۔۔۔آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے باجی ۔۔ ابھی اسلم نے اس عورت کے ساتھ اتنی ہی بات کی تھی کہ وہاں پر کھڑی ایک اور موٹی سی خاتون جو کہ اس کے ساتھ آئی لگتی تھی نے اپنے پاؤں سے جوتی اتاری اور اسلم کی آگے سے اُٹھی ہوئی قمیض پر زور سے مارتے ہوئے بولی۔۔ آگے سے بکواس کرتا ہے حرامزہ کتا۔۔۔۔ اس کے ساتھ ہی وہاں پر شور مچ گیا کہ ایک لڑکا عورت کو چھیڑتے ہوئے پکڑا گیا۔۔۔۔ اسلم کو بچانے کو اب میری زمہ داری تھی چنانچہ میں ادھر ادھر دیکھتا ہوا تیزی کے ساتھ آگے بڑھا اور پھر اونچی آواز میں چلانا شروع کر دیا۔۔۔ کہ پلُس آ گئی ۔۔ پلُس آ گئی ۔۔ پولیس کا نام سنتے ہی وہاں پر کھڑے لوگ اور اسلم کو مارنے والی لیڈیز ایک دم سے چونک اُٹھیں ۔۔ اور پھر پولیس اور گواہی کے خوف سے لوگ ادھر ادھر ہونا شروع ہو گئے۔۔اسی دوران میں پولیس ۔۔ پولیس کا شور مچاتا ہوا ۔۔۔ اسلم کے قریب پہنچتے ہی آہستہ مگر تیزی کے ساتھ بولا۔۔۔ دائیں جانب بھاگ۔۔۔ ۔راستہ خالی ہے ۔۔۔ میری بات سن کر وہ بھی اسی تیزی سے بولا ۔ ۔ اوکے ۔۔۔ تو بس دو منٹ راستہ بلاک رکھنا۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔ اس کی بات سن کر میں نے سر ہلایا ہی تھا ۔۔۔۔کہ اسلم نے اپنا منہ دائیں طرف کیا اور پھر سرپٹ بھاگنے لگا۔۔۔۔ ادھر جیسے ہی اسلم بھاگا میں عین اس کے بھاگ کے جانے والے راستے پر کھڑا ہو گیا اور اس کی مخالف سمت دیکھتے ہوئے ایک بار پھر پُلس پُلس کا شور مچانا شروع کر دیا ۔۔۔ میرا واویلا سن کر وہاں پر کھڑے لوگ کچھ سیکنڈز کے لیئے کنفیوز ہو گئے۔۔۔ ۔ پھر ایک معمر سا آدمی آگے بڑھا اور مجھ سے کہنے لگا کہ پولیس کو کیوں بلا رہے ہو وہ حرامی تو بھاگ گیا ہے اور اس معمر آدمی کی بات کو سن کر میں چونکنے کی اداکاری کرتے ہوئے بولا۔۔۔ کدھر گیا وہ بہن چود ۔۔ تو اس پر اس شخص نے اسلم کے بھاگنے والی سائیڈ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ۔۔اس طرف ۔۔ اس کی بات سنتے ہی پروگرام کے مطابق میں نے بھی بظاہر اسلم کو پکڑنے کے لیئے اس طرف دوڑ لگا دی ۔۔۔ اور پھر دوڑتے دوڑتے میں اتوار بازار کے چوک پر آ گیا اور وہاں پہنچ کر بظاہر کنفیوز نظروں سے چوک کے چاروں طرف دیکھنے لگا۔۔اتنی دیر میں میرے پیچھے ایک اور مجاہد دوڑتا ہوا آیا اور آتے ساتھ ہی مجھ سے بولا کدھر گیا وہ حرامی ۔۔تو میں نے بھی سانس لیتے ہوئے ایسے ہی ایک طرف اشارہ کر دیا۔۔میرا اشارہ پاتے ہی وہ نوجوان اور اس کے پیچھے آئے ہوئے دو تین اور لڑکے بھی اسی طرف بھاگ گئے کہ جس طرف میں نے اشارہ کیا تھا۔۔ ان لوگوں کے جاتے ہی میں یہ سوچ کر کہ ابھی تو کسی شکار کا لگنا مشکل ہے شام کو ٹرائی کریں گے۔۔ یہ سوچ کر میں واپس گھر جانے کے لیئے اتوار بازار سے نکلنے کے لیئے۔۔باہر کی طرف چل پڑا۔۔ ۔۔۔ابھی میں چند قدم ہی چلا ہوں گا کہ پیچھے سے کسی نے میرا نام لے کر پکارا ۔ پہلے تو میں نے اپنا وہم سمجھا لیکن پھر جب قدرے بلند آواز سے میرا نام لے کر پکارا گیا تو میں نے مُڑ کر دیکھا تو میرے پیچھے مسز شفیع اپنی چھوٹی بیٹی ردا کے ساتھ کھڑی تھیں یہاں پر میں آپ سے مسز شفیع کا تعارف کروا دوں یہ لوگ ہمارے پیچھے والی گلی میں رہتے تھے ہمارا گھر بلکل ان کے پیچھے ہونے کی وجہ سے ان کی چھت ہماری چھت سے ملتی تھی مسز شفیع گلی میں زیادہ تر ان کے بھائیوں اور دیگر رشتے داروں کے گھر تھے اور ان رشتے داروں میں خاص کر مسز شفیع کے بھائی بہت لڑاکا اور بات بات پر جھگڑا کرنے والے تھے مسز شفیع کی تین بیٹیا ں اور ایک بیٹا تھا جو کہ ابھی بہت چھوٹا اور تیسری جماعت کا طالب علم تھا ان بڑی بیٹی ندا کی شادی ہو چکی تھی جبکہ ردا اور اس کی چھوٹی بہن ابھی پڑھ رہی تھیں ردا ٹین ایجر لڑکی تھی ۔۔۔۔ اس کا رنگ سانولا ۔۔۔لیکن اس میں بہت زیادہ کشش پائی جاتی تھی خاص کر اس کی بڑی بڑی اور کالی آنکھوں میں ایک خاص قسم کا طلسم تھا اس کے ساتھ ساتھ ردا اور اس کی فیملی کی خاصی فیشن ایبل اور بولڈ تھی تو پیارے دوستو جیسا کہ آپ معلوم ہے کہ شروع سے ہی مجھے میچور اور بڑی عمر کی خواتین بہت پسند ہیں اور خوش قسمتی سے شکر خورے کو شکر مل رہی تھی اس لیئے میں نے پڑوسی ہونے کے باوجو د بھی ردا کی طرف کبھی آنکھ اُٹھا کر بھی نہیں دیکھا تھا ردا کی طرف نہ دیکھنے کی دوسری اور اصل وجہ اسکے خون خوار ماموں تھے مجھے یاد ہے کہ ایک دفعہ اس کی بڑی بہن ندا پر کوئی لڑکا مسلسل ٹرائی مار رہا تھا لیکن وہ لڑکا شاید ندا کو پسند نہیں آیا یا پھر کوئی اور وجہ تھی کہ اس نے اسے کوئی لفٹ نہیں کرائی اور اسے اگنور کرتی رہی لیکن پھر جب اس لڑکے نے ندا باجی کو کچھ زیادہ ہی تنگ کرنا شروع کر دیا اور اس کا کالج جانا مشکل کر دیا تو تب ندا&nbs تو تب ندا باجی نے اپنے ماموں کو سب بتا دیا جو کہ اچھے خاصے بدمعاش اور ہتھ چھٹ واقع ہوئے تھے چنانچہ اگلے ہی دن وہ لوگ اس لڑکے کو پکڑ کر اپنے محلے میں لے آئے ۔۔۔ اور یہاں لاتے ہی سب سے پہلے اس کی ٹنڈ کرائی اور پھر اس کی بہت زیادہ درگت بنانے کے بعد اسے پولیس کے حوالے کر دیا تھا ۔ جنہوں نے اسے چوری کے مقدمے میں اندر کر دیا تھا ۔ اس واقع کے بعد ہمارے محلے میں ان لوگوں کی اچھی خاصی دھاک بیٹھ گئی تھی۔۔۔اسی لیئے اس حادثے کے بعد میرے سمیت محلے کے من چلوں نے شفیع صاحب کے گھرانے کو اپنے لیئے شجرِ ممنوعہ کا درجہ دے دیا تھا ۔ اس بات کے علاوہ ان لوگوں کے باقی اہل محلہ اور بالخصوص ہمارے ساتھ بہت اچھے اور گھریلو تعلقات تھے ۔ اس تمہید کے بعد دوبارہ سٹوری کی طرف چلتے ہیں ہاں تو میں کہہ رہا تھا کہ اس وقت میرے سامنے مسز شفیع اور ردا کھڑی تھی اور ان کے پاس زمین پر دو تین بڑے بڑے شاپر پڑے ہوئے تھے ۔ مجھے اپنی طرف متوجہ پا کر مسز شفیع کہنے لگیں کہ بیٹا آ پ کہاں جا رہے ہو ؟ تو میں نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ میں گھر کی طرف جا رہا ہوں تو اس پر وہ کہنے لگیں کہ بیٹا میں نے تھوڑی خریداری کرنی ہے اگر آپ برا نہ مانو تو تھوڑی دیر کے لیئے میرے ساتھ یہ شاپر اُٹھا لو گے؟؟۔۔کہ ان شاپروں کی وجہ سے اس حڈ حرام نے مجھے مزید خریداری سے منع کر دیا ہے مسز شفیع کی بات سن کر میں نے ان سے کہا کہ ان شاپروں کو میں اُٹھا لوں گا آپ اپنی خریداری مکمل کر لیں یہ کہتے ہی میں نے جیسے ہی زمین پر پڑے شاپر اُٹھائے تو اس پر آنٹی نے ردا کی طرف دیکھ کر آنکھیں نکالتے ہوئے کہا۔۔۔ کہ ایک تم پکڑ لو ۔تو اس پر ردا جواب دیتے ہوئے بولی۔ بھائی نے اُٹھا تو لیئے ہیں۔۔ اور پھر میری طرف متوجہ ہو کر بڑے شوخ لہجے میں بولی کہ بھائی جس وقت آپ تھک جائیں گے تو پلیز مجھے بتا دیجیئے گا ۔ میں ان کو اُٹھا لوں گی۔۔۔ ردا کی بات سن کر میں نے ہاں میں سر ہلا دیا۔۔ اور پھر ہم دونوں آنٹی کے ساتھ ساتھ چلنے لگے ۔۔ دوستو ۔۔۔ جیسا کہ میں پہلے بھی بتا چکا ہوں کہ ان لوگوں کے ساتھ ہمارے گھریلو تعلق تھے ۔۔۔ اس لیئے راستے میں آنٹی کے ساتھ ساتھ ردا کے ساتھ بھی میری گپ شپ جاری رہی ۔۔۔ پھر تھوڑا آگے ایک جنرل سٹور کے پاس پہنچ کر آنٹی مجھے وہیں ٹھہرنے کا اشارہ کرتے ہوئے کہنے لگی کہ بیٹا آپ شاپر لے کر یہیں رکو ۔۔۔ اتنی دیر میں ۔۔۔ میں اور ردا ، سامنے والے سٹور سے کچھ سودا سلف لے کر آتی ہیں ۔ آنٹی کی بات سنتے ہی ردا کہنے لگی کہ ۔۔۔ ماما جی میں آپ کے ساتھ کہیں بھی نہیں جا رہی ۔۔ اس لیئے آپ خود ہی جائیں اور جو سامان لینا ہے لے آئیں۔ ردا کی بات سن کر آنٹی نے اس پر ایک قہر بھری نظر ڈالی اور پھر ہم دونوں کو وہیں چھوڑ کر خود سٹور کی طرف چلی گئیں۔۔ مجھے اور ردا کھڑے ہوئے ابھی تھوڑی ہی دیر ہوئی تھی کہ اچانک ہمارے سامنے ایک ریڑھی آن کھڑی ہوئی کہ جس پر بچوں کے سستے کھلونے لدے ہوئے تھے اور پھر ہمارے دیکھتے ہی دیکھتے اس ریڑھی پر لوگوں کا اچھا خاصہ رش لگ گیا۔ جبکہ دوسری طرف مہینے کی شروع تاریخوں کی وجہ سے سٹور پر بھی سامان لینے والوں کا کافی رش لگا ہوا تھا اس لیئے آنٹی کو مطلوبہ سامان لینے میں کچھ دیر لگ رہی تھی۔۔ میں ردا کے ساتھ کھڑا اپنی ہی سوچوں میں گُم تھا کہ اچانک پیچھے سے کسی نے میری گانڈ میں انگلی کر دی ۔زندگی میں پہلی دفعہ اپنی گانڈ میں انگلی جاتے ہی میں اپنی جگہ سے ایک فٹ اوپر اچھلا اور پھر ۔۔۔ حیرت ، غم، غصے اور شدید صدمے کے عالم میں ادھر ادھر دیکھنے لگا ۔۔ مجھے یوں چاروں طرف نظر دوڑاتے ہوئے دیکھ ردا کہنے لگی ادھر ادھر دیکھنے کی ضرورت نہیں ۔۔۔ یہ انگلی میں نے دی ہے ۔ردا کی بات سن کر میں نے شدید حیرت اور صدمے سے اس کی طرف دیکھا اور اس سے بولا۔۔۔۔۔ آپ پ ۔۔ میرا مطلب ہے۔۔۔تم نے ایسا کیوں کیا ؟ تو اس پر وہ بپھرے ہوئے لہجے میں کہنے لگی ۔۔۔۔ کیوں تم میرے ساتھ ایسی حرکت کر سکتے ہو اور میں نہیں؟ اس کی بات سن کر میں نے اسے کہا ۔۔ یقین کرو ردا۔۔۔میں نے تمہارے ساتھ ایسا ویسا کچھ بھی نہیں کیا ۔۔ میری بات سن کر وہ اسی غصے کے عالم میں بولی کہ بعد میں سب یہی کہتے ہیں پھر میری طرف دیکھ کر آنکھیں نکالتے ہوئے کہنے لگی اے مسٹر ! وہ زمانہ گیا کہ جب تم جیسے چھچھورے لڑکوں کی ایسی حرکتوں پر بے چاری لڑکیاں چپ ہو جایا کرتی تھیں پھر دانت پیستے ہوئے کہنے لگی کہ اگر دوبارہ ایسی حرکت کی نا ۔۔۔تو پھر دیکھنا۔۔۔میں تمہارے ساتھ اس سے بھی برا کروں گی۔۔۔ ردا کی بات سن کر میں نے اسے اپنی صفائی دینے کی از حد کوشش کی لیکن اس نے میری بات پر زرا بھی یقین نہ کیا ۔۔ پھر اس کے بعد میں نے بھی اسے مزید کوئی صفائی نہ دی کیونکہ اس کا کوئی فائدہ بھی نہ تھا۔۔۔۔ اسی دوران اچانک ہی میرے زہن میں خیال آیا۔۔۔۔ کہ ہو نہ ہو ردا کے ساتھ یہ حرکت کسی چوبے نے کی ہو گی۔۔۔ اور پھر اس کا سخت رویہ دیکھ کر کہیں ادھر ادھر ہو گیا ہو گا۔۔۔۔ یہ خیال آتے ہی میں نے چونک کر ادھر ادھر دیکھنا شروع کر دیا ۔۔ لیکن وہ کہیں نہ ملا ۔۔ میرے خیال میں ردا کا ری ایکشن دیکھ کر ۔۔۔۔۔مجھے پھنسا کر خود سالا بھاگ گیا ہو گا ۔۔۔۔ اس وقت ریڑھی والے کے رش کی وجہ سے میں اور ردا ایک دوسرے کے ساتھ بلکل جُڑ کر کھڑے ہوئے تھے ۔ یہی وجہ تھی کہ ردا کا پہلا شک مجھ پر گیا تھا پھر اچانک ہی میرے زہن میں یہ خیال آیا کہ اگر اس نامعلوم چوبے نے ردا کے ساتھ دوبارہ یہی حرکت کی تو ۔۔۔ اس لڑکی کا کوئی بھروسہ نہیں ۔۔۔ جانے یہ میرے ساتھ کیا کچھ کر جائے ۔۔۔۔۔۔ اس لیئے میں ردا سے کافی دور جا کر کھڑا ہو گیا۔۔۔ ابھی مجھے وہاں پر کھڑے ہوئے تھوڑی ہی دیر ہوئی تھی کہ اچانک آنٹی نے مجھے اپنی طرف آنے کا اشارہ کیا۔۔۔۔ آنٹی کا اشارہ دیکھ کر میں نے زمین پر پڑے ہوئے شاپر اُٹھائے اور سامنے سٹور کی طرف چل پڑا۔ وہاں پہنچ کر دیکھا تو آنٹی کے ہاتھ میں دو تین چھوٹے چھوٹے شاپنگ بیگ پکڑے ہوئے تھے وہ بیگ مجھے پکڑاتے ہوئے بولی ۔۔ تم ان کو سنبھالو۔۔۔میں ایک دو چیزیں اور لے آؤں ۔ پھر گھر چلیں گے ۔۔۔۔ یہ کہہ کر وہ دوبارہ سٹور کی طرف چلی گئیں۔۔۔۔اور وہاں پر خواتین کا اتنا زیادہ رش دیکھ کر میرے منہ میں پانی بھر آیا۔۔۔ اور میں سوچنے لگا کہ اگر یہ آنٹی لوگ میرے ساتھ نہ ہوتے تو ۔۔۔ تھوڑی سی محنت کے بعد کوئی نہ کوئی شکار لگ ہی جانا تھا ۔۔۔یہ سوچ کر میں، بڑی حسرت کے ساتھ اپنے سامنے رش میں پھنسی موٹی موٹی گانڈز کی طرف دیکھتے ہوئے ان کے بالکل قریب کھڑا ہو گیا۔۔ ۔۔۔۔۔ ۔۔۔ ابھی مجھے وہاں پر کھڑے ہوئے کچھ ہی دیر ہوئی تھی کہ۔۔۔۔ ۔۔اچانک کسی خاتون نے میرے دائیں ہاتھ کے کندھے پر اپنی چھاتی کو دبا دیا۔۔۔ ۔ اس چھاتی کا میرے کندھے پر لگنے کی دیر تھی ۔۔۔۔ کہ فوراً سے پہلے ہی مجھے معلوم ہو گیا کہ جس کسی نے بھی میرے کندھے کے ساتھ اپنی چھاتی کو مس کیا تھا۔۔۔۔ یقیناً اس نے برا نہیں پہنی ہوئی تھی۔۔۔اس لیئے مجھ سے بغیر برا کے چھاتی ٹچ ہونے سے میرے ٹھرکی من کو ایک عجیب اور ناقابلِ بیان قسم کا میٹھا میٹھا سکون ملا ۔۔۔۔یا پھر۔۔۔۔ بقول پروین شاکر اس خاتون کی چھاتی میرے ساتھ مس ہونے سے روح تک اتر گئی بات مسیحائی کی ۔۔۔۔ پھر اس سے قبل کہ میں پیچھے مُڑ کر دیکھتا کہ میر ے ساتھ بنا برا کے چھاتی ٹچ کرنے والی یہ ذات شریف کون ہے کہ۔۔۔اچانک ۔۔میرے کانوں میں ردا کی آواز گونجی ۔۔۔ وہ کہہ رہی تھی کہ ۔۔۔ ماما کہاں گئیں؟۔۔ ۔۔ ردا کی آواز سنتے ہی۔۔۔ میں نے مُڑ کر اس کی طرف دیکھا تو ابھی تک اس کی چھاتی میرے کندھوں کے ساتھ جڑی ہوئی تھی ۔۔ اپنے پیچھے کسی اور خاتون کی بجائے ۔۔۔۔ ردا کو دیکھ کر میرے ٹٹے ہو ائی ہو گئے اور میں جلدی سے پرے ہٹ کر بولا۔۔وہ ۔۔۔۔وہ ابھی تک واپس نہیں آئیں۔۔۔۔ میری بات سنتے ہی وہ دوبارہ میرے پیچھے آن کھڑی ہوئی اور پہلے کی طرح اپنی چھاتی کو میرے ساتھ ٹچ کر کے بولی ۔۔ آئی ایم سوری دوست ۔۔۔ تو اس پر میں چونک کر بولا۔۔۔ کس بات کی سوری ؟؟ تو وہ جواب دیتے ہوئے بولی۔۔۔۔۔میں نے تمہارے ساتھ خواہ مخواہ اتنا غصہ کیا ۔۔۔۔ مجھے پتہ چل گیا ہے کہ یہ تمہاری حرکت نہیں تھی اس کی بات سن کر میں نے پیچھے مُڑ کر اس کی طرف دیکھا تو واقعی وہ کافی شرمندہ نظر آ رہی تھی۔۔۔ چنانچہ اس کی شرمندہ شکل کو دیکھ کر مجھے تھوڑا حوصلہ ہوا اس لیئے میں نے اس سے پوچھا کہ تمہیں کیسے معلوم ہوا کہ وہ حرکت میری نہیں تھی؟ میرے اس سوال کا ردا جواب دینے ہی والی تھی کہ ایک بار پھر آنٹی نے مجھے آواز دی اور میں ردا کو وہیں چھوڑ کر ۔۔۔آنٹی کے پاس چلا گیا.
اور ان کے ہاتھ میں پکڑے ہوئے شاپر لے لیئے ۔۔۔۔جیسے ہی ہم شاپر لیئے ردا کے پاس پہنچے تو وہ آنٹی سے مخاطب ہو کر بولی۔۔۔ میری کیچپ اپ لائی ہیں ؟ ردا کی بات سنتے ہی آنٹی نے اپنے سر پر ہاتھ مارا ۔۔۔۔اور کہنے لگی ۔۔۔اے لو !۔۔ یہ تو میں بھول ہی گئی تھی اور پھر کیچپ لینے کے مُڑی ہی تھی کہ ردا کہنے لگی آپ ٹھہریں میں اور بھائی لے آتے ہیں۔۔۔ ردا کی بات سن کر آنٹی نے سکھ کی سانس لی اور پھر کہنے لگی یہ بھی ٹھیک ہے سو آنٹی سے پیسے لے کر ہم سٹور کی طرف چل پڑے۔ ۔ وہاں پہنچ کر ردا مجھ سے کہنے لگی ۔۔۔ رش ہے بھائی اس لیئے پلیزز۔۔۔۔آپ ہی لے آؤ۔۔ چنانچہ میں نے ردا کے ہاتھ سے پیسے پکڑے اور رش میں گھس گیا۔۔۔ وہاں جا کر میں نے دکان دار کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی بڑی کوشش کی لیکن بزی ہونے کی وجہ سے اس نے اشارے سے مجھے ویٹ کرنے کا کہا۔۔۔ دکاندار سے فارغ ہو کر نے وہاں پر کھڑی مست بنڈوں کا جائزہ لینا شروع کر دیا۔۔۔۔ ۔۔۔ اور جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ مجھے اس کام میں کافی مہارت حاصل ہے اس لیئے چلتے چلتے میں نے ایک آدھ موٹی بنڈ کے ساتھ اپنا فرنٹ معہ مرے ہوئے۔۔۔ لن کو بھی ٹچ کر لیا تھا اگر مجھے ردا کا ڈر نہ ہوتا تو اب تک میں نے ایک موٹی خاتون کی بڑی سی گانڈ میں لن پھنسا بھی لینا تھا کیونکہ میرے حساب سے وہ خاتوں کافی ڈھیلی اور لفٹی نظر آ رہی تھی اسی اثنا میں ایک بار پھر مجھے اپنے کندھے پر ردا کی بغیر برا کے چھاتی کا ا حساس ہوا ۔۔۔ وہ اپنی چھاتی کو میرے ساتھ لگائے پوچھ رہی تھی اور کتنی دیر ہے۔۔۔؟ ردا کی بات سن کر میں نے مذاق کے موڈ میں اس کی چھاتی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بڑے شوخ لہجے میں جواب دیا کہ اگر صورتِ حال یہی رہے۔۔۔ تو بے شک کیچپ کل تک بھی نہ ملے۔۔۔ میری بات سن کر وہ جل ترنگ سی ہنسی ۔۔۔۔اور پھر کہنے لگی۔۔ بہت بری بات ۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔ اور بدستور میرے کندھے کے ساتھ اپنی چھاتی کو چپکائے رکھا۔۔۔ اف ۔۔۔ ردا کی بِنا بریزیر کی چھاتی کا لمس مجھے پاگل کیئے دے رہا تھا۔۔میرے کندھے پر چھاتی لگانے کے کچھ دیر بعد ۔۔۔ میں نے اپنے کندھے پر اس کی چھاتی کے نوکیلے نپلز کو محسوس کر لیا۔ اپنے کندھے پر نوکیلے نپلز کو محسوس کرتے ہی میں ایک دم سے چونک پڑا۔۔۔اور سوچنے لگا کہ۔۔۔۔۔ ۔۔۔ تو ۔۔تو ۔۔کیا۔۔۔ ردا گرم ہو چکی ہے؟ ۔ اس خیال کے آتے ہی میرا پپو بھی جان انگڑائی لیتا ہوا جان پکڑنے لگا ۔۔۔ جسے میں نے ردا کی نظروں سے چھپانے کی خاطر ۔۔۔ تھوڑی ہل جُل کر تے ہوئے ۔۔ لن کو پکڑ کر اپنی شلوار کے نیفے میں ڈالنے کی کوشش کرنے لگا ۔۔۔ ۔۔۔لیکن میری اس حرکت سے ۔۔۔میرے سامنے جُڑ کر کھڑی وہ موٹی عورت سمجھی کہ میں اپنے لن کو اس کی گانڈ میں پھنسانا چاہتا ہوں اس لیئے اس نے پہلے تو ۔۔۔۔۔ اپنی گانڈ کو کھسکا کر میرے لن پر ایڈجسٹ کیا اور پھر اس کے بعد کمال مہارت کے ساتھ ۔۔اپنی موٹی اور ملائم گانڈ کی دونوں پھاڑیوں کو عین میرے لن کے درمیان لے آئی۔۔۔۔۔۔ جس مہارت کے ساتھ وہ خاتون اپنی گانڈ کے بڑے سے کریک کو میرے لن کے درمیان لائی تھی ۔۔۔۔اس سے میں سمجھ گیا کہ میری طرح وہ خاتون بھی ایک شکاری عورت ہے سو میں نے بے فکر ہو کر اس کی نرم گانڈ کے مزے لینے شروع کر دیئے۔۔۔۔ لیکن میری یہ موج زیادہ دیر تک برقرار نہ رہی کیونکہ کچھ ہی دیر بعد اس دکاندار نے مجھے کیچپ اپ پکڑا دی تھی۔۔۔۔ اسی اتوار کی شام کی بات ہے کہ بیٹھے بیٹھے اچانک ہی مجھے ردا کی بنا برا وا لی چھاتیوں کا لمس یاد آ گیا ۔۔ دوستو!!!!۔۔۔ جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ میں نے بڑی بڑی سیکسی خواتین کی جی بھر کے چھاتیوں کو چوسا ہے لیکن پتہ نہیں کیوں ۔۔۔۔ جو مزہ مجھے ردا کی بنا برا والی کنواری چھاتیوں کے ٹچ کا آیا وہ کچھ الگ ہی تھا ۔۔اور اس کے باوجود بھی کہ میں ٹین ایجر کے ساتھ سیکس/ عشق کا بہت بڑا مخالف تھا لیکن ان ساری باتوں کے باوجود بھی مجھے ردا کی چھوٹی چھوٹی چھاتیوں کا نہ صرف یہ کہ لمس بہت یاد آ رہا تھا بلکہ جس طرح وہ گرم ہو کر میرے ساتھ چپکی ہوئی تھی۔۔۔۔ میرا تجربہ یہ کہہ رہا تھا کہ تھوڑی سی ٹرائی کے بعد۔۔۔۔ موصوفہ۔۔ پکے ہوئے پھل کی طرح ۔۔ میری گود میں آ گرے گی۔۔۔۔ چنانچہ اس پر ٹرائی کرنے سے پہلے۔۔۔۔ میں اس کے ہر پہلو پر غور کرنے لگا ۔۔ خاص کر اس کے خون خوار ماموں کے بارے میں ۔۔۔۔ابھی میں سوچ ہی رہا تھا کہ ۔۔۔ اچانک مجھے ردا کے نپلز کی اکڑاہٹ ۔۔۔۔۔ اس کی بنا برا والی چھاتیاں ۔۔ ۔۔۔ اور ان کے ساتھ جُڑا ۔۔۔۔ بے مثال مزہ۔۔۔یاد آ گیا ۔۔ یہ سب سوچتے ہوئے ۔۔۔۔ میں نے ردا کے خون خوار ماموں پر دو حرف بھیجے۔۔۔۔ ۔۔۔۔ ۔۔۔ اور یہ کہتا ہوا اپنی جگہ سے اُٹھا کہ جو ہو گا دیکھا جائے گا۔۔۔۔۔ اور پھر ردا کی تاڑ میں چھت پر چلا گیا۔۔۔۔ اور وہاں کا ایک چکر لگا کر دیکھا تو آس پاس کوئی بھی نہیں تھا ۔۔۔ لیکن جانے کیوں میرا دل کہہ رہا تھا کہ ردا ضرور آئے گی اور پھر ایسا ہی ہوا ۔۔۔ کہتے ہیں کہ دل کو دل سے ۔۔ لیکن اس کیس میں پھدی کو لن سے راہ ہو گئی۔۔۔۔۔ ۔۔ میرے چھت پر جانے کے دیر کے بعد وہ بھی اپنی چھت پر آگئی اور مجھے کھڑ ا دیکھ کر وہیں ٹھٹھک کر کھڑی ہو گئی۔۔۔۔پھر آہستہ آہستہ میری طرف بڑھی اور پھر اپنے اور ہمارے چھت کی مشترکہ دیوار کے اس پار کھڑی ہو کر بولی کیسے ہو؟ تو میں نے اس سے کہا ٹھیک ہوں تم سناؤ ؟ تو آگے سے وہ کہنے لگی آج تم کیسے ؟ تو میں نے سچ بتاتے ہوئے اسے کہا کہ تمہارے لیئے آیا ہوں۔۔ میری بات سن کر اس کے سانولے چہرے پر ایک رنگ سا آ گیا ۔۔۔۔ اور پھر کچھ توقف کے بعد وہ کہنے لگی ۔۔۔ آج میری یاد کیسے آ گئی ؟ تو آگے سے میں جواب دیتے کہا۔۔۔۔ کہ کیا کروں دوست۔۔۔۔۔ آج دوپہر کو ایک ایسا واقعہ پیش آیا ۔۔۔ کہ جس کی وجہ سے میری حالت غیر ہو گئی ہے ۔۔۔۔۔اور تب سے میں ۔۔۔ نہ دن کو نیند نہ رات کو چین ۔۔۔یونس فین ۔۔۔ کی طرح اپنی چھت کے چکر کاٹ رہا ہوں۔پھر اس سے لگاوٹ بھرے لہجے میں بولا اور دوپہر سے اب تک یہ میرا 118 واں چکر ہے ۔۔ ۔۔میری بات سن کر اس کے چہرے پر لالی سی آ گئی اور وہ مسکراتے ہوئے کہنے لگی ۔بس بس ۔۔اب اتنی بھی نہ پھینکو ۔۔ ۔۔ ۔۔۔۔۔پھر کچھ دیر گپ شپ لگا نے کے بعد وہ مجھ سے بولی ۔۔ اوکے اب میں چلتی ہوں ۔۔۔تو میں اس سے ٹھیٹھ عاشقوں کی طرح بولا۔۔۔ کہ میرا دل نہیں کر رہا کہ تم جاؤ۔۔۔ تب وہ مسکراتے ہوئے بولی ۔۔۔اچھا۔۔تو پھر ماموں کو بلاؤں تو تب دل کر لے گا؟ ۔۔۔ اس کی بات سن کر میں ہنس پڑا اور پھر اس سے بولا ۔۔ چلی جاؤ ۔۔۔ لیکن پلیز ایسی ڈراؤنی باتیں تو نہ کرو نا ۔۔۔ اس طرح میری ردا کے ساتھ دوستی کا آغاز ہو گیا۔۔ پہلے پہل تو ہم سرِ شام ہی چھت پر ملا کرتے تھے لیکن پھر اس کے کہنے پر ہم لوگ گھر اپنے اپنے گھر والوں کے سو جانے کے بعد ۔۔۔۔۔ آدھی رات کو ۔۔۔ ملنا شروع ہو گئے ۔۔۔ ۔۔ پھر ایک دن کی بات ہے کہ چا ندنی رات تھی موسم بڑا سہانا تھا اور اس موسم کے زیرِ اثر اس دن وہ کچھ زیادہ ہی رومانس کے موڈ میں نظر آ رہی تھی۔۔۔ اور میں ایسے ہی کسی موقع کی تلاش میں تھا چنانچہ اس کے ساتھ پیار بھری باتیں کر تے کرتے میں نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا ۔۔۔۔۔اور پھر اس کے ہاتھ کو چوم کر بولا۔۔۔ آج تو بڑی پیاری لگ رہی ہو۔ ۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔ اور پھر ایسی ہی لگاوٹ بھری باتیں کرتے کرتے ۔۔ اپنی انگلی کو اس کے ہونٹوں کی طرف لے گیا اور پھر اس کے نرم نرم ہونٹوں پر انگلی پھیرتے ہوئے بولا۔۔۔ اجازت ہو تو تمہارے یہاں ایک چھوٹی سی کِس کر لوں ؟ میری بات سن کر ۔۔۔۔ اور اس کے باوجود کہ وہ ایک بولڈ لڑکی تھی ۔۔۔ لیکن پھر بھی میری یہ بات سن کر شرم سے وہ گلنار ہو گئی ۔۔ لیکن بولی کچھ نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔ اسے نیم رضا مند دیکھ کر میں اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولا ۔۔ پہلے کبھی کسنگ کی ہے؟ ۔۔۔تو وہ آہستہ سے کہنے لگی۔۔۔۔۔ نہیں۔۔ ۔۔۔۔ اس پر میں آگے بڑھا ۔۔۔ اور اس کے کان میں پیار بھری سرگوشی کرتے ہوئے بولا ۔۔۔تو پھر کیا خیال ہے؟ تمہاری لائف کی پہلی کس ہو جائے؟۔ میری بات سن کر دیوار کے اس پار کھڑی ردا نے ایک نظر اپنی سیڑھیوں کی طرف دیکھا۔۔۔۔۔ اور پھر بنا کچھ کہے۔۔۔۔ اپنے خوب صورت ہونٹوں کو میری طرف بڑھا دیا۔۔ جوش کی وجہ سے سانولی سلونی حسینہ کا چہرہ تمتما رہا تھا ۔۔۔۔ ۔۔۔ ردا کے رس بھرے کنوارے ہونٹوں کو اپنی طرف بڑھتے دیکھ کر میرا دل مچلنے لگا ۔۔۔پھر ردا کی طرح میں نے بھی ایک نگاہ آس پاس کی چھتوں اور اپنی سیڑھیوں پر ڈالی۔۔ہر طرف امن شانتی پا کر ۔۔۔۔۔میں نے دھیرے دھیرے اس کے رسیلے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دیئے ۔۔۔اور بڑی آہستگی کے ساتھ اس کے ہونٹوں کے ساتھ اپنے ہونٹوں کا مساج کرنے لگا۔۔ ۔ اور چند سیکنڈ ز تک ایسے ہی کرتا رہا۔۔ ۔۔ ادھر میرے ساتھ اپنی لائف کی پہلی کسنگ کرتے ہوئے وہ سانولی سلونی اور کم سِن حسینہ شدتِ جزبات سے کانپنا شروع ہو گئی۔۔ ۔۔خود میرا لن بھی دھائیاں دے رہا تھا ۔۔ لیکن مسلہ یہ تھا کہ ۔۔ دوسری طرف تجربہ کار آنٹی کی بجائے میرے سامنے ایک کنواری دوشیزہ کھڑی تھی جو کہ بولڈ ہونے کے باوجود بھی ۔۔۔ کافی ہچکچا رہی تھی۔۔۔ ورنہ اس وقت ردا کی بجائے ۔۔۔۔ کوئی آنٹی ہوتی ۔۔۔۔تو کسنگ کے دوران اب تک ہی اس نے میرے لن کو اپنے ہاتھ میں پکڑ کے چوپے کے لیئے ریڈی ہو جانا تھا ۔۔لیکن آنٹی کے برعکس بولڈ ہونے کے باوجود ۔۔۔۔۔ یہ لڑکی خاصی نا تجربہ کار تھی ۔۔۔۔ اس لیئے میں بہت احتیاط سے کام لے رہا تھا ۔۔۔۔ کچھ دیر بعد میں نے ردا کے رس بھرے ہونٹوں کو تھوڑا سا چوسا اور پھر ۔۔ پیچھے ہٹ گیا۔۔۔۔۔جبکہ وہ اسی طرح آنکھیں بند کیئے ۔۔۔۔ اپنے ہونٹوں کو میری طرف بڑھائے ۔۔۔۔۔ ویسے ہی کھڑی رہی ۔۔ پھر چند سیکنڈ ز انتظار کے بعد اس نے اپنی آنکھیں کھولیں اور گھنی پلکوں کی اوٹ سے میری طرف دیکھتے ہوئے بولی۔۔ بس کیوں کر دیا؟ تو میں نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا ۔۔ اور کسنگ کروں؟؟ تو وہ سر ہلا کر کہنے لگی۔۔۔ ۔۔ اب تھوڑی ڈیپ کسنگ کرو۔۔ ردا کی بات سنتے ہی میں ایک دفعہ پھر اس کے رس بھرے ہونٹوں پر جھکا اور پھر اس کے اوپر والے ہونٹ کو اپنے منہ میں لے کر چوسنے لگا۔۔۔۔۔ پھر اس حسینہ کے رس بھرے ہونٹوں کا رس پیتے پیتے ۔۔۔۔۔ ۔۔۔ میں نے دھیرے سے اپنی زبان کو اس کے منہ کے اندر ڈال دیا ۔۔۔ اس وقت ہم دونوں کے منہ ایک دوسرے کے ساتھ سختی سے جڑے ہوئے تھے اور ڈیپ کسنگ کرتے ہوئے مزے کے آسمان پر پہنچ گئے تھے ۔ اسی دوران میں نے اپنا ایک ہاتھ دیوار کے اس پار کھڑی ردا کی چھاتی پر رکھ دیا۔۔۔۔۔ اور جیسے ہی میرا ایک ہاتھ اس کی چھوٹی سی چھاتی پر پڑا۔۔۔ تو اس نے ایک بار ۔۔۔ اپنی بند آنکھوں کو کھول کر میری طرف دیکھا۔۔۔۔ اور پھر میرے ساتھ کسنگ کو انجوائے کرنے لگی ۔۔یہ اس کی طرف سے ایک طرح کا گرین سگنل تھا چنانچہ اس سگنل کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے ۔۔۔ میں اپنے ہاتھ کو اس کی قمیض کے اندر لے گیا ۔۔ برا۔۔ تو جیسا کہ آپ کو معلوم ہے کہ اس نے کبھی بھی نہیں پہنی تھی ۔۔ اس لیئے اس میں نے (ٹینس کے گیند کے برابر) اس کی چھوٹی سی چھاتیوں کو باری باری اپنے ہاتھ میں پکڑا ۔۔۔اور ان کو مسلنے لگا ۔۔ ۔۔ میرے اس عمل سے وہ حسینہ انجوائے کرنے کے ساتھ ساتھ ہلکی ہلکی کراہنا بھی شروع ہو گئی ۔۔۔ ۔ اور اپنے کنوارے بدن کو میرے جسم کے ساتھ ملانے کی پوری پوری کوشش کر نے لگی۔۔۔ ۔لیکن بیچ میں دیوار حائل تھی۔۔۔ ۔۔۔۔میری اس شہوت بھری چھیڑ چھاڑ سے ردا بہت مست ہو رہی تھی۔۔۔۔۔ اسی لیئے کبھی تو وہ میری زبان کو اپنے منہ میں لے کر بے تحاشہ چوستی اور کبھی اپنے منہ سے زبان نکال کر میرے منہ پر پھیرنے لگتی اس کی الہڑ زبان کا ذائقہ ۔۔۔بہت شاندار تھا۔۔۔ پھر کچھ دیر بعد اس نے اپنے منہ کو میرے منہ سے ہٹایا اور پیچھے ہٹ کر بولی۔۔۔۔۔ توبہ اس زبانوں کے بوسے نے تو میری جان ہی نکال دی تھی۔۔۔ ۔۔۔ ردا کو مکمل گرم حالت میں دیکھ کر ۔۔۔ پروگرام کے مطابق میں اپنے اگلے سٹیپ کی طرف بڑھنے ہی لگا تھا ۔۔۔کہ اچانک اس کے گھر کی گھنٹی بجی ۔۔ گھنٹی کی آواز سنتے ہی وہ چونک اُٹھی اور بُڑبڑاتے ہوئے بولی۔۔۔ یہ آدھی رات کو ہمارے گھر کون آ سکتا ہے پھر مجھ سے کہنے لگی ۔۔ مجھے جانا ہو گا۔۔۔ اور اس کے ساتھ ہی وہ میرے جواب کا انتظار کیئے بغیر ۔۔۔ہی ٹاٹا کرتے ہوئے وہاں سے چلی گئی۔۔ اگلی رات کی بات ہے کہ جب میں اپنی چھت پر پہنچا تو دیکھا کہ ان کے گھر کی چھت والا کمرہ جو کہ عام طور پر بند رہتا تھا کی ساری لائیٹس روشن تھیں ۔ دیوار کے پاس کھڑے ہو کر میں حالات کا جائزہ لے رہا تھا کہ ردا ایک شیر خوار بچے کو اپنی گود میں اُٹھائے ۔۔۔۔ میرے پاس آ گئی۔۔ اس کی گود میں بچہ کو دیکھ کر میں نے بڑی حیرانی سے پوچھا یہ کون ہے؟ تو وہ اس بچے کو پیار کرتے ہوئے بولی یہ میرا بچہ ہے تو میں نے اس کی طرف دیکھ کر شرارت سے کہا۔۔ صرف کسنگ کرنے سے بے بی ہو گیا؟ میری بات سن کر وہ شرما گئی اور پھر ہنستے ہوئے کہنے لگی۔۔۔۔۔ تم بہت بدتمیز ہو پھر میرے پوچھنے پر اس نے بتلایا کہ یہ بےبی ندا آپی کا بیٹا ہے پھر کہنے لگی کیا تمہیں معلوم ہے کہ آپی کا یہ بےبی شادی کے پورے پانچ سال بعد پیدا ہوا تھا تو اس پر میں نے ترنت ہی کہہ دیا کہ بڑی " پُوور" (poor) پرفارمنس ہے تیرے بہنوئی کی۔۔۔ پھر میں نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا کہ اس کا مطلب ہے کہ آج سے ہماری چھُٹی۔۔۔ تو وہ اپنی گھنی پلکیں اُٹھا کر بولی ۔۔۔۔ وہ کیسے۔۔۔؟ تو اس پر میں نے جواب دیتے ہوئے کہا ۔۔۔۔ کہ وہ اس طرح میری جان کہ آج سے گیسٹ روم تمہاری آپی جو رہا کرے گی۔۔۔تو آگے سے وہ سنجیدہ ہو کر بولی ؟ ایک بات کہوں؟ تو میں نے اس سے کہا ہاں بولو۔۔ تو وہ تھوڑا کنفیوز ہو کر بولی ۔۔۔ میں نے آپی کو تمہارے ساتھ اپنے افئیر کے بارے میں سب کچھ بتا دیا ہے۔۔ ردا کی بات سن کر میں پریشان ہو گیا اور اسی پریشانی کے عالم میں اس سے بولا کہ ان کا ردِ عمل کیا تھا میری بات سن کر وہ ہنستے ہوئے بولی ۔۔۔ ان کا ردِ عمل اچھا تھا ۔۔ پھر میری طرف دیکھتے ہوئے کہنے لگی۔۔۔کہ شاید تمہیں معلوم نہیں کہ پورے گھر میں ۔۔۔ میں آپی کے سب زیادہ نزدیک ہو ں ۔۔ پھر اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے بولی۔۔۔۔۔ تم یقین نہیں کرو گے کہ عمروں میں اتنا زیادہ فرق ہونے کے باوجود ۔۔۔میرے اور آپی کے درمیان ۔۔۔۔ بہنوں سے زیادہ راز دار سہلیوں والے تعلق ہیں ۔اسی لیئے ہم ایک دوسرے کے ساتھ ہر بات شئیر کر لیتی ہیں ۔۔۔ ان کا پڑوسی ہونے کے ناطے مجھے اس بات کا پوری طرح سے علم تھا کہ ردا بلکل درست کہہ رہی تھی۔۔۔۔ اور ویسے بھی ردا اور ندا آپی کی عادتیں اور شکلیں ایک دوسرے کے ساتھ بہت ملتی تھیں ۔۔ ہاں ان دونوں میں فرق صرف یہ تھا کہ ردا ایک سانولی سلونی اور بلا کی پر ُکشش لڑکی تھی ۔۔۔۔ جبکہ اس کے بر عکس اس کی بڑی بہن ندا بہت گوری چٹی ۔۔۔خوب صورت تھی دوسرا فرق ان میں یہ تھا۔۔۔۔ کہ ردا کی چھاتیاں نہ ہونے کے برابر جبکہ ندا آپی چھاتیاں بہت بھاری تھی جو کہ اس کے بھرے بھرے جسم پر اچھی لگتی تھیں ۔میں دل ہی دل میں ان دونوں کا موازنہ کر رہا تھا کہ ۔ ۔۔اسی اثنا میں مجھے ندا آپی آتی دکھائی ۔جو کہ ہماری طرف ہی بڑھ رہی تھی۔۔۔۔ اس وقت ندا آپی نے (شاید بےبی کو بریسٹ فیڈ کروانے کی وجہ سے) ایک ڈھیلی ڈھالی اور باریک سی نائٹی نما شرٹ پہنی ہوئی تھی۔ اور اس نائٹی نما قمیض پر انہوں نے کوئی چادر یا دوپٹہ وغیرہ نہیں اوڑھا ہوا تھا اس لیئے۔۔۔۔ مجھے ان کی باریک قمیض کے آر پار چھلکتی ہوئی موٹی موٹی چھاتیاں صاف دکھائی دے رہی تھیں ۔ میرے خیال آپی کی چھاتیوں میں بہت زیادہ دودھ آتا تھا ۔۔۔ ۔۔۔۔کیونکہ ۔۔۔ ان کی باریک قمیض پر دودھ بہنے کے تازہ نشان بنے ہوئے تھے ۔۔ دونوں بہنوں کا موازنہ کرتے ہوئے ہم کہہ سکتے تھے کہ اگر ردا کچی کلی تھی تو اس کی بڑی بہن ندا ایک پکا ہوا پھل تھا۔ ایسا پھل جس سے رس ٹپک رہا تھا اسی لیئے تو ندا آپی کی شاندار اور ادھ ننگی چھاتیوں کو دیکھ کر ۔۔۔ میرے دل میں کچھ کچھ ہونے لگا۔۔۔۔ ۔۔ ۔۔۔ ادھر ہمارے پاس پہنچ کر آپی کھڑی ہو گئی۔۔۔۔۔۔اور پھر انہوں نے ایک لمحے کے لیئے میری آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر "ایہو جیا تکیا کہ ہائے مار سٹُیا" ۔۔(انہوں نے میری طرف ایسی نگاہ سے دیکھا کہ میں دل تھام کر رہ گیا) ۔۔۔ اس کے بعد ندا آپی ردا کو مخاطب کر کے کہنی لگی ۔۔۔ بےبی مجھے دے دو کہ اس کی فیڈ کا ٹائم ہو گیا ہے آپی کی بات سن کر ردا نے ان کو بے بی پکڑا دیا ۔۔۔ پھر بےبی کو اپنے گلے کے ساتھ لگانے کے بعد ۔۔۔آپی میری طرف متوجہ ہو کر کہنے لگی۔۔۔ ہیلو !!! کیسے ہو ؟۔۔ امی اور باقی گھر والے کیسے ہیں؟؟ تو میں نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ گھر میں سب خیریت ہے میرا جواب سن کر وہ ردا کی طرف گھومی ۔۔۔۔اور اسے کہنے لگی۔۔۔ ۔۔ تمہارا دوست تو ۔۔ پہلے سے بھی زیادہ سمارٹ اور کیوٹ ہو گیا ہے ۔۔۔ پھر بیک وقت ہم دونوں کی طرف دیکھ کر مسکراتے ہوئے بولی۔۔۔ آج کل بڑے افئیر چل رہے ۔۔۔۔اور پھر وہاں سے چلی گئی۔۔جیسے ہی ندا آپی گھوم کر چلنے لگی۔۔۔ تو دفعتاً میری نظر ان کی پیاری سی گول مٹول گانڈ پر جا پڑی ۔۔ ۔ ۔جو چلتے ہوئے ایک خاص ردھم کے ساتھ ہل رہی تھیں۔۔۔ ۔۔۔۔اور میں ٹکٹکی باندھے اس کے زیر و بم کو دیکھ رہا تھا۔۔۔ ۔۔ مجھے یوں گم دیکھ کر ۔۔۔ردا میرے سامنے ہاتھ نچاتے ہوئے بولی۔۔۔او ہیلو۔۔۔۔ کس سوچ میں گم ہو ۔۔۔۔ واپس آ جاؤ ۔۔۔ تو میں نے ایک ٹھنڈی سانس بھری اور ردا کی طر ف دیکھنے لگا تو وہ مجھ سے کہنے لگی کہ آپی کی وجہ سے ابھی تک امی لوگ جاگ رہے ہیں اس لیئے آج تم ج اؤ۔۔ پھر میری فرمائیش پر اس نے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے مجھے ایک ہلکی سی فرینچ کس دی اور صورتِ حال کو سمجھتے ہوئے میں واپس چلا گیا ۔۔۔ اسی طرح کچھ دن اور گزر گئے۔۔ اس دوران ردا کے ساتھ ساتھ کچھ دیر کے لیئے ندا بھی ہماری کمپنی کو جوائن کرتی ۔۔۔ اور گپ شپ کے دوران میرے ساتھ مزاق بھی کر لیتی تھی ۔۔۔ آہستہ آہستہ ندا آپی ۔۔۔۔ میرے ساتھ فری ہوتی جا رہی تھی۔۔۔۔پھر ایک دن کی بات ہے کہ اس دن بھی انہوں نے وہی باریک سی نائٹی پہنی ہوئی تھی۔ کہ جس میں سب دکھتا تھا ۔۔ تھوڑی سی گپ شپ اور ہنسی مذاق کے بعد ندا آپی بےبی کو لیئے واپس جانے لگی۔۔۔۔اور انہیں جاتے ہوئے حسبِ معمول میں ان کی گول مٹول گانڈ کو ٹکٹکی باندھ کر دیکھنے لگا ۔۔۔ جو کہ چلتے ہوئے ایک ردھم کے ساتھ ہل رہی تھی۔۔ ۔۔۔جیسے ہی آپی سین سے غائب ہوئی ۔۔ تو میں نے ردا کی طرف دیکھتے ہوئے بڑے لائیٹر موڈ میں کہا۔۔۔ ۔۔ویسے وہ پوور پرفارمنس والا تمہارا بہنوئی ہے بہت لکی۔۔۔ کہ اس کو تمہاری آپی جیسی خوب صورت اور سیکسی لیڈی ملی ہے میری بات سن کر وہ ترنت ہی کہنے لگی کہ کیا فائدہ ایسی خوب صورتی کا کہ جو شخص اپنی بیوی کا بھی خیال نہ رکھ سکے۔۔۔۔ اس کی بات سن کر میں نے ویسے ہی کہہ دیا کہ وہ کیسے ؟ تو جواب میں ردا کہنے لگی تمہیں پتہ ہے کہ سات آٹھ ماہ ہو گئے ہیں میرے بہنوئی صاحب نے آپی کے ساتھ سیکس نہیں کیا ؟ ردا کی بات سن کر میں واقعی ہی حیران رہ گیا اور اس سے بولا ۔۔۔ سیکس نہیں کیا۔۔۔۔پر کیوں؟ تو جواب دینے سے پہلے ردا نے ایک بار پھر ادھر ادھر دیکھا ۔۔۔اور پھر راز داری سے بولی کہ۔۔۔ بےبی کے آنے سے چھ ماہ قبل انہوں نے آپی کے ساتھ سیکس کرنا چھوڑ دیا تھا کہ اس سے بے بی پر کوئی اثر نہ پڑ جائے ۔۔اور پھر بےبی کی پیدائیش کے بعد ۔۔ دو بلکہ اڑھائی ماہ ہو گئے ہیں انہوں نے آپی کو یہ کہہ کر ہاتھ نہیں لگایا ۔۔۔۔ کہ ابھی تک تمہارا جسم کچا ہے وغیرہ وغیرہ ۔۔ ردا کی بات سن کر میں حیران رہ گیا۔۔۔اور پھر اس کی طرف دیکھتے ہوئے بڑے ہی معنی خیز لہجے میں بولا۔۔۔ کمال ہے اگر اتنی خوبصورت میری بیوی ہوتی تو ابھی تک میں نے اس کی پھدی کا پھدا بنا دینا تھا۔۔۔۔میری بات سن کر ردا ہنستے ہوئے بولی ۔۔۔ کہتے سبھی یہی ہیں۔۔۔ لیکن۔۔۔۔۔۔۔۔ پھر اس قسم کی باتیں کرتے ہوئے اس نے حسبِ سابق مجھے فرینچ کس دی تو میں نے اس کی چھاتیوں کو مسلتے ہوئے کہا۔۔۔۔ میری جان اس چمی سے میرا دل نہیں بھرتا ۔۔۔ اس لیئے میرے لیئے کچھ سوچ۔۔۔ تو وہ اپنی ننگی چھاتیوں پر میرے ہاتھوں کی گرفت کو انجوائے کرتے ہوئے مست آواز میں کہنے لگی کیا چاہتے ہو؟ تو میں نے اس کے نپل کو اپنی دو انگلیوں میں مسلتے ہوئے کہا ۔۔" ملنی" میرا مطالبہ سن کر وہ ساری بات سمجھ گئی۔۔۔۔ ۔۔۔ پھر ویسی ہی مچلی بنتے ہوئے بولی۔۔۔۔۔وہ کیا ہوتا ہے؟؟ تو اس پر میں نے اس کی چھوٹی سی چھاتی کو دباتے ہوئے کہا۔۔۔ تن سے تن کے ملاپ کو ملنی کہتے ہیں اور میں تم سے یہی چاہتا ہوں ۔۔۔ میری بات سن کر اس نے اپنے ہونٹوں کو میرے ہونٹوں کے ساتھ جوڑا ۔۔۔۔۔ اور پھر ایک لمبی سی کس دیتے ہوئے بولی ۔۔۔اوکے میں کچھ کرتی ہوں ۔۔اسے جاتا دیکھ کر۔۔۔۔میں بھی واپسی کے لیئے مُڑا اور اس کے ساتھ ہونے والی ملنی کے بارے میں سوچنے لگا۔۔ اگلے روز کی بات ہے کہ ہم تینوں گپ شپ لگا رہے تھے کہ اچانک کسی کے سیڑھیاں چڑھنے کی آواز سنائی دی ۔۔۔اس آواز کو سنتے ہی ندا آپی مجھ سے بولی کہ نیچے بیٹھ جاؤ اور جب تک میں نہ کہوں تم نے اوپر نہیں اُٹھنا ۔۔۔اور اس کے ساتھ ہی دونوں بہنیں تیز تیز قدم اُٹھاتے ہوئے اپنے کمرے کی طرف چلی گئیں۔۔۔۔۔ ان کے جانے کے ۔۔۔۔ 10/15 منٹ بعد ۔۔۔۔ماحول میں پھر سے کچھ ہل چل ہوئی ۔۔۔اور پھر دو افراد کے تیزی کے ساتھ سیڑھیاں اترنے کی آوازیں آنے لگیں۔۔۔۔۔ کچھ دیر بعد مجھے ندا آپی کی آواز سنائی دی کہ کھڑے جاؤ ۔۔۔جیسے ہی میں ان کے مدِ مقابل کھڑا ہوا ۔۔۔۔ تو وہ پرُاسرار لہجے میں کہنے لگیں۔۔۔ آج تمہاری قسمت زوروں پر ہے تو آگے سے میں نے پوچھا کہ وہ کیسے ؟ تو انہوں نے مختصراً بتایا کہ ابھی ابھی خبر ملی ہے کہ ان کی ممانی کو ہارٹ اٹیک ہو گیا ہے جس کی وجہ سے سارے گھر والے ہسپتال جا رہے ہیں پھر میری طرف دیکھتے ہوئے بڑے ہی معنی خیز لہجے میں بولی ۔۔۔کہ اگر ردا ان کے ساتھ جانے سے رہ گئی ۔۔۔۔۔تو آج تمہاری ملنی پکی۔۔۔ آپی کے منہ سے ملنی کا لفظ سن کر میں زرا حیران نہ ہوا کیونکہ مجھے معلوم تھا کہ یہ دونوں بہنیں آپس میں ہر بات شئیر کرتی ہیں ۔ ادھر ملنی کا بتاتے ہی وہ نیچے جانے کے لیئے مُڑی تو میں نے ہمت کر کے ان کا ہاتھ پکڑ لیا اور پھر ان سے بولا ۔۔۔ اگر ردا چلی گئی تو؟ میری بات سن کر آپی کا خوب صورت چہرہ لال ہو گیا اور وہ گہری نظروں سے میری طرف دیکھتے ہوئے کہنے لگیں ۔۔ تم بتاؤ ؟ تو میں نے ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھتے ہوئے بڑے ہی شہوت بھرے انداز میں کہا۔۔۔ ملنی پھر بھی ہونی چاہئے۔۔۔میری بات سن کر ان کا پہلے سے لال چہرہ کچھ مزید لال ہو گیا ۔۔۔اور پھر انہوں نے بڑی عجیب نظروں سے میری طرف دیکھا اور ۔۔پھر اپنے رس بھرے ہونٹوں پر زبان پھیر تے ہوئے بولیں۔۔ ۔۔۔ میرے آنے تک یہیں رکو۔۔۔ اور پھر وہ بھی سیڑھیاں اتر کر نیچے چلی گئی۔۔۔۔۔ ۔ دس پندر ہ منٹ کے بعد ندا آپی دوبارہ اوپر آئی ۔۔۔اور میری طرف دیکھتے ہوئے کہنے لگی گُڈ لگ بوائے۔۔سیڑھیاں اتر کے نیچے جاؤ ۔۔ ردا تمہارا انتظار کر رہی ہے ۔۔اور اس کے ساتھ ہی وہ اپنے کمرے کی طرف جانے کے لیئے مڑنے لگیں ۔۔۔تو میں نے ایک بار پھر ہمت سے کام لیتے ہوئے ان کا ہاتھ پکڑ لیا۔۔۔۔اور لجاجت بھرے لہجے میں بولا۔۔۔۔ وہ میری درخواست کا کیا بنا؟ تو وہ اپنے ہونٹ کاٹتے ہوئے بولی۔۔ جلدی جاؤ !!!! ۔۔۔۔۔اور پھر تیز تیز قدم اُٹھاتی ہوئی اپنے کمرے کی طرف چلی گئیں ۔۔ان کے جانے کے بعد میں نے ادھر ادھر دیکھا اور پھر اپنے چھت کی چھوٹی سی دیوار پر ہاتھ رکھا ۔۔۔۔اور ۔۔۔۔ بڑے آرام سے نیچے کود گیا۔۔۔اور محتاط قدم اُٹھاتا ہوا سیڑھیوں کے پاس پہنچ گیا۔ اور پھر ایک لمحے کے لیئے ادھر ادھر دیکھتے ہوئے ۔۔۔ خاص طور پر آپی کے کمرے کی طرف نگاہ ڈالی۔۔۔ لیکن وہ نظر نہ آئی ۔۔۔شاید وہ اپنے کمرے میں جا چکی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔ آس پاس کے ماحول سے مطمئن ہو کر سیڑھیاں اتر کر جیسے ہی میں نیچے پہنچا ۔۔۔ تو دیکھا کہ سامنے ہی وہ سانولی سلونی محبوبہ کھڑی تھی ۔۔ مجھے سیڑھیاں اترتے دیکھ کر اس نے اپنے ہونٹوں پر انگلی رکھی ۔۔اور ادھر ادھر دیکھتے ہوئے اپنے کمرے کی طرف اشارہ کر دیا۔۔۔ سو میں بڑے محتاط انداز میں چلتا ہوا ردا کے کمرے میں پہنچ گیا۔۔۔۔ اور وہاں جا کر پلنگ پر بیٹھ گیا۔۔۔اور اس کے کمرے کا جائزہ لینے لگا ۔ ردا کا کمرہ کافی بڑا اور اس میں سبز رنگ کا دبیز سا قالین پڑا تھا۔۔ بیڈ کے سامنے ایک بڑا سا ڈریسنگ ٹیبل ۔۔اور اس ٹیبل کے اوپر انواع و اقسام کا میک اپ کا سامان پڑا ہوا تھا۔۔۔ جبکہ ڈریسر کے ساتھ دو کرسیاں بھی رکھی ہوئیں تھیں ۔۔۔۔۔مجموعی طور پر ردا کمرہ بہت خوب صورت اور سلیقے کے ساتھ سجا ہوا تھا۔۔ مجھے وہاں بیٹھے ہوئے تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ اتنے میں ردا بھی کمرے میں داخل ہو گئی۔اور کمرے میں داخل ہوتے ہی اس نے دروازے کو لاک کیا اور پھر میری طرف دیکھتے ہوئے کہنے لگی تمہیں کچھ معلوم ہے کہ تمہا رے ساتھ گھر میں رہنے کے لیئے مجھے کتنے پاپڑ بیلنے پڑے ہیں ۔۔۔۔ردا کی بات سن کر میں پلنگ سے اُٹھا اور ۔۔۔ اس کی طرف دیکھتے ہوئے ۔۔۔ اپنے بازو کھول دیئے۔۔۔یہ دیکھ کر وہ آگے بڑھی اور میرے گلے سے لگ گئی۔۔اور پھر مجھے اتنی ٹائیٹ ہگ دی کہ اس کی بنا برا والی چھوٹی چھوٹی چھایتاں میرے سینے کے ساتھ سختی سے دب سی گئیں ۔ ٹائیٹ ہگ کے اس نے خود ہی اپنے منہ کو میرے منہ کی طرف کر دیا۔۔۔۔۔۔جیسے ہی اس کے ہونٹ میرے ہونٹوں کے ساتھ ٹکرائے تو میں نے اپنی زبان اس کے منہ میں دے دی ۔۔ دوسری طرف کسنگ سے قبل ہی میری شلوار تنبو بنی ہوئی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس لیئے جیسے ہی ردا میرے گلے کے ساتھ لگی۔۔اور اپنے بدن کے ساتھ میرے بدن کو ملا کر کسنگ کرنے لگی ۔ تو اس دوران میرا لن اس کی دونوں ٹانگوں کے بیچ میں آ چکا تھا۔۔۔ ادھر بغیر وقفے کے ردا میری زبان کو چوسے جا رہی تھی جبکہ دوسری طرف میں نے اپنا ہاتھ بڑھا کر اس کی قمیض کو اوپر کیا ۔۔۔اور اس کی چھوٹی چھوٹی چھاتیوں کو پکڑ کر باری باری انہیں مسلنے لگا۔۔۔۔ کچھ ہی دیر بعد ۔۔۔ اس نے میرے منہ سے جڑا اپنا منہ علحٰیدہ کیا اور پھر لزت آمیز کراہنے کے بعد بولی۔۔۔۔ ۔۔۔ میرے دودھو کو خوب چوسو۔۔۔ اس کی بات سن کر میں نیچے جھکا اور ردا کے اکڑے ہوئے نپلز کو اپنے منہ میں لے کر باری باری انہیں چوسنے لگا۔۔اُف۔۔۔ کنوارے نپلز کو چوسنے کا اپنا ہی مزہ تھا۔ اس لیئے میں کافی دیر تک اس کی چھاتیوں کو چوستا رہا اور اس دوران ردا کے منہ سے لزت آمیز اور سیکسی آوازیں نکلنے لگیں ۔۔۔۔ وہ ایک ہی فقرے کو بار بار کہتی جا رہی تھی۔۔۔۔۔۔ میری جان ۔۔۔ ان چھاتیوں کو اور چوسو ۔۔۔ میرا دودھو نکالو ۔۔۔ ردا کی بغیر برا والی چھاتیوں کو۔۔۔۔۔ کچھ دیر مزید چوسنے کے بعد ۔۔۔میں ایک طرف کھڑا ہو گیا۔۔۔۔ ۔۔۔ یہ دیکھ کر وہ کہنے لگی ۔ کیا ہوا جانو!!۔۔ میرے ممے کیوں نہیں چوس رہے؟ اور اپنی چھاتیوں کو ہاتھ میں پکڑ ے میری طرف بڑھنے لگی۔۔۔ ۔۔ تو میں نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے بولا۔۔۔مجھے کپڑے اتارنے دو ۔۔۔پھر میں تمہارے مموں کو چوسوں گا۔۔۔میری بات سن کر وہ مزید شہوت میں آ کر بولی ۔۔۔ جانو تم کیا کرنے لگے ہو؟ تو میں نے بھی اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا کہ میں ۔۔۔ ننگا ہونے جا رہا ہوں ۔۔۔۔۔۔ میری بات سن کر اس نے اپنے ہونٹوں پر زبان پھیری اور پھر میری شلوار میں تنبو بنے لن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولی۔۔۔۔ اسے بھی ننگا کرو گے؟ اس وقت تک میں نے ابھی قمیض ہی اتاری تھی چنانچہ اس کی بات سنتے ہی میں نے اپنے آزار بند پر ہاتھ ڈالا اور اسے کھولتے ہوئے بولا۔۔۔۔۔ ہاں اسی کو تو ننگا کرنا ہے ۔۔ ۔۔۔۔۔اور اس کے ساتھ ہی میں نے اپنی شلوار اتار دی۔۔۔۔ اور اس کے سامنے ننگا ہو کر کھڑا ہو گیا۔۔۔۔۔۔ اس دوران اس کی ہوس ناک نظریں میرے لن پر ہی جمی ہوئیں تھیں ۔۔۔ یہ دیکھ کر میں نے ردا کا ہاتھ پکڑا ۔۔۔اور اپنے لن پر رکھ دیا۔۔۔ میرے لن کو ہاتھ میں پکڑتے ہی ردا نے اس سسکی لی۔۔۔۔۔اور میری طرف دیکھ کر کہنے لگی۔۔۔اُف ۔۔ جانو!۔۔ ۔ یہ تو بہت بڑا اور گرم ہے۔پھر اسے دباتے ہوئے بولی ۔۔۔سخت ۔۔۔۔۔اور موٹا بھی بہت ہے۔یہ کہتے ہوئے وہ آگے بڑھی ۔۔۔۔۔اور میرے کان میں سرگوشی کرتے ہوئے شہوت بھرے لہجے میں بولی۔۔۔ تمہارا ہتھیار اتنا گرم کیوں ہے؟ تو میں نے بھی اس کے کان میں سرگوشی کرتے ہوئے کہا۔۔۔۔ تم اسے ٹھنڈا کر دو نا؟ ۔۔تو اس پر وہ میرے لن کو دبا کر مستی بھری آواز میں کہنے لگی۔۔۔ میں اسے کیسے ٹھنڈا کرؤں؟؟؟ اس کی بات سن کر میں نے اس کی الاسٹک والی شلوار میں ہاتھ ڈالا۔۔۔۔۔۔ اور اس کی پھدی پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولا۔۔۔۔ تم نہیں ۔۔۔۔۔ میری جان۔۔ اسے تمہاری پھدی ٹھنڈا کرے گی ۔۔۔تو وہ میری طرف دیکھتے ہوئے بولی۔۔۔ اگر میں اس میں نہ ڈالنے دو ں تو؟ یہ سن کر میں نے اس کی چھوٹی سی گانڈ پر ہاتھ لگاتے ہوئے کہا کہ تو پھر میں اسے یہاں ڈال کر ٹھنڈا کر لوں گا۔۔۔ میری بات سن کر اس نے اپنے منہ کو پوری طرح کھولا۔۔اور پھر شہوت سے چُور لہجے میں بولی ۔۔۔ اسے منہ میں بھی تو ڈال کے ٹھنڈا کر سکتے ہو نا۔۔۔اس پر میں نے اس کے منہ کو اپنے لن کی طرف دباتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔ تو پھر اسے منہ میں ڈال نا۔۔۔۔۔۔تو وہ کہنے لگی۔۔۔ ڈالتی ہوں۔۔۔۔۔ ڈالتی ہوں ۔ لیکن اس سے پہلے مجھے بھی تو ننگا ہونے دو نا۔۔ اتنا کہنے کے بعد وہ مجھ سے الگ ہوئی اور میری طرف دیکھ کر شرماتے ہوئے ۔۔۔۔ اپنے تن سے کپڑے اتارنے لگی۔۔۔۔ کچھ ہی دیر میں ننگی ہو کر میرے سامنے کھڑی ہو گئی۔
کنوا ر ا بدن دیکھ کر میں حیران رہ گیا ۔۔۔کہ اس کے چہرے کی طرح اس کے انگ انگ میں ایک عجیب سی کشش اور مستی بھری ہوئی تھی۔ ردا کے سینے پر چھوٹی چھوٹی چھاتیاں بڑی اچھی لگ رہی تھیں ۔۔اس کا پیٹ ساتھ لگا ہوا تھا۔۔۔ اور پھدی کے علاوہ اس کے پورے بدن پر ایک بھی بال نہ تھا۔ ردا کی سانولی پھدی پر ہلکے کالے رنگ کے چھوٹے چھوٹے بال موجود تھے جو کہ میرے خیال میں تیسرے یا چوتھے دن کی شیو تھی۔۔۔ ۔ ۔۔ اور میں نے دیکھا کہ اس کی چوت کے دونوں ہونٹ آپس میں ملے ہوئے تھے ۔۔ دور سے دیکھنے پر ردا کی چوت ایک گہری لکیر کی مانند نظر آتی تھی جو کہ اس کی دونوں ٹانگوں کے بیچ کچھی ہوئی ہو۔۔۔ ۔۔ اور یہ باریک سی لکیر نیچے کی طرف گئی ہوئی تھی۔ ہاں جہاں سے یہ باریک لکیر شروع ہو رہی تھی۔۔۔۔ وہاں پر مٹر کے دانے کے برابر براؤن رنگ کا ایک موٹا سا دانہ بڑی شان سے سر اُٹھائے کھڑا تھا۔۔۔اور اس وقت میں ردا کے سانولے سلونے اور ننگے جسم کو بڑی بھوکی نظروں سے دیکھ رہا تھا پھر میں ردا کی کنواری پھدی کی طرف دیکھتے ہوئے آگے بڑھا ۔۔۔اور اس کو بستر پر دھکا دے کر گرا دیا۔۔۔ یہ دیکھ کر وہ بڑی ادا کے ساتھ کہنے لگی ۔۔ جانو کیا کرنے لگے ہو؟ تو میں نے اس کی چوت پر نظریں جماتے ہوئے کہا کہ تمہاری چوت کا ذائقہ چیک کرنے لگا ہوں میری بات سن کر اس نے اپنی دونوں ٹانگیں اوپر اُٹھا ئیں۔۔۔۔ اور انہیں آخری حد تک پھیلا دیا۔۔۔اور پھر اپنی پھدی کو تھپتھپاتے ہوئے بولی۔۔۔ جلدی آؤ ۔۔۔کہ تمہارے انتظار میں ۔۔۔ میری۔۔۔ پھدی ۔۔ چِپ چِپ کرنے لگی ہے ۔۔۔یہ کہتے ہی ہی اس نے اپنی پھدی کی لکیر میں انگلی پھیری اور ۔۔پھر اسے باہر نکال کر میری طرف لہراتے ہوئے بولی۔۔۔۔ ۔ چیک کر کے دیکھ ۔۔۔۔۔ میری کنواری چوت سے اعلیٰ ٹیسٹ تمہیں کہیں نہیں ملے گا۔۔۔ چنانچہ اس کی بات سنتے ہی میں نے اس کی انگلی کو پکڑ ا ۔۔۔اور اس پر لگی ہوئی ردا کی چوت سے نکلنے والی مزی کو چاٹ لیا۔۔واؤؤؤؤؤؤؤؤؤؤ۔۔ واقعی ہی اس کا ذائقہ بہت اعلیٰ تھا۔۔۔۔ پھر اس کی انگلی کو چاٹنے کے بعد ۔۔۔۔۔میں اپنے سر کو اس کی کھلی ہوئی ٹانگوں کے بیچوں بیچ لے گیا۔اور پھر اپنی زبان نکال کر اس کی چوت پر رکھ دی۔۔ اس کی چوت پر میری زبان لگنے کی دیر تھی ۔۔۔۔۔۔ کہ ردا نے ایک بھر پور انگڑائی لی۔۔۔۔۔۔ ۔۔اور پھر شہوت بھرے لہجے میں بولی ۔۔۔ میری چوت کو چاٹو۔۔لیکن اس کو چاٹنے سے پہلے ۔۔۔۔میں اس کچی کلی چوت سے نکلنے والی مست اور کنواری مہک کو سونگھنا چاہتا تھا ۔۔۔ چنانچہ میں اس کی مہک دار چوت کو اچھی طرح سونگھا ۔۔۔ اور اسے سونگھ کر مجھے نشہ سا ہونے لگا۔۔۔اور جب میرے حواس پر اس کی چوت سے نکلنے والی مہک پوری طرح چھا گئی۔۔۔ ۔۔۔تو پھر میں نے اپنی زبان کی مدد سے اس کی چوت کے ایک ایک سینٹی میٹر کو سو سو دفعہ چوما ۔۔۔۔اور۔۔چاٹا ۔۔۔ خاص کر اس کے پھولے ہونے دانے کو اپنے منہ میں لے کر بہت زیاد چوسا۔۔۔ اور اسی چاٹنے کے دوران ردا کے منہ سے نکلنے والی سحر انگیز ۔۔ سیکیی آوازوں نے سونے پہ سہاگے کا کام کیا ۔۔اور پھر اس کے دانے کو چوسنے کے کچھ ہی دیر بعد ۔۔ ردا نے لمبے لمبے سانس لینے شروع کر دیئے ۔۔۔ یہ دیکھ کر میں اپنی زبان کو اس کی چوت کے نیچے لے گیا۔اور وہاں پر رکھ دی۔۔۔۔۔ اگلے ہی لمحے وہ جوشِ شہوت سے تڑپی۔۔۔اور اس کی چوت نے پانی چھوڑ دیا۔۔۔ردا کی چوت کا پانی پینے کے بعد میں اوپر اُٹھا ۔۔۔ تو جوش سے نڈھال ردا میرے ساتھ چمٹ گئی۔۔اور مجھے چومتے ہوئے بولی۔۔۔۔ کیا ہی اچھی چوت چاٹی ہے تم نے۔۔۔اور پھر میرے لن کر اپنے ہاتھ میں پکڑ کر بولی۔۔۔۔۔اب مجھے چوسنا ہے ۔۔اس کی بات سن کر میں سیدھا لیٹ گیا اور وہ اوپر آ گئی۔۔۔ پھر میرے لن کو پکڑ کر ہلاتے ہوئے بولی ۔۔۔ مجھے تمہارا لن بہت پسند آیا ہے یہ کہتے ہوئے وہ نیچے جھکی اور میرے ٹوپے پر زبان پھیر کر بولی۔۔۔۔ میری پھدی کی طرح یہ بھی رس نکال رہا ہے ۔۔۔یہ کہتے ہوئے اس نے اپنی زبان پر لگی میری مزی کو اپنے حلق میں اتار لیا اور کہنے لگی ۔۔۔ میری چوت کی طرح اس کا بھی ذائقہ بہت اعلیٰ ہے۔۔۔۔ اس کے سا تھ ہی اس نے اپنی زبان نکالی اور ایک سرکل میں ٹوپے پر پھیرنے لگی۔۔۔ پھر کچھ دیر بعد وہ اوپر سے لے کر نیچے تک۔۔۔۔۔۔۔ خاص کر لن کی جڑ کو اچھی طرح چاٹنے لگی۔۔۔میرے لن کو اچھی طرح گیلا کرنے کے بعد۔۔۔۔۔ اس نے اپنا پورا۔۔۔ منہ کھولا اور میرے لن کو منہ میں لے کر چوسنا شروع ہو گئی۔۔۔ آنٹیوں کے برعکس ۔۔ردا لن چوسنے میں اتنی مہارت نہ رکھتی تھی ۔۔۔ اس لیئے کچھ دیر تک لن چوسوانے کے بعد میں نے ردا کو اشارہ کیا۔۔۔۔تو میرے لن کو اپنے منہ سے باہر نکال کر وہ کہنے لگی۔۔۔ کیا ہوا ؟ تو اس سے قبل کہ میں ۔۔ کچھ کہتا وہ جلدی سے کہنے لگی ۔۔۔۔ چوسنے دو نا یار ۔۔۔یہ کہتے ہی اس نے لن کو دوبارہ سے اپنے منہ میں لے لیا اور اس کے چوپے لگانے لگی۔۔۔۔۔۔۔ کچھ دیر چوپا لگانے کے بعد اس نے خود ہی اپنے منہ سے لن کو باہر نکالا اور میری طرف دیکھتے ہوئے کہنے لگی ۔۔۔ میرا چوپا کیسا تھا؟؟؟؟؟؟؟؟۔۔۔تو آگے سے میں نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ۔۔۔۔ تم نے بہت اچھا چوسا ہے ۔۔۔ تو اس پر وہ اٹھلا تے ہوئے بولی ۔۔۔ ابھی کہاں دوست ۔۔۔ جب مجھے یہ لن بار بار چوسنے کو ملے گا تو۔۔۔۔ پھر دیکھنا۔۔ میں کتنی مہارت سے چوسوں گی۔۔ ۔۔ اس کی بات سن کر میں نے اس کو کہا کہ اب تم سیدھی لیٹ جاؤ ۔۔۔ میری بات سن کر وہ کہنے لگی۔۔۔۔۔اب کیا کرنے لگے ہو؟ تو میں نے اس کو جواب دیتے ہوئے کہ تیری پھدی ماروں گا ۔۔۔۔ تو وہ کہنے لگی ۔۔۔ میں تم کو چودنے سے منع نہیں کرو ں گی۔۔۔ اگر تم میری مانو تو ۔۔۔ پلیز۔۔۔۔۔ مجھے آگے سے نہ کرو ۔۔۔ تو اس پر میں نے تعجب سے پوچھا کہ وہ کیوں ؟ تو وہ جواب دیتے ہوئے بولی۔۔۔۔۔۔ یو نو ۔۔میں ابھی تک کنواری ہوں؟ اور پلیزززززز۔۔۔ ۔ ۔۔ ۔۔۔میرا کنوارا پن نہ توڑو۔۔۔ پھر میری طرف دیکھتے ہوئے کہنے لگی۔۔۔۔۔ہاں اگر تم چاہو ۔۔۔تو۔۔ تم مجھے پیچھے سے کر سکتے ہو۔۔۔۔۔ اس کی بات سن کر میں سوچ میں پڑ گیا۔۔۔۔اور کچھ دیر بعد سر اُٹھا کر بولا۔۔۔۔۔ ۔۔ ۔۔۔ تمہارے کہنے پہ میں تمہاری گانڈ تو مار لوں گا ۔۔۔ لیکن پھر سوچ لو ۔۔۔۔ کیونکہ میرے لن کے حساب سے تمہاری گانڈ بہت تنگ اور چھوٹی ہے میری بات سن کر وہ نہ سمجھنے والے انداز میں بولی۔۔۔۔ کیا مطلب ؟ تو اس پر میں نے اپنے لن کو پکڑ کر اس کے سامنے لہراتے ہوئے کہا۔۔۔۔ کہ اتنے موٹے لن کو اپنی چھوٹی سی گانڈ میں سہہ لو گی؟ میری بات سن کر وہ مسکرائی ۔۔۔۔اور پھر کہنے لگی تمہیں معلوم ہے کہ مجھے بچپن سے ہی چٹ پٹی اور تیکھی چیزیں کھانے کی عادت ہے۔۔۔ اس لیئے تم میری فکر نہ کرو ۔۔۔ اس کی بات سن کر میں نے اسے ُلٹا لیٹنے کو کہا۔۔ ۔۔ تو آگے سے وہ کہنے لگی۔۔۔۔۔ بنڈ مارنے کی بڑی جلدی ہے پہلے اس (لن کی طرف اشارہ کر تے ہوئے ) کو تو چکنا کر لو۔۔۔۔۔ یہ کہتے ہی وہ بستر سے اُٹھی۔۔۔ اور ڈریسک ٹیبل کی دراز سے سرسوں کا تیل اُٹھا لائی۔۔۔ اور میرے لن کو پکڑ کر اس پر بہت سارا تیل انڈیل دیا ۔ پھر۔۔۔ اسے اچھی ملنے کے بعد ۔۔۔ وہ اُٹھی اور میرے سامنے گھوڑی بن کر بولی ۔۔۔۔۔اب تم میری گانڈ کو تیل سے نہا دو۔۔۔ ۔۔۔اس کی بات سنتے ہی میں نے اس کے ہاتھ سے آئیل والی بوتل پکڑی اور اس کے نزدیک جا پہنچا ۔۔۔اور اس کی گانڈ کی دونوں پھاڑیوں کو الگ الگ کر کے اس کی موری کو تیل سے نہلا دیا۔۔۔ اور پھر کچھ تیل اس کی موری کے اندر ڈال کر انگلی کے ساتھ اچھی طرح مالش کر دی۔۔ جب اس کی گانڈ تیل کے ساتھ پوری طرح چکنی ہو گئی تو میں نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا کہ۔۔۔ ریڈی ہو جاؤ۔۔۔۔ میں اندر ڈالنے لگا ہوں ۔۔۔۔ میری بات سن کر وہ اوپر اُٹھی اور مجھ سے کہنے لگی۔۔۔ گانڈ کو اچھی طرح چکنا کر دیا ہے نا ؟؟؟۔۔۔ اور اس کے ساتھ ہی وہ اپنی ایک انگلی کو گانڈ کی طرف لے گئی۔۔۔اور پھر اسے اپنے سوراخ پر گھما کر بولی ۔۔۔۔ گانڈ تو تم نے ایک دم چکنی کر دی ہے۔۔۔۔ اور اُٹھ کر جانے لگی۔۔۔۔ تو میں نے تشویس بھرے لہجے میں اس سے پوچھا کہ کہاں جا رہی ہو؟ تو وہ کہنے لگی۔۔۔ اپنا لن لینے ۔۔۔۔اور اس کے ساتھ ہی اس نے بیڈ کے نیچے سے ایک ہارڈ سا گاؤ تکیہ نکالا اور مجھے دکھاتے ہوئے بولی ۔۔ تمہارے لن سے تو۔۔۔ میرا یہ لن بہت بڑا ہے یہ کہتے ہی اس نے اپنی دونوں ٹانگیں کھول دیں ۔اور اس ہارڈ تکئے کو اپنی ۔۔۔۔ چوت پر ایڈجسٹ کیا اور پھر پیچھے مُڑ کر دیکھتے ہوئے کہنے لگی۔۔۔۔۔۔۔۔ پہلے آرام سے ڈالنا ۔۔۔ جب پورا اندر چلا جائے تو بےشک زور دار گھسے لگانا۔۔۔۔ اس کی بات سن کر میں گھٹنوں کے بل چلتا ہوا ردا کے پیچھے آن کھڑا ۔۔ ہوا۔۔۔۔اور اس کے باوجود کہ میرا لن اور اس کی گانڈ سرسوں کے تیل سے اچھی طرح چکنی ہو چکی تھی پھر بھی عادتاً ۔۔۔میں نے اپنے لن کے کیپ پر تھوک لگایا۔۔۔۔۔اور کچھ تھوک اس کی چھوٹی سی گانڈ پر مل دیا۔۔۔۔۔ پھر میں نے ردا کی گانڈ کو تھپتھپاتے ہوئے کہا۔۔۔۔ میں اندر ڈالنے لگا ہوں ۔۔ گانڈ کو ڈھیلا چھوڑو۔۔۔۔۔میری بات سن کر وہ کہنے لگی۔۔۔ تم اندر ڈالو ۔۔۔ لن کو گانڈ ڈھیلی ہی ملے گی۔۔۔۔ اس کی بات سن کر میں نے اپنا ٹوپا اس کی موری پر رکھا ۔۔۔۔اور ہلکا سا دھکا لگایا۔۔۔۔۔۔۔ موری چکنی ہونے کی وجہ سے میرا ٹوپا پھسل کر اس کے اندر چلا گیا۔۔۔ جیسے ہی میرا ٹوپا اس کی گانڈ میں گیا ۔۔۔ ردا کے منہ سے " اوپ" کی آواز نکلی۔۔۔ اور میں نے اس سے پوچھا۔۔۔ درد تو نہیں ہوا؟ تو اس نے ہاتھ کے اشارے سے کہا ۔۔۔ اور ڈال۔۔ اس کا اشارہ پا کر میں نے ایک اور دھکا لگایا۔۔تو میرے لن کا کچھ اور حصہ ۔۔۔پھسل کر اس کی گانڈ میں اتر گیا۔۔۔ ۔۔۔اور پھر ۔۔۔اسی طرح دو تین دھکوں کے بعد ۔۔۔۔۔ جیسے ہی میرا سارا لن جڑ تک اس کی گانڈ میں اترا۔۔۔۔ تو اس کے ساتھ ہی ۔۔۔۔ ردا کے منہ سے سی سی کی آوازیں نکلنے لگیں ۔۔اس پر میں نے اس سے پوچھا کہ کیا ہوا ردا ؟۔۔۔۔ تو وہ کہنے لگی۔۔۔۔ میری گانڈ میں عجیب قسم کی مرچیں لگ رہیں ہیں۔۔۔ لیکن تم فکر نہ کرو۔۔۔ مجھے تمہارا سپائسی لن اندر باہر ہوتا ہوا اچھا لگ رہا ہے۔۔۔ اس لیئے اب تم پوری طاقت سے دھکے مارنے شروع کر دو۔۔۔۔۔ردا کے کہنے پر میں نے اس کی گانڈ میں فل سپیڈ کے ساتھ گھسے مارنے شروع کر دیے۔۔۔ردا کی گانڈ کا اندرونی حصہ بہت گرم اور چکنا تھا ۔۔۔ اور گانڈ کے ٹشو سافٹ ہونے کی وجہ سے مجھے اس کی گانڈ مارتے ہوئے بہت مزہ آ رہا تھا ۔۔ جبکہ دوسری طرف میرے ہر گھسے کے جواب میں ۔۔۔ ردا کی چوت اس کھردرے کپڑے والے ہارڈ تکیے پر آگے پیچھے ہو رہی تھی ا ور اس رگڑ کی وجہ سے جہاں ایک طرف ردا کو مزہ بھی مل رہا تھا۔۔۔۔وہیں دوسری طرف لن گانڈ میں فکس ہونے کی وجہ سے اسے مرچیں سی لگ رہیں تھیں۔۔۔۔۔اسی لیئے وہ سی سی کرتے ہوئے مجھے سپیڈ سے گھسے مارنے کا بول رہی تھی ۔۔۔۔ ادھر ردا کی گانڈ میں گھسا ہوا میرا سخت لن ۔۔۔ اس کی گانڈ کے سافٹ ٹشوز کو چیر تے ہوئے اندر باہر ہو رہا تھا۔۔۔جس کی وجہ سے مجھے اس کی ٹائیٹ گانڈ مارنے کا بہت مزہ مل رہا تھا ۔ اس طرح میں کافی دیر تک ردا کی ٹائیٹ گانڈ کو مارتا رہا۔۔۔ اور پھر میرا اینڈ پوائیٹ آ گیا۔۔۔ تو چھوٹنے سے پہلے میں نے ردا سے پوچھا ۔۔۔کہ۔۔۔ردا میں چھوٹنے لگا ہوں ۔۔۔ تمہاری گانڈ میں چھوٹ جاؤں؟ تو وہ چلا کر بولی۔۔۔۔ہاں ہاں۔۔۔۔۔ میری گانڈ کو اپنی گرم منی کے ساتھ بھر دو جان۔۔۔ پھر کہنے لگی۔۔۔۔۔لن کو میری گانڈ میں نچوڑ کر باہر نکالنا ۔۔۔۔اس کی بات سن کر مجھے جوش آ گیا۔۔۔اور میں نے اپنے آخری آخری جھٹکے فل سپیڈ کے ساتھ مارنے شروع کر دیئے۔۔۔ اور میرے ہر گھسے پر وہ یس ۔۔۔۔یس ۔۔۔۔کرتی رہی۔۔۔اور پھررر۔۔۔۔اسی یس یس۔۔۔کے دوران ۔۔۔۔ جیسے ہی میری منی کا پہلا قطرہ اس کی گانڈ میں گرا ۔۔۔۔اس نے اپنی چوت کے نیچے رکھے ہوئے تکئے پر ہلنا بند کر دیا۔۔۔اور پھر وہ اس ہارڈ تکئے پر اپنی چوت کو دبا کر بولی۔۔۔ اف۔۔جانووووووووووووووو ۔۔۔۔۔ تیری منی سے میری گانڈ ۔۔۔۔۔ اور میری منی سے تکیا بھر گیا ہے۔۔۔۔۔ ۔۔۔اس کی بات سن کر میں نے اپنے لن سے نکلنے والی منی کا آخری قطرہ بھی اس کی ٹائیٹ گانڈ میں نچوڑ دیا۔۔۔۔اور پھر۔۔۔بے دم ہو کر اس کے او پر لیٹ گیا۔۔۔۔ ہم دونو ں ہی لمبے لمبے سانس لینے لگے تھے کچھ دیر بعد جب میرے سانس کچھ بحال ہوئے تو میں ردا کے اوپر سے اُٹھا ۔۔اور سیدھا واش روم چلا گیا ۔ اور اپنے جنسی اعضاء کو اچھی طرح سے دھو کر صاف کرنے کے بعد ۔۔ واپس کمرے میں آ کر دیکھا تو ردا ابھی تک بے سدھ لیٹی ہوئی تھی ۔۔ اور اس کی گانڈ سے منی نکل کر باہر بہہ رہی تھی یہ صورتِ حال دیکھ کر میں اس کے نزدیک پہنچا ۔۔۔۔ اور اس کی گانڈ کو تھپتھپاتے ہوئے بولا۔۔۔ کہ ردا اُٹھو اور واش روم سے ہو آؤ ۔ میری بات سن کر اس نے بمشکل سر اُٹھا کر میری طرف دیکھا ۔۔۔ اور پھر خمار آلود لہجے میں کہنے لگی ۔۔ جانے دو نا یار ۔۔ مجھے بڑے زوروں کی نیند آ رہی ہے۔۔۔ اس پر میں نے اس سے کہا ۔۔ جان جی زرا اپنی گانڈ پہ ہاتھ لگا کر دیکھو ۔۔۔۔ اس کے اندر سے منی نکل نکل کر باہر بہہ رہی ہے۔۔۔میری بات سن کر اس نے آنکھیں میچ کر میری طرف دیکھا اور پھر کہنے لگی۔۔۔۔ تو میرے اندر کم چھوٹنا تھا نا ۔۔۔۔اس پر میں نے اس کو مسکہ لگاتے ہوئے کہا کہ۔ میں کرتا جان ۔۔کہ تمہاری گانڈ ہی اتنی شاندار تھی۔۔ کہ اس نے میرے لن کو نچوڑ کر رکھ دیا ہے۔۔۔۔۔ اور پھر اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے بولا۔۔۔۔۔۔۔ کہ اگر تم نے واش روم میں نہیں جانا ۔۔۔تو۔۔مت جاؤ لیکن کم از کم اُٹھ کر اپنی گانڈ تو صاف کر لو۔۔۔ اور کپڑے بھی پہن لو ۔۔میری بات سن کر وہ بادلِ نخواستہ اُٹھی اور پھر سائیڈ ٹیبل کی دراز سے ایک صاف کپڑا لیکر اس نے اپنی گانڈ اور چوت کو اچھی طرح صاف کیا ۔۔۔ کپڑے پہنے ۔۔ اور اس ہارڈ تکئے کو واپس بیڈ کے نیچے رکھ کر بولی ۔۔۔ اب خوش ؟۔۔۔اور پھر مجھے ٹاٹا کرتے ہوئے اپنے بستر پر دراز ہو گئی۔ ۔۔۔ اس کے بستر پر لیٹنے کے بعد۔۔۔۔۔۔ میں اس وقت تک اس کے سرہانے کھڑا رہا۔۔۔ کہ جب تک مجھے اس بات کا قوی یقین نہ ہو گیا کہ وہ اب گہری نیند سو چکی ہے ۔ اور پھر جیسے ہی مجھے اس بات کا یقین ہو گیا۔۔۔۔ تو میں دبے پاؤں کمرے سے باہر نکلا۔۔۔۔اور پھر ادھر ادھر دیکھتے ہوئے خاموشی کے ساتھ سیڑھیاں چڑھ گیا۔۔۔سیڑھیاں ختم ہونے کے بعد ممٹی میں پہنچ کر میں ایک لحظے کے لیئے رکا ۔۔اور پھر ۔۔۔۔ چُھپ کر ایک نظر ان کی چھت پر ڈالی۔۔۔۔۔ تو دیکھا کہ سامنے ہی ندا آپی ٹہل رہی تھی۔۔۔۔انہیں ٹہلتے دیکھ کر میرے من میں لڈو پھوٹنے لگے۔۔ ۔اور مجھے من کی مراد پوری ہوتی نظر آنے لگی۔۔۔۔۔۔۔۔ کچھ دیر انتظار کے بعد میں اپنے قدموں کی آواز پیدا کرتا ہوا چھت پر چلا گیا۔۔۔۔ مجھے آتا دیکھ کر وہ رک گئیں ۔۔۔۔ جبکہ میں چلتا ہوا ان کے قریب پہنچ گیا اور ان سے بولا۔ آپ ابھی تک سوئی نہیں؟ تو وہ کہنے لگیں ۔۔۔ کیا کروں یار ۔۔۔ نیند نہیں آ رہی تھی ۔۔ اس کے بعد ۔۔۔ انہوں نے میری طرف دیکھا ۔۔۔ اور اپنے اشتیاق کو چھپاتے ہوئے ۔۔ بڑے ہی سرسری لہجے میں کہنے لگیں۔۔۔ کر آئے۔۔ ملنی ؟؟ ندا آپی کی بات سن کر میں نے بھی حسبِ پروگرام بڑی بے زاری سے منہ بسورتے ہوئے کہا۔۔۔ جی کر آیا ؟ میری بات سن کر توقع کے عین مطابق ندا آپی چونک کر بولی ؟ کیا مطلب؟ ردا کے ساتھ کوئی جھگڑا ہو گیا ہے کیا ؟ تو میں نے اسی بےزاری سے جواب دیتے ہوئے کہا۔۔۔ کہ ایسی بات نہیں ہے آپی۔۔۔۔ تو وہ بے تابی کے ساتھ کہنے لگی۔۔۔ تو پھر کیا ہوا ؟ تو اس پر میں نے ترنت ہی جواب دیتے ہوئے کہا کہ ۔۔۔ کیا بتاؤں آپی۔۔۔ ردا کے ساتھ ملنی تو ہوئی ہے لیکن پیچھے سے ۔۔۔۔میری بات سن کر ندا آپی نے ایک گہری سانس لی اور پھر کہنے لگی۔۔۔ تو اس میں برا کیا ہے۔۔؟ پھر اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے بولی۔۔۔ جیسا کہ تمہیں معلوم ہے کہ ردا ایک کنواری لڑکی ہے۔۔۔ اور اگر وہ تم سے تمہاری خواہش کے مطابق کام کرواتی ۔۔۔تو خود سوچو !!!!! یہ کس قدر ڈینجرس ۔۔۔اور خاص کر سہاگ رات کو اس کے لیئے کوئی مسلہ بھی کھڑا ہو سکتا ہے۔۔تو میں نے ان سے کہا کہ آپ ٹھیک کہہ رہی ہو آپی۔۔ ۔۔۔پھر بھی۔۔۔۔ ۔۔۔ آپ خود ہی فیصلہ کریں ۔۔۔ ردا کی چھوٹی سی ۔ اور وہ بھی سوکھی سڑی ۔ ۔۔۔ بیک ڈور ۔۔ سے کیا خاک مزہ ملنا تھا؟؟ میری بات سن کر ندا آپی کے چہرے پر ایک رنگ سا آ گیا ۔۔۔ لیکن انہوں میری بات پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔۔۔۔اور چپ ہی رہیں۔۔۔ لیکن پتہ نہیں کیوں ۔۔ اس دوران وہ اپنے ہونٹوں کو مسلسل کاٹتی رہیں ۔۔۔ ان کی یہ حالت دیکھ کر میں نے موقع غنیمت جانا ۔۔۔۔اور ایک قدم آگے بڑھا۔۔۔ مجھے اپنے نزدیک آتے دیکھ کر وہ کہنے لگی۔۔۔ارے ارے۔۔۔ یہ کیا کر رہے ہو ۔۔ وہیں پہ کھڑے ہو کر بات کرو ۔۔تو میں نے ان کی طرف دیکھتے ہوئے مست لہجے میں کہا۔۔۔۔۔ کہ بات کیا کرنی ہے آپی۔۔۔۔۔بس ایک عرض ہے۔۔۔اور اس کے ساتھ ہی ایک قدم اور بڑھایا۔۔۔۔۔ اور ندا آپی سے بس ایک دو اینچ کے فاصلے پر جا کھڑا ہوا ۔۔ادھر جیسے ہی میں ندا آپی کے قریب پہنچا ۔۔۔۔ اسی وقت میرا لن دوبارہ سے کھڑا ہو گیا تھا ۔۔ جس کی وجہ سے میری شلوار میں ایک اچھا خاصہ تمبو بن گیا تھا۔۔۔۔لن کھڑا ہوتے ہی میں نے جان بوجھ کر اپنے ٹوپے کو ندا آپی کی نرم ران کے ساتھ ٹچ کر دیا ۔۔۔۔ اپنی ران پر ٹوپا لگتے ہی ۔۔۔۔۔۔ وہ تھوڑا سا کسمائیں ۔۔اور بہکے ہوئے لہجے میں کہنے لگیں۔۔۔کک کیا کر رہے ہو؟۔لیکن۔۔ایسا کہنے کے باوجود بھی۔۔حیرت انگیز طور پر۔۔۔۔۔ انہوں نے اپنی تھائیز پر میرے ٹوپے کو لگا رہنے دیا۔۔۔۔ مطلب اس کا ٹچ قبول کیا۔۔۔۔دوسری طرف میرے لن کے ٹچ سے ان کا چہرہ لال ٹماٹر ۔۔۔جبکہ ہونٹ بہت خشک ہو رہے تھے۔۔۔جنہیں وہ تر رکھنے کی کوشش میں ان پر مسلسل زبان پھیر رہیں تھیں۔۔۔ پھر کچھ دیر بعد انہوں نے کن اکھیوں سے میرے تمبو بنے لن کی طرف دیکھا اور کہنے لگیں۔۔۔۔ ۔۔۔ دَ ۔۔دَ۔۔۔ دیکھو یہ ٹھیک نہیں ہے ۔۔کیونکہ تم میری چھوٹی بہن کے بوائے فرینڈ ہو ۔۔تو آگے سے میں نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ۔۔ایسے نہ کہو آپی جی۔۔۔ میں آپ کا بھی تو فرینڈ ہوں نا۔۔میری بات سن کر وہ کنفیوز لہجے میں بولیں۔۔۔ ۔۔ بے شک تم میرے بھی فرینڈ ہو۔۔۔ لیکن۔۔۔۔ آپی کو نیم رضا مند دیکھ کر ۔۔۔ میری شہوت ۔۔۔۔ لوڑے کو ہلا شیری دیتے ہوئے بولی۔۔۔۔۔۔ قدم بڑھاؤ لن صاحب ۔۔۔۔ میں تمہارے ساتھ ہوں ۔۔۔ شہوت کی بات سن کر لن صاحب نے چپکے سے میرے کان میں کہا۔۔۔۔ اگر مست پھدی لینی ہے تو بڑھ کے ہاتھ تھام لو۔۔۔چوت تیرے لن پہ ہو گی۔۔۔۔۔۔۔۔لن صاحب کی بات سن کر مکیمبو خوش ہوا ۔۔۔۔اور اس کے ساتھ ہی میں ایک قدم اور بڑھ گیا۔۔۔
میرے اس طرح آگے بڑھنے سے ۔۔میرے اور آپی کے درمیان جو ایک آدھ اینچ کا فاصلہ باقی تھا۔۔۔ وہ بھی ختم ہو گیا۔۔ اور اب میں آپی کے ساتھ کچھ اس طرح سے جُڑ کر کھڑا تھا کہ ہمارے درمیان صرف ہوا ہی گزر سکتی تھی۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔ لن صاحب جو کہ پہلے بمشکل آپی کی سلکی رانوں پہ صرف ٹچ کا مزہ لے رہے تھے ۔۔۔ آگے بڑھنے کی وجہ سے۔۔۔۔ پھسل کر ندا آپی کی دونوں رانوں کے بیچ چلے گئے۔۔۔۔ ادھر جیسے ہی میرا اکڑا ہوا لن۔۔۔۔ ان کی سلکی رانوں کے بیچوں بیچ پہنچا۔۔۔ ۔۔۔۔انہوں نے ایک نظر اپنی رانوں کی طرف دیکھا اور پھر کہنے لگی ۔۔دیکھو ۔۔۔ یہ تم اچھا نہیں کر رہے۔۔۔اگر ردا کو پتہ چل گیا ۔۔۔۔تو وہ کیا سوچے گی؟ آپی کی بات سن کر ۔۔ میں اپنے ایک ہاتھ کو گھما کر ان کی کمر کے پیچھے لے گیا اور ان کو اپنی طرف کھینچ لیا۔۔۔۔ جس کی وجہ سے آپی کے ملک پیک میرے سینے کے ساتھ پیوست ہو گئے۔۔۔ اس کے بعد میں آپی کے نرم و گداز جسم کو اپنے جسم کے ساتھ دبا یا۔۔۔۔اور بڑے ہی رومینٹک لہجے میں بولا۔ ۔۔۔۔ اسے میرے اور آپ کے تعلق بارے الہٰام تھوڑی ہو گا ۔۔ جب تک ہم دونوں میں سے کوئی اسے نہیں بتائے گا تو اسے کیسے پتہ چلے گا ؟ اس لیئے۔۔تم فکر نہیں کرو میری جان ۔۔۔۔ ۔۔۔۔ ۔۔۔۔ اتنی بات کر تے ہی میں نے آپی کے لال لال گالوں پر ایک کس دے دی۔۔۔۔۔ میرے ہونٹوں کو اپنے گالوں کی طرف بڑھتے دیکھ کر ۔۔۔۔ انہوں نے اپنے چہرے کو ادھر ادھر کرنے کی بڑی کوشش کی ۔۔۔ لیکن میری گرفت مضبوط ہونے کی وجہ سے۔۔۔۔ وہ محظ کسمسا کر رہ گئیں۔۔۔ اور جب میں نے زبردستی ان کا چما لے لیا تو پھر وہ اپنے گال پر لگے تھوک کو صاف کرتے ہوئے بولیں۔۔۔۔ تم کچھ زیادہ ہی آگے نہیں بڑھ گئے؟ تو اس پر میں نے ان کو اپنے سینے کے ساتھ دباتے ہوئے بولا۔۔۔ ابھی تو اور بھی آگے بڑھنا ہے میری جان۔۔۔ میری بات سن کر وہ عجیب سے لہجے میں بولی ۔۔تم بہت حرام ذادے ہو ۔۔ مجھے آپی کہتے کہتے ۔۔۔اب جان تک آ گئے ہو تو اس پر میں نے ڈائیریکٹ ہی کہہ دیا ۔۔۔ حرامزادہ نہیں میری جان مجھے ۔۔۔ بہن چود کہو۔۔۔کہ ابھی ابھی تمہاری چھوٹی بہن کو چود کر آیا ہوں۔۔۔۔ تو وہ اپنے ہونٹ کاٹتے ہوئے بولی ۔۔۔ایسی بات کرتے ہوئے تمہیں شرم نہیں آئی؟ ان کی بات سن کر ایک دفعہ پھر میں نے ان کے نرم ہونٹوں پر کس کی اور پھر ان کے کان میں سرگوشی کر تے ہوئے بولا۔۔۔ جس نے کی شرم ۔۔ اس کے پھوٹے کرم۔۔۔ اتنی بات کرتے ہی میں تھوڑا پیچھے ہٹا ۔۔۔۔اور ان کی سلکی رانوں میں پھنسے ہوئے لن کو باہر نکالا ۔۔۔۔۔ اور پھر ان کا ہاتھ پکڑ کر اپنے لن پر رکھ کر بولا۔۔۔۔مجھے تو پھر بھی کچھ شرم آتی ہے لیکن کیا کروں آپی۔۔۔۔ یہ سالا بہت بے شرم ہے۔۔۔اب تک کی گستاخیوں سے مجھے اندازہ ہو چکا تھا کہ اندر سے وہ بھی دینے کے راضی ہیں۔۔۔ ورنہ اب تک جو جو حرکات میں ان کے ساتھ کر چکا تھا۔۔۔۔اگر وہ سیکس کے لیئے۔۔۔ راضی نہ ہوتیں تو۔۔۔۔۔ ابھی تک انہوں نے میری ایسی کی تیسی پھیر دینی تھی۔۔۔۔ دوسری طرف میں نے یہ بات بھی نوٹ کی تھی ۔۔ کہ آپی نے میرے لن پر رکھے ہوئے ہاتھ کو وہاں سے ہٹانے کی کوئی کوشش نہیں کی تھی۔۔۔ انہوں نے بس اتنا ہی کہا۔۔۔۔ کہ دیکھو اگر ردا اُٹھ گئی تو بڑا مسلہ ہو جائے گا۔۔۔ ان کی بات سنتے ہی میں نے اپنے ہونٹوں کو ان کے نرم ہونٹوں پر رکھا اور انہیں چوس کر بولا۔۔۔ کچھ بھی نہیں ہو گا میری جان۔۔۔ادھر جیسے ہی میرے ہونٹ ان کے نرم ہونٹوں پر پہنچے ۔۔۔۔ میں نے یہ محسوس کی ۔۔۔۔ کہ اب کی بار میری کسنگ سے بچنے کے لیئے۔۔۔۔۔ انہوں نے اپنے سر کو دائیں بائیں کرنے کی واجبی سی بھی ۔۔۔ کوشش نہیں کی تھی۔۔۔۔ اس کا مطلب یہ تھا ۔۔ کہ دھیرے دھیرے ہی سہی۔۔۔۔ لیکن آپی سیکس کی طرف آ رہی تھی۔۔۔ چا نچہ یہ محسوس کرتے ہی میں نے ان کے لن پہ رکھے ہاتھ کو ایک طرف کیا۔۔۔۔۔اور پھر لن کو ہاتھ میں پکڑ کر ۔۔ ان کی دونوں ٹانگوں کے بیچ ۔۔۔ آگ بنی پھدی کے ہونٹوں پر رکھا۔۔۔اور اس کے ساتھ ہی انہیں بڑی سختی کے ساتھ اپنے گلے سے لگا لیا۔۔۔ جیسے ہی میرا سخت لن آپی کی چوت کے نرم لبوں کے ساتھ ٹچ ہوا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تو ان کے منہ سے ایک سسکی نکل گئی۔۔۔ اُف۔ف۔ف۔ اور وہ بڑی ہی کمزور آواز میں بولیں۔۔۔ نا کرو ۔۔ پلیزززززززززز ۔۔۔ایسے نہ کرو ناں۔۔۔۔ تو میں ان کی بات کو سُنا ان سُنا کرتے ہوئے بولا ۔۔۔ آپی جی آپ کی چوت تو بہت گیلی ہو رہی ہے۔۔۔ میری اس بات نے گویا کہ جلتی پر تیل کا کام کیا۔ اور ان کے ضبط کے سارے بندھن ٹوٹ گئے ۔۔اور ۔ میری بات سنتے ہی وہ ۔۔۔۔ایک دم تڑپی۔۔۔اور ان کے تڑپنے سے شلوار سمیت میرے لن کی چونچ ان کی بھیگی پھدی میں داخل ہو گئی۔۔۔۔۔۔۔ٹوپے کا چوت میں گھسنے کی دیر تھی۔۔۔۔۔۔کہ اچانک ان کی رہی سہی مزاحمت بھی دم توڑ گئی۔۔۔ اور وہ انتہائی شہوت ذدہ۔۔۔۔۔اور جزباتی انداز میں کہنے لگی۔۔۔۔۔ بہن چود حرامی۔۔۔۔پورے نو مہینے ہو گئے ہیں۔۔۔۔ اس پھدی میں کوئی لن نہیں گیا۔۔۔۔۔۔۔ اور ۔۔۔ اتنی مدت کے بعد جب کچھ اندر گیا ہے تو آگے سے تم کہہ رہے ہو کہ ۔۔۔ یہ گیلی کیوں ہو رہی ہے؟ ۔۔۔اتنی بات کرتے ہی انہوں نے میرے لن کو پکڑ کر اپنی بھیگی پھدی کے بیچ میں رکھا۔۔۔اور پھر شہوت بھرے انداز میں جھٹکے مارتے ہوئے بولی۔۔۔۔ لے بہن چود میں تیرے جوان اور موٹے لن کے آگے ۔۔۔۔ اپنی اس گیلی پھدی کو سرنڈر کرتی ہوں ۔۔۔ یہ کہتے ہی انہوں نے تیز تیز جھٹکے مارنے شروع کر دیئے ۔۔۔۔ ان کی چوت میں اس وقت اس قدر زیادہ گرمی بھری ہوئی تھی کہ دو چار جھٹکوں کے بعد ہی اُن کی چوت نے آرگیزم کر دیا۔۔ اور ان کی چوت سے نکلنے والا یہ گرم گرم پانی۔۔۔۔ باہر نکلتے ہوئے میرے لن کو بھی گیلا کر رہا تھا۔۔۔ چھوٹنے کے کچھ دیر بعد تک وہ میرے کندھے پر سر رکھے ہانپتی رہی ۔۔۔ پھر انہوں نے سر اُٹھا کر میری طرف دیکھا ۔۔ اور بڑے ہموار لہجے میں ۔۔۔کہنے لگی۔۔ آخرِ کار تم نے مجھے راضی کر ہی لیا ۔۔۔ تو اس پر میں نے تجاہلِ عارفانہ سے کام لیتے ہوئے کہا ۔۔۔ کس بات کے لیئے آپی؟ تو میری بات سن کر وہ اپنے منہ کو میرے کان کے قریب لے گئیں اور پھر سرگوشی کرتے ہوئے بولیں ۔۔۔ اپنے ساتھ سیکس کرنے کے لیئے۔۔۔اس سے قبل کہ میں ان کی بات کا جواب دیتا ۔۔۔۔۔۔وہ ایک دم سیریس ہو کر بولی ۔۔۔تم کمرے میں جاؤ میں زرا نیچے کا چکر لگا کر آتی ہوں۔۔۔ اتنی بات کرتے ہی وہ نیچے جانے کے لیئے سیڑھیوں کی طرف بڑھ گئیں۔۔۔ جبکہ میں آنے والے حسین وقت کا تصور لیئے۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔ ان کے کمرے میں چلا گیا ۔۔۔۔۔ کوئی پندرہ بیس کے منٹ کے بعد ندا آپی۔۔۔ واپس لوٹی اور آتے ساتھ ہی مجھ سے کہنے لگی ۔۔۔ایک بات تو بتاؤ؟ اور وہ یہ کہ تم نے ردا کے ساتھ سیکس کیا تھا یا اسے نیند کی گولیاں کھلا کے آئے ہو۔۔۔ میرے بار بار اُٹھانے کے باوجود بھی وہ نہیں اُٹھی۔۔۔۔۔ ۔۔ ندا آپی کی بات سن کر ۔۔۔۔ میں نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ اپنا ریکارڈ درست کر لیں میڈم ۔۔۔۔ میں نے ردا کو نیند کی گولیاں نہیں ۔۔۔ بلکہ۔۔۔ لن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ۔۔۔۔ اسے یہ موٹا کپسول کھلایا تھا۔۔ پھر انہیں آنکھ مار تے ہوئے بولا۔۔۔۔۔اور اس سے بھی موٹا کیپسول اس نے اپنی چوت کے نیچے رکھا ہوا تھا ۔۔۔ میری بات سن کر ندا آپی نے ایک نظر میرے تیزی کے ساتھ کھڑے ہوتے ہوئے لوڑے پر ڈالی۔۔۔۔۔۔اور پھر ٹھنڈی سانس لے کر خاموش ہو گئی۔۔۔۔۔ یہ دیکھ کر میں کرسی سے اُٹھ کھڑا ہوا ۔۔۔۔ اور ان کا ہاتھ پکڑ کر بولا ۔۔۔ فکر نہیں کرو میری جان ۔۔۔۔آج میں تمہیں چودے بغیر نہیں چھوڑوں گا۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ یہ کہتے ہوئے میں نے ان کو اپنے سینے سے لگا لیا۔۔۔۔ اور پھر ان کو بڑی ہی ٹائیٹ ہگ دی۔۔۔ سینے کے ساتھ لگا کر بھینچنے کی وجہ سے ایک دفعہ پھر ان کی چھاتیوں سے دودھ بہہ کر میری قمیض پر لگ گیا۔۔۔ یہ دیکھ کر میں نے ان کو اپنی قمیض دکھاتے ہوئے بولا ۔۔۔ کہ دیکھ لیں آپی۔۔۔۔ آپ کے دودھ نے ایک دفعہ پھر میری قمیض کو گیلا کر دیا ہے میری بات سن کر انہوں نے میرے لن کو اپنے ہاتھ میں پکڑا اور کہنے لگیں ۔۔۔ اور جو اس بلا نے مجھے گیلا کیا ہوا ہے اس کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے؟ اس کے ساتھ ہی انہوں نے اپنی زبان کو منہ سے باہر نکالا ۔۔۔۔اور میرے منہ میں ڈال دی۔۔۔۔ جیسے ہی ان کی زبان میرے منہ میں داخل ہوئی۔۔۔تو میں نے آگے بڑھ کر اسے قابو میں کر لیا۔۔۔ اور پھر ان کی زبان کو چوسنا شروع کر دیا۔۔۔زبان چسوانے کے ساتھ ساتھ ۔۔۔ ندا آپی میرے لن کو بھی اپنے ہاتھ میں لیئے دباتی رہیں۔۔۔۔۔۔۔۔ اور اس دوران ہم دونوں نے آپس میں زبانوں کا تبادلہ کرتے ہوئے انہیں جی بھر کے چوسا۔۔چاٹا اور خوب مزے لیئے۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔ پھر جب ہمارا کسنگ سیشن ختم ہوا۔۔۔۔ تو وہ میرے لن کو دباتے ہوئے بولی۔۔۔ تمہارے ساتھ کسنگ کا مزہ آ گیا یار۔۔۔تو میں نے ان کی طرف شہوت بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔۔۔۔تم دیکھتی جاؤ میڈم۔۔۔ چوت مارنے کا اس سے بھی زیادہ مزہ دوں گا۔۔۔۔۔۔ تو وہ میرے لن کو دباتے ہوئے ۔۔۔ایک خاص ادا سے کہنی لگیں۔۔۔۔ لگتا ہے۔۔۔میری طرح تم بھی بہت سیکسی ہو۔۔۔۔۔ پھر انہوں نے میرے لن کو چھوڑ دیا۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔ اور مجھے کپڑے اتارنے کا اشارہ کرتے ہوئے ۔۔خود ۔۔۔۔ سیکنڈز میں ننگی ہو گئیں۔۔۔۔ ادھر اپنے کپڑے اتارتے ہوئے ۔۔میں ہوس بھری نظروں سے ان کے ننگے جسم کا جائزہ لینے لگا۔۔۔ ان کی بڑی بڑی چھاتیوں پر براؤن رنگ کے نپل شہوت کی وجہ سے اکڑے ہوئے تھے۔۔۔ اس کے ساتھ ساتھ آپی کا تھوڑا سا پیٹ باہر کی طرف نکلا ہوا تھا۔۔۔اور پیٹ کے نیچے۔۔۔ان کی دو ٹانگوں کے درمیان وہ آگ کا دریا تھا۔۔۔ جہاں میرے لن نے ڈوب کے جانا تھا۔۔۔ ان کی چوت کے ہونٹ کافی موٹے ۔۔۔اور باہر کی طرف لٹکے ہوئے تھے ۔۔۔۔ بچے کی پیدائیش کی وجہ سے ان کی چوت کی لکیر کافی کھلی ہوئی نظر آ رہی تھی ۔۔۔اور اس لکیر کے بیچوں بیچ ۔۔۔۔ وہ خوبصورت سا گڑھا واقعہ تھا۔۔۔ کہ جہاں تھوڑی دیر بعد میرے لن نے جا گرنا تھا ۔۔۔۔۔۔ دوسری طرف وہ بھی بڑی دل چسپی کے ساتھ مجھے ننگا ہوتا دیکھ رہیں تھیں ۔۔۔۔خصوصاً ان کی نظریں میری دونوں ٹانگوں کے بیچ اکڑے ہوئے لن پر لگی ہوئیں تھیں۔۔۔۔ ۔۔۔پھر جیسے ہی میں ننگا ہو کر ان کے سامنے کھڑا ہوا۔۔۔۔۔۔تو وہ میرے لن کی طرف دیکھ کر بولیں۔۔۔ واؤؤؤ۔۔۔۔ ونڈر فُل ۔۔۔۔اور اس کے ساتھ ہی وہ آگے بڑھیں اور میرے لن کو اپنے ہاتھ میں پکڑ کر ستائیشی لہجے میں کہنے لگیں۔ ۔۔۔ شاندار ۔۔ پھر اسے دباتے ہوئے ۔بولیں ۔۔۔ تمہارا لن تو کسی بھی چوت کی چولیں ہلا دیتا ہو گا۔۔۔ تو میں نے ان کی دودھ سے بھری چھاتیوں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا۔۔ اسے اندر لے کر تو دیکھو میم صاحب ۔۔۔۔۔ یہ آپ کی چوت کی چولیں بھی ہلا دے گا اور ۔۔۔ ہلانے کے ساتھ ساتھ ۔۔۔ آپ کی چوت کی بھوک بھی مٹا دے گا۔۔ میری بات سن کر انہوں نے ایک نظر میری طرف دیکھا ۔۔۔ اور پھر شہوت انگیز لہجے میں بولیں ۔۔۔۔ ۔۔۔ تم چوت کی بھوک کی بات کر رہے ہو ؟۔۔۔۔۔۔ جبکہ یہاں تو میرا انگ انگ پیاسا ہے۔۔۔ ان کی شہوت انگیز بات سن کر میرا لن اور بھی سخت ہو گیا۔۔۔اور میں بھی شہوت کی انتہا پر پہنچ کر بولا۔۔۔۔ اسے اندر تو لے کر دیکھو میڈم۔۔ اگر بھوک کے ساتھ ساتھ پیاس بھی نہ بجھی۔۔۔ ۔۔ تو پھر کہنا۔۔۔ میری بات سن کر وہ گھٹنوں کے بل فرش پر کھڑی ہو گئیں اور مجھے پلنگ پر بیٹھنے کو کہا۔۔۔۔۔۔ ان کی بات سن کر میں پلنگ کے ایک کونے پر اپنے پاؤں لٹکا کر بیٹھ گیا یہ دیکھ کر وہ آگے بڑھیں ۔۔۔اور گھٹنوں کے بل چلتی ہوئی ۔۔۔ میرے قریب پہنچ گئی۔۔۔۔۔ اور پھر میرے لن کو ہاتھ میں پکڑ کر بولیں۔۔۔ تھوڑا چوس لوں؟ ان کی بات سن کر میں نے ان سے کہا کہ ایک منٹ رکیں پلیزز۔۔۔ اور پھر ان کی دودھ سے بھری ۔۔۔چھاتی کو پکڑ کر اپنے لن کے قریب کر دیا۔۔۔اور اسے دبا دیا۔۔۔ ان کی چھاتی سے دودھ کی ایک تیز دھار نکلی ۔۔۔اور سیدھی میرے لن پر جا پڑی ۔۔ یہ دیکھ کر وہ مجھ سے کہنے لگیں۔۔۔ ایسا کیوں؟ تو میں نے ان کی چھاتی کو دباتے ہوئے کہا۔۔۔ آپی جی ننگے لن تو آپ نے بہت چوسے ہوں گے ۔۔۔ آج ایک دودھ والا لن بھی چوس لو۔۔ میری بات سن کر انہوں نے اپنی زبان کو باہر نکالا اور میرے لن پر لگے ہوئے دودھ کو چاٹ کر بولی۔۔۔ دودھ تو مزے کا ہے۔۔۔ لیکن مجھے تو بالائی کھانے کا زیادہ مزہ آتا ہے۔۔۔۔ اس کی بالائی کہاں ہے؟ تو میں نے ان کے منہ میں لن دیتے ہوئے کہا۔۔۔۔ آپ اسے چوسیں ۔۔ بالائی یہیں سے نکلے گی۔۔۔ میری بات سنتے ہی انہوں نے اپنا پورا منہ کھولا ۔۔۔۔اور پھر میرے لن کو منہ میں لے کر اسے چوسنا شروع کر دیا۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔ پھر کچھ دیر تک وہ اسے مسلسل چوستی رہیں ۔۔۔۔۔۔ پھر اچانک انہوں نے اپنے منہ سے لن کو نکالا ۔۔۔اور مجھے اشارے سے اپنی زبان دکھائی۔