سسر کی دیوانی,

Masoom Khan
0


میں ہمیشہ سوچتی تھی کہ آخر میری دیورانی سسر مجھ

سے اتنی خار کیوں کھاتا ہے۔وہ ہمیشہ چھوٹی بہو کی

تعریف کرتا رہتا تھا ،اور اکثر جب کام سے واپس آتا تھا تو

کسی اور کو دے یا نہ دے مگر چھوٹی کو کچھ نہ کچھ

روپے ضرور تھما دیتا تھا۔دوسری طرف میں تھی کہ دیکھ

دیکھ کر کڑھتی رہتی تھی۔نہ جانے کیوں جب سے اپنے شوہر

کو باجی کے ساتھ سیکس کرتے دیکھا تھا مجھے اس گھر

کے ہر مرد و عورت پر شک سا ہونے لگا تھا۔اسی سوچ میں

مجھے یوں لگ رہا تھا جیسے سسر صالح صاحب کا بھی

کوئی ایسا ویسا تعلق چھوٹی بہو کے ساتھ ضرور ہے۔ اس

سوچ کے زیر اثر اب میں نے غیر محسوس انداز میں ان

دونوں کی نگرانی شروع کردی تھی۔اسی دوران مجھ پر یہ

راز بھی کھال کہ میری دیورانی ہمیشہ کھلے گلے کے کرتے

پہنتی ہے،جس میں سے اس کی چھاتیوں کا نصف سے بھی

زیادہ حصہ دیکھنے والے کی آنکھوں کو خیرہ کرنے کے لئے

کافی ہوتا تھا۔بات کچھ کچھ سمجھ آرہی تھی ۔میری

دیورانی نے جسم کے نظاروں کو دکھا دکھا کر سسر کو اپنی

طرف مائل کیا ہوا تھا۔اب ان دونوں کے مابین جسمانی تعلق

بھی تھا کہ یہ نہیں اس کا پتہ لگانا ضروری ہو گیا تھا۔کیوں

کہ اگر ایسا تھا تو مجھے بھی سسر صاحب سے فیض یاب

ہونے کا پورا حق تھا۔ویسے بھی میں اپنی دیورانی کے مقابلے

میں کئی درجے زیادہ سیکسی جسم کی مالک تھی۔ لیکن اس

کوے جیسی شکل والے مرد کے ساتھ جنسی تعلق قائم کرنا

بڑا ہی حیران کن تھا،کیوں کہ میری دیورانی میرے مقابلے

میں خاصی گوری رنگت کی مالکن تھی۔پھر ایک روز یہ عقدہ

مجھ پر کھل ہی ہو گیا۔ہوا یوں کہ ایک فوتیدگی کے سلسلے

میں گھر کے سبھی افراد ما سوائے میرے اور میری دیورانی

کے دوسرے شہر چلے گئے ۔سسر صاحب بہانہ کر کے رک گئے

تھے۔مجھے محسوس ہو رہا تھا کہ وہ کسی چکر میں ہیں۔

بس اسی چکر کو معلوم کرنا تھا۔ یہاں یہ بتاتی چلوں کہ

میری دیورانی سسر صاحب کی بہت خدمت گزار تھی ۔اس

کی ٹانگیں دبانا،سر دبانا،سر کی مالش کرنا اور کبھی کبھی

اس کی پنڈلیوں کی بھی مالش کرنا،الغرض وہ سب کچھ

کرتی تھی اسے خوش کرنے کے لئے۔اب یہاں ایسی کون سی

وجہ تھی جس کی بنا پر وہ یہ سب کرتی تھی،مجھے ہر

صورت معلوم کرنا تھی۔دن کے گیارہ کا وقت ہوگا جب سسر

صاحب گھر آگئے۔انہوں نے آتے ہی میری دیورانی کو آواز دی

اور چائے بنانے کے لئے کہا۔میں اپنے کمرے میں موجود تھ

،اور میرے کان اور آنکھیں ان کی طرف متوجہ تھیں۔ میری

دیورانی چائے لے کر سسر کے کمرے میں چلی گئی ۔میں

انتظار کر رہی تھی کہ کب وہ باہر نکلتی ہے۔جب آدھے گھنٹے

سے زیادہ کا وقت ہو گیا تو میں غیر محسوس انداز میں

کمرے سے نکلی۔میری توقع کے عین مطابق سسر صاحب کے

کمرے کا دروازہ لگاہوا تھا۔میں آہستگی سے چلتی ہوئی

دیورانی کے کمرے کی طرف گئی تو وہ وہاں نہیں تھی۔اب

خیال آیا کہ سسر صاحب کے کمرے کا منظر

ًا

مجھے فور

بڑا تھا،اور اک

ًا

دیکھا جائے۔ان کا کمرہ باقی کمروں سے نسبت

کھڑکی بھی موجود تھی۔کھڑکی سے جھانکنے کے لئے

ضروری تھا کہ اس کا پٹ کچھ نہ کچھ کھال ہو۔ میں ننگے

پاؤں تھی تاکہ قدموں کی آواز بھی سنائی نہ دے۔سسر

صاحب کے کمرے کا دروازہ بند ہونے کا مطلب تھا کہ میری

دیورانی ان کو مزہ دے رہی تھی۔میں کھڑکی کے قریب گئی۔

مگر کھڑکی بھی بند تھی ۔انہیں دیکھنا قریب قریب ناممکن

ہو چکا تھا۔اچانک میری نظر دروازے میں موجود ایک

سوراخ پر پڑی جو اتنا کشادہ تھا کہ آسانی سے اندر کے

منظر کا نظارہ کیا جا سکتا تھا۔میں تیزی سے سوراخ کے

قریب گئی اور آنکھ سوراخ سے ٹکا دی ۔اند رکے منظر نے نہ

صرف یہ کہ میرے چہرے پر مسکراہٹ دوڑادی بلکہ ٹانگوں

گیال کردیا۔ میری دیورانی

ًا

میں موجود چوت کو بھی فور

کی شلوار اتری ہوئی تھی جب کہ قمیض چھاتیوں تک اٹھی

ہوئی تھی۔سسر صاحب نے اس کی ٹانگیں کندھوں پر رکھی

ہوئی تھیں اور بڑے ہی زور دار انداز میں اس کی چوت مار

رہے تھے۔ان کا لن کالے رنگ کا تھا۔کافی موٹا تھا مگر فی

الحال لمبائی کا اندازہ نہیں ہو پا رہا تھا۔وہ پوری قوت سے

میری دیورانی کی پھدی مار رہے تھے۔دیورانی کی آنکھیں

نیم وا تھیں اور لذت کے ساتھ ساتھ کچھ تکلیف کا اثر بھی

اس کے چہرے سے دکھائی پڑ رہا تھا۔وہ سسک رہی تھی ۔

اس کا وجود بالکل ڈھیال پڑ چکا تھا۔سسر صاحب اپنی من

مانی کر رہے تھے۔پھر اچانک ہی انہوں نے اپنا لن اس کی

پھدی سے باہر نکال لیا۔اف!حیرانی سے میری آنکھیں پھٹنے

والی ہو گئیں۔میرے شوہر کو بمشکل پانچ انچ تک کا تھا۔مگر

سسر صاحب کا بال مبالغہ آٹھ نو انچ کا دکھائی دے رہا

تھا،میری چوت یہ منظر دیکھ کر جلنے لگی۔میں اس طویل

و عریض لوڑے کو اپنے وجود کا حصہ بنا دینا چاہتی تھی۔

سسر صاحب نے اب اپنی چھوٹی بہو کو گھوڑی بنا لیا تھا۔

اس انداز میں ان کا دبال پتال جسم حیران کن طور پر لچک

دکھا رہا تھا۔ان کی کمر کی حرکت اور لن کا میری دیورانی

کی پھدی میں اندر اور باہر ہونا،میرے کانوں کو گرما گیا۔

میرے گال تپنے لگے تھے۔چوت کا پانی بہہ بہہ کر ٹانگو ں کو

گیال کر رہا تھا۔میری دیورانی نہ جانے کیسے اس لن کو

جھیل رہی تھی۔میری گیلی ہونے والی شلوار کہہ رہی تھی کہ

میں بھی اندر جا گھسوں اور سسر صاحب کو بولوں کہ

جلدی سے اپنی بڑی بہو کی گرم چوت میں اپنا کاال اور لمبا

ناگ دھکیل دیں۔مگر فی الحال یہ میرے بس میں نہیں تھا۔

اس منظر کو مزید برداشت کرنا بھی میرے لئے مشکل

ہی باتھ روم کی طرف بھاگی اور

ًا

تھا،اس لئے میں فور

انگلی سے اپنی چوت کی گرمی کو کچھ کم کیا۔اتنی دیر

میں میری دیورانی بھی چدوا کر باہر نکل آئی تھی۔اس کے

نکلنے کے کچھ دیر بعد میں بھی باتھ روم سے نکلی اور اپنے

کمرے کی طرف چل دی۔میں چوت مروانا چاہتی تھی اپنے

سسر سے ۔اس کے لمبے اور صحت مند لن نے میری آنکھیں

کھول دی تھیں۔میں کیوں ایک پانچ انچ کے لن پر گزارہ

کرتی جب کہ گھر ہی میں ایک بڑا اور گرم لن موجود

تھا،مجھے اپنے سسر کو اپنی مائل کرنے کے لئے اتنے وقت کی

ضرورت نہیں تھی۔ میں سمجھ چکی تھی کہ میرے ساتھ

اس کا رویہ صرف اس لئے برا ہے کیوں کہ میں نے انہیں اپنے

بدن کی آنچ سے گرماہٹ پہنچانے کی کوشش نہیں کی۔مجھے

یقین تھا کہ میرا ایک ہی قدم مجھے اس کی گود میں

بیٹھنے کا موقع دے دے گا۔میرے پاس آج بہت اچھا موقع

تھا،کیوں کہ گھر میں کوئی نہیں تھا،سب اگلے روز واپس

آنے والے تھے۔میری دیورانی تو پھدی مروا چکی تھی اس لئے

امید تھی کہ رات کو وہ دوبارہ سسر کی بانہوں میں نہیں

جائے گی۔بس اسی موقع سے مجھے فائدہ اٹھان تھا۔ میں نے

خود کو تیار کیا کہ آج کی رات میں سسر صاحب کے توانا

لوڑے سے مزہ ضرور لوں گی،جو مرد اپنی ایک بہو کی چوت

اچھی طرح بجا رہا ہو اسے دوسری بہو کو ننگا کرنے میں کیا

عار آئے گی۔مجھے بھروسہ تھا کہ انکار کسی صورت نہ ہوگا۔

اب وقت آگیا تھا کہ نہ صرف سسر کے لن کو اپنی چوت کی

راہ دکھاتی بلکہ اپنی دیورانی کے مقابلے میں سسر کی

نظروں میں زیادہ مقام بناتی۔جب رات کے دس بجے تو میں

نے اچھی سی چائے بنائی اور سسر صاحب کے کمرے کی

طرف چل دی۔وہ بستر پر لیٹے اخبار پڑھ رہے تھے۔مجھے

انہوں نے حیرانگی سے دیکھا۔ "وہ میںآپ کے لئے چائے الئی

میں کچھ جھجکتے ہوئے کہا "آج کیسے خیال آگیا

تھی۔۔"

سسر صاحب تیکھی آواز میں

سسر کی خدمت کرنے کا۔۔"

بولے۔ "مجھ سے بھول ہو گئی ابا جان۔۔۔معاف کر

میں لجا کر کہا "اچھا ۔۔اتنے دنوں سے یاد نہیں تھا

دیجئے۔۔۔"

کہ اس بوڑھے سسر کی سیوا کرنی چاہئے" "جی بس غلطی

میں نے ان کی آنکھوں

ہو گئی ۔۔اب کمی نہیں کروں گی۔۔۔"

میں آنکھیں ڈال کر کہا۔ "تم خود ہی دیکھو چھوٹی بہو میرا

کتنا خیال رکھتی ہے،،بدلے میں میں بھی کتنا اس کا خیال

کرتا ہوں،ایک تم ہو تمہیں احساس ہی نہیں۔۔۔"ان کے لہجے

میں ابھی بھی سختی تھی۔ "میں بھی آج سے وہ سب کروں

میں نے دو ٹوک سے انداز میں

گی جس کا حکم آپ دو گے۔۔"

کہا "نہیں تم وہ سب نہیں کر پاؤ گی۔۔مجھے راضی کرنا

سسر صاحب نے چائے کا کپ اٹھاتے ہوئے

"

مزاق تو نہیں

جواب دیا "آپ ایک بار حکم تو کریں ،جو بھی ہو میں تعمیل

میں نے ان کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔میرے اس

کروں گی۔۔"

لہجے کو محسوس کرتے ہوئے سسر صاحب نے میرا جائزہ لینا

شروع کیا۔وہ میرے پورے جسم کا مشاہدہ کررہے تھے اور

ہوس ان کی آنکھوں میں دکھائی دینے لگی تھی۔ "اچھا ایسا

کرو ذرا میری ٹانگیں تو دبا دو۔۔اور یہ دروازہ بھی سات

کردو۔۔"انہوں نے کہا تو میں نے کمرے کا دروازہ ساتھ کردیا۔

وہ سیدھے لیٹے ہوئے تھے میں ان کی قدموں کی طرف آگئی

اور ان کی پنڈلیاں دبانے لگی۔انہوں نے آنکھیں موند لیں۔

تھوڑی دیر تک پنڈلیاں دبانے کے بعد ان کو حکم یہ ہو اکہ اب

ہی

ًا

ان کی ٹانگوں پر چڑھ جاؤں اور ٹانگیں دباؤں۔میں فور

ان کی ٹانگوں ہر سوار ہو گئی اور ان کی ٹانگیں دبانے لگی۔

اب انہوں نے آنکھیں کھول لیں تھی اور میرا بھرپور جائزہ

لینے لگے تھے، "یہ دوپٹہ اتار دو۔۔مجھے اچھا نہیں لگ

رہا۔۔"انہوں نے اگال حکم جار کیا۔میں نے نیچے برا نہیں پہنی

تھی ،مقصد یہی تھا کہ جسم کا یہ سب سے پر کشش حصہ

نمایاں ہو جائے۔میں نے دوپٹہ اتار دیا اب میرے ابھار فخریہ

انداز سے اپنی اٹھانوں کی نمائش کرنے لگے تھے۔سسر

صاحب کی نگاہیں میرے مموں کو گھور رہی تھی۔میری

آنکھوں کی اللی شائد بڑھ گئی تھی اور سسر صاحب کی

زمانہ شناس نظروں نے شائد بھانپ لیا تھا کہ ان کی بہو پر

مستی چڑھ رہی ہے۔ دوسری طرف مجھے سسر صاحب کی

شلوار میں بھی ابھار نمایاں ہوتا دکھائی دے رہا تھا۔میں کن

انکھیوں سے اسے بھی دیکھ رہی تھی۔ "تھوڑا آگے آکر

سسر صاحب نے کہا تو اب میں تھوڑا اور آگے کے

دباؤ۔۔"

حصے کی طرف آنے لگی۔یوں سمجھ لیجئے کہ اب ان کے لن

کا ابھار میرے قدموں کے درمیان آ رہا تھا۔ "شاباش !اسی

سسر صاحب نے تعریف کی تو میری آنکھیں

طرح دباؤ۔۔"

چمک گئیں۔مگر اس دوران ان کا لن اب نیم تناؤ میں آچکا

تھا۔ابھار کافی واضح ہو چکا تھا۔میرے ہونٹ خشک ہونے

لگے تھے۔سسر صاحب کی نظریں میرے چہرے کو بغور تک

رہی تھیں۔ "اچھا اب میں الٹا لیٹتا ہوں ،ذرا میری کمر پر

سسر صاحب نے مجھے نیچے اترنے کا اشارہ

چڑھ جاؤ اب۔۔"

کرتے ہوئے کہا اب وہ الٹے ہو کر لیٹ گئے اور میں ان کی کمر

پر سوار ہو گئی۔کچھ دیر اسی طرح دباتی رہی تو سسر

صاحب نے کہا "ایسا کرو میری کمر پر بیٹھ جاؤ اور ہاتھوں

سے کندھوں کو بھی کچھ دیر دبا دو۔۔" میں ان کی کمر پر

اس طرح بیٹھ گئی کہ دونوں ٹانگیں ان کی کمر کے دونوں

اطراف ہو گئیں، "ہے۔۔چوت کے بال صاف نہیں کرتی ہو

میرے کانوں کے قریب جیسے دھماکہ سا ہوا "یہ یہ آپ

کیا۔۔۔"

میں اداکاری کرتے ہوئے پوچھا

"

کیا کہہ رہے ہیں ابا جان۔۔۔

"تمہاری پھدی کے بال میری کمر پر چبھ رہے ہیں۔۔صفائی

نہیں کرتی ہو۔۔"وہ گندی زبان استعمال کر رہے تھے اور میں

بے حال ہونے لگی تھی "وہ جی پچھلے ہفتے تو کئے تھے،جلدی

میں نے شرم سے سر جھکاتے ہوئے جواب

بڑھ گئے ہیں شائد۔۔"

دیا "صفائی رکھا کرو کسی بھی وقت چدائی کا موقع بن

سکتا ہے تو چوت کے بال تکلیف دہ محسوس ہوتے ہیں۔۔"وہ

بڑے اعتماد سے بول رہے تھے۔میں نے تھوک نگلتے ہوئے جواب

دیا "جی میں تو ہر ہفتے کر لیتی ہوں ،بس اس دفعہ تھوڑے

دن زیادہ ہو گئے ہیں۔۔: "آئیندہ خیال رکھنا،تمہاری دیورانی

تو چمکا کہ رکھتی ہے اپنی پھدی کو۔۔تم تو اس سے کہیں

سسر صاحب پورے

زیادہ سیکسی ہو ۔۔چمک کے رہا کرو۔۔"

واہیات بن رہے تھے۔ "چلو اب نیچے اترو تمہیں ایک چیز

دکھاؤں۔۔"انہوں نے کہا تو میں ان کی کمر سے نیچے اتر گئی۔

جیسے ہی وہ سیدھے ہوئے ان کا بڑا سا لن پوری طرح کھڑا

ہوا محسوس ہوا۔انہوں نے شلوار کا ازار بند کھوال اور اپنا لن

باہر نکال کر ہاتھ میں پکڑ لیا۔میرے دل کی دھڑکنیں اتنی تیز

ہو گئیں کہ کانوں میں سنائی دینے لگیں۔ ان کا لن بہت بڑا

تھا،میرے شوہر کے مقابلے میں کم سے کم دوگنا دکھائی دے

رہا تھا۔ "تم اسی کے لئے آئی تھی نا۔۔۔کیا یہ پورا اپنی چوت

میرا بدن کانپ رہا تھا اور

میں لے سکو گی میری بہو رانی۔۔"

جواب دینا مشکل ہو رہا تھا۔ ختم شد ۔۔۔

Post a Comment

0Comments
Post a Comment (0)